30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی ٰ کے کچھ بندے اس سے مستثنیٰ بھی ہیں ؟
جواب: ان اہوال میں سے کچھ بھی انبیاء ([1])علیہم السلام و اولیاء و اتقیاء ([2])
و صلحاء ([3])رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمکو نہ پہنچے گا وہ اللہ تَعَالٰی کے کرم سے ان سب آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہوں گے۔ قیامت کا پچاس ہزار برس کا دن جس میں نہ ایک لقمہ کھانے کو میسّر ہوگا، نہ ایک قطرہ پینے کو، نہ ایک جھونکا ہوا کا۔ اوپر سے آفتاب کی گرمی بھون رہی ہوگی، نیچے زمین کی تپش ،اندر سے بھوک کی آگ لگی ہوگی۔ پیاس سے گردنیں ٹوٹی جاتی ہوں گی سالہاسال کی مُدت کھڑے کھڑے بدن کیسا دُکھا ہوا ہوگا شدّت خوف سے دل پھٹے جاتے ہوں گے۔ انتظار میں آنکھیں اُٹھی ہوں گی بدن کا پرزہ پرزہ لرزتا کانپتا ہوگا وہ طویل دن اللہ تَعَالٰی کے فضل سے اس کے خاص بندوں کیلئے ایک فرض نماز کے وقت سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
حساب حق ہے۔بندوں کے اعمال کا حساب ہوگا۔ میزان قائم کی جائے گی عمل تولے جائیں گے نیک بھی بد بھی، قول بھی فعل بھی، کافروں کے بھی مومنوں کے بھی۔ اور بعضے اللہ کے بندے ایسے بھی ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ہر شخص کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا جو فرشتوں نے لکھا تھا نیکوں کے نامہ ہائے اعمال داہنے ہاتھ میں ہوں گے اور بدوں کے بائیں میں ۔
جہنم کے اوپر ایک پُل ہے اس کو’’ صراط‘‘ کہتے ہیں ۔ وہ بال سے زیادہ باریک تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ سب کو اس پر گزرنا ہے جنّت کا یہی رستہ ہے ۔اس پُل پر گزرنے میں لوگوں کی حالت جداگانہ ہوگی جس درجہ کا شخص ہوگا اس کیلئے ایسی ہی آسانی یا دشواری ہوگی بعضے تو یوں گزر جائیں گے جیسے بجلی کوند گئی ([4]) ۔ ابھی ادھر تھے ، ابھی ادھر پہنچے ۔ بعضے ہوا کی طرح، بعضے تیز گھوڑے کی طرح ، بعضے آہستہ آہستہ ، بعضے گرتے پڑتے لرزتے لنگڑاتے اور بعضے جہنم میں گر جائیں گے ۔ کفّار کے لئے بڑی حسرت کا وقت ہوگا جب وہ پُل سے گزر نہ سکیں گے اور جہنم میں گر پڑیں گے اور ایمانداروں کو دیکھیں گے کہ وہ اسی پُل پر بجلی کی طرح گزر گئے یا تیز ہوا کی طرح اُڑ گئے یا سریع السیر ([5]) گھوڑے کی طرح دوڑ گئے۔
یہ ایک حوض ہے جس کی تہ مُشک کی ہے یاقوت اور موتیوں پر جاری ہے دونوں کنارے سونے کے ہیں اور ان پر موتیوں کے قُبّے ([6]) نصب ہیں اس کے برتن (کوزے) آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ،شہد سے زیادہ شیریں ([7]) ،مُشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ جو ایک مرتبہ پئے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ اللہ تَعَالٰی نے یہ حوض اپنے حبیب اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطافرمایا ہے ۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس سے اپنی امت کو سیراب فرمائیں گے۔ اللہ تَعَالٰی ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین ۔
سوال: حساب کے بعد آدمی کہاں جائیں گے؟
جواب: مسلمان جنّت میں اور کافر دوزخ میں ۔
سوال: کیا سب مسلمان جنّت میں جائیں گے اور سب کافر دوزخ میں ؟ اور یہ دونوں جنّت اوردوزخ میں کتنا عرصہ رہیں گے؟
جواب: نیک مسلما ن اور وہ گناہگار مسلمان جن کے گناہ اللہ تَعَالٰی اپنے کرم اور اپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت سے بخش دے وہ سب کے سب جنّت میں رہیں گے اور بعض گنہگار مسلمان جو دوزخ میں جائیں گے وہ بھی جتنا عرصہ خدا تَعَالٰی ٰ چاہے دوزخ کے عذاب میں مبتلا رہ کر آخر کار نجات پائیں گے اور کافر سب کے سب جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
سوال: کیا جنّت اور دوزخ پیدا ہو چکی ہیں یا پیدا کی جائیں گی؟
جواب: جنت اور دوزخ پیدا ہوچکی ہیں اور ہزاروں برس سے موجود ہیں ۔
اللہ تَعَالٰی نے اِس دنیا کے سوا دو اور عظیم الشان دار ([8])پیدا کیے ہیں ایک دار النعیم ([9]) اس کا نام جنت ہے ۔ایک دار العذاب ([10]) جس کو دوزخ کہتے ہیں ۔
جنّت میں اللہ تَعَالٰی نے اپنے ایماندار بندوں کیلئے انواع و اقسام کی ایسی نعمتیں جمع فرمائی ہیں جن تک آدمی کا وہم و خیال نہیں پہنچتا ،نہ ایسی نعمتیں کسی آنکھ نے دیکھیں ،نہ کسی کان نے سنیں ، نہ کسی دل میں ان کا خطرہ ([11]) ہوا۔ ان کا وصف پوری طرح بیان میں نہیں آسکتا۔
اللہ تَعَالٰی عطا فرمائے تو وہیں ان کی قدر معلوم ہوگی۔ جنت کی وسعت ([12])کا یہ بیان ہے کہ اس میں سو درجے ہیں ہر درجے سے دوسرے درجہ تک اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان۔اگر تمام جہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع