30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آبِِ زمزم کھڑے ہو کر پینے کی حکمت
سُوال: کىا آبِ زم زم شرىف بىٹھ کر نہىں پى سکتے ؟نیز اسے کھڑے ہو کر کىوں پىتے ہىں اور کھڑے ہو کر پینے میں کیا حکمتیں ہیں ؟
جواب:آبِ زم زم شریف بىٹھ کر پىنا بھی جائز ہے البتہ کھڑے ہو کر پىنا مُسْتَحَب اور کارِ ثواب ہے ۔ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے آبِ زم زم شرىف کو کھڑے ہو کر پىا ([1]) تو کھڑے ہو کر پینا ہم غلاموں کے لىے سنت ہو گئى اور ىہ سب سے بڑى حکمت ہے ۔ آبِ زم زم کی طرح وضو کا بچا ہوا پانى بھى کھڑے ہو کر پىنا مستحب ہے ۔ اگر کھڑے ہو کر پئیں تو یہ پورے جسم مىں سرائىت کرتا ہے اور اس میں شفا ہے ۔ وضو کے بچے ہوئے پانى کے بارے مىں اعلىٰ حضرت، امام اہلِ سنَّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے لکھا ہے کہ اس میں 70 بىمارىوں سے شِفا ہے ([2])اور زم زم شرىف میں تو 70 کا حساب ہى نہىں یہ تو شِفا ہى شِفا ہے اور صِرف شِفا نہیں بلکہ یہ پیتے وقت جو بھی دُعا مانگی جائے وہ قبول ہے ۔ ([3])
ىہ زم زم اس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئى
اسى زم زم مىں جنت ہے اسى زم زم مىں کوثر ہے (ذوقِ نعت)
منگل اور بدھ کو بڑا گوشت نہ بیچنے کی شرعی حیثیت
سُوال:گوشت فروش منگل اور بدھ کو بڑا گوشت نہىں بیچتے اس کى شرعى حىثیت کیا ہے ؟
جواب:گوشت اور جانوروں کی بچت کی خاطر ہمارے یہاں منگل اور بدھ بلکہ شاید تىن دن تک گوشت بیچنا قانونی لحاظ سے منع ہوتا ہے لىکن گوشت فروش چھپ چھپا کر بىچ رہے ہوتے ہىں ۔ جس طرح کتے کے منہ مىں ہڈى دیکر خاموش کروایا جاتا ہے تو اسی طرح انتظامىہ کے رشوت خور افراد بھی رشوت کھا کر آنکھ آڑے کان کرتے ہىں یا بعض گوشت فروشوں کی انتظامیہ کے لوگوں سے ترکىب ہوتى ہے تو وہ چھٹی والے دن بھی گوشت بىچ رہے ہوتے ہىں ۔ یاد رہے کہ چھٹی والے دن گوشت بیچنا شرعا ًمنع نہیں ہے لىکن ہمیں قانون کی پابندی بھى کرنی چاہىے ، ىہ قانون تو ہمارے بھلے کے لىے ہی ہے اور ویسے بھی سبزی اور مچھلی کھانا صحت کے لیے مفید ہے لہٰذا گوشت نہ ملنے کے بہانے مچھلی ، سبزی اور دال کھانے کی باری بھی آئے گی لیکن بعض لوگ ناغے کے دن سے پہلے سے ہی فریزر میں گوشت بھر کر رکھ لیتے ہیں ۔
ایک انگلی سے کھانا شیطان کا کام ہے ، کی وضاحت
سُوال:آپ نے اپنی کتاب ”فیضانِ سُنت “میں تحرىر فرماىا ہے کہ اىک انگلى سے کھانا شىطان کا کام ہے لیکن جب برتن کو صاف کىا جا رہا ہوتا ہے تو بسا اوقات جو تھوڑا سا سالن رہ جاتا ہے اُسے انگوٹھے سے صاف کرنا پڑتا ہے اور پھر بندہ اسى کو چاٹ لىتا ہے تو کىا ىہ بھى اىک انگلى سے کھانا کہلائے گا ؟ اگر اىسا ہے تو پھر برتن کو کس طرح صاف کیا جائے کہ ایک انگلى سے کھانے والی صورت درپىش نہ آئے ؟
جواب:پہلے تو یہ طے کر لیجیے کہ یہ کھانا ہے ىا چاٹنا ؟نیز اىک انگلى سے کھانے کو شىطان کا طرىقہ ضرور لکھا ہے ([4]) لىکن اسے ناجائز ىا گناہ نہىں کہہ سکتے اور پھر یہ کہ جہاں ضرورت ہو وہاں استثنا ہوتا ہی ہے ۔ اگر کوئى اىسی چیز ہے جو اىک ہى انگلى سے کھائى جاسکتى ہے مثلاًآپ کو حکىم صاحب کا معجون کھانا ہے اورآپ کے پاس چمچ نہیں ہے تو کیاتین انگلیوں سے معجون کا نوالہ بنا کر کھائیں گے ؟ ظاہر ہے ایک انگلی سے ہی اُٹھا کر کھائیں گے ۔ اسی طرح برتن کو چاٹنا بھی تین انگلیو ں سے مشکل ہے ایک ہی انگلی سے چاٹا جا سکے گا ۔ اسے یوں سمجھیے کہ بعض اوقات لوگ ہاتھ ملاتے وقت تھوڑا سا جھک جاتے ہیں تو تھوڑا جھکنا مکروہِ تنزیہی ہے اور اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائىں تو گھٹنوں تک پہنچ جائىں جو رکوع کى ادنىٰ مقدار ہے ملاقات میں اتنا جھکنا حرام ہے ۔ ([5]) مگر لوگوں کی اىک تعداد ہے جو اس مىں مبتلا ہے ، بالخصوص ہم لوگوں کو اس سے بڑا واسطہ پڑتا ہے کہ بعض لوگ ہم سے ملتے وقت Respect (احترام) مىں اتنا جھک جاتے ہىں کہ وہ حرام کى حد تک ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئى کسی کا ہاتھ چومتا ہے تو اس مىں بھى جھکنا پاىا جاتا ہے لیکن اگر کوئی صرف ہاتھ ملانے کے لىے رکوع کى حد تک جھکے گا تو گناہ گار ہو گا اور ہاتھ چومنے کے لىے جھکے گا تو گناہ گار نہىں ہو گا کیونکہ ہاتھ چومنے کے لىے جھکنا ضرورى ہے اور بغىر جھکے ہاتھ کھىنچ کر نہىں چوم سکتے کہ اس میں سامنے والے کی Respect (احترام) نہىں ہو گى ۔ اسی طرح اگر کوئی چیز کسی کے پاؤں کے پاس جا گری تو اُسے اٹھانے کے لیے جھکنا پڑے گا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ ضرورت ہے تو جس طرح بعض صورتوں میں گھٹنوں تک جھکنے میں حرج نہیں ہے اسی طرح بعض صورتوں میں ایک انگلی سے کھانے میں بھی حرج نہیں ہے ۔ یاد رکھیے ! کسی سے ملتے وقت اتنانہ جھکا کریں کہ رکوع کی حد تک پہنچ جائیں بلکہ نارمل رہا کریں اور تھوڑا بھی نہ جھکا کریں لیکن عام طور پر لوگ تھوڑا جھک جاتے ہیں اور اسے ملنساری کا انداز سمجھتے ہیں حالانکہ ملنساری اگر سنت سے ہٹ جائے تو وہ ملنساری نہیں رہتی کچھ اور ہو جاتی ہے ۔
وِتر مىں دُعائے قنوت کى جگہ کچھ اور پڑھنا
سُوال:کیا وِتر مىں دُعائے قنوت کى جگہ کچھ اور پڑھ سکتے ہىں؟
جواب:جی ہاں! اگر دُعائے قنوت نہىں آتى تو اس کی جگہ رَبِّ اغْفِرْلِیْ یا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ کہہ لىجئے اور اگر ىہ کہنا بھى نہىں آتا تو یَا رَبِّیْ تىن مرتبہ کہہ لىجئے ۔ ([6])
رَبِّ اغْفِرْلِیْ کا مطلب
[1] مسلم، کتاب الاشربة، باب فی الشرب من زمزم قائما، ص ۸۶۲، حدیث:۵۲۸۰
[2] فتاویٰ رضویہ، ۴ / ۵۷۵ رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا لاہور
[3] ابن ماجه، کتاب الحج، باب الشرب من زم زم، ۳ / ۴۹۰، حدیث: ۳۰۶۲ ماخوذاً دار المعرفة بیروت
[4] جامع صغیر، حرف الھمزة، ص۱۸۴، حدیث:۳۰۷۴ دار الکتب العلمیة بیروت- فیضانِ سنت، ۱ / ۲۴۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[5] بہارِ شریعت، ۳ / ۴۶۴، حصہ:۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[6] فتاویٰ رضویہ، ۸ / ۱۵۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع