دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Jinnaat Ghaib Jantay Hain | کیا جِنَّات غیب جانتے ہیں؟

book_icon
کیا جِنَّات غیب جانتے ہیں؟

” مکہ کمپیوٹر“ بن کر بھی آئے تھے ۔ گزشتہ دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں ان کا انتقال ہوگیا ہے آپ ان کے لیے اور ان کے والدین کے لیے دعا فرما دیجیے ۔ (مدنی گلدستہ دکھاکر سوال کیا گیا)

جواب: اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ۔ اللہ پاک فرحان کے درجے بلند فرمائے ، ان کے والدین کو صبر دے اور ان کو والدین کے لیے ذخیرہ کرے ۔ اولاد کا غم  ہمیشہ باقی رہتا ہے اگرچہ کچھ کم ہوجاتا ہے مگر  اس کی کوئی چیز نظر آتی ہے تو  پھر غم تازہ ہوجاتا ہے لیکن ان کو صبر کرنا چاہىے ۔ اگر ىہ بچہ ہجرى سن کے حساب سے ساڑھے گىارہ سال کا تھا تو اسے نابالغ ہى کہىں گے اور نابالغ بچہ فوت ہوجائے تو وہ اپنے والدین کے لىے ذخىرہ بنتا، شفاعت کرنے والا ہوتا ([1])اور جنت مىں لے جانے والا ہوتا ہے  اور یہی بچہ اپنے والدین کو جہنم سے بچاتا اور ان کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ ([2]) بلکہ ىوں سمجھیے کہ نابالغ بچے کا دنىا سے جانا  والدىن کے حق مىں بہت بڑى نعمت ہوتا ہے لہٰذا صبر کریں کیونکہ صبر کے بغىر کوئی چارہ  نہىں ۔

صبراول صدمے پر ہے

صبر اول صدمے پر ہوتا ہے یہ نہیں کہ جو کچھ واویلاکرنا تھا وہ کرنے کے بعد کہیں: اب کیا کریں صبر ہی کیا ہے ۔ تو یہ صبر نہیں ہے ۔ جب کبھی کوئی صدمہ آئے تو بندہ اسی وقت صبر کرے اور خاموش رہے کوئی بے صبری والا جملہ زبان سے نہ نکالے یہ صبر ہے ورنہ تھوڑے عرصے بعد تو صبر آہی جاتا ہے ۔ حدىثِ پاک مىں ہے : صبر اول صدمے پر ہوتا ہے بعد مىں تو صبر آ ہى جاتا ہے ۔ ([3])صبر کىجئے اور اللہ پاک کى رضا پر راضى رہىے ، آپ کا بىٹا گیارہ سال چھ مہینے  کا تھا مىدانِ کربلا مىں تو حضرتِ سَیِّدُنا على اصغر رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ صرف چھ مہىنے کے تھے اور جس انداز مىں ان کى شہادت ہوئى وہ کتنا دردناک حادثہ ہے کہ شدتِ پىاس سے زبان اور حلق سوکھ گئے تھے اور اسى حلق پر ظالموں نے تىر چلاىا اور امام عالی مقام حضرتِ سَیِّدُنا امام حسىن رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کى گود میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ نے دم توڑا اورجامِ شہادت نوش فرماىا ۔ ([4]) وہ صدمہ کتنا بڑا ہوگا کہ حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ خود بھى تىن دن کى بھوک اور پىاس میں مبتلا ہیں اور جوان بىٹے حضرتِ سَیِّدُنا على اکبر رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ شہىد ہوچکے ہیں، پھر پاک بیبیوں کا  صدمہ الگ تو ان صدموں کے مقابلے مىں ہمارا صدمہ بہت کم ہے بلکہ ىوں کہہ سکتے ہىں کہ ہمارا صدمہ تو کچھ بھى نہىں ہے لہٰذا  ہمیں بھی ہر چھوٹے بڑے صدمے پر صبر ہی کرنا چاہیے ۔ بخارى شرىف کی حدیث ہے : اللہ پاک فرماتا ہے جب مىں اپنے مومن بندے سے اس کى کوئى دنىوى  پسندىدہ چىز لے لوں پھر وہ صبر کرے تو مىرے پاس اس کى جزا جنت کے سوا کچھ نہىں ۔ ([5])فتح الباری میں اس حدیث پاک کی یہ شرح کی گئی ہے کہ کسی شخص کے  ماں باپ، بھائى بہن، بىوى اور اولاد مىں سے کوئى اىسا انسان فوت ہوجائے جس سے وہ محبت کرتا ہو، اور اس کے فوت ہونے پر صبر کرے تو اللہ پاک اسے  جنت عطا فرمائے گا ۔ ([6])

بارش روکنے کے لیے جانوروں پر ظلم کرنا کیسا؟

سُوال: بعض علاقوں میں یہ ماحول ہے کہ جب ان کی فصل تیار ہو اور اچانک بارش یا طوفان کی پیشن گوئی ہوجائے تو یہ لوگ اپنے جانوروں کو زمین میں گاڑ دیتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ”اگر ہم ان بے زبانوں پر ظلم کریں گے تو اللہ پاک کی رحمت یعنی بارش رک جائے گی“ ان کی اس سوچ کو کس طرح ختم کیا جائے ؟ ( سردار آباد فیصل آباد سے سوال)

جواب:بے زبان جانوروں کو اس طرح زمین میں گاڑدینا بہت بڑا ظلم، گناہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ بارش تو اللہ پاک کی رحمت ہے مگر جب ایسی طوفانی بارش ہو کہ تباہی مچ جائے تو ایسی بارش رحمت تو نہ ہوئی بلکہ زحمت ہوئی اور ظلم کرنے سے زحمت میں اضافہ ہوگا ، نہ کہ کمی آئے گی؟ اور اگر اتفاق سے یہ زحمت رک گئی تو بھی امتحان ہے کیونکہ وہ یہ سمجھیں گے ہم نے جانوروں پر ظلم کیا ہے تب ہی یہ رک گئی ہے ۔ بہرحال ان لوگوں پر توبہ کرنا فرض ہے اور آیندہ اس ظلم سے بچنا بھی ضروری ہے ۔

کشتی میں سوار ہونے کی دعا

سُوال:ماہی گیر جب سمندر میں کام کے لیے جائیں تو کونسی دعا پڑھیں؟ (ایک ماہی گیر اسلامی بھائی کا سوال)

جواب:ایک قرآنی آیت کشتی میں سوار ہونے کی دعا ہے وہ پڑھ لی جائے ، وہ دعا یہ ہے :( بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۴۱))(پ۱۲، ھود:۴۱)ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا، بے شک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے ۔



[1]     احیاء العلوم ، کتاب آداب النکاح، الباب الاول فی الترغیب  فی النکاح والترھیب عنه، ۲ / ۳۵-احیاء العلوم مترجم، ۲ / ۹۴

[2]     مسند احمد، مسند الشامیین، حديث رجل من اصحاب النبی، ۶ / ۴۱، حديث:۱۶۹۶۸ماخوذاً

[3]     بخاری، کتاب الجنائز، باب الصبر عند الصدمة الاولی، ۱ / ۴۴۱، حدیث:۱۳۰۲ 

[4]     شامِ کربلا، ص۱۷۴-۱۷۶ ملخصاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور

[5]     بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، ۴ / ۲۲۵، حدیث:۶۴۲۴ 

[6]     فتح الباری ، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی به وجه اللہ ، ۱۲ / ۲۰۵، تحت الحدیث:۶۴۲۴ملخصاً دار الکتب العلمیة بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن