دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Kawwa Bolay To Musibat Aati Hai | کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے؟

book_icon
کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے؟

گیا ۔

رَمَضانُ الْمُبارَک کی رخصتی پر نمازیوں کی کمی

سُوال : سالہا سال کا تجربہ ہے کہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے جاتے ہی مساجد میں نمازیوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے بلکہ ختمِ قرآن کے بعد ایک تعداد تراویح چھوڑ دیتی ہے ، آپ ایسے مدنی پھول عطا فرمادیجیے کہ ہم مساجد آباد کرنے اور کروانے والے بن جائیں ۔ (نگرانِ شوریٰ کا سوال)

جواب : ایک دور تھاکہ جب سو فیصدی مسلمان نماز پڑھتے تھے وہ دور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ کا تھا کہ ہر صحابی باجماعت نماز پڑھنے کا حریص (یعنی شوق رکھنے والا)تھا ۔ تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ عادل اور جنتی ہیں ، ان کا دور بہت سنہری دور تھا ۔ پھر تابعین کا دور آیا اس میں بھی کثیر تعداد نماز پڑھتی تھی لیکن یہ زمانہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ کے زمانے جیسا نہیں تھا، اس کے بعد تبعِ تابعین کا زمانہ آیا یہ بھی پیارا دور تھا ان تین ادوار کو قُرُوْنِ ثَلَاثَہ کہا جاتا ہے ان میں مساجد آباد ہوتی تھیں فاسق اور گناہ گار کم تھے لیکن بعد میں جیسے جیسے دوری ہوتی گئی گناہوں کا سلسلہ بڑھتا گیا نمازیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اور مسلسل کم ہوتی جارہی ہے ۔

       فی زمانہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں پہلی تاریخ  کو نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ، نمازِ تراویح میں مساجد آباد ہوتی ہیں رَمَضانُ الْمُبارَک کی پہلی فجر میں دیکھنے والا منظر ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ کمی ہوتی جاتی ہے ۔ پھر 27ویں شب میں دوبارہ مساجد بھر جاتی ہیں ۔ رَمَضانُ الْمُبارَک کے جاتے ہی نہ جانے نمازیوں کو کیا ہوجاتا ہے آسمان نگل جاتا ہے یا زمین کھاجاتی ہے کہاں چلے جاتے ہیں کچھ پتا نہیں چلتا ۔ مساجد خالی خالی ہوجاتی ہیں چاروں طرف ویرانہ ہوجاتا ہے گویا فضائیں بھی غمگین اور ہوائیں بھی سوگوار ۔ یہ ہر کسی کی اپنی فیلنگ ہوتی ہے کسی کو غم زیادہ ہوتا ہے تو اس کو بالکل چین نہیں آتا جیسے کسی قریبی عزیز  کا انتقال ہوجائے تو چین نہیں آتا اس کی فیلنگ الگ ہوتی ہے ایسے ہی بعض لوگوں کی فیلنگ رَمَضانُ الْمُبارَک کی رخصتی پر بھی ہوتی ہے ۔ اللہ پاک ہمیں غمِ رمضان نصیب فرمائے اور ہم سارا سال رَمَضانُ الْمُبارَک کو یاد رکھیں ۔

       بہرحال بعض خوش نصیب سمجھانے پر نمازی بن جاتے ہیں جیسے معتکفین کی ایک تعداد ہوتی ہے جو پہلے نماز نہیں پڑھتی تھی مگر بعد میں یہ نمازی بن جاتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں شرکت کرنے والے کئی  معتکف اسلامی بھائی تأثرات دیتے ہیں کہ ہم پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے حتّٰی کہ کبھی ایک روزہ بھی نہیں رکھا تھا مگر اعتکاف کی برکت سے نہ صرف نمازی بنے بلکہ پوری تراویح پڑھنے اور سارے روزے رکھنے کی سعادت بھی ملی ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بے نمازی اعتکاف کرتے ہیں اور اللہ پاک کی رحمت سے اعتکاف کے بعد نمازی بن جاتے ہیں یعنی دعوتِ اسلامی کا یہ پیارا پیارا مدنی ماحول نمازیوں کی پروڈکشن کر رہا ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی مساجد تعمیر بھی کرتی ہے اور آباد بھی کرتی ہے ۔

نمازی بنائیے اور نمازی بڑھائیے

      معتکف اسلامی بھائیوں کو لانے والے مبلغین کو چاہیے کہ وہ ان پر مسلسل انفرادی کوشش بھی کرتے رہیں اور ان پر میٹھی میٹھی نظر رکھیں کہ یہ نمازوں میں کہیں سستی تو نہیں کررہے ۔ نمازِ فجر کے لیے جگانے جائیں، اگر جذبہ ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ  مدینہ مدینہ ہوجائے گا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ میرا دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے بھی نمازوں کی ترغیب دلانے کا معمول تھا ۔ اس وقت میں نے ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کی اور نماز کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میں فجر میں آپ کو جگانے کے لیے آؤں گا یا کسی کو بھیجوں گا چنانچہ  جب ہم ان کے گھر جگانے کے لیے پہنچے تو وہ اسلامی بھائی پہلے ہی اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے یعنی ہمارے جگانے سے پہلے ہی وہ جاگ چکے تھے ۔ بے چارے  کا  اب انتقال ہوچکا ہے اللہ پاک ان کی بے حساب مغفرت فرمائے ۔

       اس واقعے سے معلوم ہوا کہ ہم جس کو یہ کہیں کہ آپ کو جگانے کے لیے آئیں گے تو وہ نفسیاتی اثر ہونے کی وجہ سے بے چین ہوتا  ہے کہ کہیں فلاں اسلامی بھائی مجھے جگانے آئیں اور میری آنکھ ہی نہ کھلے تو وہ کیا سوچیں گے ؟ اسی وجہ سے وہ پہلے ہی اٹھ جاتا ہے ۔ میں شاید ان دنوں امام تھا اور امام کا اپنا امپریشن بھی ہوتا ہے ، اگر امام کسی کو جگانے چلاجائے یا کسی نمازی سے کہہ دے کہ میں آپ کو نمازِ فجر کے لیے اٹھانے آؤں گا تو میرا خیال ہے کہ اس کا پورا خاندان اس امام کا عقیدت مند بن جائے گااور اَلْحَمْدُلِلّٰہ ایسا ہی ہوا کہ وہ پورا خاندان مجھ سے متأثر ہوچکا تھا بہرحال رَمَضانُ المُبارَک کے  بعد مساجد سے دور ہوجانے والوں کے متعلق یہی حل سمجھ میں آتا ہے کہ ایک ایک پر انفرادی کوشش جاری رکھی جائے ۔ اجتماعی کوشش یعنی بیان کرنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے لیکن اس کے بعد ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا اور نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی ۔

امام صاحبان نمازی بنانے کی کوشش کریں

سُوال : کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح امام صاحب اپنے نمازیوں کو جگانے کے لیے پہنچ سکیں گے ؟ (نگرانِ شوریٰ  کا سوال)

جواب : میں نے زندگی کا اکثر حصہ امامت کی ہے میرے علاوہ بھی بہت سارے امام صاحبان ایسے ہوں گے جو ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کرتے ہوں گے گھروں پر جاکر نمازوں کے لیے بلاتے ہوں گے ۔ اگر اب تک ایسا نہیں کرتے تھے تو امید ہے کہ اب ان میں جذبہ پیدا ہوجائے گا اور وہ ایک ایک فرد کو نیک نمازی بنانے کے لیے کوشش کریں گے کہ اِرشاد باری تعالیٰ ہے : ( وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ) (پ۲۷، الذّٰریٰت : ۵۵) ترجمۂ کنز الایمان : ”اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے ۔ “  

مؤذن صاحبان بھی نمازی بنائیں

سُوال : کیا یہ کام مؤذن صاحبان بھی کرسکتے ہیں؟(نگرانِ شوریٰ  کا سوال)

جواب : جی ہاں!مؤذن اور خادم بھی کرسکتے ہیں جبکہ ان کے اجارے والے کاموں میں کوئی حرج واقع نہ ہو ۔ اورپھر امام و مؤذن کے ساتھ ساتھ اگر دیگر مسلمان چھوٹے بڑے سب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن