30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا نام ہے کہ عَزْمِ مُصَمَّمْ ىعنى پکا اِرادہ ہو ۔ اِدھر اُدھر نظرىں گھماتے، بدن سہلاتے، کھجاتے اور کوئى چىز رکھتے اُٹھاتے ىا جلد بازى کے ساتھ نىتىں کرنا چاہىں گے تو شاىد نہ ہو پائىں گی لہٰذا نىک کام شروع کرنے سے قبل کچھ دیر رُک کر موقع کى مُناسبت سے سر جھکائے آنکھىں بند کىے ذہن کو مختلف خىالات سے خالى کر کے نىتوں کے لىے ىک سُو ہو جانا مفىد ہے ۔
سُوال : اگر اچھا کام کرنے کی نیت تھی لیکن کسی وجہ سے نہیں کر سکے تو کیا اس پر اَجر و ثواب ملے گا؟
جواب : اگر کسی نے کوئی اچھا کام کرنے کی نیت کی تھی لیکن وہ عمل نہیں کر سکا جب بھی ثواب ملے گا جیساکہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے : جس نے نىکى کا اِرادہ کىا پھر اس نے وہ کام نہ کىا تو اس کے لىے اىک نىکى لکھى جائے گى ۔ ([1])اس سے مُراد ىہ نہىں کہ وہ نىکى آپ کر چکے جبھی اس کا ثواب لکھا جائے گا بلکہ نىت کا ثواب لکھا جائے گا ۔ اب اللہ کى مَرضى پر ہے کہ وہ اس عمل سے بڑھ کر نیت پر ثواب عطا کر دے ۔ اس لىے کہ نىت خود اىک ثواب کا کام ہے ۔ اچھى نىت اچھائى ہے اور بُرى نىت بُرائى ہے ۔
سُوال : کیا اچھی اچھی نیتیں کرتے رہنا چاہیے ؟
جواب : جی ہاں!اچھی اچھی نىتىں تو کرتے رہنا چاہىے مثلاً اگر آپ کى واقعى نىت بنتی ہے تو یوں نیت کریں کہ مىں ہر سال حج کروں گا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مىں نے تو یہ نیت کى ہوئى ہے کہ ہر سال حج کروں گا ۔ اب ہر سال جانے کے اَسباب نہ ہوئے یا بعد مىں اِرادہ بدل گىا اور نہ جا پائے تب بھی اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نىت کا ثواب ملے گا ۔
یہ نیت کرلیجیے کہ جب تک زندہ رہوں گا پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز پڑھوں گا ۔ دِل مىں یہ نىت پکی ہو چاہے کچھ بھى ہو جائے بلااِجازتِ شرعی نماز کى جماعت نہىں چھوڑوں گا ۔ اگر کبھی رات دیر سے سونے کی وجہ سے آنکھ نہ کھلنے کا اندیشہ ہوا تو اب والد یا والدہ کو بولوں گا کہ مجھے ہر صورت نماز کے لیے اُٹھا دیں ۔ دوست یا مؤذن صاحب سے کہہ دوں گا کہ مجھے نماز کے وقت فون کر دىں ىا خود ہی اپنے موبائل پر اَلارم لگاکر اُٹھنے کا اِہتمام کروں گا ۔ بہرحال یہ نیت کر لیں کہ جب تک جىوں گا نمازِ باجماعت کی پابندی کروں گا ۔ یہ ایک Powerful(یعنی مضبوط) نىت ہے ۔ جو یہ نیت کرے گا تو اس کا ثواب بھى اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے نامۂ اَعمال مىں لکھ دىا جائے گا ۔
فرض روزے رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی نیت
اِسى طرح عمر بھر ہر سال رَمَضان مىں پورے روزے رکھنے کی نیت بھی کی جا سکتی ہے ۔ نیز یہ نیت بھی کر لیں کہ اگر شرعى مجبورى کى وجہ سے مىرا کوئى روزہ چھوٹا تو اس کی قضا کر لوں گا ۔ اگر کوئی سخت بیماری کے سبب روزہ چھوڑے گا تو گناہ گار نہیں ہو گا البتہ اس روزے کی قضا رکھنا ضَروری ہے ۔ بعض لوگ سمجھتے ہوں گے کہ یہ مُعاف ہو گیا حالانکہ ىہ معاف نہىں ہوتا ۔ یوں ہی اس کا فِدیہ دے دینے سے بھی جان نہیں چھوٹے گی لہٰذا ہر حال میں روزہ قضا رکھنا ہى پڑے گا ۔ شىخِ فانى ([2]) کی طرح روزے کے بدلے فِدیہ دینے کے اَحکام یہاں لاگو نہیں ہوں گے ۔ یوں ہی اگر آپ صاحبِ مال ہىں تو ىہ نىت کر سکتے ہىں کہ جب جب شرائط پائی جائىں گی تو ہر سال پورى زکوٰة اد اکروں گا ۔
پڑوسیوں اور والدین کے ساتھ اچھے سلوک کی نیتیں
سُوال : کیا پڑوسیوں اور والدین کے ساتھ ہمیشہ اچھے سلوک کی نیت کی جا سکتی ہے؟
جواب : جی ہاں! یہ نیت کی جا سکتی ہے کہ پڑوسىوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا اگرچہ وہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ بھی کرىں ۔ والدین کے ساتھ بھی ہمیشہ
اچھے سلوک کی نیت کی جا سکتی ہے مثلاً اپنے ماں باپ کا ہاتھ چوموں گا، ماں باپ کو راضى کروں گا اور راضى رکھوں گا تو اِس طرح کى اچھى اچھى نىتىں کرتے جائىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ثواب ملے گا ۔ مزید معلومات کے لیے رِسالہ ”ثواب بڑھانے کے نسخے“ کا مُطالعہ کیجیے ۔
[1] مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ھم العبد بحسنة کتبت…الخ، ص۷۴، حدیث : ۳۳۵ دار الکتاب العربی بیروت
[2] شیخِ فانی وہ شخص ہے کہ جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ حقیقتاً روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، نہ سردی میں نہ گرمی میں ، نہ لگاتار نہ متفرق طور پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو ۔
(فتاویٰ اہلسنَّت، (قسط 9)، احکامِ روزہ و اعتکاف، ص۲۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع