مُعافی مانگنے والے کو مُعاف کر دینا چاہیے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai | کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

book_icon
کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

مُعافی مانگنے والے کو مُعاف کر دینا چاہیے

سُوال : اگر کوئی شخص کسی کے پیسے دبا کر بیٹھا ہے اور ذہنی کوفت اور اِیذا بھی پہنچاتا ہے اور شَبِ بَراءَت میں مُعافی مانگے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب : مُعاف کر دینا  چاہیے۔ اگر اس نے قرض دَبا لیا ہے یا  رقم کھا بیٹھا ہے تو دیکھ لیں کہ واقعی نہیں دے سکتا غریب ہے یا بے چارہ بَد حال ہوگیا ہے اور لاچار و مجبور ہے تو مُعاف کر دینا کارِ ثواب ہے۔ اگر ایسا نہیں بلکہ صاحبِ حیثیت ہے اور رَقم لوٹا سکتا ہے تو اس کو آپس میں طے کرکے مزید مہلت دے دی جائے اور جو تاخیر کی وجہ سے اِیذا دی گئی ہے ، بد کلامی کی ہے یا دھکے کھلائے ہیں  وہ مُعاف کر دیا جائے کہ دِل میں رکھنے کا کیا فائدہ! ہم بچپن میں کہا کرتے تھے “ لڑائی لڑائی مُعاف کرو اپنا دِل صاف کرو “ اور اب یہ سننے میں آتا ہے کہ “ ہم شریف کے ساتھ شریف اور بدمعاش کے ساتھ بَدمعاش ہیں “ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ “ ہم شریف کے ساتھ شریف ہیں اور بدمعاش کے ساتھ بھی شریف ہیں “  کیونکہ شرافت کے ساتھ ہی بیڑا پار ہوگا مار دھاڑ کے ساتھ نہ کسی کا بیڑا پار ہوا ہے نہ ہوگا۔

اَولاد کسی صورت میں والدین سے بَد تمیزی نہ کرے

سُوال : اگر والدین اپنی اولاد سے  کہیں کہ اب تمہاری اِس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے تو اَولاد کو کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : اِس میں اولاد کے لیے  بڑی آزمائش ہے۔ اولاد کو چاہیے کہ والدین سے لڑائی نہ کرے کہ اس کی اِجازت نہیں ہے ، والدین سے مُعافی مانگتی رہے ، عاجزی کرے اور  رو رو کر  والدین کے پاؤں پکڑ کر معافیاں مانگے۔  اگر سچی ندامت ہوئی تو  اللہ پاک کی بار گاہ میں سرخروئی حاصِل ہوجائے گی اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ  مسئلہ حل ہو جائے گا۔  ماں باپ کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنا دِل نَرم رکھیں ، اگرچہ اَولاد نے نافرمانیاں کی ہوں انہیں مُعاف کر دیا کریں۔ ممکن ہے آپ نے بھی اپنی جوانی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایسے مَسائل کیے ہوں۔ بہرحال سارےماں باپ ایسے نہیں ہوتے کوئی کوئی ایسا ہوتا ہوگا  لہٰذا لڑائی لڑائی مُعاف کرو اپنا دِل صاف کرو اسی میں آخرت کی بھلائی ہے۔  

میری ذات سے کسی کو شر نہ پہنچے

سُوال : حقوق العباد کے موضوع کی فى زمانہ حساسیت بہت بڑھ چکی ہے اس لیے کہ سڑک پر آتے جاتے  رکشے ، موٹر سائىکل ، سائىکل وغیرہ کے ذَرىعے کسی راہگیر یا کسی رىڑى والے کی حق تلفی کا مُعاملہ ہو جاتا ہے۔ اگر یوں غور کرتے چلے جائیں تو  حقوق العباد کی پامالی کا اىک انبار لگا ہوا ہے ۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر روڈ پر چلتے  کسی کی حق تلفی کر دی ، لڑائی جھگڑا کر دیا تو اب دوبارہ اس سے ملنے کى بظاہر کوئى اُمىد بھى نظر نہىں آتى ، مجھے آنکھوں دیکھا وہ واقعہ بھولتا نہیں  کہ ایک  وىگن والے کو کسى نے جا کر ہتھے سے بہت بُری طرح مارا تھا۔ اب وہ وىگن والا اور یہ مارنے والا  اىک دوسرے کے دوبارہ آمنے سامنے ہوں بظاہر اس کا کوئى چانس نہىں ہے ۔ اِسی طرح اگر پھل سبزىاں بىچنے والوں نے کسی کو دھوکے سے خراب چىزىں ڈال دىں ، اس نے  گھر جا کر دىکھا تو اسے خراب چیزوں کا پتا چلا ۔ اِدھر دکاندار خوش ہو رہا ہے کہ میں بہت بڑا تاجر ہوں مىں نے اىسى خراب چىز نکال دى ، ہمارى زندگى کے ساتھ جو یہ چیزیں لگ گئى ہىں ان کى تلافى کیسے ہوگى؟ان چیزوں سے ہم  اپنے آپ کو کیسے فارغ  کرىں گے؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : اگر مجھ سمیت سب اىک مَدَنى پُھول قبول کر لىں کہ  مىرى ذات سے کسى کو شر نہ پہنچے  یعنی میری طرف سے کسی کو بُرائى ، تکلىف ، ناگوارى محسوس  نہ ہو تو بہت سی حق تلفیوں سے بچت ہو سکتی ہے۔ اپنے شر سے دوسروں کو بچانا  ىہ جنَّت مىں لے جانے والے کاموں مىں سے اىک کام ہے۔ ([1]) شر پہنچنے کی مثالیں یہ ہیں :  ٭  اگر میرے ساتھ بیٹھا شخص کچھ بولنے کى کوشش کر رہا ہے لیکن مىں اسے کہہ دوں : آپ چُپ کرو۔ تو اس طرح مىں نے بے چار ے کو شرمندہ کر کے اپنا شر پہنچا دىا۔ اب مجھے چاہیے کہ اس سے مُعافى مانگوں۔ ٭یوں ہی اگر میں گھر سے کچرا پھینکنے نکلا تو مجھے کسی کے گھر کے آگے یا روڈ پر پھینکنے کے بجائے کچراکنڈی میں ڈالنا چاہیے اس لیے کہ کسی کے گھر کے آگے یا روڈ پر ڈالنے سے  لوگوں کو میرا شر پہنچے گا۔ ٭ اگر میرے اسکوٹر کا سائلنسر خراب ہوگیا تو اب مجھے فوراً ا سے دُرُست کروا لینا چاہیے تاکہ لوگوں کو اس کی آواز کے سبب میری طرف سے شر نہ پہنچے۔ ٭اگر  گاڑى پارک کرنی ہے تو ایسی جگہ پارک کروں جہاں میری ذات سے کسی کو شر نہ پہنچے مثلاً کسى کے گھر کے آگے یا روڈ پر ایسی جگہ نہ پارک کروں جس کے سبب چلنے والوں کو تکلیف ہو۔ ٭اگر رات کے دو بجے مجھے کسی کو بُلانا ہے تو اس کے گھر کے باہر گاڑی کھڑی کر کے ہارن نہ بجاؤں۔ بعض لوگ گاڑی میں بیٹھے ہارن پر ہارن بجا رہے ہوتے ہیں اور یوں کتنوں کو نیند سے جگا کر اپنا شر پہنچاتے ہیں۔ کتنے بچے چونک کر جاگ جاتے ہوں گے ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسا طریقہ اپنایا جاتا جو باقی لوگوں کی تکلیف کا سبب نہ بنتالیکن اس مابدولت بلکہ بے بدولت نے ہارن بجاکر کتنوں کو تکلىف پہنچا دى ، آخرت مىں اس کو کىسے بھگتے گا ؟ ٭اگر مىں نے قرض لے لىا اور اب دىنے کا نام نہىں لے رہا تو  یہ میری ذات سے قرض دینے والے کو شر در شر پہنچ رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیےکہ قرض  خواہ کے مانگنے سے پہلے یا جو وقت طے ہوا تھا اس سے پہلے پہنچادیا جائے ، یوں قرض دینے والے  کو زیادہ خوشى ہو گى اور اگر اس کا دِل خوش کر کے ثواب کمانے کی نیت ہوئی تو اجر وثواب بھی ملے گا۔  ٭راستہ چلتے ہوئے کسى کا راستہ تنگ کرنا اسے شر پہنچانا ہے لہٰذا  راستہ  کشادہ کردینا چاہیے تاکہ دوسرا نکل جائے اور اسے میری وجہ سے تکلیف نہ ہو۔ ٭اِجتماع میں کوئى پالتى مار کر ، کوئى چوکڑى مار کر اور کوئى پھنس کر بىٹھتا ہے لیکن ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ مىرى وجہ سے ساتھ والے کو شر تو نہیں پہنچ رہا ، کوئی بے چارہ مىرى وجہ سے سکڑ کر تنگ تو نہیں ہو رہا۔ اگر ایسا ہے تو پھر خود سمٹ کر دوسرے کو راحت پہنچائے ، ىہ بھى ثواب کا کام ہے۔ بہرحال اگر ہر ایک اپنے جوتوں ، اپنے کپڑوں ، اپنى باتوں ، اپنے ہاتھوں ، اپنے گزرنے ، اپنى چالوں  اَلغرض  کسى بھى طرح سے کسى مسلمان کو شر نہ پہنچنے دے تو شاىد حقوق العباد کے مَسائِل حل ہى ہو جائىں گے کیونکہ شر پہنچانے کے سبب ہی حقوق العباد تلف ہو رہے ہىں۔

دوسروں کو اپنے شر سے بچانے پر اَحادیثِ مُبارَکہ میں تَرغیب

سُوال : کیا دوسروں کو اپنے شر سے بچانے پر اَحادیثِ مُبارَکہ میں بھی تَرغیب آئی ہے؟ ([2])

 



[1]    ترمذی ، کتاب صفة القیامة  و الرقائق و الورع ، ۶۰- باب(ت : ۱۲۵) ، ۴ / ۲۳۳ ، حدیث : ۲۵۲۸  ماخوذاً 

[2]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن