30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اذا کان یحمل الی وجھہ شیئًا یسجد علیہ بخلاف ما اذا کان موضوعًا علی الارض یدل علیہ ما فی الذخیرۃ حیث نقل عن الاصل الکراھۃ فی الاول، ثم قال: فان کانت الوسادۃ موضوعۃ علی الارض وکان یسجد علیہا جازت صلاتہ قد صح ان ام سلمۃ کانت تسجد علی مرفقۃ موضوعۃ بین یدیہا لعلۃ کانت بھا ولم یمنعھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذٰلک اھـ فان مفاد ھٰذہ المقابلۃ والاستدلال عدم الکراھۃ فی الموضوع علی الارض المرتفع ثم رأیت القھستانی صرح بذٰلک ‘‘ یعنی بحر میں فرمایا کہ محیط میں اس کراہت پر نبی ِمکرم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نہی کی بناء پر اِستدلال کیا گیا ہے اور وہ نہی کراہت ِتحریمی پر دلالت کرتی ہے۔۔۔ اھ۔ اور نہر الفائق میں بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ علاّمہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں کہ ’’ میں کہتا ہوں ‘‘ کہ کراہت اس صورت پر محمول ہے کہ جب سجدہ کے لئے کوئی چیز پیشانی کی طرف اُٹھائی جائے، برخلاف اس صورت کے کہ جب وہ چیز زمین پر رکھی ہو (اس صورت میں یہ کراہت نہیں ہے) ذخیرہ کی عبارت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے چنانچہ انہوں نے پہلی صورت کے متعلق ’’ اصل ‘‘ سے کراہت کا قول اسی پہلی صورت کے بارے میں نقل کیا اور پھر فرمایا: ’’ تو اگر تکیہ زمین پر رکھا ہوا ہو اور مریض اس پر سجدہ کرے تو نماز درست ہوجائے گی کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیماری کی وجہ سے سامنے زمین پر رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ فرماتی تھیں اور نبی ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اس سے منع نہیںفرمایا۔۔۔ اھ۔ (یہ نقل کرنے کے بعد علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں :) تو صاحب ذخیرہ کا اس صورت کو صورتِ اول کے مقابل ذکر کرنا پھر حدیث ِاُمِّ سلمہ سے اِستدلال کرنے کا مفاد یہ ہے کہ زمین پر رکھی ہوئی کسی بلند چیز پر سجدہ کرنا مکروہ نہیں ہے، پھر اسی بات کی تصریح میں نے قُہُسْتانی میں بھی ملاحظہ کی (جو مجمع الانہر کے حوالے سے میں نے اوپر ذکر کی ہے۔ فضیل رضا) ۔
اور ’’ دُر ‘‘ کی عبارت ’’ الا ان یجد قوۃ الارض ‘‘ کے تحت علامہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: ’’ ہذا الاستثناء مبنی علی أن قولہ: ولا یرفع إلخ شامل لما إذا کان موضوعًا علی الأرض وہو خلاف المتبادر بل المتبادر کون المرفوع محمولًا بیدہ أو ید غیرہ، وعلیہ فالاستثناء منقطع لاختصاص ذٰلک بالموضوع علی الأرض ولذا قال الزیلعی: کان ینبغی أن یقال إن کان ذٰلک الموضوع یصح السجود علیہ کان سجودًا و إلا فإیماء ا ھـ وجزم بہ فی شرح المنیۃ. واعترضہ فی النہر بقولہ وعندی فیہ نظر لأن خفض الرأس بالرکوع لیس إلا إیماء و معلوم أنہ لا یصح السجود بدون الرکوع ولو کان الموضوع مما یصح السجود علیہ.اھـ. ‘‘
یعنی یہ اِستثناء اس صورت پر مبنی ہے کہ متن کی عبارت ’’ ولایرفع ‘‘ زمین پر رکھی ہوئی چیز پر سجدہ کرنے کی صورت کو بھی شامل ہو جبکہ یہ خلاف ِ متبادر ہے، بلکہ متبادر صورت یہ ہے کہ وہ بلند چیز کہ جس پر سجد ہ کیا ہے خود نمازی کے یا کسی اور شخص کے ہاتھ میں بلند ہو اور اس تقدیر پر زمین پر رکھی ہوئی چیز کے ساتھ اس کےخاص ہونے کی وجہ سے یہ اِستثناء مُنْقَطع ہے، اسی لئے امام زَیْلَعی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: مناسب ہے کہ یوں کہا جائے کہ اگر اس رکھی ہوئی چیز پر سجدہ کرنا درست ہے تو وہ سجدہ ہے ورنہ اشارہ۔۔۔ اھ۔ اسی پر شرح منیہ میں جزم فرمایا، اور نہر میں علامہ زیلعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اس عبارت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع