30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : بظاہر اىسا لگتا ہے کہ ٹھیلے والوں کا کوئى عُذر بھى نہىں ہوتا اور نہ وہ شرعی مُسافر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ روزہ نہىں رکھتے حالانکہ شرعى طور پر ان پر روزہ رکھنا فرض ہے ۔پھر بھی اگر وہ نہىں رکھ رہے تو اىسوں کو پھر پانى نہىں دىنا چاہىے۔ یہ قرىنے سے ہی پتا چل جائے گا کہ وہ مُسافر ہے یا نہیں ؟جیسا کہ سبزى والا قرىب کا ہى ہوتا ہے تو اب اگر اس نے بِلااجازتِ شرعی فرض روزہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے پانى نہ دىا جائے۔
ماہِ رَمَضان کے عشروں کے نام کس نے رکھے؟
سُوال : ماہِ رَمَضان کے پہلے عشرے کو رَحمت ، دوسرے کو مَغْفِرَت اور تىسرے کو جہنم سے آزادى کا عشرہ کہتے ہىں تو کیا ىہ نام سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے رکھے ىا پھر بعد مىں رکھے گئے ہىں؟
جواب : یہ نام حدىث ِپاک مىں موجود ہىں۔([1])
سُوال : حُسنِ اَخلاق کسے کہتے ہىں؟ نیز اچھے اَخلاق کس طرح اپنائے جا سکتے ہیں؟
جواب : اَخلاق کے معنیٰ”عادات“ہیں۔ حُسنِ اَخلاق بہت ہى وَسىع موضوع ہے۔عام طور پر اس کے یہ معنیٰ لىے جاتے ہىں کہ ہنس مکھ ، بہت ملنسار اور اچھى طرح سے ملنے والا ، ایسے شخص کے بارے میں لوگ بولتے ہیں کہ یہ اَخلاق والا ہے، اگرچہ ىہ بھى حُسن ِاَخلاق کا حصَّہ ہے لىکن صِرف ىہى اَخلاق نہیں ہےبلکہ اِس کے بہت وسىع معنیٰ ہىں ۔ ىوں سمجھیے کہ کوئى بہت مَغْمُوْم ہے اور اس کے ىہاں مَىِّت ہو گئی ہے تو ہم اس کے پاس چلے گئے اور اس سے تَعْزِیَت کى اور اسے تسلى دى تو ىہ بھى حُسنِ اَخلا ق کا حصّہ ہے اگرچہ ہم اِس دَوران بالکل بھی نہ مسکرائے ہوں بلکہ تَعْزِیَت کرتے ہوئے مسکرانا بھی نہیں چاہیے۔حُسن ِ اَخلاق کے موضوع پر بہت سی کتابىں لکھی گئیں ہىں ۔اِحىاءُ العلوم مىں بھى حُسن ِاَخلاق کا باب موجود ہے ۔
رِشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکے میں کون سی خصوصیات دیکھی جائیں؟
سُوال : اگر کوئى شخص اپنى بىٹى کے لىے نىک لڑکا پسند کرنا چاہتا ہے تو وہ رِشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکے کے بارے میں کس طرح کى معلومات حاصِل کرے اور لڑکے میں کون سی خصوصیات دیکھے؟
جواب : سب سے پہلے تو لڑکے کا عقىدہ دىکھا جائے گا کہ اِىمانىات کے حوالے سے کىسا ہے ؟پھر یہ دیکھا جائے کہ نماز پڑھتا ہے یا نہىں اور اَخلاقىات کے حوالے سے کىسا ہے؟پھر ىہ دیکھا جائے کہ حلال روزى کماتا ہے ىا نہیں ؟عام طور پر لوگ ىہ تو دىکھتے ہىں کہ کماتا کتنا ہے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ حلال کماتا ہے یاحرام ؟لڑکے کے گھر کا ماحول بھى دىکھنا چاہىے اور اس طرح اچھى خاصى انکوائرى کرنے کے بعد جب بندہ مطمئن ہو جائے تب ہی کچھ کرے اور اس سلسلے میں اِستخارہ بھى کروا سکتے ہىں۔ رِشتے کے حوالے سے جن لوگوں سے مشورہ لىا جائے اور وہ مشورہ دینا چاہتے ہوں تو ضَرورى ہے کہ دُرُست مشورہ دىں اور اگر وہ کنفرم جانتے ہوں کہ لڑکا ظاہرى طور پر بااَخلاق ہے مگر اس کى چورى کى عادت ہے تو جس نے پوچھا اس کو بتانا پڑے گاورنہ شادى ہو گئى تو وہ لڑکی کے زىورات اور گھر کی دِیگر چیزیں بىچ کر آجائے گا کیونکہ اس کی چورى کى عادت ہے تو یوں نہ بتانے کی وجہ سے لڑکی والے بے چارے تباہ ہو جائىں گےلہٰذا اس کا خىال رکھا جائے ۔ نیز اِحىاءُ العلوم کی دوسرى جلد مىں شادى کے تعلق سے کافى اَحکامات اوربے شمار مَدَنى پُھول لکھے ہىں اس کا مُطالعہ کیجیے اور اس موضوع پر نگرانِ شُوریٰ نے بھی کافی بیانات کیے ہیں وہ بھی سنے جا سکتے ہیں۔([2])
کھجور سے سحری کرنے کے طبی فوائد
سُوال : کھجور سے سحری کرنے کے طبی فوائد کیا ہیں؟([3])
جواب : سحری میں صِرف کھجور کھانے سے کچھ نہ کچھ پىٹ کى صفائى اور صحت کى بحالی ہو جاتى ہے ورنہ جو مُعْتَکِف تىل مصالحے والے کھانے کھاتے ہىں وہ بعض اوقات بىمار پڑ جاتے ہىں کىونکہ ایک تو زىادہ کھا لىتے ہىں اور پھر دَورانِ اِعتکاف مسجد مىں محنت اور بھاگ دوڑ نہیں ہو پاتی تو ىوں بىمار پڑنے کا چانس زىادہ ہوتا ہے ۔ نیز بیمار پڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اِعتکاف میں سونے کے وقت شور شرابا بھی ہوتا ہو گا اور باہر سے بھی شور کی آوازیں آتی ہوں گی تو اس طرح دَورانِ اِعتکاف وہ نیند نہیں آتی جو گھر میں بند کمرے میں آتی ہے ۔ہمارے یہاں رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں رات جاگنے کا زیادہ رُجحان ہوتا ہے اِس لیے ہمارا مَدَنى مذاکرہ بھى تقرىباً رات ڈھائى بجے تک جاری رہتا ہے اور کبھی کبھار تو اس سے بھی زیادہ وقت ہو جاتا ہے ۔ اگر مَدَنی مذاکرہ ختم کر کے مُعْتَکِف اسلامی بھائیوں کو جلدى چھوڑ دیا جائے تو یہ سو جائیں گے اور پھر انہیں صبح اُٹھنے میں آزمائش ہو سکتی ہے اس لیےہم مَدَنی مذاکرہ ڈھائى یا پونے تىن بجے ختم کرتے ہیں اور پھر وُضو وغیرہ کے لیے تھوڑا سا وقت دیتے ہیں اور پھر اس کےبعد صلوٰۃُ التسبیح پڑھی جاتی ہے ، پھر سحری کی جاتی ہے ، پھر نمازِ فجر کے بعد نگرانِ شُوریٰ کا بیان ہوتا ہے اور پھر اِشراق و چاشت پڑھنے کے بعد مُعْتَکِفِیْن کو سونے کا وقفہ ملتا ہے ۔
بیان میں مشکل اُردو کے بجائے آسان اور انگلش اَلفاظ بھی بولے جائیں
سُوال : اس وقت نوجوان نسل کو بہت سی چیزوں کو اُردو میں کیا کہتے ہیں یہ پتا نہیں ہوتا جیسا کہ اگر ہم کھیرا ، گاجر ، بىنگن، مولی اور پیاز بولىں تو ملک و بىرون ملک مىں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو ان چیزوں کو انگلش ناموں کے ساتھ ہی جانتا ہےتو کیا مُبَلِّغِیْن کو بیان وغیرہ کرتے ہوئے نوجوان نسل کا بھی خیال رکھنا ہو گا؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : ہم بڑے بوڑھے پیاز کو میمنی زبان میں ڈونگڑى بولتے ہىں مگر ہمارى نئی نسل ڈونگڑى نہیں سمجھ پائے گی۔اسی طرح لوگ یکم کو بھی نہیں سمجھتے بلکہ اب تو اىک دو تىن والى گنتى بھى پىچھے ہٹتى جا رہى ہے اور بچے One ,Two ,Three بولتے ہىں تو ہمیں بچوں کو بھى سمجھانا ہے اِس لىے بچوں کى زبان کا بھى لحاظ رکھنا پڑے گااور ہم اىسے اَلفاظ اِستعمال کریں کہ بچے بھى ہماری بات سمجھ سکىں۔ہم پُرانے لوگ ہىں اور ہم نے انگرىزى نہ ہونے کے برابر پڑھی ہےاور پہلے یہ بھی پتا نہىں تھا کہ دِىن کى خدمت کا شُعبہ ملے گا اور نئی نسل کو انگلش مىں سمجھانا پڑے گاتو اب کىا کىا جا سکتا ہے۔ نگرانِ شُوریٰ نے انگریزی پڑھی ہوئی ہے اور مَاشَآءَ اللہ مُبَلِّغِیْن کی ایک تعداد ہے جو انگلش جانتی ہے مگریہ بیان وغیرہ میں مشکل اُردو بول رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے ىہاں کتابوں مىں
[1] ابنِ خزیمة، کتاب الصیام، باب فضائل شھررمضان ان صح الخبر، ۳/ ۱۹۱، حدیث : ۱۸۸۷المکتب الاسلامی بیروت
[2] اس موضوع پر نگرانِ شُوریٰ کے بیانات کا خلاصہ بنام”اِسلام اور شادی “دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ نے شائع کیا ہے اس کا مُطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[3] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع