30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے دو پرنالے ہر وقت گرتے ہىں اىک سونے کا دوسرا چاندى کا ۔ ([1])
(نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:سب سے پہلے میرے حوضِ کوثر پر آنے والے میرے اہلِ بیت ہوں گے اور میری امت میں سے میرے چاہنے والے ۔ ([2]) (امیر اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:) حوضِ کوثر سے صرف چاہنے والے ہی پئیں گے اور وہ جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہوگا ۔ مخالفین، غیر مسلم اور گستاخ حوضِ کوثر سے نہیں پی سکیں گے ۔ اللہ کرے ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو ۔
روحانی عملیات کی خواہش رکھنے والوں کے لیے مدنی پھول
سُوال:اگر کسی کی خواہش ہو کہ اسے اس کے پیر و مرشد کی طرف سے مراقبے کی اجازت مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کیا اِرشاد فرماتے ہیں؟
جواب:اگر پیر صاحب مراقبے کا طریقہ جانتے ہیں اور اتنے مضبوط ہیں کہ اپنے مرید کو مراقبہ کرواسکتے ہیں اگر مرید آگے پیچھے ہوا تو اس کو کنٹرول کرلیں گے تو الگ بات ہے ورنہ یہ مراقبہ کرنے ، مؤکل پکڑنے یا عملیات وغیرہ کرنے والوں کا حال میں نے دیکھا ہے ان کا دماغ فیل ہوجاتا ہے ، جسم میں طرح طرح کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں کبھی سوئیاں چبھ رہی ہوتی ہیں، راتوں کو نیند نہیں آتی کئی کئی دن گزرجاتے ہیں سو نہیں پاتے پھر نہ پیر صاحب سنبھال پاتے ہیں نہ کسی اور کے بس کی بات ہوتی ہے اور اس کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ تو بہتر یہی ہے کہ سیدھا سیدھا علمِ دین حاصل کریں ۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بڑے عالمِ دین اور مفتی تھے مگر مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان کی کتابوں میں کہیں مروجہ مراقبے کا طریقہ لکھا ہو ۔ میرے پاس بھی بہت سے لوگ آتے ہیں کہ یہ دے دو وہ دے دو، منع کرو تو ناراض ہوجاتے ہیں ۔ ان کو کیا دیا جائے ، پنج وقتہ نماز کی پابندی کریں یہی سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔ اس میں دلچسپی نہیں ہوتی، وظیفہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نماز کے فرائض تک معلوم نہیں ہوتے بلکہ وضو بھی صحیح کرنا نہیں آتا ۔
ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کا وضو بھی کیا جاتا ہے اگر لاکھوں سے پوچھا جائے تو شاید کسی کو معلوم نہ ہو کہ باطنی وضو کیا ہوتا ہے ، باطنی وضو بظاہر تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن حقیقت میں بہت مشکل ہے ۔ ظاہری وضو سے بدن کا ظاہر دھلتا ہے جیسے ہاتھ دھل گئے ، منہ دھل گیا وغیرہ لیکن باطنی وضو الگ ہی ہے مگر یہ وضو کرنے والے بہت کم ہیں، ظاہری اور باطنی وضو کی مثال یوں سمجھیے جیسے کسی شخص کے گھر کوئی Minister (وزیر) آنے والا ہواور وہ اپنے گھر کے باہر رنگ و روغن کرے بتیاں لگائے لیکن گھر کے اندر بالکل صفائی ستھرائی نہ ہو، ایک طرف بستر پڑا ہو تو دوسری طرف کوڑا دان، کرسیاں بکھری ہوئی ہوں، دیواروں پر دھبے لگے ہوں تو اس Minister (وزیر)پر کیا اثر پڑے گا وہ کیا سوچے گا کہ یار اس نے گھر کا بیرونی حصہ تو سجا دیا مگر اندرونی حصے کو چھوڑدیا ہے ۔ لوگ عموماً ایسا کرتے بھی نہیں ہیں بلکہ اندر اور باہر سب جگہ سجاوٹ کرتے اور صفائی کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ہم لوگ جب وضو کرتے ہیں تو بدن کا ظاہری حصہ تو دھولیتے ہیں مگر اندرونی حصہ گندہ ہی رہتا ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے باطنی وضو کا طریقہ ارشاد فرمایا ہے کہ ظاہری وضو یعنی جو وضو نماز کے لیے کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ توبہ کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزمِ مصمم (پکا ارادہ)کرے پھر نماز شروع کرے ۔ ([3]) لیکن آج کل لوگ ایسا نہیں کرتے بلکہ یاد ہی نہیں رہتاکہ باطنی وضو بھی کوئی چیز ہے اقامت شروع ہوتی ہے تو بھاگ دوڑ کر جُوں تُوں وضو کرتے ہیں ، اعضائے وضو کا کچھ حصہ سوکھا رہ جائے تو اس کی بھی خبر نہیں ہوتی ۔ لہٰذا کوشش کرکے ان چیزوں پر توجہ دی جائے اور ظاہری و باطنی دونوں وضوؤں کا اہتمام کیا جائے تو مدینہ مدینہ ہوجائے گا ۔
بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والوں کی فضیلت
سُوال:مختلف احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی پرورش کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ ہوں گی ۔ یہ فضیلت صرف باپ کے لیے ہے یا ماں کے لیے بھی ہے ؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سوال)
جواب:یہ فضیلت ماں کے لیے بھی ہے جیسا کہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سے رِواىت ہے کہ اىک عورت اپنى دو لڑکىاں لے کر مىرے پاس آئى اور اس نے مجھ سے کچھ مانگا، مىرے پاس اىک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا مىں نے وہى دے دى، عورت نے کھجور تقسىم کرکے دونوں لڑکىوں کو دے دى اور خود نہىں کھائى ۔ جب وہ چلى گئى حضور نبى کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشرىف لائے مىں نے ىہ واقعہ بىا ن کىا ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرماىا: جس کو خدا نے لڑکىاں دى ہوں اگر وہ ان کے ساتھ احسان کرے تو وہ جہنم کى آگ سے اس کے لىے روک ىعنى آڑ ہوجائىں گى ۔ ([4])
اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سے ہی مروی ہے کہ اىک مسکىن عورت دو لڑکىوں کو لے کر مىرے پاس آئى مىں نے اسے تىن کھجورىں دىں، اس نے اىک اىک کھجور لڑکىوں کو دے دى اور اىک کو منہ تک کھانے کے لىے لے گئى کہ لڑکىوں نے اس سے مانگ لی تو اس نے دو ٹکڑے کرکے دونوں کو دے دى ۔ جب ىہ واقعہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سناىا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرماىا: اللہ پاک نے اس کے لىے جنت واجب کردى اور اسے جہنم سے آزاد کردىا ۔ ([5])
مدنی منے کے لواحقین سے تعزیت اور مدنی پھول
سوال:ایک مدنی منا جن کا نام محمد فرحان عطاری بن محمد مشتاق عطاری تھا، عمر تقریباً ساڑھے گیارہ سال تھی، 17پاروں کے حافظ تھے اور مدنی چینل پر بھی آتے تھے ، ایک بار مدنی مذاکرے میں
[1] مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم و صفاته، ص۹۶۹، حدیث:۵۹۹۰
[2] کنزالعمال، الباب الخامس فی فضل اھل البیت، الجزء:۱۲، ۶ / ۴۷، حدیث:۳۴۱۷۳ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] احیاء العلوم ، کتاب الطھارة، القسم الثانی فی طھارة الاحداث ، ۱ / ۱۸۵ ماخوذاً دار صادر بیروت-احیاء العلوم(مترجم)، ۱ / ۴۲۵مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[4] مسلم، کتاب البر و الصلة، باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۰۸۵، حدیث:۶۶۹۳
[5] مسلم، کتاب البر و الصلة، باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۰۸۵، حدیث:۶۶۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع