دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai | کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

book_icon
کیا موسیقی روح کی غِذاہے؟

جواب : بعض مُعْتَکِفِیْن  اپنے چھوٹے بچوں کو بھی  اُٹھا لاتے ہىں جوکبھی کبھار  دَرىوں پر پىشاب بھی  کر دىتے ہىں ، اسی طرح بعض بچے تھوڑےبڑے ہوتے ہیں اور وہ پیشاب کا بتاتے ہیں مگر وہ نیند میں پیشاب کر دیتے ہیں تو بچوں کواِعتکاف میں نہ لایا جائے۔ بابُ المدىنہ (کراچی ) والے بھى اپنے بچوں کو مجھ سے ملانے کى نىت سے فىضانِ مدىنہ مىں نہ لاىا کرىں کیونکہ اىسا چھوٹا بچہ کہ جس کے بارے میں ظَنِّ غالب ہو کہ ىہ مسجد میں  پىشاب کر دے گا اسے مسجد میں لانا ہی جائز نہیں ہے ۔ ([1]) بعض اوقات بچے  شور کرتے ہیں تو  اگر پتا ہے کہ ىہ مسجد مىں شور  کرے گا اور بھگدڑ  مچائے گا تو اىسوں کو بھی مسجد میں لانا گناہ ہےاس لىے بچوں کو مسجد مىں نہ لاىا جائے اور نہ ہی اسلامى بہنىں بچوں کو اِعتکاف میں ساتھ لے جانے پر  اِصرار کریں۔ جواسلامی بھائی اپنے ساتھ بچوں کو بھی اِعتکاف میں لائیں  گے وہ خود بھی تکلیف اُٹھائیں گے اور بچوں  کو بھی تکلیف میں پھنسائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھى پرىشان  کرىں گے ۔ یاد رَکھیے ! اگر اِعتکاف میں بچہ ساتھ ہو گا تو آپ اِطمینان سے عبادت نہیں کر پائیں گے کیونکہ جب آپ جوش میں ہوں گے کہ مجھے عِلمِ دِین  سیکھنا ہے تو بچہ بولے گا ابو  مجھے بھوک لگی ہے کہیں سے کھانا لا دو ، کبھی بولے گا مجھے پیشاب آیا ہے اور کبھی بولے گا مجھے نیند آ رہی ہے تو یوں وہ بار بار تنگ کرتا رہے گاتو اس لیےدِین سیکھنے کا دَرد ، عبادت کا شوق و جَذبہ لے کر اور بچوں کو گھر چھوڑ کر اِعتکاف کرنے آئیں ۔

دَورانِ سفر اِیثار کا جَذبہ

سُوال : ہمارے یہاں Transport کم ہے اور Passengerبہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہر ایک کو سیٹ ملنا دُشوار ہوتا ہے تو اس میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بزرگ یا اس طرح کا کوئی شخص سفر میں ہو تو اس کو اپنی جگہ بٹھا دیا جائے اور خود کھڑے ہو جائیں۔ بعض اوقات کوئی دوسرے کو اپنی سیٹ پر اس لیے بھی نہیں بٹھاتا کہ اس کا اپنا سفر ہی آدھے پونے گھنٹے کا ہوتا ہے اگر یہ کسی کو اپنی جگہ بٹھا دے گا تو اس کو خود ہی اتنی دیر کھڑا ہونا پڑے گا ، ایسی صورت میں کیا یہ ممکن ہے کہ سیٹ پر بیٹھا ہوا شخص دوسرے کو اپنی جگہ بٹھائے اور اس کو بھی معلوم ہو کہ پانچ ، سات منٹ بیٹھ کر مجھے اُٹھ جانا ہے اور جس نے مجھے بٹھایا ہے میں نے اسے واپس بیٹھنے کے لیے کہنا ہے۔ اس طرح شاید سیٹ چھوڑنے کا جَذبہ پیدا ہوجائے  ورنہ آدھے پون گھنٹے تک کھڑا ہونا سیٹ چھوڑنے کے اِیثار کی طرف نہیں آنے دیتا۔ کاش دعوتِ اسلامی کے ذَریعے لوگوں کا یہ ذہن بن جائے ۔ آپ اِس حوالے سے  کچھ اِرشاد فرمادیجیے۔ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : یہ ایک ایسی انہونی بات ہے جو شاید خواب میں بھی نہ ہوسکے کہ اس کے ذہن میں خود بخود آجائے اور یہ اپنی سیٹ چھوڑ کر دوسرے کو بٹھا دے۔ ہاں! یہ صورت ہوسکتی ہے کہ آپس میں Commitment(طے)کرلیں کہ 12 منٹ بعد آپ اُٹھ جائیے گا پھر میں بیٹھ جاؤں گا تو ممکن ہے۔ ورنہ یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس کا باقاعدہ ایک سسٹم بنایا جائے جیسے بیرون ممالک میں ہوتا ہے کہPassenger سیٹ بائی سیٹ سفر کرتے ہیں ورنہ بس میں سوار نہیں ہو سکتے ، یہ ان ممالک میں ہوتا ہے جو سدھرے ہوئے   کہلاتے ہیں۔

(نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : ) جی ہاں! ان ممالک کی Transport بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ غریب اور  پس ماندہ ممالک میں یہ مشکل ہوتا ہے ، یہاں تو سیٹ بائی سیٹ کی بات ہی الگ ہے لوگ تو کھڑے ہونے کی جگہ پر کھڑے کھڑے سفر کر رہے ہوتے ہیں اور اگر یہاں بھی جگہ نہ ملے تو چھتوں پر بیٹھ جاتے ہیں ، یعنی آگے پیچھے ، اوپر نیچے جہاں بندہ بیٹھ سکتا ہے بٹھادیا جاتا ہے ۔ (امیر ِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : ) واقعی ایسا ہی مُعاملہ ہے اگر ان کا بس چلے تو پہیے پر بھی بٹھادیا جائے۔ اگر سیٹ بائی سیٹ والا سلسلہ ہوجائے تو سارے مَسائِل حل ہو جائیں ، بوڑھا  ہو یا جوان سب سکون سے سفر کریں گے۔ البتہ بڑے Route پر چلنے والی بسوں میں سیٹ بائی سیٹ ہی سفر ہوتا ہے۔

کیا مَردو عورت کے لیے تمام سنتیں ایک جیسی ہیں؟

سُوال : کیا ہر وہ عمل جو مَرد کے لیے سنَّت ہے وہ عورت کے لیے بھی سنَّت ہوگا؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)

جواب : ایسا  نہیں ہوسکتا  کہ مَرد اور عورت کے لیے ساری سنتیں ایک جیسی ہوں مثلاً داڑھی رکھنا مَرد کے لیے سنت ہے لیکن عورت کے لیے سنَّت نہیں ہے بلکہ عورت کی داڑھی نکل  آئے  تو اس کے لیے مُسْتَحَب ہے کہ اسے صاف کر دے۔ ([2]) یوں ہی عمامہ باندھنا مَرد کے لیے سنَّت ہے مگر عورت عمامہ نہیں باندھے گی۔ البتہ ایسی بہت ساری سنتیں ہیں جو مَرد اور عورت دونوں کے حق میں یکساں سنَّت ہیں۔  

قبر پر اگر بتی اور مُوم بتی جَلانا کیسا؟

سُوال : قبروں پر اگربتیاں جَلانا یا قبرستان میں مُوم بتی جَلانا کیسا؟(دو اسلامی بھائیوں کے سُوال)

جواب : قبروں پر آگ جَلانا بُری فال ہے یعنی اچھی علامت نہیں ہے۔ ([3])اور اگر بتیاں جَلاکر چلے جانا ایک فُضُول کام ہے کہ اس طرح اگربتی ضائع ہو جائے گی۔ نیز مُوم بتی کی بھی حاجت نہ ہو جیسے لائٹیں وغیرہ پہلے سے جَل رہی ہیں اور بِلاضَرورت مُوم بتی جَلائی تویہ بھی ضائع ہو جائے گی جوکہ اِسراف اور گناہ ہے ۔ ہاں!پہلے سے مُوم بتی نہ جل رہی ہو تو  ایسی جگہ پر کہ جہاں ابھی  قبر ہو اور نہ پہلے کبھی قبر ہوئی ہو وہاں ان مقاصد اور نیتوں کے ساتھ موم بتی جلائی جاسکتی ہے : ! تلاوت کرنے والوں  کی آسانی کے لیے !  گزرنے والے کا پاؤں کسی قبر پر نہ آجائے !قبرستان آنے والے موم بتی کی روشنی سے اپنے عزیز کی قبر آسانی سے ڈھونڈ سکیں !اندھیرے کو دور کرنے  کے لیے ! یوں ہی اگربتی اس نیت سے جَلائی کہ وہاں موجود لوگوں کو خوشبو پہنچے۔

کیا تدفین کے لیے قبروں کے اوپر سے جا سکتے ہیں؟

سُوال : ہم ایک اسلامی بھائی کی والدہ کےجنازےمیں شریک ہوئے اور ابھی جس جگہ موجود ہیں وہاں سارا قبرستان ہے اور راستہ نہیں ہے ایسے قبرستان میں  جانا کیسا؟ (بنگلہ دیش کے ایک قبرستان کی ویڈیو دِکھا کر اسلامی بھائی نے سُوال کیا۔ )

جواب : ایسی صورت میں مجبوری ہوتی ہے لہٰذا  تَدفین کرنے والے دو چار اسلامی بھائی جو مَیِّت کو قبر میں اُتاریں گے اور مٹی وغیرہ ڈالیں گے وہ بچ بچاکر دَفن کرنے کے لیے جا سکتے ہیں اور واپس



[1]    در مختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلا ة و ما یکرہ فیھا ، مطلب فی احکام المسجد ، ۲ / ۵۱۸ ماخوذاً  

[2]    ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی النظر و المس ، ۹ / ۶۱۵ دار المعرفة بیروت

[3]    مرقاة المفاتیح ، کتاب الجنائز ، باب دفن المیت ، الفصل الثالث ، ۴ / ۱۹۶ ، تحت الحدیث : ۱۷۱۶ ماخوذاً دار الفکر بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن