30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُن کر بے چاریوں کا دِل جَلے گالہٰذا اِفطاری گھر میں بھیج کر ان کو بھی کھلائیں کہ غریب ماں بیٹیوں کو کھلانےسے اگر خاتون ِ جنَّت حضرتِ سَیِّدَتنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا آپ سے خوش ہو گئیں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہآپ کا بىڑا پار ہو جائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ میں نے صِرف مالداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگر ذاتی طور پر کسی مُبَلِّغ کو جانتے ہوں تو ان سے یہ کام لے سکتے ہیں نہ کہ مُبَلِّغِیْن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مالداروں سے رابطہ کر کے ىہ دھندا شروع کردیں لہٰذا کسى مُبَلِّغ کو اپنے طور پر اس طرح کرنے کی اِجازت نہیں ہے البتہ اگر کوئى مالدارکسی مُبَلِّغ کو افطاری تقسیم کرنے کا کہتا ہے اور وہ ٹائم دے سکتا ہے تو بھلے وہ یہ کام کرے کہ ثواب کا کام ہے ورنہ تنظىمى طور پر اس طرح کے رابطے کرنے کی اجازت نہیں ہے کىونکہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک مىں ہمارے اور کام بڑھ جاتے ہىں مثلاً پورے پورے مہىنے کے اِعتکاف بھى ہوتے ہىں انہیں سنبھالنا ہوتا ہے اور پھر مَدَنى عطىات جمع کرنے پر بھی زور لگانا ہوتا ہے کہ دعوت ِاسلامى کے اَربوں روپے کے اَخراجات ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پھل بانٹنے مىں لگ جائىں جس کے سبب مَدَنى عطىات مىں کچھ کمزورى آجائے۔
غریب مسلمانوں کو چھوڑ کر حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن میں اِفطاری کھلانا کیسا؟
سُوال : اپنے ملک کے غریب مسلمانوں کو چھوڑ کر حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں اِفطاری کھلانا کیسا ہے ؟([1])
جواب : میں نے رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں یہ دیکھا ہے کہ وہاں اِفطاری کے وقت لاکھوں کروڑوں روپے کی کھانے پینے کی اَشیاء کے ڈھىر لگے ہوتے ہىں اور پھر جو ان کا حال ہوتا ہے اسے دیکھ کر مىرے جىسا آدمى بے چارہ بس دِل ہى جَلا سکتا ہے !وہاں پلاسٹک کے دَستر خوان پر کھانے پینے کی اَشیاءرکھ دی جاتی ہیں اور پھر جو جتنا جلدی جلدی نگل سکتا ہے نگل لیتا ہےاورپھر باقی کروڑوں روپے کے پھل ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے اور دہی کے کنڈےبے دردی کے ساتھ اس دَسترخوان پر اُلٹ دیے جاتےہیں اور پھر خُدّام انہیں اُٹھا کر پوٹلی بنا کرکچرے کی گاڑی میں ڈال دیتے ہیں ۔ اب اگر آپ نے ىہ قسم کھائى ہے کہ میں مدىنے مىں ہى کھلاؤں گا تو ٹھىک ہے آپ تھوڑا وہاں بھى اىسوں کو کھلائىں کہ جن کے پىٹ مىں جائے اور اس کے ساتھ ساتھ مدىنے والے کى اُمَّت جو آپ کے شہر یا گاؤں مىں ہے اس کا بھى خىال رکھىں مگر صورتِ حال یہ ہے کہ غرىب اپنی غُربت کی وجہ سے مدىنے جا نہىں سکتے اور عام طور پر صاحبِ حىثىت ہی مدینہ شریف جاتے ہیں جو وہاں اپنے پلے سے کھا پی سکتے ہىں اور آپ انہىں کے مُنہ مىں ڈالے جا رہے ہىں تو آپ ان غرىبوں کے مُنہ مىں بھى ڈالیں شاىد اس وجہ سے مدىنے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپ سے زىادہ خوش ہوجائىں کہ اس نے مىرى اُمَّت کے غرىبوں کا خیال رکھاہے ۔ یاد رَکھیے!میں آپ کو مدىنے شریف مىں خرچ کرنے سے روک نہىں رہا بلکہ آپ کو یہ راستہ بتا رہا ہوں کہ اگر آپ کو زىادہ ثواب چاہىے تو آپ کا مال ضائع ہونے کے بجائے کسی کے پىٹ مىں جائے۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اُمتی دُنىا مىں کہىں بھی ہو وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ بھلائى سے پیش آئیں ایسا نہیں کہ جو حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً مىں ہىں صرف انہىں کے ساتھ بھلائى کرىں اور باقى بے چاروں کو دِل جَلانے کے لیے خوار چھوڑ دىں تو ایسا نہیں کرنا بلکہ حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً والوں کو کھلانے کے ساتھ ساتھ دِیگر لوگوں کو بھی کھلانا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور دِیگر عرب ممالک مىں بعض جگہ اِفطاری کھلانے کے لیے شامىانے لگتے ہىں جن میں مسلمان اور غىر مسلم سب گُھس جاتے ہوں گے ، اسی طرح وہاں بھی مَساجد مىں کھانوں کا ڈھىر لگا ہوتا ہے اور پھل کاٹ کاٹ کر دَسترخوان پر رکھ دیئے جاتے ہیں ، اب جب کھانے میں سے آلو بوٹیاں کھا لی جاتی ہیں اور اس میں دہی مکس کر دیا جاتا ہے اوراس میں پھل بھی مکس ہو جاتا ہےتو اسے دوسرے دن کس نے کھانا ہے ؟ اب اس نے مَعَاذَ اللّٰہ کچرا کنڈی میں ہی چلے جانا ہے ۔ بیرون ممالک میں لوگ روٹىوں کے ڈھیر شاپر مىں ڈال کر کچرا کنڈى کے ڈبے کے ساتھ باند ھ دىتے ہىں اور روٹیوں کو اس طرح وہی باندھتے ہیں کہ جو تھوڑا بہت اَدب کی رعاىت کرتے ہىں ورنہ باقی لوگ روٹیوں والے شاپر کو کچرا کنڈی کے ڈبے میں ہی پھینک دیتے ہیں ۔
(اس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : )ىوں کہا جا سکتا ہے کہ اَربوں روپے کی اِفطاری کھلائی جاتی ہے اور لاکھوں روپے کی ضائع کی جاتی ہے؟(اس پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد فرمایا : )چونکہ میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سےدیکھا ہے اس لیے میں بطورِ مُبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ لاکھوں روپے کی اِفطاری کھلائی جاتی ہے اور اَربوں روپے کی ضائع کی جاتی ہے۔ جب چند منٹوں کے لیے لاکھوں روپے کا مال دَسترخوان پر ڈال دىا جائے گا تو یہ لوگوں کے پیٹ میں کس طرح جا پائے گا؟لوگ کھاتے تو ہیں مگر اس طرح کہ بوٹی اور پھل وغیرہ اُٹھا کردانتوں سے ایک دو ٹک مار کر نگل جاتےہیں کیونکہ نمازِ مغرب پڑھنی ہوتی ہے اس لیے اتنا وقفہ نہیں ہوتا کہ بندہ اِطمینان سے چبا چبا کر اور کھانے میں ہاضم لعاب ملا کر کھا پائے تو یوں لوگ جلدی میں دانتوں کا کام آنتوں کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر میڈیکل اسٹوروں پر کھڑے نظر آتے ہیں ۔
رَمَضان شریف میں ڈاکٹروں کے یہاں مَریضوں کا رَش ہونے کی وجہ
سُوال : رَمَضان شریف کے آخری دِنوں میں ڈاکٹروں کے یہاں مَریضوں کا رَش بڑھ جاتا ہے اِس کی کیا وجہ ہے ؟([2])
جواب : رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے آخری دِنوں میں ڈاکٹروں کے یہاں مریضوں کا رَش اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ کباب سموسے کھا کھا کر اور بغىر چبائے نگل کر طرح طرح کے مَسائل کا شِکار ہو جاتے ہىں ۔ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں کھانے پینے میں بے احتیاطی کی جاتی ہے جس کے باعِث کوئى بولتا ہے کہ مىرى ستائىسوىں رات ضائع گئى اور کوئى بولتا ہے کہ میں تو بخار میں تپ رہا تھا اس لیے مىرى عىد خراب ہو گئى۔ ایسوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عام دِنوں مىں ان کے ساتھ اىسا کىوں نہىں ہوتا ؟ رَمَضَانُ الْمُبَارَک مىں ہی انہیں بخار کىوں ہوتاہے ؟یاد رَکھیے !بخار آپ کے پاس نہیں کباب سموسوں کے پاس آتا ہے لہٰذا اگر آپ پُرسکون رَمَضَانُ الْمُبَارَک گزارنا چاہىں تو ہلکا پھلکا کھانا اچھى طرح چبا کر کھائىں اور تلى ہوئى چىزوں سے خود کو بچائىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ صحت و عافىت کے ساتھ ماہِ رَمَضان گزرے گا ، آپ کو نمازِ تَراوىح پڑھنے میں مَزہ آئے گا ، نمازیں پڑھنےاور قرآن ِ پاک کی تلاوت کرنے مىں آپ کا دِل لگے گا ورنہ بے اِحتیاطی کی صورت میں پیٹ میں گٹربڑ ہوتی رہے گی جس کی وجہ سے تَراویح اور تلاوتِ قرآن میں دِل نہیں لگ پائے گا۔
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[2] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع