30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔([1])
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ بہارِ شریعت میں ’’ فرضیت ِ قیام کے بیان ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(1) فرض و وتروعیدین و سنّتِ فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذر ِصحیح بیٹھ کر یہ نماز یں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔
(2) اگر اتنا کمزور ہے کہ مسجد میں جماعت کے لئے جانے کے بعد کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے گا اور گھر میں پڑھے تو کھڑا ہو کر پڑھ سکتا ہے تو گھر میں پڑھے، جماعت میسر ہو تو جماعت سے ورنہ تنہا۔
(3) کھڑے ہونے سے محض کچھ تکلیف ہونا عذر نہیں ،بلکہ قیام اس وقت ساقط ہوگا کہ کھڑا نہ ہو سکے یا سجدہ نہ کر سکے یا کھڑے ہونے یا سجدہ کرنے میں زخم بہتا ہے یا کھڑے ہونے میں قطرہ آتا ہے یا چوتھائی سَتْر ُکھلتا ہے یا قراء ت سے مجبورِ محض ہو جاتا ہے۔ یوہیں کھڑا ہوتوسکتا ہے مگر اس سے مرض میں زیادتی ہوتی ہے یا دیر میں اچھا ہو گا یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہو گی، تو بیٹھ کر پڑھے۔
(4) اگر عصا یا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے۔ اگر کچھ دیر بھی کھڑا ہو سکتا ہے اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑا ہو کر اللہُ اَکْبَر کہہ لے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بیٹھ جائے۔
تنبیہ ضروری ’’ آج کل عموماً یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ جہاں ذَرا بخار آیا یا خفیف سی تکلیف ہوئی بیٹھ کر نماز شروع کر دی، حالانکہ وہی لوگ اسی حالت میں دس دس پندرہ پندرہ منٹ بلکہ زیادہ کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کی باتیں کر لیا کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ ان مسائل سے متنبہ ہوں اور جتنی نمازیں باوجودِ قدرتِ قیام بیٹھ کر پڑھی ہوں ان کا اِعادہ فرض ہے۔ یوہیں اگر ویسے کھڑا نہ ہوسکتا تھا مگر عصاء یا دیوار یا آدمی کے سہارے کھڑا ہونا ممکن تھا تو وہ نمازیں بھی نہ ہوئیں ان کا پھیرنا فرض۔ ‘‘ ([2])
بہارِ شریعت میں ’’ مریض کی نماز کے بیان ‘‘ میں بھی اس حوالے سے ضروری مسائل درج ہیں چند منتخب مسائل ملاحظہ ہوں :
(5) جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر نہیں کہ کھڑے ہوکر پڑھنے سے ضَرَر ([3]) لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا یا چکر آتا یا کھڑے ہوکر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہوجائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔
(6) اگر اپنے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتا مگر لڑکا یا غلام یا خادم یا کوئی اجنبی شخص وہاں ہے کہ بٹھا دے گا تو بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے اور اگربیٹھا نہیں رہ سکتا تو تکیہ یا دیوار یا کسی شخص پر ٹیک لگا کر پڑھے یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر پڑھے اور بیٹھ کر پڑھنا ممکن ہو تو لیٹ کر نماز نہ ہوگی۔
(7) بیٹھ کر پڑھنے میں کسی خاص طور پر بیٹھنا ضروری نہیں بلکہ مریض پر جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھے۔ ہاں دو زانو بیٹھنا آسان ہو یا دوسری طرح بیٹھنے کے برابر ہو تو دو زانو بہتر ہے ورنہ جو آسان ہو اختیار کرے۔
(8) کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں کرسکتا مثلاً حَلْق وغیرہ میں پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے بلکہ یہی بہتر ہے اور اس صورت میں یہ بھی کرسکتا ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور رکوع کے لیے اشارہ کرے یا رکوع پر قادر ہو تو رکوع کرے پھر بیٹھ کر سجدہ کے لیے اشارہ کرے۔
(9) اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے (سجدے کے لئے زیادہ سر نہ جھکایا تو اشارے سے سجدہ ادا ہی نہ ہوگا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع