30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیادتی کرے گی، پینے کو انہیں گرم پانی ملے گا اور اس قدر گرم کہ جس سے منہ پھٹ جائے اور اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچے اور نیچے کا پھٹ کر لٹک آئے ، ان کی قرار گاہ ([1]) جحیم ([2])ہے ،ملائکہ ان کو ماریں گے۔ ان کی آرزو([3]) ہوگی کہ وہ کسی طرح ہلاک ہو جائیں اور ان کی رہائی کی کوئی صورت نہ ہوگی، قدم پیشانیوں سے ملا کر باندھ دئیے جائیں گے ، گناہوں کی سیاہی سے منہ کالے ہوں گے، جہنم کے اطراف و جوانب([4]) شور مچاتے اور فریاد کرتے ہوں گے کہ اے مالک([5]) ! عذاب کا وعدہ ہم پر پورا ہو چکا ہے ۔اے مالک علیہ السلام! لوہے کے بوجھ نے ہمیں چکنا چور کر دیا ۔ اے مالک علیہ السلام !ہمارے بدنوں کی کھالیں جل گئیں ۔اے مالک علیہ السلام !ہم کواس دوزخ سے نکال ۔ہم پھر ایسی نافرمانی نہ کریں گے۔ فرشتے کہیں گے دور ہو !اب امن نہیں اور اس ذلّت کے گھر سے رہائی نہ ملے گی اسی میں ذلیل پڑے رہو اور ہم سے بات نہ کرو۔ اس وقت ان کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور دنیا میں جو کچھ سرکشی وہ کر چکے ہیں اس پر افسوس کریں گے لیکن اس وقت عذر و ندامت ([6]) کچھ کام نہ آئے گا، افسوس کچھ فائدہ نہ دے گا بلکہ وہ ہاتھ پاؤں باند ھ کر چہروں کے بل آگ میں دھکیل دئیے جائیں گے۔ ان کے اوپر بھی آگ ہوگی نیچے بھی آگ ۔ داہنے بھی آگ بائیں بھی آگ۔ آگ کے سمندر میں ڈوبے ہوں گے۔ کھانا آگ اور پینا آگ ، پہنا وا آگ اور بچھونا آگ، ہر طرف آگ ہی آگ، اس پر گُرزوں کی مار اور بھاری بیڑیوں کا بوجھ ۔ آگ انہیں اس طرح کھولائے ([7]) گی جس طرح ہانڈیا ں کھولتی ہیں ،وہ شور مچائیں گے ان کے سروں پر سے کھولتا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی آنتیں اور بدنوں کی کھالیں پگھل جائیں گی، لوہے کے گُرز مارے جائیں گے جس سے پیشانیاں پچ جائیں گی، مونہوں سے پیپ جاری ہوگی ،پیاس سے جگرکٹ جائیں گے، آنکھوں کے ڈھیلے بہہ کر رخساروں پر آپڑیں گے، رخساروں کے گوشت گر جائیں گے، ہاتھ پاؤں کے بال اور کھال گر جائیں گے اور نہ مریں گے، چہرے جل بھن کر سیاہ کالے کوئلے ہو جائیں گے، آنکھیں اندھی اور زبانیں گونگی ہو جائیں گی، پیٹھ ٹیڑھی ہو جائے گی، ناکیں اور کان کٹ جائیں گے ،کھال پارہ پارہ([8]) ہو جائے گی، ہاتھ گردن سے ملا کر باندھ دئیے جائیں گے او رپاؤں پیشانی سے ،آگ پر منہ کے بَل چلائے جائیں گے اور لوہے کے کانٹوں پر آنکھ کے ڈھیلوں سے راہ چلیں گے ،آگ کی لپٹ بدن کے اندر سرایت ([9]) کر جائے گی اور دوزخ کے سانپ بچھو بدن پر لپٹے، ڈستے، کاٹتے ہوں گے۔ یہ مختصر حال ہے جو باجمال([10])ذکر کیا گیا ۔ حدیث شریف میں ہے دوزخ میں ستّر ہزار وادیاں ہیں ، ہر وادی میں ستّر ہزار گھاٹیاں ،ہر گھاٹی میں ستّر ہزار اژدہے([11]) اور ستّر ہزار بچھوہیں ۔ ہرکافر و منافق کو ان گھاٹیوں میں پہنچنا ضرور ہے۔
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جُبِّ حُزن سے پناہ مانگو ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ’’جُبِّ حزن ‘‘ کیا چیز ہے؟ فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی روزانہ ستّر ہزار بار پناہ مانگتا ہے۔ اللہ تَعَالٰی اپنے غضب و عذاب سے پناہ دے اور ہمیں اور سب مسلمانوں کو اپنے عفو و کرم سے بخشے ۔آمین۔
جب تمام جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اور دوزخ میں فقط وہی لوگ رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ وہاں رہنا ہے۔ اس وقت جنت اور دوزخ کے درمیان مینڈھے کی شکل میں موت لائی جائے گی اور تمام بہشتیوں اور دوزخیوں کو دکھا کر ذبح کر دی جائے گی اور فرمادیا جائے گا کہ اے اہل جنت ! تمہارے لئے ہمیشہ ہمیشہ جنت اور اس کی نعمتیں اور اے اہل دوزخ! تمہارے لئے ہمیشہ عذاب ہے موت ذبح کر دی گئی اب ہمیشہ کی زندگی ہے ،ہلاک و فنا نہیں ۔ اس وقت اہل جنت کے فرح و سرورکی نہایت نہ ہوگی([12]) اسی طرح دوزخیوں کے رنج و غم کی۔
وہ تمام امور جو حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تَعَالٰی کی طرف سے لائے اور جن کی نسبت یقینی معلوم ہے کہ یہ دین مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہیں ان سب کی تصدیق کرنا اور دل سے ماننا ’’ایمان ‘‘ہے جیسے اللہ تَعَالٰی کی وحدانیت ، تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت، حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاخاتم النبین ہونا یعنی یہ اعتقاد کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب میں آخری نبی ہیں ، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ، اسی طرح حشر نشر([13]) جنت دوزخ وغیرہ کا اعتقاد اور زبان سے اقرار بھی ضروری ہے۔ مگر حالت اکراہ ([14]) میں جبکہ خوف جان ہو اس وقت اگر تصدیق میں کچھ خلل نہ آئے تو وہ شخص مومن ہے اگرچہ اس کو بحالت مجبوری زبان سے کلمۂ کفر کہنا پڑا ہو مگر بہتر یہی ہے کہ ایسی حالت میں بھی کلمۂ کفر زبان پر نہ لائے۔ گناہ کبیرہ کرنے سے آدمی کافر اور ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ شرک و کفر کبھی نہ بخشے جائیں گے اور مشرک و کافرکی ہر گز مغفرت نہ ہوگی۔ ان کے سوا اللہ تَعَالٰی جس گناہ کو چاہے گا اپنے مقربوں کی شفاعت سے یا محض اپنے کرم سے بخشے گا۔ شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو خدا یا مستحق عبادت سمجھے ۔ اور کفریہ ہے کہ ضروریات دین یعنی وہ امور جن کا دین مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہونا بہ یقین معلوم ہو ان میں سے کسی کا انکار کرے۔
بعضے افعال بھی تکذیب و انکار کی علامات ہیں ان پر بھی حکم کفر دیا جاتا ہے جیسے زنّار([15]) پہننا۔ قشقہ([16])لگانا وغیرہ ۔ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور مسلمان کتنا بھی گنہگار ہو کبھی نہ کبھی ضرور نجات پائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع