دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Kawwa Bolay To Musibat Aati Hai | کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے؟

book_icon
کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے؟

سامنے سمجھاىا تو اس نے اس کو بدنما کر دىا اور اگر تنہائى یعنی  اکىلے مىں سمجھاىا تو اس کو زىنت دى ىعنى خوبصورت اور اچھا کر دىا“([1]) مگر اب معاملہ بالکل  الٹا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سمجھایا جانے لگا ہے مثلاً اگر مجھ سے  بولنے میں کوئی بھول ہو جائے تو بعض لوگ میرے بیان کا وہ حِصہ جہاں میں نے بھول کی ہے سوشل میڈیا پر عام کر کے مجھے سمجھانے لگ جائیں گے ۔ سوشل میڈیا پر سمجھانے سے اگر میں سمجھ بھی گىا تو  میرا یہ کلپ لاکھوں لوگوں تک پہنچ گىا اور صورتِ حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جو کلپ آتا ہے  اس کی عمر اتنی   بڑى ہوتی ہے  کہ بندہ مر جاتا  ہے  مگر وہ کلپ  چلتا رہتا ہے ، اگر لوگ اس کلپ کو  بھول بھی جائیں  تو کسى نے سنبھال کر رکھا ہوگا اور وہ اُسے کچھ عرصے بعد پھر سے عام کر دے گا ۔ افسوس اس وقت زىادہ ہوتا ہے کہ  جب کوئی اہلِ علم اور سمجھ دار  کہلانے والا شخص سوشل مىڈىا کے ذرىعے سمجھاتا ہے ، ىہ بے چارہ اتنا نہىں سوچتا کہ سمجھانے کا  یہ طریقہ قرآنِ پاک میں بیان کیے گئے سمجھانے کے طریقے : (اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ) (پ۱۴، النحل : ۱۲۵)(ترجمۂ کنزالایمان : اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے ۔ )کے مطابق نہیں  ہے ۔ اگر کسی سے بھول ہو گئی اور آپ نے اسے سوشل میڈیا پر سمجھانا شروع کر دیا کہ تم نے ىوں غلط کىا اور یہ دلیل ہے وہ دلیل ہے تو یاد رکھیے ! اس طرح سمجھانے سے اگر سامنے والا اصلاح کرنا بھی چاہے گا تو  شاىد شىطان اس پر حاوى ہو جائے اور وہ ضد مىں آکر اپنے غلط موقف پر ڈٹ جائے ۔ اس کو اپنی  غلطى کا پتا بھی ہوگا لیکن پھر بھی اعتراف کرنے کے بجائے اپنے  غلط موقف پر  الٹے سىدھے دلائل  دىنا شروع کر دے گا اور یوں  بے چارہ مزید گناہوں  کی دلدل مىں دھنستا چلا جائے گا لہٰذا کسی کو اس طرح سوشل میڈیا پر سمجھانا درست طرىقہ نہىں ہے ۔ ہم بھى سوشل مىڈىا استعمال کر رہے ہىں لىکن اس کے ذرىعے ہم نىکى کى دعوت دىتے ہىں اور  مدنى گلدستے اور تحرىرى مدنى پھول عام کرتے ہیں ۔ ہمارے یہاں  کسى پر بے جا تنقىد کرنے کا سلسلہ  نہىں ہے اور نہ ہی کسى کو سمجھانے  کے لیے  ہم یہ  طرىقہ اختىار کرتے ہیں  کہ اس کا نام لے کر اور  اس کى پہچان دے کر اس کا ڈبہ باندھ دىں  یا  جھنڈا چڑھا دىں ۔

       بعض اوقات کسی کو  بدنام کرنے کی جائز صورت بھی ہوتى ہے جیساکہ حدىثِ پاک مىں موجود ہے کہ” فاسق کو مشہور کرو، لوگ اسے کب پہچانىں گے اس کا ذکر اس برائى کے ساتھ کرو جو اس مىں ہے “([2])لىکن ىہ صورت نہىں دىکھى جاتی اور لوگ  خواہ مخواہ پىچھے پڑ جاتے ہىں اور سوشل میڈیا پر  برا بھلا کہنا شروع کر دىتے ہىں ۔ یاد رہے !سوشل میڈیا پر  ایک دوسرے پر تنقید کرنے والوں کے درمیان  بھلے بعد میں صلح بھى ہو جائے مگر مواد کی صورت میں  جو تیر کمان سے نکل گىا وہ پلٹ کر نہىں آتا  اور اُسے دوست دشمن سب اپنی فائلوں میں جمع کر لىتے ہیں  لہٰذا اگر کسی مسلمان  کی منفی  باتىں آپ تک پہنچ جائىں تو اسے آگے نہ بڑھاىا کرىں بلکہ جو آپ کو بھیجے اُسے بھی  سمجھا دىں کہ اس سے دىن کا کیا  فائدہ ہو گا ؟ یا  اس طرح کرنے سے جس کو آپ سمجھانا چاہ رہے ہیں  کیا اس کی اصلاح ہو جائے گی ؟ ہوسکتا ہے اس تک آپ کا  ىہ پىغام نہ  پہنچے  اور آپ بے چارے کو بس بدنام کر رہے ہوں ۔ کىا اصلاح کا ىہ اسلامى طرىقہ ہے ؟ ہرگز نہیں ۔

سوشل میڈیا کے ذریعے بُرا چرچا کرنا اشاعتِ فاحشہ ہے

سُوال : کیا سوشل میڈیا کے ذریعے بُرا چرچا کرنا بھی  اشاعتِ فاحشہ ہے ؟([3])

جواب : بُرا چرچا کرنا چاہے چھاپ کر ہو یا  بول کر یا سوشل مىڈىا کے ذرىعے اشاعتِ فاحشہ ہے ۔ جو لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے  رُسوا اور بدنام کرتے ہىں ، خصوصاً جو دىن کى خدمت کر رہا ہو اس کے بارے مىں طرح طرح کی  باتىں کر کے بُرا چرچا جگاتے اور  اشاعتِ فاحشہ کرتے ہىں  ان کی قرآنِ کریم نے مذمت کی ہے ۔ اے سوشل میڈیا استعمال کرنے والو! کان کھول کر سُن لو ! جو لوگوں مىں افواہىں چھوڑتے اور طرح طرح سے فتنے جگاتے رہتے ہىں ان کے بارے میں قرآن ِ کریم فرماتا  ہے : ( اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۹)) (پ۱۸، النور : ۱۹) ترجمۂ کنزالایمان : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا  اور آخرت میں  اور اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ “بہت سوچ سمجھ کر سوشل میڈیا کے  مواد  کو آگے بڑھانا چاہىے ، کئى بار میرے پاس شرعی  مسائل آتے ہىں تو بعض اوقات ان مىں مجھے  کہىں کھٹکا ہو جاتا ہے اور شرحِ صدر نہىں ہو پاتا یعنی مسئلے کی  سمجھ نہىں آتى تو ایسی صورت میں  کوشش کرتا ہوں کو اس مسئلے  کو عام نہ کروں  کہ کہىں اىسا نہ ہو کہ مىں غلط مسئلہ عام کرنے والوں مىں شامل ہو جاؤں ۔ یوں ہی میرے پاس طرح طرح کى تحرىرىں آتى ہىں اور ان مىں سے ہر تحرىر سے میرا دل مطمئن ہو یہ  ضرورى نہىں بھلے لکھنے والا کتنا ہى اچھا ہو اور اس نے جان بوجھ کر اس مىں کوئى غلطى نہ کى ہو لىکن ىہ بھى ضرورى نہىں ہے کہ جس کو مىں نے غلط سمجھا وہ غلط ہى ہو مگر جب سمجھ نہىں آتا تو اس کو آگے بڑھانے کے بجائے  وہىں رکھ دىتا ہوں ىا پھر معلومات کر لىتا ہوں  کہ آیا ىہ بات درست ہے ىا نہىں ؟اگر ہم سب کى اىسی سوچ بن جائے تو ہم  بہت سارى غلط باتىں اِدھر اُدھر کرنے سے بچ جائىں گے ۔ دىنى باتىں آگے بھىجنے سے پہلے علما سے رجوع کر لىنا بہت مفىد ہے کیونکہ لوگوں کو  لاکھوں جھوٹی حدیثیں گھڑے ہوئے بہت عرصہ گزر چکا ہے اب تو لوگ سوشل میڈیا پر  لاٹ کے لاٹ گھڑتے ہوں گے اور جہالت کی وجہ سے یا علم ، معلومات اور احتىاط کى کمى کے سبب خالى سنى سنائى بات یا  کسى بزرگ کے  قول کو حدىث ِرسول بنا دىتے ہوں گے ۔ ىہ حقىقت ہے  کہ لوگ سنى سنائى باتوں کے بارے میں بے دھڑک بول دىتے ہىں کہ حدىث ِپاک مىں ىوں آىا ہے ، اللہ پاک ىوں فرماتا ہے تو جب تک کسی فرمان کے متعلق سو فىصدى معلومات نہ ہو تب تک ایسا نہیں بولنا چاہیے ۔

کیا لوگوں نے عید کے دن کو گناہ کرنے کا دن سمجھ لیا ہے ؟

سُوال : لوگوں کی اىک تعداد ہے جو عىد کو تفرىح اور مَعَاذَ اللّٰہ گناہ کا دن سمجھتی  ہے ۔ گھومنا پھرنا ، موج مستى کرنا اور تفرىحات مىں مصروف رہنا یہ سب عید کے دن ہوتا ہے  اور لوگوں نے عید کے دن  برائى کے کئى کاموں کا پلان بھی  بنا یا ہوا ہوتا ہے تو ایسوں کو  کس طرح سمجھایا جائے ؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : آپ کے سوال مىں کئى صورتىں بن رہى ہىں ۔ اَوّل تو  یہ کہ لوگوں میں یہ  سوچ نہىں ہے کہ عىد گناہ کرنے کے لىے آتى ہے البتہ عید کے موقع پر  بعض گناہ ہوجاتے ہىں ۔ تفرىح کو بھی مطلقاً ناجائز نہىں کہہ سکتے ، بعض صورتوں میں تفرىح جائز ہوتی ہے اور بعض میں ناجائز ۔

 



[1]    شعب الایمان، باب فی التعاون علی البر و التقوی، ۶ / ۱۱۲، حدیث : ۷۶۴۱ 

[2]    موسوعة ابن ابی دنیا، کتاب الغیبة و النمیمة، باب الغیبة التی تحل لصاحبھا الکلام بھا، ۴ / ۳۳۷۳۳، حدیث : ۸۴ المکتبة العصریة بیروت

[3]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن