30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے ہر چیز کی ایک عمر مقررہے اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے۔ایسے ہی دنیا کی بھی ایک عمر اللہ تَعَالٰی کے علم میں مقررہے۔ اس کے پورا ہونے کے بعددنیا فنا ہو جائے گی۔ زمین و آسمان، آدمی ، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ اس کو’’ قیامت‘‘ کہتے ہیں ۔ جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدّت ، موت کے سکرات ،([1]) نزع([2])کی حالتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ ایسے ہی قیامت سے پہلے علامات ہیں ۔
قیامت کے آنے سے پہلے دنیا سے علم اٹھ جائے گا ۔ عالم باقی نہ رہیں گے۔ جہالت پھیل جائے گی۔ بدکاری اور بے حیائی زیادہ ہوگی۔ عورتوں کی تعداد مَردوں سے بڑھ جائے گی ۔ بڑے دجّال ([3]) کے سوا تیس دجّال اور ہوں گے ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا باوجودیکہ حضور پُرنور سیِّد الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نبوت ختم ہو چکی۔ ان میں سے بعضے دجّال تو گزر چکے جیسے مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی، مرزا علی محمد باب، مرزا علی حسین بہاء اللہ ، مرزا غلام احمد قادیانی ([4])بعضے اور باقی ہیں وہ بھی ضرور ہوں گے۔
مال کی کثرت ہوگی۔ عرب میں کھیتی، باغ ،نہریں ہو جائیں گی۔ دین پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔ وقت بہت جلد گزرے گا۔ زکٰوۃ دینا لوگوں کو دشوارہوگا۔ علم کو لوگ دنیا کیلئے پڑھیں گے ۔ مرد ،عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ ماں باپ کی نافرمانی زیادہ ہوگی۔ شراب نوشی عام ہو جائے گی۔ نا اہل سردار بنائے جائیں گے۔ نہر فرات سے سونے کا خزانہ کھلے گا۔ زمین اپنے دفینے اُگل دے گی۔ امانت ،غنیمت سمجھی جائے گی۔ مسجدوں میں شور مچیں گے۔ فاسق ،سرداری کریں گے۔ فتنہ انگیزوں کی عزت کی جائے گی۔ گانے باجے کی کثرت ہوگی ۔ پہلے بزرگوں پر لوگ لعن طعن کریں گے([5])۔ کوڑے کی نوک اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے۔ دَجّال اور دَابَّۃُ الارض اور یاجُوج ماجُوج ([6])نکلیں گے۔ حضرت امام مہدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول([7]) فرمائیں گے۔ آفتاب([8])مغرب سے طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
سوال: دجّال کس کو کہتے ہیں ؟ اس کے نکلنے کا حال بیان فرمائیے۔
جواب: دجّال مسیح ([9])کذاب ([10]) کا نام ہے۔ اس کی ایک آنکھ ہوگی وہ کانا ہو گا اور اس کی پیشانی پر ک ا ف ر (یعنی کافر) لکھا ہوگا۔ہر مسلمان اس کو پڑھے گا ، کافر کو نظر نہ آئے گا۔ وہ چالیس دن میں تمام زمین میں پھرے گا مگر مکّہ شریف اور مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا۔ ان چالیس دن میں پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، دوسرا ایک مہینہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن معمول کے دنوں کے برابر ہوں گے۔ دجّال خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اسکے ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی، جس کا نام وہ جنّت و دوزخ رکھے گا۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کو وہ اپنی جنت میں ڈالے گا ، جو حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس کا انکار کرے گا اس کو اپنی جہنم میں داخل کرے گا جو واقع میں آسائش کی جگہ ہوگی([11])۔ بہت سے عجائب ([12])دکھائے گا ۔ زمین سے سبزہ اُگائے گا ۔ آسمان سے مینہ ([13])برسائے گا۔ مُردے زندہ کرے گا۔ ایک مومن صالح ([14]) اس طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے دجّال کے سپاہی کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہیں گے ۔ میرے رب کے دلائل چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔ پھر وہ ان کو پکڑ کر دجال کے پاس لے جائیں گے۔ یہ دجال کو دیکھ کر فرمائیں گے اے لوگو یہ وہی دجال ہے جس کا رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ذکر فرمایا ہے۔ دجال کے حکم سے ان کو زدوکوب ([15]) کیا جائے گا۔ پھر دجال کہے گاکیا تم میرے اوپر ایمان نہیں لاتے ؟وہ فرمائیں گے تو مسیح کَذَّا ب ہے ۔ دجال کے حکم سے ان کا جسم مبارک سر سے پاؤں تک چیر کے دوحصے کر دیا جائے گا اور ان دونوں حصوں کے درمیان دجال چلے گا۔ پھر کہے گا اٹھ! تو وہ تندرست ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ تب دجال ان سے کہے گا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو ؟وہ فرمائیں گے میری بصیرت ([16]) اور زیادہ ہو گئی۔ اے لوگو! یہ دجّال اب میرے بعد کسی کے ساتھ پھر ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر دجال انہیں پکڑ کر ذبح کرنا چاہے گا اور اس پر قادر نہ ہو سکے گا۔ پھر ان کے دست وپا([17])سے پکڑ کر اپنی جہنم میں ڈالے گا۔ لوگ گمان کریں گے کہ ان کو آگ میں ڈالا۔ مگر درحقیقت وہ آسائش کی جگہ ہوں گے۔
سوال: دَا بَّۃُ الارض کیا چیز ہے؟
جواب: دَا بَّۃُ الارض ایک عجیب شکل کا جانور ہے جو کوہِ صفا سے ظاہر ہو کر تمام شہروں میں نہایت جلد پھرے گا۔ فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص پر ایک نشانی لگائے گا۔ ایمانداروں کی پیشانی پر
3 دجّال کا لغوی معنی جھوٹا ،سچائی کو چھپانے والا۔ روایت کے مطابق ایک جھوٹا شخص جو اخیر زمانہ میں پیدا ہوگا مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام اسے قتل کریں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع