30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو لکھا ہوتا ہے وہى پڑھ کر سُنا نا ہوتا ہے اور کتابوں میں مشکل اُردو لکھی ہوتی ہے تو اب کتابوں میں تبدیلی کیسے کی جائے ؟اب میں جو نیا تحریری کام کرتا ہوں اس میں الفاظ آسان کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور انگلش کےالفاظ بھی ڈلواتا ہوں اورکسی انگلش لفظ کی سمجھ پڑتی ہے تو خود بھی ڈال لیتا ہوں تاکہ اُمَّت کو سمجھ میں آئے اور اگر لوگ خالی ہمارى واہ وا کریں کہ اتنى بڑى کتاب لکھ دى ہے اور انہیں سمجھ میں نہ آئے تو کیا فائدہ ؟فائدہ تو اس صورت میں زیادہ ہو گا کہ لوگ سمجھیں اور ان تک نیکی کی دعوت پہنچے ۔ اب جو بڑی بڑی اور چھوٹی چھوٹی کتابیں چھپ رہی ہیں جن میں اُردو مشکل ہے اور عربی اور فارسی کے اَلفاظ ہیں ان کتابوں کو لو گ بے چارے نہیں پڑھ پاتے ہوں گے بس لے کر رکھ دیتے ہوں گے بلکہ خریدتے بھی نہیں ہوں گے۔ اگر کسی نے مُفت میں دے دی تو لے کر رکھ دیتے ہوں گے کیونکہ جب سمجھ ہی نہیں پڑے گا کہ ان میں کیا لکھا ہے تو پڑھنا کس نے ہے؟اس سلسلے میں بھی اِنْ شَآءَ اللّٰہ دعوتِ اسلامی آپ کو مایوس نہیں کرے گی ۔جب دُنىا بھر مىں نىکى کی دعوت پہنچانی ہے تو جہاں جہاں جو Language(زبان)بولى جاتى ہے ہمیں وہاں اسی زبان میں لٹرىچر دىنا پڑے گا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میری کتب و رَسائل کا انگلش، ہندى، گجراتى ، عربی اور دِیگر 10سے 15 زبانوں مىںTranslation (ترجمہ) ہوتا ہے۔(اِس موقع پر رُکن ِ شُوریٰ نے فرمایا : )اَلْحَمْدُ لِلّٰہ امىر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تقرىباً 100 کے قرىب کتب و رَسائل کا مجلسِ تَراجم کی طرف سے انگلش میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
کیا کھجور کے ساتھ روٹی کھانا سنَّت ہے؟
سُوال : کیا کھجور اور روٹی سے سحری کرنا سنَّت ہے اور اس کے ساتھ چائے پی سکتے ہیں؟
جواب : کھجور سے سحری کرنا سنَّت ہے یعنی کھجور سے سحری کرنے کی حدیثِ پاک میں پذیرائی کی گئی ہے۔([1])روٹی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھانا بھی سنَّت ہے جیسا کہ سیرتِ مصطفٰی صفحہ نمبر 586 پر : ” آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بکری، دُنبہ، بھیڑ، اونٹ، گورخر، خرگوش، مُرغ، بٹیراور مچھلی کا گوشت کھایا ہے۔ اِسی طرح کھجور اور ستو بھی بکثرت تناول فرماتے تھے۔ تربوز کو کھجور کے ساتھ ملا کر، کھجور کے ساتھ ککڑ ی ملا کر، روٹی کے ساتھ کھجور بھی کبھی کبھی تناول فرمایا کرتے تھے۔ انگور، انار وغیرہ پھل فروٹ بھی کھایا کرتے تھے۔“ فیضانِ رَمَضان صفحہ 117 پرہے : مکھن کے ساتھ کھجور کھانا بھی نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے۔([2])اس تحریر کے تحت ان چیزوں کو سنَّت کہنے میں حرج نہیں یہ سُنَنِ زَوائد میں سے ہیں، البتہ یہ نہ کہا جائے کہ کھجور اور روٹی سے سحری کرنا سنَّت ہے ۔یاد رہے کہ ایک آدھ بار کوئی عمل سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہو تو اس کو سنَّت نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں! کوئی ایسا عمل ہے جو بار بار کیا ہو جیسے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کھجور کے ساتھ ککڑی ملاکر تناول فرمایا کرتے تھے اس کا مطلب ہے کئی بار ایسا ہوا ہے تو اس کو سنَّت کہا جائے گا۔
سُوال : لوگوں کے دِلوں سے بغض و کینہ کیسے نکلے اور وہ آپس میں کس طرح محبت سے پیش آئیں؟ (باب المدینہ کراچی سے ایک مَدَنی منے کا سُوال)
جواب : دِلوں میں محبت کیسے پیدا ہو اور بغض و کینہ کیسے نکالا جائے یہ بیان کا ایک مستقل موضوع ہے۔اِس بارے میں معلومات حاصِل کرنے کے لیے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی 79 صفحات پر مشتمل کتاب”بغض و کینہ“ کا مطالعہ کیجئے۔ یاد رہے کہ ایک آدھ بار پڑھنے یا سننے سے بغض وکینہ سے جان نہیں چھوٹے گی۔ اس کے لیے مسلسل ذہن بنانا پڑے گا اور یہ ذہن بغض وکینہ کے نقصانات پر غور کرتے رہنے سے بنے گا مثلاً بغض و کینہ ایسی نامُراد اور خطر ناک صفت ہے کہ جس کے دِل میں ہو اس کی شَبِ بَراءَت میں بھی مَغْفِرَت نہیں ہوتی ([3])حالانکہ اس رات بہت ساروں کو مَغْفِرَت سے نوازا جاتا ہے لہٰذا کسی کے لیے بھی اپنے دِل میں بغض و کینہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھنا چاہیے اور مسلمان ہونے کے ناطے اس کی محبت دِل میں ہونی چاہیے۔
جس کی داڑھی نہ آتی ہو وہ کیا کرے؟
سُوال : میری ابھی تک داڑھی نہیں نکلی، نہ صرف میری بلکہ انڈونیشیا میں 35 سال کی عمر والوں کی بھی داڑھی نہیں نکلتی، میں نے یہاں داڑھیوں کی بہاریں دیکھی ہیں میرا دِل للچا رہا ہے کہ میری بھی داڑھی ہوتی تو میں کتنا اچھا لگتا، آپ کی بار گاہ میں عرض ہے کہ مجھے کوئی دوائی یا تیل دے دیں یا مجھے اپنی دُعاؤں سے نواز دیں یا پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میرے چہرے پر لگا دیں تاکہ میری بھی داڑھی آجائے کہ یہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنَّت ہے اور ہمیں اس بات کا شوق ہے کہ ہمارے چہروں پر بھی داڑھی ہو۔
(عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ میں آئے ہوئے ایک انڈونیشین اسلامی بھائی کا اپنی زبان میں کیے گئے سُوال کا خلاصہ)
جواب : مَاشَآءَ اللہ، شاید انڈونیشیا کی آب و ہوا ہی ایسی ہے کہ وہاں کے باشندوں کی داڑھی نہیں نکلتی، جس طرح ہماری داڑھیاں پورے چہروں پر ہوتی ہیں اس طرح ان کی داڑھیاں نہیں دیکھیں، حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں بہت سے انڈونیشین دیکھے ہیں حج کے موقع پر لاٹ کے لاٹ آئے ہوئے ہوتے ہیں مگر داڑھی والے نہیں ہوتے ۔بعض کی تھوڑی آتی ہے تو کوئی کاٹ لیتا ہے کوئی رکھ لیتا ہے۔ سائل کو مایوس ہونے کی ضَرورت نہیں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا جو مشہور صحابیٔ رَسُول ہیں بلکہ صحابی ابنِ صحابی ہیں ان کی بھی داڑھی مُبارَک نہیں نکلی تھی۔ ([4])یوں ہی حضرتِ سَیِّدُنا امام زہری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی داڑھی کے بھی چند بال تھے۔ ([5])حضرتِ سَیِّدُنا اَحنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ بہت بڑے امام اور تابعی بزرگ ہیں ان کی بھی داڑھی شریف قدرتی طور پر نہیں نکلی تھی۔ ([6])لہٰذا آپ ان بزرگوں کو یاد کر کے اپنا دِل بہلائیں اور اللہ پاک نے جیسا بنایا ہے اسی پر راضی رہیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ، رَضِیْتُ بِاللہ(یعنی میں ہر حال میں اللہ پاک سے راضی ہوں)۔ اگر داڑھی نکل آتی اور خداناخواستہ اسے کاٹ دیتے تو کیا ہوتا؟ اگرچہ انڈونیشیا میں اکثر شافعی مذہب کے پیروکار ہیں اور ان کے یہاں داڑھی رکھنا واجب نہیں ہے کیونکہ ان کے یہاں
[1] ابو داود، كتاب الصوم، باب من سمی السحور الغداء ، ۲/ ۴۴۲، حدیث : ۲۳۴۵ دار احیاء التراث العربی بیروت
[2] ابنِ ماجه، کتاب الاطعمة، باب التمر بالزبد، ۴/ ۴۱، حدیث : ۳۳۳۴ دار المعرفة بیروت
[3] مسند امام احمد ، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص، ۲/ ۵۸۹، حدیث : ۶۶۵۳دار الفکر بیروت
[4] تهذيب الكمال، باب العین، عبدالله بن زبیر...الخ، ۵/ ۳۴۰، الرقم : ۳۲۸۷ دار الکتب العلمية بیروت
[5] تاریخ ابنِ عساکر، ۵۵/ ۳۱۲ دار الفکر بیروت
[6] سیر اعلام النبلاء، الاحنف بن قیس بن معاوية...الخ، ۵/ ۱۲۵ دار الفکر بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع