30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوبارہ آپ کسی کو جھاڑنے لتاڑنے سے بچیں گے کہ کہیں مجھے سب کے سامنے پھر مُعافی مانگ کر ذَلیل نہ ہونا پڑجائے۔ جیسا جُرم ویسے مُعافی کے تقاضے ہوں گے ، اللہ کرے دِل مىں اُتر جائے مىرى بات۔ کا ش ہمیں ایسا خوفِ خُدا حاصِل ہوجائے کہ ہم مُعاف کرتے کرواتے رہىں۔ اللہپاک اپنے حقوق مُعاف فرمادے گا لىکن اس نے بندوں کی حق تلفی کی مُعافی بندوں کے ہاتھ مىں رکھی ہے اگرچہ بندے بھى اس کے اور حقوق بھى اس کے ہیں البتہ شہیدِ صبر کے حقوق العباد بھی مُعاف ہو جاتے ہیں۔
سُوال : شہیدِ صبر کسے کہتے ہیں اور اس کا اجرکیا ہے؟
جواب : اَعْجَبُ الْاِمْداد مىں ہے : وہ مسلمان سنى المذہب صَحِیْحُ الْعَقِیْدہ جسے ظالم نے گرفتار کر کے بحالت بے کسى اور مجبورى قتل کىا ، سولى یعنی پھانسى دى کہ ىہ بوجہ اَسىرى قتال ومدافعت پر قادر نہ تھا (ىعنى اس کو اىسا قىد کرلىا ىا باندھ دىا کہ بے چارہ مُقابلہ بھى نہىں کر سکتا تھا ، اپنے آپ کو بچا بھى نہىں سکتا تھا اور اسى بے کسى کے عالَم مىں اسے قتل کر دىا)تو اس شہىدِ صبر کے لىے ىہ رِعاىت ہے (کہ اس کے حقوق اللہ اور حقوق العباد مُعاف ہوجائیں گے۔ )([1]) فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہے : قتلِ صبر کسى گناہ پر نہىں گزرتا مگر ىہ کہ اس کو مٹا دىتا ہے۔ ([2])ىعنى اس طرح جس کا قتل ہوتا ہے تو اس کى خطائىں مٹا دى جاتى ہىں ، گناہ مُعاف کر دىئے جاتے ہىں۔ اسى طرح اىک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا : آدمى کا بروجہ صبر مارا جانا تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔ ([3])
کیا SMSکے ذَریعے مُعافی مانگنا کافی ہے؟
سُوال : کىا موبائل یا WhatsAppپرMessage کر دىنے سے بھى مُعافى ہو جائے گى ؟(شارجہ سے سُوال)
جواب : اگرکوئى اس کا جاننے والا ہے اور اس نے یہ سوچ کر مُعاف کر دىا کہ چلو ىہ بے چارہ مُعافى مانگ رہا ہے تو اُمّىد ہے کہ مُعاف ہوجائے۔ البتہ جس کا پتا ہے کہ اس کا دِل دُکھاىا ہے ىا اس کو مارا پىٹا ہے دھمکىاں دى ہىں تو اس سے ڈائیرکٹ مُعافی مانگنی ہو گی۔ اِس صورت میں خالی WhatsApp پرMessage کر کے دِل کو مَنا لىنا کہ اب مىں بالکل دودھ مىں دُھل گىا توىہ دُرُست نہىں ہے۔ سوشل میڈیا پر مُعافی مانگنا اس کے لیے بنتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا واسطہ ہو اور وہ اِحتیاطاً سب سے مُعافی مانگ لے کہ کہیں انجانے میں کسی کا دِل نہ دُکھا دیا ہو جیساکہ میرے چاروں طرف لاکھوں لاکھ لوگ ہیں ، اگر رش میں بندہ کسى کو ڈانٹ دے ىا کسی طرح دِل آزاری کر دے پھر بعد میں اِحساس ہواور اس سے مُعافی مانگنا چاہے تو اب اسے کہاں سے ڈھونڈے؟ اىسے موقع پر مىرا مُعافی مانگنے کا عام اِعلان ہو سکتا ہے وہ بھی سُن لے اور مىرى نجات کا سامان ہو جائے۔ یہ مىں نے ایک مثال دى ہے ورنہ مىرى کوشش ہوتى ہے کہ کسى کا دِل مىرى وجہ سے نہ دُکھے۔ باقى مال کھا جانا یا کسى کا مال چھىن لىنا ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اپنے مَدَنی ماحول مىں اىسا ہوتا بھی نہیں ہے ۔ جو اىسا کرے یعنی کسی کا مال چھىن لے تو اس کے لیے خالى مُعافى مانگنا کافى نہىں بلکہ اس کو مال بھی لوٹانا پڑے گا۔ ([4]) ہاں اگر مالک اپنا مال مُعاف کردے تو مُعاف ہو جائے گا۔
دِل بڑا رکھیں اور مُعاف کرنا اِختیار کریں
سُوال : کسی شخص سے مُعافی مانگی جائےاور وہ مُعاف نہ کرے تو کیا کیا جائے؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ تجھے مُعاف نہیں کروں گا اور قیامت کے دِن پکڑوں گا ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے اَعمال نامے پر غور کرنا چاہیے کہ میرے پاس کتنی نیکیاں ہیں جو میں بچ کر نکل جاؤں گا؟ یاد رَکھیے! اس دِن چھٹکارا اللہپاک کی رَحمت سے ہی مل سکے گا۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حکم دیا :
(خُذِ الْعَفْوَ) (پ۹ ، الاعراف : ۱۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان : “ اے محبوب مُعاف کرنا اِختیار کرو۔ “
تویہ کتنی بڑی بھول ہے کہ اللہ پاک تو اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جو یقیناً با اِختیار ہیں انہیں مُعاف کرنے کا حکم فرمارہا ہے اور ہم مُعافی مانگنے والے کو بھی مُعاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنی جان کے دُشمنوں کے لیے فرمایا :
( لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-) (پ۱۳ ، یوسف : ۹۲)
(ترجمۂ کنزالایمان : آج تم پر کچھ ملامت نہیں۔ )
اپنی جان کے دُشمنوں کے لیے عام مُعافی کا اِعلان فرمایا۔ ([5])لہٰذا ہمیں بھی مُعاف کر دینا چاہیے ہم بندے کو مُعاف کریں گے اللہ پاک ہمیں مُعاف فرمائے گا ، اگر آج ہم بندے کو مُعاف کرنے میں اکڑ دکھائیں اور اللہ پاک ہمیں مُعاف نہ فرمائےتو کیا ہوگا؟اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے اور ہرگز یہ نہیں کہنا چاہیے کہ قیامت کے دِن وُصُول کروں گایا نہیں چھوڑوں گا۔ ہمار اکیا بنے گا؟ اِیمان پر خاتمہ ہوگا یا نہیں؟ ہمیں کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی کسی چیز کی گارنٹی ہے۔ اللہ پاک کی خفیہ تَدبیر سے ڈرنا چاہیے لہٰذا کسی کی ایسی سوچ ہے تو وہ اپنا دِل بڑا رکھے اور اپنے مسلمان بھائی کو مُعاف کر دے۔
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۴ / ۴۶۹
[2] مجمع الزوائد ، کتاب الحدود والدیات ، باب کفارات الذنوب بالقتل ، ۶ / ۴۰۸ ، حدیث : ۱۰۶۰۲ دار الفکر بیروت
[3] مجمع الزوائد ، کتاب الحدود والدیات ، باب کفارات الذنوب بالقتل ، ۶ / ۴۰۸ ، حدیث : ۱۰۶۰۱
[4] درمختار ، کتاب الغصب ، ۹ / ۳۰۲ دار المعرفة بیروت
[5] سنن کبریٰ للبیھقی ، کتاب السیر ، باب فتح مکة حرسھا اللّٰہ تعالٰی ، ۹ / ۱۹۹ ، حدیث : ۱۸۲۷۵ ما خوذاً دار الکتب العلمیة بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع