دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kitab ul Aqiad | کتاب العقائد

book_icon
کتاب العقائد

        مسلمانوں کے لئے ایک ایسا امام ضروری ہے جو ان میں شرع کے احکام جاری کرے ، حدیں قائم کرے، لشکر ترتیب دے، صدقات وصول کرے، چوروں ، لٹیروں ، حملہ آوروں کو مغلوب([1])کرے، جمعہ و عیدین قائم کرے، مسلمانوں کے جھگڑے کاٹے، حقوق پر جو گواہیاں قائم ہوں وہ قبول کرے ،ان بیکس، یتیموں کے نکاح کرے جن کے ولی نہ رہے ہوں اور ان کے سواوہ کام انجام دے جن کو ہر ایک آدمی انجام نہیں دے سکتا۔

        امام کیلئے ضروری ہے کہ وہ ظاہر ہو چھپا ہو انہ ہو۔ورنہ وہ کام انجام نہ دے سکے گا جن کیلئے امام کی ضرورت ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ امام قریشی ہو، قرشی کے سوا اور کی امامت جائز نہیں ۔امام کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان ،مرد ،آزاد ہو ، عاقل ،بالغ اور اپنی رائے، تدبیر اور شوکت و قوت سے مسلمانوں کے امور میں تصرف([2]) کر سکتا ہو یعنی صاحب سیاست ہو اور اپنے علم ، عدل اور شجاعت و بہادری سے احکام نافذ کرنے اور دار الاسلام کی حدود([3])کی حفاظت اور ظالم و مظلوم کے انصاف پر قادر ہو۔

        حضور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام صحابہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُممتقی و پرہیز گار ہیں ان کا ذکر اَدب ،محبت اور توقیر کے ساتھ لازم ہے ان میں سے کسی کے ساتھ بد عقیدگی یا کسی کی شان میں بد گوئی کرنا انتہائی درجہ کی بدنصیبی اور گمراہی ہے۔ وہ فرقہ نہایت بد بخت اور بد دین ہے جو صحابہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمپر لعن طعن کو اپنا مذہب بنائے ان کی عداوت([4]) کو ثواب کا ذریعہ سمجھے۔ صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکی بڑی شان ہے ان کی ایذا([5]) سے حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا ہوتی ہے۔ کوئی ولی، کوئی غوث، کوئی قطب مرتبہ میں کسی صحابی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ تمام صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمجنتی ہیں ۔روز محشر فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔

اولیاء  اللہ  

           اللہ  کے وہ مقبول بندے جو اس کی ذات و صفات کے عارف([6])ہوں ، اس کی اطاعت و عبادت کے پابند رہیں ، گناہوں سے بچیں ، انہیں  اللہ  تَعَالٰی اپنے فضل و کرم سے اپنا قربِ خاص عطا فرمائے ان کو’’ اولیاء  اللہ  ‘‘کہتے ہیں ۔

        ان سے عجیب و غریب کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں مثلاً آن کی آن میں مشرق سے مغرب میں پہنچ جانا ، پانی پر چلنا، ہوا میں اڑنا ، جمادات([7])و حیوانات سے کلام کرنا، بلائیں دفع کرنا، دور دراز کے حالات ان پر منکشف([8]) ہونا۔ اولیاء کی کرامتیں درحقیقت ان انبیا ء علیھم السلام کے معجزات ہیں جن کے وہ امّتی ہوں ۔اولیاء کی محبت دارین([9]) کی سعادت اور رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ ان کی برکت سے  اللہ  تَعَالٰی مخلوق کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ ان کی دعاؤں سے خلق ([10])فائدہ اٹھاتی ہے۔ ان کے مزاروں کی زیارت، ان کے عُرسوں کی شرکت سے برکات حاصل ہوتی ہیں ۔ ان کے وسیلہ سے دعا کرنا کامیابی ہے۔

        مرنے کے بعد مُردوں کو صدقہ ، خیرات، تلاوتِ قرآن شریف، ذکر الٰہی اور دعا سے فائدہ ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں کا ثواب پہنچتا ہے اسی لئے فاتحہ اور گیارہویں وغیرہ مسلمانوں میں قدیم ([11])سے رائج ہے اور صحیح احادیث سے یہ امور ثابت ہیں ۔ ان کا منکِر گمراہ ہے۔

         اللہ  تَعَالٰی ایمان کامل پر زندہ رکھے اور اسی پر اٹھائے اپنے محبوبوں کی محبت عطا فرمائے اور اپنے دشمنوں سے بچائے۔( آمین)

وَ صَلَی اللّٰہُ  تَعَالٰی ٰ عَلٰی  خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجَمَعِیْنَ۔

نبوت کے جھوٹے دعویدار

  اسود عنسی

یہ عنس بن قدجح سے منسوب تھا اس کا نام عیلہ تھا ۔اسے ’’ ذوالخمار ‘‘ بھی کہتے تھے اور ذوالحمار بھی۔ ذوالخمار کہنے کی وجہ تویہ تھی کہ یہ اپنے منہ پر دوپٹہ ڈالا کرتا تھاجبکہ ذوالحمار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کہا کرتا تھا کہ جو شخص مجھ پر ظاہر ہوتا ہے وہ گدھے پر سوار ہو کر آتا ہے۔

ارباب سیر کے نزدیک یہ کاہن تھا اور اس سے عجیب و غریب باتیں ظاہر ہوتی تھیں یہ لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے گرویدہ کرلیا کرتا تھا اس کے ساتھ دو ہمزاد شیطان تھے جس طرح کاہنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اس کا قصہ یوں ہے کہ فارس کا ایک باشندہ باذان ، جسے کسرٰی نے یمن کا حاکم بنایا تھا ، نے آخری عمر میں توفیق اسلام پائی اور سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے یمن کی حکومت پر برقرار رکھا اس کی وفات کے بعد حکومت یمن کو تقسیم کرکے کچھ اس کے بیٹے شہر بن باذان کو دی اور کچھ ابو موسی اشعری رضی  اللہ  عنہ کو اور کچھ حضرت معاذ بن جبل رضی  اللہ  عنہ کو مرحمت فرمائی اس علاقے میں اسود عنسی نے خروج کیا اور شہر بن باذان کو قتل کردیا اور مرزبانہ جو کہ شہر کی بیوی تھی اسے کنیز بنالیا فردہ بن مسیک نے جو کہ وہاں کے عامل تھے اور قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایک خط لکھ کر مطلع کیا حضرت معاذ اور ابوموسی اشعری رضی  اللہ  عنہما اتفاق رائے سے حضرموت چلے گئے جب یہ خبر سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہنچی تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس جماعت کو لکھاکہ تم اکٹھے ہوکر جس طرح ممکن ہو  اسود عنس کے شر و فساد کوختم کرو اس پر تمام فرمانبرداران



13   قابوپانا

1    دخل

2    سرحدیں 

3     دشمنی

4     تکلیف

5    پہچاننے والا 

6     پتھر وغیرہ 

7     ظاہر

8     دونوں جہاں ، دنیا وآخرت 

9      مخلوق  

10   بہت پہلے سے جاری  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن