30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک درجہ میں جمع ہو تو ایک در جہ سب کیلئے کفایت کرے۔ دروازے اتنے وسیع کہ ایک بازو سے دوسرے تک تیز گھوڑے کی ستّر برس کی راہ ہے۔ جنّت میں صاف، شفاف، چمکدار سفید موتی کے بڑے بڑے خیمے نصب ہیں ان میں رنگا رنگ، عجیب و غریب، نفیس فرش ہیں ان پر یاقوتِ سُرخ کے منبر ہیں ۔ شہد و شراب کی نہریں جاری ہیں ان کے کناروں پر مرصع([1]) تخت بچھے ہیں ۔پاکیزہ صورت و لباس والے غلمان و خدام کے انبوہ ([2]) ہیں جو ہر وقت خدمت کیلئے تیار ہیں ۔ نیک خو([3])، خو برو ([4]) حسین و جمیل حوریں جن کے حُسن کی چمک دنیا میں ظاہرہو تو اس کے مقابل آفتاب کا نور پھیکا پڑجائے۔ ان نازنینوں ِ([5])کے بد ن غایت([6]) و خوبی سے ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا وہ یاقو ت و مرجان کے بنے ہوئے ہیں ۔ جب وہ ناز کے ساتھ خراماں ہوتی ہیں ([7]) تو ہزارہا نور پیکر([8])خدام ان کے آنچل ([9])اٹھائے چلتے ہیں ۔ انکے ریشمی لباس کی چمک دمک نگاہوں کو جھپکاتی اور دیکھنے والوں کو متحیر ([10])بناتی ہے ۔ مروارید([11]) و مرجان کے مرصع تاج ان کے زیب سر ہیں ۔ ان کا رنگ ڈھنگ ان کے نازوادا([12]) ان کے جواہرات کو شرما دینے والے صاف چمکدار اور عطر بیز ([13])بدن اہل جنت کیلئے کیسے فرحت انگیز ([14])ہیں جن سے پہلے کسی انس و جن نے ان حوروں کو چھوا تک نہیں ۔ پھر یہ حُسن دلکش دنیا کے حُسن کی طرح خطرہ میں نہیں کہ جوانی کا رنگ روپ بڑھاپے میں رخصت ہو جائے وہاں بڑھاپا ہے نہ اور کوئی زوال و نقصان ۔ جنت کے چمنستان ([15])کے درمیان یاقوت کے قُصور و ایوان([16]) بنائے گئے ہیں ان میں یہ حوریں جلوہ گر([17]) ہیں ۔ موتی کی طرح چمکتے خادم ان کے اور جنتیوں کے پاس بہشتی نعمتوں کے جام ([18])اور ساغر([19]) لیے دورے([20])کر رہے ہیں ۔ پروردگار کریم کی طرف سے دم بہ دم انواع و اقسام کے تحفے اور ہدیے پہنچتے ہیں ۔ دائمی زندگی، عیش مدام([21]) عطا کیا گیا۔ ہر خواہش بے درنگ ([22]) پوری ہوتی ہے۔ دل میں جس چیز کا خیال آیا وہ فوراً حاضر ۔کسی قسم کا خوف و غم نہیں ۔ ہر ساعت ہر آن نعمتوں میں ہیں ۔ جنتی نفیس و لذیذغذائیں ، لطیف میوے کھاتے ہیں ۔ بہشتی نہروں سے دودھ شراب شہد وغیرہ پیتے ہیں ۔ ان نہروں کی زمین چاندی کی، سنگریزے جواہرات کے، مٹی مشک ناب ([23])کی، سبزہ زعفران کا ہے۔ ان نہروں سے نورانی پیالے بھر کر وہ جام پیش کرتے ہیں جن سے آفتاب شرمائے۔ ایک منادی اہل جنت کو ندا کرے گا اے بہشت والو ! تمہارے لئے صحت ہے کبھی بیمار نہ ہوگے۔ تمہارے لئے حیات ہے کبھی نہ مرو گے۔ تمہارے لئے جوانی ہے بوڑھے نہ ہوگے۔ تمہارے لئے نعمتیں ہیں کبھی محتاج نہ ہوگے۔ تمام نعمتوں سے بڑھ کر سب سے پیاری دولت حضرت ربّ العزت جل جلالہ کا دیدار ہے جس سے اہل جنت کی آنکھیں بہرہ یاب([24]) ہوتی رہیں گی۔ اللہ تَعَالٰی ہمیں بھی میسّر فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
قیامت کی مصیبتیں جھیل کر ابھی لوگ اس کی کرب ([25]) و دہشت میں ہوں گے کہ اچانک ان کو اندھیریاں گھیر لیں گی اور لپٹ مارنے والی آگ ان پر چھا جائے گی اور اس کے غیظ و غضب کی آواز سننے میں آئے گی ۔اس وقت بدکاروں کو عذاب کا یقین ہوگا اور لوگ گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور فرشتے ندا کریں گے کہاں ہے فلاں فلاں کا بیٹا !جس نے دنیا میں لمبی امیدیں باندھ کر اپنی زندگی کو بدکاری میں ضائع کیا ۔اب یہ ملائکہ ان لوگوں کو آہنی گُرزوں ([26])
سے ہنکاتے ([27])دوزخ میں لے جائیں گے ۔یہ ایک دار ہے جو ظالموں ، سرکشوں کے عذاب کیلئے بنایا گیا ہے اس میں گُھپ اندھیری اور تیز آگ ہے۔ کافر اس میں ہمیشہ قید رکھے جائیں گے او رآگ کی تیزی دم بہ دم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع