30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کى زندگى محتاجى میں گزرتی ہے اور بندہ بسترپر پڑا ہوتا ہےاور پیشاب وغیرہ سب کچھ بستر مىں ہورہا ہوتا ہےاور بندہ نہ اُٹھ سکتا ہے اور نہ ہی کَروٹ لے سکتا ہے جس کے باعث بستر پر پڑے پڑے بدن میں چھالے اور زخم پڑ جاتے ہىں ۔
حکایت : چنانچہ اىک بڑی عمر کے بزرگ تھے جن کی بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے پىٹھ پک گئی تھى ، میں کبھى کبھی اُن کی عىادت کے لىے جایا کرتا تھا تو ایک بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم قصائى کو اپنے ساتھ کیوں نہىں لائےکہ وہ چھرى سے مجھے ذَبح کر دیتا اور میری تکلىف ختم ہو جاتی اور پھر آخر کار بے چارے فوت ہو گئے ، اللہ پاک ان کی بے حساب مَغْفِرَت فرمائے ۔ اب ہمارے ساتھ کىا ہوتا ہے اور کس حال مىں ہمیں موت آتى ہے کچھ پتا نہیں ہے ۔ یاد رَکھیے !موت تک پہنچنے کے لىے بیماریوں کی گھاٹیوں کو عبور کرنا بہت مشکل کام ہے اور پھر نزع کی سختیاں اور موت کے جھٹکے کہ موت کا ایک جھٹکا تلوار کے ہزار وار سے بھی سخت ہو گا۔ ([1])یہ سب ہم کس طرح بَرداشت کر پائیں گے؟ ہم شَبِ بَراءت کا وَسىلہ دے کر اللہ پاک سے عافىت طلب کرتے ہىں کہ ہمارى موت بھى آسان ہوجائے اور ہمیں پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جَلوؤں میں موت آئے اور اگر مدىنے شریف مىں زىر ِگنبد خضرا بصورت ِشہادت موت نصىب ہو تو کىا ہی بات ہے! اے کاش ! ہمیں جَنَّتُ الْبَقِیْع میں محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں مىں مَدفن مل جائے ۔ حدیثِ پاک میں ہے : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ یعنی اے اللہ ! میں تجھ سے دُنیا اور آخرت میں عا فیت کا سُوال کرتاہوں ۔ ([2])یہ بہترین دُعا ہے کہ اس میں دُنىا اور آخرت کى عافىت کاسُوال کىا گىا ہے لہٰذا یہ دُعا پڑھتے رہنا چاہیے ۔
پندرہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کو پھلوں اور پُھولوں کی قیمتیں بڑھانا کیسا؟
سُوال : پندرہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کو لوگ قبرستان جاتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں تو قبروں پر پُھول ڈالنے کےلیے وہ پُھول اور روزہ کھولنے کے لیے پھل خریدتے ہیں اس لیے تاجروں کی طرف سے پُھولوں اور پھلوں کی قىمتىں بڑھا دى جاتى ہىں تو اُن کا اىسا کرنا کىسا ہے ؟کیا اِس طرح پُھولوں اور پھلوں کی قیمتیں بڑھانا ، مسلمانوں پر ظلم کرنا اور انہیں اِیذا پہنچانا کہلائے گا؟
جواب : مسلمانوں سے خىر خواہى اور بھلائی سے پیش آنا چاہىے اور کم نفع پر اپنا مال بىچنا ىہ مسلمانوں کے ساتھ بھلائی ہی کی ایک صورت ہے لیکن اب اگر کوئى مہنگا بىچتا ہے تو اگرچہ اَخلاقى طور پر تو وہ اچھا کام نہیں کر رہا مگر اسے مسلمانوں کو اِىذا دىنا نہىں کہا جائے گااور نہ ہی تاجِروں کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ ىہ پھل ىا پُھول مہنگے کر کے مسلمانوں پر ظلم کرتے ہىں اور انہیں لوٹنے کے سبب گناہ گار ہوتے ہىں ۔ تاجِروں کو پُھول اور پھل سستا بیچ کر مسلمانوں کے ساتھ خىر خواہى ، نرمى ، پىاراور بھلائى کا مُعاملہ کرنا چاہیے کہ ایسا کرنااِنْ شَآءَ اللّٰہ انہیں دُنىا و آخرت مىں کام آئے گا۔
صاحبِ حیثیت لوگ مسلمانوں کے گھروں میں افطاری پہنچائیں
سُوال : ہر بار جىسے ہى ماہِ رَمَضان قرىب آتا ہے تو مہنگائى بڑھ جاتى ہے اور مہنگائى کى وجہ سے غریب آدمى زىادہ مُتأثر ہوتا ہے اور اس دور مىں کہ جہاں مہنگائی کے سبب غرىب آدمی کی کمر ٹوٹ گئى ہے ، دوائىں بھى مہنگى ہو گئى ہىں ، علاج بھى مہنگا ہو گیا ہے ، اناج دال چاول سب کچھ مہنگا ہوگىا ہے اور اىسے مىں ماہِ رَمَضان شریف کى آمد آمد ہے تو آپ غریبوں کی ہمدردی کے حوالےسے کچھ مَدَنی پُھول اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : کسی رَمَضان شرىف مىں یہ سُننا یاد نہیں پڑتا کہ اِس سال پچھلے سال کی بنسبت کھجوریں اور پھل سستے ہو گئے لیکن ہر سال مہنگائی ضَرور بڑھتى ہے ۔ اب یہ کہ ہمارے کہنے سے کھجورىں ىا پھل سستے تو ہوں گے نہیں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ صاحبِ حىثىت لوگ جو مَساجد مىں اِفطاری کے وقت فروٹ ، کباب اور سموسوں کا ڈھىر لگا دىتے ہیں اور اس طرح کا اِنتظام بعض کھاتے پىتے علاقوں میں بھی ہوتا ہے ، بِالْخُصُوْص میمنوں کے علاقے کھاتے پىتے مانے جاتے ہىں اور ان میں اِفطار کے وقت مَساجد مىں پھل اور کھانے پىنے کی دِیگر اَشىا کا بہت زىادہ ڈھىر ہوتا ہےجبکہ غرىبوں کے علاقوں کی مَساجد میں یہ اِہتمام بہت کم ہوتا ہے لہٰذا مُخَیِّر اسلامى بھائى جو مَساجد مىں پھل وغیرہ اِفطاری دىتے ہىں یہ اگر غرىبوں کے علاقوں کى طرف رُخ کرىں اگرچہ خود نہ جائىں اپنے ملازمین میں سے کسى اىسے قابلِ اعتماد فرد کی ذِمَّہ دارى لگا دىں کہ وہ روزانہ جا کر وہاں کے کسی قابلِ اِعتماد مسلمان کے ساتھ مل کر اتنى اتنى رَقم کے پھل ، کباب سموسے ، کسٹرڈ اور کھانے پىنے کی دِیگر چىزوں کا ایک اىک پىکٹ مسلمانوں کے گھروں میں پہنچا دے تو اِس طرح غریبوں کے ساتھ ہمدردی کی جا سکتی ہے۔ اب اگر غریب علاقوں کی مَساجد میں کھانے پینے کی اَشیاء کا ڈھىر لگا دىا تو صِرف مَرد کھا پائیں گے اور اسلامى بہنىں جوکہ مىرى مَدَنى بىٹىاں ہیں نہیں کھا پائیں گی اور اگر آپ گھروں مىں دىں گے تو اُمَّت کی کمزور صنف کہلانے والی ہمارى بہو بىٹىاں اور بچے بھى کھالىں گے۔ اب یہ بھی ہو گا کہ جس گھر میں اِفطاری بھیجی اس میں کوئى روزہ رکھتا ہو گا اور کوئی نہىں رکھتا ہو گا اور ایسا بھی ہو گا کہ جس گھر میں اِفطاری کا سامان بھیجا وہ واقعی کسی غرىب کا گھر نہىں ہو گا لىکن صِرف غریب کو کھلانا ہی ثواب کا کام نہیں بلکہ مالدار کو کھلانا بھی ثوا ب کا کام ہے ، اگر کسی کروڑو پتى کو بھی آپ نے اىک کھجور دے دى تو ىہ بھى ثواب کا کام ہےلہٰذا اِفطاری کا سامان بانٹتے ہوئے یہ نہیں دیکھنا کہ غریب کا گھر ہے ىا مالدار کا بلکہ آپ نے سب کے گھروں مىں ، فلىٹوں مىں اور اگر آپ کى کوئى عمارت یا پلازہ ہے تو اس مىں بھی اِفطاری کا اِہتمام کرنا ہےالبتہ غرىبوں مىں جائے تو زىادہ اچھا ہے ۔ اے مىرے مالدار اسلامى بھائیو! مىدان مىں آؤ ، اپنا بجٹ بناؤ اور نیت کرو کہ اس بار ہم رَمَضَانُ الْمُبَارَک مىں روزانہ بارہ ہزار (12000)کى اِفطارى غرىبوں کے علاقوں مىں بانٹیں گے اور اگر اللہ پاک نے آپ کو زیادہ مال دیا ہے تو آپ اىک لاکھ بارہ ہزار (112000)کى اِفطاری بھی بانٹ سکتے ہیں۔ افطاری بانٹنے سے آپ کے مال مىں بَرکت ہو گی کہ راہ ِخدا مىں دىنے سے مال گھٹتا نہىں بڑھتا ہے ۔
ىاد رکھیے! دعوتِ اسلامى اِفطاری بانٹنے کا کام نہىں کرتى کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دعوتِ اسلامی والوں کو رقم پہنچا نا شروع کر دىں کہ آپ لوگ ہماری طرف سے کالونیوں مىں اِفطاری بانٹ دو البتہ اگر آپ ذاتی طور پر کسی مُبَلِّغ کو جانتے ہیں اور وہ آپ سے تعاون کرتے ہوئے آپ کی طرف سے غریبوں میں افطاری بانٹ دے تو یہ الگ بات ہے ورنہ تنظىمى طورپر ہمارا کوئی ایسا طرىقۂ کار نہىں ہے۔ میں نے صِرف اُمَّت کى خىر خواہى کے لىے گھروں میں اِفطاری بانٹنے کا مشورہ دیا ہے تا کہ غرىب ماں بىٹىاں بھی رَمَضان میں اچھى اچھى چىزىں کھا سکىں ورنہ جب مَرد گھروں میں آ کر بتائیں گے کہ آج تو پتا نہیں کس مالدار کی ہماری مسجد پر نظر پڑ گئی جس نے مسجد میں اِفطاری بھیجی اور ہمیں سموسے کھانے کو ملے اور کباب تو ایسے تھے کہ کھا کر پیٹ تو بھر گیا مگر دِل نہیں بھرا توایسی باتیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع