دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai | کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

book_icon
کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

داودکے پُروردگار! جو اس رات مىں تجھ سے دُعا کرے ىا مَغْفِرَت طلب کرے تو  اس کو بخش دے۔ ([1])دیکھا آپ نے باجا بجانے والے کے لیے حضرتِ سَیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ہے کہ اس کی مَغْفِرَت نہیں ہے ، تو یہ شخص کتنا بد نصیب ہے ، اس کی کیسی مت ماری گئی ہے اور شیطان نے اس بے چارے کو کیسا باؤلا  کردیا کہ یہ شخص میوزک کو رُوح کی غِذا سمجھ بیٹھا ہےحالانکہ میوزک روحانی غِذا نہیں بلکہ شیطانی غِذا ہے۔ رُوح کی غِذا اللہ   پاک  کا ذِکر ہے ، رُوح کی غِذا نماز ہے ، روح کی غِذا روزہ ہے ، رُوح کی غِذا تَراویح ہے ، رُوح کی غِذا قرآن ہے۔ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا :

(اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)) (پ۱۳ ، الرعد : ۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان : “ سُن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے۔ “

ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا :

(وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴)) ۱۶ ، طٰہٰ : ۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان :  “ میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ “

یہ عبادتیں رُوح کی غِذا ہوتی ہیں ، شیطانی حرکتیں رُوح کی غِذا نہیں ہوتیں۔

شَبِ بَراءَت کی خُوبیاں اور فَضائِل

سُوال : شَبِ بَراءت کى خُوبىاں اور فَضائِل بیان فرما دىجئے۔

جواب : شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کى سب سے بڑى فضىلت یہ ہے کہ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرماىا :  شَعْبَانُ شَہْرِیْیعنی  شعبان مىرا مہىنا ہے۔ ([2])جب آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے شعبان کو اپنا مہىنا فرمادىا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  اسے  سارى فضىلتىں حاصِل ہوگئىں۔ اب شَعْبانُ الْمُعَظَّم کى پندرہویں شَب یعنی شَبِ بَراءت کے فَضائِل پیشِ خدمت ہیں چنانچہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتنا عائشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا فرماتى ہىں کہ مىں نے نبىِّ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سُنا کہ اللہ پاک چار راتوں مىں بھلائىوں کے دَروازے کھول دىتا ہے(۱)بقرعىد کى رات (ىعنى ذُوالْحِجَّہ کى دَسوىں رات جس کى صبح بقرہ عىد ہوتى ہے۔ )(۲)عىدُ الفطر کى رات (ىعنى رَمَضان شرىف جب پورا ہوجاتا ہے اورعىد کا چاند نظر آجاتا ہے۔ ) (۳)شعبان کى پندرھوىں رات کہ اِس رات مىں مَرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رِزق اور اس سال حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہىں۔ (۴)عرفہ ىعنى آٹھ اور نو ذُوالْحِجَّةِ الْحَرَام کى دَرمىانى رات۔ چاروں راتوں میں اذانِ فجر تک بھلائىوں کے دَروازے خُصُوصیت کے ساتھ کھلے رہتے ہىں۔ ([3])

شَبِ بَراءَت میں اَہم فیصلے

پىارے پىارے اسلامى بھائىو!15شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کى رات کتنى نازک ہے نہ جانے کس کى قسمت مىں کىا لکھ دىا جائے ؟ بعض اوقات بندہ غفلت مىں پڑا رہ جاتا ہے اور اس کے بارے مىں کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے۔  غُنْیَۃُ الطَّالِبِیْن مىں ہے : بہت سے کفن دُھل کر تىار رکھے ہوتے ہىں مگر کفن پہننے والے بازاروں مىں گُھوم پھررہے ہوتے ہىں۔ کافى لوگ اىسے ہوتے ہىں جن کى قبرىں کھودى جا چکى ہوتى ہىں مگر ان مىں دَفن ہونے والے خوشىوں مىں مَست ہوتے ہىں۔ بعض لوگ ہنس رہے ہوتے ہىں حالانکہ ان کى موت کا وقت قرىب آچکا ہوتا ہے۔ کئى مکانات کى تعمىر کا کام پورا ہوگىا ہوتا ہے  مگر ساتھ ہى ان کے مالکان(Owner)کى زندگى کا وقت بھى پورا ہوچکا ہوتا ہے ۔ ([4])

آگاہ اپنى موت سے کوئى بشر نہىں

سامان سو برس کا ہے پل کى خبر نہىں

بخشش والی رات میں بخشش سے محروم لوگ

سُوال : کیا شَبِ بَراءت یعنی چھٹکارے کی رات بھی کچھ لوگ بخشش سے محروم رہ سکتے ہیں؟([5])

جواب : جی ہاں! شَبِ بَراءَت یعنی چھٹکارے کی رات میں بھی بعض لوگ بخشش سے محروم رہتے ہیں جیساکہ حضرتِ سَیِّدتنا عائشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا سے حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرماىا : مىرے پاس جبرئىل( عَلَیْہِ السَّلَام ) آئے اور کہا کہ یہ شعبان کى پندرھوىں رات ہے ، اس مىں اللہ پاک جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے قبیلۂ بنى کلب کى بکرىوں کے بال ہىں مگر کافر ، عَداوت والے ، رِشتہ کاٹنے والے ، کپڑا لٹکانے والے ، والدىن کى نافرمانى کرنے والے اور شراب کے عادى کى طرف نظرِ رَحمت نہىں فرماتا۔ ([6])حدىثِ پاک مىں کپڑا لٹکانے والے سے مُراد وہ لوگ ہىں جو تَکَبُّر کے ساتھ ٹخنوں کے نىچے پاجامہ ىا کرتا لٹکاتے ہىں۔ ([7]) آج کل غالب اکثرىت کپڑے اِس طرح کے پہنتى ہے جو ان کے ٹخنوں سے نىچے لٹک رہے ہوتے ہىں ۔ عورتىں تو ٹخنے چُھپا کر ہی رکھىں گى



[1]    لطائف المعارف لابن رجب حنبلی ، المجلس الثانی فی ذکر نصف شعبان ، ص۱۵۸المکتبة العصریة  بیروت

[2]    شعب الایمان ، باب فی الصیام ، تخصیص شھر رجب بالذکر ، ۳ / ۳۷۴ ، حدیث : ۳۸۱۳ دار الکتب العلمیة بيروت 

[3]    مسند الفردوس ، باب الام الف ، ۵ / ۲۷۴ ، حدیث : ۸۱۶۵ دار الکتب العلمية بيروت

[4]    غنیة الطالبين ، القسم الثالث مجالس فی مواعظ القرآن والالفاظ النبویة ، ۱ / ۳۴۸ دار الکتب العلمیة بيروت 

[5]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔   (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[6]    شعب الایمان ، الباب الثالث و العشرون ، باب فی الصیام ، ما جاء فی لیلة النصف من شعبان ، ۳ / ۳۸۴ ، حدیث : ۳۸۳۷

[7]    نزھۃ القاری ، ۵ / ۵۱۸ فرید بک سٹال مرکز الاولیا لاہور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن