30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: اللہ تَعَالٰی نے جو حضرت آدم علیہ السلام کو ہر چیز اور اُس کے ناموں کا علم عطا فرمایا تھا اس کو علمِ اسماء کہتے ہیں ۔
سوال: فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیسا سجدہ کیا تھا؟
جواب: یہ سجدہ تعظیمی تھا، جو خدا کے حکم سے ملائکہ نے کیا اور سجدہ تعظیمی پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں جائز نہیں ۔ اور سجدہ عبادت پہلی شریعتوں میں بھی خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہوا۔
وہ عجیب و غریب کام جو عادتًا ناممکن ہوں جیسے مُردوں کو زندہ کرنا، اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کردینا، انگلیوں سے چشمے جاری کرنا، ایسی باتیں اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے اس کی تائید میں ظاہر ہوں ، ان کو’’ معجزہ‘‘ کہتے ہیں ۔ معجزات انبیاء علیہم السلام سے بہت ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور یہ اُن کی نبوت کی دلیل ہیں ۔ معجزات دیکھ کر آدمی کا دل نبی کی سچائی کا یقین کر لیتا ہے جس کے ہاتھ سے قُدرت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جن کے مقابل سب لوگ عاجز و حیران ہیں ضرور وہ خُدا کا بھیجا ہوا ہے چاہے ضِدّی دُشمن نہ مانے مگر دل یقین کر ہی لیتا ہے اور عقل والے ایمان لے آتے ہیں ۔
کوئی جھوٹا نبوت کا دعویٰ کر کے معجزہ ہر گز نہیں دکھا سکتا قُدرت اس کی تائید نہیں فرماتی۔ ہمارے حضور سیّد الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مُعجزات بہت زیادہ ہیں ان میں سے معراج شریف بہت مشہور معجزہ ہے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رات کے تھوڑے سے حصّہ میں مکّہ معظمہ سے بیت المقدس تشریف لے گئے وہاں انبیا ء علیہم السلام کی امامت فرمائی۔بیت المقدس سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ اللہ تَعَالٰی کے قُرب کا وہ مرتبہ پایا کہ کبھی کسی انسان یا فرشتے ، نبی یا رسول نے نہ پایا تھا ۔ خداوندِ عالم کا جمالِ پاک اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا، کلام الٰہی سنا ، آسمان وزمین کے تمام ملک ملاحظہ فرمائے ، جنّتوں کی سیر کی، دوزخ کا معائنہ ([1]) فرمایا، مکّہ معظمہ سے بیت المقدس تک راہ میں جو قافلے ملے تھے صبح کو ان کے حالات بیان فرمائے۔
قرآن پاک اللہ تَعَالٰی کا کلام ہے اس نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے اتارا۔ اس میں سارے علم ہیں اور وہ بے مثل کتاب ہے ویسی کوئی دوسرا نہیں بنا سکتا ہے چاہے تمام دنیا کے لوگ مل جائیں مگر ایسی کتاب نہیں بناسکتے۔
اللہ تَعَالٰی نے یہ کتاب اپنے پیارے نبی حضور محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اتاری جیسے اس سے پہلے توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ، زبور حضرت داؤ د علیہ السلام پر، انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اور دوسری کتابیں اور نبیوں علیہم السلام پر اتاری تھیں وہ سب کتابیں بر حق ہیں ۔ہمارا ان سب پر ایمان ہے مگر پہلے زمانہ کے شریر لوگوں نے اگلی کتابوں کو بدل ڈالا وہ اصلی نہیں ملتیں ۔ قرآن شریف کا اللہ تَعَالٰی خود نگہبان ہے اس لئے وہ جیسا اُترا ویسا ہی ہے اور ہمیشہ ویسا ہی رہے گا سارا زمانہ چاہے تو بھی اس میں ایک حرف کا فرق نہیں آسکتا۔
سوال: دنیا میں کوئی آسمانی کتاب بھی ہے؟
جواب: جی ہاں ۔
سوال: آسمانی کتاب سے کیا مطلب ہے؟
جواب: خداکی کتاب۔
سوال: کون سی؟
جواب: قرآن شریف۔
سوال: اس میں کیا بیان ہے؟
جواب: اس میں سارے علم ہیں ۔
سوال : وہ کتاب کس لئے آئی ہے؟
جواب: بندوں کی رہنمائی کیلئے تاکہ بندے اللہ اور اس کے رسول کو جانیں اور ان کی مرضی کے کام کریں ۔
سوال: قرآن شریف کس پر اترا؟
جواب: حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر۔
سوال: کب اُترا؟
جواب: اب سے تیرہ سو برس پہلے([2])۔
سوال: کیا قرآن شریف کے سوا اللہ تَعَالٰی نے کوئی اور کتاب بھی اُتاری تھی؟
جواب: جی ہاں ۔
سوال: کون کون سی؟
جواب: سب کتابوں کے نام تو معلوم نہیں ۔ مشہور کتابیں یہ ہیں ۔ توریت شریف ، انجیل شریف، زبور شریف۔
سوال: کیا صحیح توریت ، صحیح انجیل اور صحیح زبور آج کل کہیں ملتی ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع