30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
”اٰمَنْتُ بِاللہِ وَرَسُوْلِہ“کہنے سے بھى وسوسہ دور ہوتا ہے ۔ ( هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳) )(پ۲۷، الحدید:۳) ىہ پڑھنے سے بھى وسوسہ دور ہوتا ہے ۔ ([1])مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کے رسالے ”وسوسے اور ان کا علاج“میں وسوسوں کے تعلق سے بہترین مواد ہے ۔ مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ سے یہ رسالہ حاصل کیجیے یا پھر دعوتِ اسلامى کى وىب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے اس کا مطالعہ کىجئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ معلومات میں بہت اضافہ ہوگا ۔
سُوال:ہم بعض لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ پہلے وہ وسوسوں کا شکار نہىں ہوتے مگر پھر جب کچھ عرصہ بعد انہیں دىکھتے ہىں تو وہ وسوسوں کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے ؟)نگرانِ شوریٰ کا سُوال) ([2])
جواب:کسى کو وسوسے نہ آتے ہوں اىسا سنا نہىں ہے ۔ شیطان کمبخت ماىوس ہوتا ہى نہىں ہے البتہ نبىوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا جو شىطان تھا جسے ہمزاد کہتے ہیں وہ مسلمان ہوگىا تھا اس لىے وہ وسوسے نہىں ڈالتا تھا بلکہ اچھے مشورے دىتا تھا ۔ ([3])اس کے علاوہ جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہىم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا اسماعىل عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ذبح کرنے کے لیے نکلے تو شیطان نے باپ بیٹے دونوں کو بہکانے کى کوشش کى مگر جب شىطان باپ بىٹے کو بہکانے مىں ناکام ہوا تو جمرے کے پاس آىا وہاں حضرتِ سَیِّدُنا ابراہىم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شىطان کو سات کنکرىاں مارىں، کنکرىاں مارنے پر شىطان آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے راستے سے ہٹ گىا اور ىہاں سے ناکام ہو کر دوسرے جمرے پر گىا ، فرشتے نے دوبارہ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہىم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا :اسے مارىے ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے سات کنکرىاں مارىں تو اس نے راستہ چھوڑ دىا ، اب شىطان تىسرے جمرے پر پہنچا تو حضرتِ سَیِّدُنا ابراہىم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرشتے کے کہنے پر اىک بار پھر سات کنکرىاں مارىں تو شىطان نے راستہ چھوڑ دىا ۔ ([4])شىطان کو تىن مقامات پر کنکرىاں مارنے کى ىاد باقى رکھى گئى ہے اور آج بھى حاجى ان تىنوں جگہوں پر کنکرىاں مارتے ہىں تو یوں شیطان کا انبىائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو بھی وسوسے ڈالنا ثابت ہے ۔ اسی طرح شیطان کے وسوسہ ڈالنے سے متعلق حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قصہ بھی مشہور ہے ۔ بہرحال ىہ کہ شىطان جب ایسی ہستیوں کو وسوسے ڈالتا ہے تو مىں اور آپ کىا ہىں ؟یہ ہمیں بھى نہىں چھوڑے گا ۔ شیطان عىن کعبہ مىں بھی وسوسے ڈالتا ہے اور سنہرى جالىوں کے روبرو آ کر بھی وسوسے ڈالتا ہے ۔ اللہ کرىم !ہمیں اس کے شر سے بچائے ۔
سُوال:کىا وسوسے اور وہم مىں بھى کوئى فرق ہے ؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال )
جواب:وہم کے معنیٰ ”شبہہ “ہیں ۔ وسوسہ اور چىز ہے ، شبہہ اور چىز ہے ۔
دل میں ظہر کی نیت ہو اور زبان سے عصر نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟
سُوال: جب ہم ظہر کى نماز پڑھنے جائىں اور دل مىں بھی نمازِ ظہر پڑھنے کی نیت ہو مگر زبان سے عصر نکل جائے تو کیا نماز ہو جائے گی ؟
جواب:اگر دل مىں ىہی ہے کہ یہ مىرى ظہر کى نماز ہے اور زبان سے عصر نکل گىا تو ىہ ظہر ہى ہے اور اگر دل مىں عصر کى نیت جمی ہوئى ہے کہ میں عصر کى نماز پڑھ رہا ہوں اور زبان سے ظہر نکلا تو عصر کى نماز ہی ہے ۔ اگر آپ ظہر کى نماز پڑھ رہے ہىں اورآپ کے دل مىں عصر کى نىت ہو تو ظہر نہ ہوئى ۔ ([5])
تایا ابو کى اَولاد محرم ہے یا غیر محرم؟
سُوال:تاىا ابو کى اَولاد محرم ہے ىا غیر محرم؟
جواب:تاىا ابو اور چچا کى اولادىں ىہ آپس مىں نا محرم ہىں ، ان کى شادىاں آپس مىں جائز ہىں اور ان کے درمیان پردہ بھی ہے ۔ ([6])
خوف نہ رکھ رضا ذرا تُو تو ہے عبدِ مصطفے ٰ
سُوال: اعلىٰ حضرت ، امام ِاہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے اس شعر کا مطلب اِرشاد فرما دىجئے ۔
خوف نہ رکھ رضا ذرا تُو تو ہے عبدِ مصطفے ٰ
تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے (حدائقِ بخشش)
جواب:بندے پر کبھى خوف کى کىفىت طاری ہوتى ہے تو اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ پر محشر کے خوف کى کىفىت طارى ہوئى ہو گى تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے اس طرح اپنے آپ کو تسلى دی اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى شفاعت کے تعلق سے ڈھارس بندھائی کہ ”خوف نہ رکھ رضا ذرا تُو تو ہے عبدِ مصطفے ٰ“ یعنی اے رضا !اتنا بھى کىوں ڈرے جا رہے ہو تم تو غلامِ مصطفے ٰ ہو تمہارے لىے ”امان“ ىعنى امن و عافىت ہے کہ تمہارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تمہارى شفاعت کرىں گے اور تمہىں جنت مىں لے جائىں گے ۔
[1] فتاویٰ رضویہ، ۱ / ۷۷۰ ماخوذاً
[2] غسل خانے میں پیشاب کرنے سے بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں جیساکہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُغَفَّل رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے روا یت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص غسل خانے میں پیشاب کرے اور فرمایا :بے شک عموماًاسی سے وسوسے پیدا ہو تے ہیں ۔ (تِرْمِذی ، ابواب الطھارة، باب ماجاء فی کراھیة البول فی المغتسل، ۱ / ۹۸، حدیث :۲۱ )
[3] مسلم، کتاب صفة القیامة و الجنة و النار، باب تحریش الشیطان ۔ ۔ الخ، ص ۱۱۵۸، حدیث:۷۱۰۸
[4] تفسیر خازن، پ۲۳، الصٰفٓت، تحت الایة:۱۰۳، ۴ / ۲۳دار الکتب العربیة الکبری مصر
[5] بہارِشریعت، ۱ / ۴۹۲، حصہ:۳ ماخوذاً
[6] فتاویٰ رضویہ، ۱۱ / ۴۱۴، ۴۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع