شر سے بچنے کے لیے لوگوں کے عزت کرنے کو اپنا رُعب سمجھنا کیسا؟
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai | کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

book_icon
کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

کے گھر مىں

 رہتى تھى ، ہم کبھى غَلَطى سے بھى اس کے گھر کے قرىب کھڑے ہو جائىں اور وہ  دىکھ لے تو شور مچانا شروع کر دیتی۔ بلاوجہ چلاتى اور بھگا دىتى  تھی۔  اس کے گھر کے قرىب سے نکلتے  ہوئے بھی خوف آتا تھا ۔ اللہ پاک بے چاری کی مَغْفِرَت فرمائے۔ شاید  بے چارى دماغى خلل کے سبب نفسىاتى مَرىضہ ہوں گی جس کی وجہ سے اس کا شر عام تھا۔ اگر واقعی بےچارى مَرض کے سبب اپنے آپ مىں نہىں ہوتى تھى تو یہ الگ بات ہے ۔

شر سے بچنے کے لیے لوگوں کے عزت کرنے کو اپنا رُعب سمجھنا کیسا؟

سُوال : بعض لوگوں کا اَندازِ زندگی  دىکھنے کے بعد لوگ ان کے  پاس سے گزرتے ہوئے کتراتے ہىں ، انہیں آتا دیکھ کر راستہ بدل دیتے ہىں اور ان کے شر سے بچنے کے لیے اُن کی عزت کرتے ہیں  جبکہ وہ اسے اپنا رُعب  سمجھتے ہیں تو ان کا  اسے اپنا  رُعب سمجھنا کیسا ہے ؟

جواب : حدیثِ پاک میں ہے : وہ شخص بُرا  ہے کہ جس کے شر سے بچنے کے لىے لوگ اس کى عزت کرىں۔ ([1]) اگر  کوئی پولىس اَفسر   یا علاقے کا بدمعاش ہو تو لوگ اُسے بھائى بولتے ، سَلام کرتے  اور  اس کے  سامنے عاجزى کا اِظہار کرتے ہیں اور  وہ یہ اس لیے نہیں کرتے کہ اُن کے دِل میں ایسے لوگوں  کی عزت ہوتی ہے بلکہ وہ  ان  کے شر سے بچنے کے لیے ایسا  کرتے ہیں کیونکہ  اگر وہ  ایسا نہیں کریں گے تو ىہ بدمعاش لوگ سب کے سامنے انہیں ذلىل و رُسوا   کر دیں گے ، بُرا بھلا بولیں گے اور مار پیٹ کریں گے ۔ یاد رہے! ہر پولیس افسر بُرا ہو یہ ضَروری نہیں ہے ۔ پہلے ہمارے مُعاشرے میں  عام طور پر اىسے لوگوں  کو دادا گىر بولا جاتا  تھا  اب خدا جانے انہیں کىا نام دیا جاتا  ہے؟ پہلے جس کے بارے میں لوگ یہ کہتے  تھے کہ یہ ىہاں کا دادا گىر یا  دادا ہے تو اس کى آنکھىں پىشانى پر ، ٹانگىں سر پر اور  دماغ کہیں اور ہوتا تھا۔ جن لوگوں کو دادا گىرى کا ٹائٹل ملا ہوتا  ہے وہ اسے  نبھانے کے لیے غنڈہ گىرى کرتے رہتے  ہیں۔ یاد رَکھیے! ایسے لوگوں پر جیتے جی  ایک ایسا  وقت بھی آتا ہے کہ ان کی سارى مَستىاں ختم ہو جاتى ہىں اور انہیں   بےبسی کا سامنا کرنا پڑتا  ہے مثلاً جب یہ لوگ بوڑھے ہو کر کمزور ہو جاتے ہیں تو ان کی سارى مستىاں ختم ہو جاتی ہیں اور ان میں سے جسے اللہ پاک چاہتا ہے  اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے ورنہ  بعض تو اس حالت  میں بھی توبہ کى طرف مائل  نہیں ہوتے اور بڑھاپے مىں بھی حرکتىں کرتے رہتے ہىں ۔ جس طرح اب دادا گیریاں ہوتی ہیں اِسی طرح پہلے بھی دادا گىرىاں ہوتى تھىں اور دادا گیر لوگ  ٹکر مار کر لوگوں  کی نکسىر پھوڑ دیتے تھے اور گھونسا  مار کر دانت توڑ دىا کرتے تھے ۔ خداناخواستہ اب بھی اگر  کوئى دادا گىر ہے اور اپنے علاقے مىں اس کا رُعب  ہے تو اُسے چاہیے کہ اپنا رُعب ختم کر دے اور یہ ذہن بنائے کہ  اللہ پاک   کے نام پر میں قربان ، آج سے مىرا سارا رُعب ختم اور اب  مىں اپنے  رب کا عاجز بندہ بن کر رہوں گا۔  اللہ پاک  کبریا ہے ، “ تَکَبُّر  اس کى چادر ہے “ ([2])اور اللہ پاک ہی کو تَکَبُّر  زىب دىتا ہے جبکہ  ہم بندوں کو تَکَبُّر   زىب نہىں دىتا ۔ ہم نے اپنی زندگی میں  بڑوں بڑوں کے قتل ہونے کے  قصے سُنے ہىں اور مىں ایسے لوگوں کو بھی  جانتا ہوں کہ علاقے میں  جن کا  رُعب اور   بدمعاشىاں ہوا کرتی  تھىں مگر  جب ان سے کوئی  سوا سیر ٹکرایا  تو اُس نے انہیں چیر پھاڑ کر پھینک دیا ۔ میرے لڑکپن کی بات ہے کہ جب چُھری چاقو سے قتل ہوا کرتے تھے تو   ایک دادا گیر شخص  جس کا علاقے میں بہت زیادہ  شر تھا جب اُسے قتل کیا گیا تو مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ اسی طرح ایک  اور دادا گیر شخص کا  واقعہ ہے کہ  کسی نے اُسے  چاقو مار کر   اس کی آنتىں باہر  نکال دی تھیں تو اس طرح  کئى اىسے قاتلوں اور  دہشت گردوں کى داستانىں موجود ہىں کہ جنہوں نے کئى کئى قتل کىےاور بالآخر انہیں بھى کتے کى موت مار دىا گىا اور  وہ آج دُنىا مىں نہىں ہىں۔ بعض اوقات کمزور آدمى جب غصے میں آتا ہے تو ہمت کر کے بڑے پاور فل دہشت گرد اور قاتل کو مار دىتا ہے۔

دادا گیر لوگوں کو اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے

دادا گیر لوگوں کو اللہ پاک سے ڈرنا چاہىے کہ آج نہىں تو کل انہیں  مَرنا پڑے گا اور وہ اللہ پاک کو کىا مُنہ دِکھائىں گے؟ کىسے  حساب و کتاب  دىں گےاور  قبر مىں کىا کرىں گے؟ ہم قبر کا عذاب شاید سنسنی کے لیے سُنتے  ہىں اور  پھر وہ سُنا  ان سُنا ہو جاتا  ہے ۔ اگرآدمی  غور کرے تو   قبر کا گڑھا  جسےسبھی نے دیکھا ہوتا ہے اور چونکہ  اسلامى بہنوں کو  قبرستان جانا منع ہے([3]) اس لیے  انہیں قبرستان  جانا بھی نہیں چاہیے لیکن انہوں  نے بھى تصوىروں مىں قبر کا گڑھا  دىکھا ہو گا تو اگر قبر کےگڑھے میں نہ سانپ ہوں ، نہ بچھو ہوں اور اس  میں لائٹ بھى رکھ دى جائے اور اس کے ساتھ ساتھ A.C بھى لگا دىا جائے اور یہ سب کچھ  کرنے کے بعد اگر  کسى کو اس گڑھے میں  بند کر دىا جائے  تو کب تک اس کا دِل اس مىں لگے گا اور وہ کتنے لمحات اور کتنے گھنٹے اس مىں بندرہ سکے گا ؟اس گڑھے کی دہشت سے اس کا کلىجا پھٹ جائے گا اور وہ مَر جائے گا۔ نیز مَرنے کے بعد بھى عقل سَلامت رہتى ہے([4])  کیونکہ اگر عقل سَلامت نہ رہتى تو  عذاب اور   ثواب کا  پتا ہى نہ چلتا اور یہ سمجھا جاتا کہ  صاحب مَر کر  ختم ہو گئےیا قبر میں  سو گئے حالانکہ مَرنے سے بندہ  سوتا نہیں بلکہ  جاگتا ہے ۔ بہرحال مَیِّت کو دفن کر کے قبر کے  گڑھے کو بند کر دیا جائے گا ، اب اگر رب ناراض ہوا تو قبر میں  اندھىرا ہو گا ، سانپ بچھو آ ئیں گے اور  آگ بھڑکا دی جائے گی اور حالت یہ ہو گی کہ نہ بھاگ سکیں گے ، نہ کہىں جا سکیں گے ، نہ کسى کو اپنے پاس بلا سکیں گے اور  نہ عذاب کا مُقابلہ کر سکیں گے کہ سانپ آئے  تو اس کو پکڑ لیں اور  بچھو آئے  تو اُسے  پاؤں سے مسل دیں تو دُنیا کی زندگی میں  اگر ہم  لوگوں کو شر پہنچاتے رہے ، گناہ کرتے رہے ، ظلم کرتے رہے ، نمازىں تَرک کرتے رہے اور   حرام اور سود کھاتے رہے تو ہمارا کیا  بنے گا ؟ آج ہمىں عذاب ِ قبر سے متعلق یہ باتیں  شاىد کوئى افسانوى باتىں لگتى ہوں مگر “ قبر کا عذاب حق ہے۔ “ ([5])آج نہىں تو دو پانچ سال بعد یا  دس بىس سال بعد موت نے آنا ہے  ، پہلے  بڑى بوڑھىاں دُعا دىتے ہوئے کہتی تھىں کہ اللہ پاک  تجھے سوا سو سال کا کرے تو اگر کوئی سوا سو سال بھى جى گىا تو بالآخر اُسے  مَرنا ہی پڑے گا اور  وہ جىنا بھى اىسا ہو گا کہ شاىد موت مانگنی پڑے کیونکہ بسااوقات  بڑھاپے



[1]    ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی حسن العشرة ، ۴ / ۳۳۰ ، حدیث : ۴۷۹۳ مفھوماً  

[2]    ابن ماجه ، كتاب الزھد ، باب البراءة من الکبر والتواضع ، ۴ / ۴۵۷ ، حدیث : ۴۱۷۴  دار المعرفة بیروت

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۵۳۷ 

[4]    احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، الباب السابع : فی حقیقة الموت و ما یلقاہ المیت فی القبر الی نفخة الصور ، ۵ / ۲۵۸ دار صادر بيروت-احیاء العلوم(مترجم) ، ۵ / ۶۴۰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[5]     بخاری ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی عذاب القبر ، ۱ / ۴۶۳ ، حديث : ۱۳۷۲ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن