دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai | کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

book_icon
کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

جواب : جی ہاں!دوسروں کو اپنے شر سے بچانے پر دو فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجیے : (1) تم مىں سب سے بہتر آدمى وہ ہے جس کے شر سے محفوظ رہا جائے اور اس سے بھلائى کى اُمىد رکھى جائے ۔ ([1])اِس حدیثِ پاک کی شرح میں حضرت علّامہ عَبْدُالرَّءُوْف مناوى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہىں : جو شخص بھلائى کے کام کرتا ہو ، ىہاں تک کہ لوگوں مىں اسى حوالے سے جانا جاتا  ہو ، اسى شخص سے بھلائى کى اُمىد رکھى جاتى ہے۔ جس کى بھلائىاں زىادہ ہوں تو دِل اس کے شر سے محفوظ ہوتے ہىں ، جب آدمى کے دِل مىں اِىمان مضبوط ہوتا ہے تو اس سے بھلائى کی اُمّىد رکھى جاتى ہے اور لوگ اس کى بُرائى سے محفوظ ہوتے ہىں ، جب اِىمان کمزور ہوتا ہے تو بھلائى کم ہو جاتى ہے اور بُرائى غالب ہو جاتى ہے۔ ([2])

(2)جس نے پاکىزہ کھانا کھاىا اور سنَّت کے مطابق عمل کىا اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہے ، وہ جنَّت مىں داخل ہو گا۔ اىک شخص نے عرض کى :  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!آج آپ کى اُمَّت مىں اىسے لوگ بہت ہىں ۔ اِرشاد فرماىا : عنقرىب چند صَدىاں بعد بھى ہوں گے۔ ([3]) بہرحال مسلمانوں کو شر سے بچانا بہت اَہم  کام ہے۔ ایسی رِوایات سُن کر ذہن بن تو جاتا ہے لیکن پھر جب کسی کی کہنى یا  ٹانگ لگ گئى  تو اس وقت ساری نىتىں بھول جاتی ہیں اور مُنہ سے ایسے سخت جملے نکلتے ہیں : “ ابے اندھا ہے! دىکھتا نہىں  مىرا پاؤں کچل دىا “ تو ایسا نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ جب ىہ ذہن بنا لیا کہ میں نے اپنے شر سے دوسروں کو بچانا ہے تو اب آدمی تکلىف بَرداشت کرے اور ایسے موقع پر صبر کرے ۔ بے چارے نے جان بوجھ کر تو نہیں کچلا۔ بھلا مسجد مىں کون آپ کو تکلىف دے گا اور آپ کا پاؤں کچلے  گا ، بے خىالى مىں ہى ایسا ہوجاتا ہے لہٰذا دَرگزرکرنا چاہیے۔ مزید معلومات کے لیے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی 212 صفحات پر مشتمل بہترین  کتاب “ تکلىف نہ دىجئے “ کا مُطالعہ کیجئے ، اسے دعوتِ اسلامى کى وىب سائىٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔ اسے پڑھنے سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ آپ کے چودہ طبق روشن ہوجائىں گے۔

اپنی ذات سے دوسروں کو راحت پہنچانا

سُوال : اىک ہے اپنى ذات سے کسى کو تکلىف نہ پہنچانا اور  اىک ہے اپنى ذات سے دوسرے کو راحت پہنچانا ، تو اپنى ذات سے کسى کو راحت پہنچانے کے لىے کىا کام کرنا چاہىے؟ (نگرانِ شُوریٰ  کا سُوال)

جواب : اگر اپنے شر سے کسى کو بچاىا تو Understood(طے شُدہ)ہے کہ اس کو راحت بھى پہنچانے کى صورت بن جائے گى۔ اگر مجھ سمىت  سب حدىثِ پاک میں بیان کردہ یہ مَدَنی پُھول قبول کر لىں کہ اپنى ذات سے کسى کو شر نہیں پہنچانا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ مدىنہ مدىنہ ہو جائے گا ۔ تکلىف تو ہو گى ، آزمائشىں بھی آئىں گى ، غصہ بھى آئے گا لىکن غصہ پی جانا ہے اس لیے کہ غصے مىں دوسرے کو  شر پہنچتا ہے ۔ سب یہ ذہن بنالیں کہ دوسرے کو شر نہیں پہنچانا۔ شاگرد سوچے کہ استاد کو مىرى طرف سے شر نہ پہنچے ، استاد بھى باپ کا باپ نہ بنے ، اس کى بھى پکڑ ہے لہٰذا  ىہ بھى غور کرے کہ مىرے شاگردوں کو مىرى وجہ سے شر نہ پہنچے۔ بعض اوقات اَدب سکھانے کے لىے شاگرد کو گھور کر دیکھنا پڑتا ہے لىکن ہر صورت مىں ایسا کرنا پڑتا ہو ىہ ضَرورى نہىں ہے ۔ اتنا عِلم استاد کو بھى ہونا چاہىے کہ کس کو اکىلے مىں ناک مىں بل ڈال کر دىکھنا ہے  اور کس کو سب کے سامنے ذَلىل کرنا ہے۔ قصور کى بھی مختلف  نوعیتیں ہوتی ہیں : بعض قصور معمولی ہوتے  ہیں جن میں شاگرد کو اکىلے مىں ہى سمجھا دىنا کافى ہوتا ہے ، بعض اوقات بڑا قصور ہوتا ہے تو اس کی اِصلاح کے لیے ہىوى ڈوز بھى دىنا پڑتی ہے۔ بہرحال ىہ استاد کو سمجھنا چاہىے کہ کہاں کیسے اِصلاح کرنی ہے؟ بعض استاد ىا Teacherبالکل آدھے پاگل ہوتے ہىں اور کاٹ کھاتے ہىں ۔

حکایت : میرا اىک استاد سے اسکول لائف مىں واسطہ پڑا تھا ۔ بڑا اس کا رُعب تھا ، وہ کلاس مىں آتا اور کسى کو دىکھ کر مسکراتا ۔ اب اگر شاگرد بھی جواب میں مسکرا دے تو وہ  اُٹھ کر زبردست پٹائى لگا دیتا۔ اللہپاک اسے مُعاف کرے  اور  اللہ  کرے اس نے مُعافى مانگ لى ہو۔ اس کا شر بالکل عام تھا  اور اس حوالے سے اس کا نام تھا۔ اىسے نیم پاگلوں کو Teacher تو کیا سویپر (جھاڑو دینے والا)بھى نہىں بنانا چاہىے کہ کہیں جھاڑو سے ہی کسی کی پٹائی نہ لگا دے ۔ اللہ  پاک عقلِ سىلم عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے شر سے دوسروں کو بچانے کى توفىق عطا فرمائے۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

گھر کے اَفراد ایک دوسرے کو اپنے شر سے بچائیں

سُوال : کیا استاد کی طرح  باپ بھى اپنی اَولاد کو اپنے  شر سے بچائے گا؟

جواب : جی ہاں! ماں  باپ ، ساس بہو ، بیٹابىٹى ، سب نے اپنے شر سے دوسروں کو بچانا ہے۔ ماں باپ نے اپنى اَولاد کو اپنے شر سے بچانا ہے تو اولاد نے اپنے ماں باپ کو اپنے شر سے بچانا ہے۔ اگر اولاد  ماں باپ کى فرما نبردارى کرے گی تو شر سے بچانا پاىا جائے گا ، اگر ان کی نافرمانى کرىں گے تو شر پہنچے گا اور ىہ شر بھى بعض صورتوں مىں گناہِ کبىرہ تک لے جائے گا۔ ہر شر کبىرہ گناہ تک نہىں پہنچاتا لىکن اىسے شر بھى ہىں جو کبىرہ گناہ تک پہنچا دىتے ہىں۔ بہرحال شر چھوٹا  ہوىا بڑا  ہمیں اس سے اپنے دوسرے بھائى کو بچانا ہے۔ اللہ  کرے ایسا ہوجائے تو  ہمارا مُعاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن جائے۔

گھر کے بڑے کی اِصلاح کیسے کریں ؟

سُوال : گھر مىں بعض اَفراد سے بہت شر پہنچ رہا ہوتا ہے لىکن اِصلاح کىسے کرىں ، ہمت کہاں سے آئے گى؟ اگر  چھوٹا بَراہِ راست اِصلاح کے لیے ہمت کرے گا تو بے اَدب اور گستاخ کہلائے گااور اس بے چارے کے اوپر بھى چڑھائى ہو جائے گى۔ ایسی صورت میں اِصلاح کے لیے کیا طریقہ اِختیار کیا جائے؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : اگر چھوٹا بڑے بوڑھوں کو سمجھانے جائے گا تو خود شر کا شکار ہو گا ۔ پھر بعض ایسے ڈھیٹ ہوتے ہیں جن سے یہ خطرہ بھى ہوتا ہے کہ خداناخواستہ کوئی کُفر بک دے ۔ اللہپاک کے نىک بندوں کى بھى کمى نہىں ہے لىکن اَخلاقى پستى اس وقت غالب آگئى ہے ، بڑے بوڑھے اَخلاق اور پىار والے کم ہی ہوتے ہیں ۔ اگر مُبالغہ کروں تو گھر گھر مىں مَسائِل ہىں ۔ بڑے بوڑھے چڑچڑے ، غصے والے اور شر پہنچانے والے ہوتے ہیں ۔ کچھ نہ کر سکىں  تو زبان سے کڑوی باتیں کرکے دِل توڑتے رہتے ہیں ۔ میرے بچپن کی بات ہے کہ جب ہم چھوٹے چھوٹے گلى مىں کھىلتے تھے تو اىک بڑھىا نىچے



[1]    ترمذی ، کتاب الفتن ، ۷۶-باب(ت : ۷۶) ، ۴ / ۱۱۶ ، حدیث : ۲۲۷۰ 

[2]    فيض القدير ، حرف الخاء ، ۳ / ۶۶۶ ، تحت الحدیث : ۴۱۱۳  دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    ترمذی ، کتاب صفة القیامة  و الرقائق و الورع ، ۶۰- باب(ت : ۱۲۵) ، ۴ / ۲۳۳ ، حدیث : ۲۵۲۸ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن