دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kursi Par Namaz Phrnay Kay Ahkam | کرسی پر نَماز پڑھنے کے احکام

book_icon
کرسی پر نَماز پڑھنے کے احکام

فرماتے ہیں :  ’’ آج کل بہت جہال ([1] ذَرا سی بے طاقتی ٔمرض یا کِبَرِ سِن ([2] میں  سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں  حالانکہ اولاً ان میں  بہت ایسے ہیں  کہ ہمت کریں  تو پورے فرض کھڑے ہوکر ادا کر سکتے ہیں اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دورانِ سَر ([3]وغیرہ کوئی سخت اَلم شدید ہو صرف ایک گونہ ([4] مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃً نمازیں  کھوتے ہیں ہم نے مشاہدہ کیا ہے وہی لوگ جنہوں  نے بحیلۂ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھتے اور وہی باتوں  میں  اتنی دیرکھڑے رہے کہ اُتنی دیر میں  دس بارہ رکعت ادا کرلیتے ایسی حالت میں  ہر گز قعود کی اجازت نہیں  بلکہ فرض ہے کہ پورے فرض قیام سے ادا کریں۔  ’’ کافی شرح وافی ‘‘  میں  ہے:  ’’ ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام ‘‘  اگر ادنیٰ مشقت لاحق ہو تو ترک ِ قیام جائز نہ ہوگا۔  (ت) 

          ثانیاً: مانا کہ انہیں  اپنے تجربۂ سابقہ خواہ کسی طبیب مسلمان حاذِق عادِل مستور الحال ([5] غیر ظاہر الفسق ([6]کے اِخبار ([7] خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر ِصحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو بَظَنِّ غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرضِ جدید یا مرضِ موجود شدید و مدید ([8] ہوگا مگر یہ بات طولِ قیام میں  ہوگی تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقیناً طاقت رکھتے ہیں  تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اُتنا ادا کرتے یہاں  تک کہ اگر صرف اللہُ اَکْبَر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں  ادا کرتے جب وہ غلبہ ٔظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا بھی ان کی نماز کا مفسد ہوا۔

          ثالثاً: ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدرِ تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں  رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار یا تکیہ لگا کر کل یا بعض قیا م پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کرسکے بجالائے، کل تو کل یا بعض تو بعض ورنہ صحیح مذہب میں اس کی نماز نہ ہوگی  ’’ فقد مر من الدر ولو متکئًا علی عصا او حائط ‘‘   (دُر کے حوالے سے گزرا اگرچہ عصا یا دیوار کے سہارے سے کھڑا ہوسکے۔ ت) 

تبیین الحقائق میں  ہے:  ’’ لو قدر علی القیام متکئًا  (قال الحلوانی)   الصحیح انہ یصلی قائمًا متکئًا ولا یجزیہ غیر ذٰلک وکذٰلک لو قدر ان یعتمد علی عصا او علی خادم لہ فانہ یقوم ویتکیٔ ‘‘  اگر سہارے سے قیام کرسکتا ہو  (حلوانی نے کہا)   تو صحیح یہی ہے کہ سہارے سے کھڑے ہو کر نماز ادا کرے اس کے علاوہ کفایت نہ کریگی اور اسی طرح اگر عصا یا خادم کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے تو قیام کرے اور سہارے سے نماز ادا کرے۔ (ت) 

          یہ سب مسائل خوب سمجھ لئے جائیں  باقی اس مسئلہ کی تفصیلِ تام ([9] و تحقیق ہمارے فتاویٰ میں ہے جس پر اطلاع نہایت ضرور واَہم کہ آجکل ناواقفی سے جاہل بعض مدعیانِ علم بھی ان احکام کا خلاف کرکے ناحق اپنی نمازیں  کھوتے اور صراحۃً مرتکب ِگناہ و تارِک الصلوٰۃ ہوتے



[1]    یعنی نا واقف لوگ ۔

[2]    بڑھاپا۔         

[3]    سَر گھومنا/چکرانا۔

[4]    ایک طرح کی۔

[5]    جس کا نیک یا بد ہونا لوگوں پرظاہر نہ ہو۔

[6]    جس کا فسق ظاہر نہ ہو۔                      

[7]    بتانا۔

[8]    طویل۔

[9]    مکمل تفصیل۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن