30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا۔ (اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی )
انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُہیں جنہوں نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بے تامل([1])تصدیق کی اور جو مَردوں میں سب سے پہلے مسلمان ہیں ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا اسم مبارک عبد اللہ ابن ابی قحافہ ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا رنگ گورا، جسم چھریرا([2])، رخسار رستے ہوئے ،آنکھیں حلقہ دار، پیشانی ابھری ہوئی تھی ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے والدین، بیٹے اور پوتے سب صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں اور یہ فضیلت صحابہ کرام رضوان اللہ تَعَالٰی علیہم اجمعین میں کسی کو حاصل نہیں ۔ عام فیل ([3])کے دو برس چار ماہ بعد مکہ مکرمہ میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی ولادت ہوئی ۔ اپنی عمر شریف میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مفارقت ([4]) کبھی گوارا نہ کی ۔
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے بہت فضائل ہیں احادیث میں بہت تعریفیں آئی ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا لقب صدیق و عتیق([5])ہے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے سوا کسی شخص نے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے برابر فضل و شرف نہیں پایا۔۲۲ جمادی الآخر ۳ ۱ ھ شب سہ شنبہ ([6])مدینہ منورہ مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا وصال ہوا۔ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے نمازہ جنازہ پڑھائی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی خلافت ۲ سال ۴ ماہ رہی۔
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا مرتبہ ہے اور وہ باقی سب سے افضل ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا نام نامی عمر بن خطاب، لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنبوت کے چھٹے سال چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد ایمان لائے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے اسلام لانے کے دن سے اسلام کا غلبہ شروع ہوا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُدوسرے خلیفہ ہیں ۔ سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُہی کا لقب امیرالمومنین ہوا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا رنگ سفید سرخی مائل، قامت دراز([7])، چشم مبارک سرخ تھیں ۔آپ ،حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد خلیفہ ہوئے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے عہد ([8])مبارک میں بہت فتوحات ہوئیں ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے فضائل میں بکثرت احادیث وارد ہیں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے مدینہ طیبہ میں آخر ذی الحجہ ۲۳ ھ میں ساڑھے دس سال خلافت کر کے بعمرتریسٹھ سال شہادت پائی ۔
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد خلیفۂ سوئم حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا مرتبہ ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا اسم مبارک عثمان بن عفان ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا رنگ گورا، جلد نازک ،چہرہ حسین، سینہ چوڑا اور داڑھی بڑی تھی۔ آپ یکم محرم ۲۴ ھ کو خلیفہ بنائے گئے ۔آپ سخا و حیا ([9])میں مشہور ہیں اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے فضائل میں بکثرت حدیثیں مروی([10]) ہیں ۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شہزادیاں حضرت رقیہ و حضرت اُمِّ کلثوم یکے بعد دیگرے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے نکاح میں آئیں اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو ذوالنورین([11])کہتے ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُقریب بارہ سال کے خلافت فرما کر مدینہ طیبہ میں بعمربیاسی سال ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ میں شہید ہوئے۔
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد سب سے افضل خلیفۂ چہارم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُہیں ۔ آپ کا اسم مبارک علی اور کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ نو عمروں میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسب سے پہلے اسلام لائے ۔اسلام لانے کے وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی عمر شریف پندرہ یا سولہ سال یا اس سے کچھ کم و زیادہ تھی۔ آپ کا رنگ گندمی، آنکھیں بڑی،قد مبارک غیر طویل، داڑھی چوڑی اور سفید تھی۔ آپ، حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے دن خلیفہ بنائے گئے۔ حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شہزادی خاتون جنّت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تَعَالٰی عنہا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے نکاح میں آئیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے فضائل میں بکثرت احادیث وارد ہیں ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ۲۱ رمضان ۴۰ ھ کو چار سال نو مہینے اورچند روز خلافت فرما کر بعمرتریسٹھ سال شہادت پائی۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دس اصحاب وہ ہیں جن کے بہشتی ([12])ہونے کی دنیا میں خبر دے دی گئی ان کو’’ عشرہ مبشرہ ‘‘کہتے ہیں ۔ ان میں چار تو یہی خلفاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمہیں جن کا ذکر ابھی گزرا باقی حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں ۔حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ تَعَالٰی علیہم اجمعین ۔احادیث میں بعض اور صحابہ کرام کو بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے چنانچہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تَعَالٰی عنہا کے حق میں وارد ہے کہ وہ جنت کی بیبیوں کی سردار ہیں اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تَعَالٰی عنہما کے حق میں وارد ہے کہ وہ جوانانِ بہشت کے سردار ہیں اسی طرح اصحاب بدر اور اصحاب بیعۃ الرضوان کے حق میں بھی جنت کی بشارتیں ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع