30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سِوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اِس لیے اسے مُنَزَّ ل مِنَ اللہ کی طرح پڑھنا نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ قرآن پڑھنا ہی نہیں کہلائےگا کہ بالکل ہی تبدیل ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والوں پر قرآنِ کریم لعنت کرتا ہے۔ ممکن ہے بعضوں کو میری باتیں چبھتی ہوں اور چبھنی بھی چاہئیں تاکہ توبہ کی توفیق نصیب ہو ۔ تیز رفتاری سے قرآنِ پاک پڑھنے والے کیوں عوام کو بے وقوف بناتے ہیں کہ ہم قرآنِ پاک سُنا رہے ہیں؟ جوآپ پڑھتے ہیں بے چارے بھولے بھالے مسلمان اسے قرآن اور آپ کو نىک آدمى سمجھ رہے ہوتے ہىں حالانکہ بعض اوقات تیز پڑھنا گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اگر کوئى تجوىد کے قواعد کے ساتھ دُرُست قرآن پڑھے تو تَراویح میں بہت دىر لگتى ہے لىکن ہمارے ىہاں تو آپس میں مُقابلے ہوتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمارے یہاں تو 35 منٹ میں تَراویح ختم ہو جاتی ہے اور کوئی کہتا ہے کہ ہمارے قارى صاحب تو خىبر مىل([1]) کى طرح تیزی سے جا رہے ہوتے ہىں اور 25 منٹ مىں تَراویح ختم کر دىتے ہىں۔ یاد رہے ! روزہ اور قرآن بندے کے لىے قىامت کے دِن شفاعت کرىں گے ، روزہ عرض کرے گا : اے رَبِّ کرىم! مىں نے کھانے اور خواہشوں سے دِن مىں اسے روک دىا مىرى شفاعت اس کے حق مىں قبول فرما۔ قرآن کہے گا کہ مىں نے رات کو اسے سونے سے باز رکھا مىرى شفاعت اس کے حق مىں قبول فرما۔ بس دونوں کى شفاعتىں قبول ہوں گى۔ ([2]) اگر روزے اور قرآن کى شفاعت چاہیےتو ان کا اِحترام کرنا ہو گا اور قرآن کو صحىح پڑھنا ہو گا۔
سُبْحٰنَ اللہ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ، اِنْ شَآءَ اللہ اور مَاشَآءَ اللہ! کا دُرُست تلفظ
عامبول چال میں بھی تیزرفتاری کی وجہ سے حُروف چبائے جاتے ہیں جىسا کہ عام طور پر لوگ سُبْحٰنَ اللہ کو سُبَانَ اللہ کہہ کر “ ح “ کو چبا جاتے ہیں۔ اِسی طرح عام لوگوں کو نہ تو دُرُست طریقے سے “ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم “ اور کلمہ شریف پڑھنا آتا ہے اور نہ ہی مَاشَآءَ اللہ ، اِنْ شَآءَ اللہ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا آتا ہے۔ عموماً لوگ اِنْ شَآءَ اللہ کو اِنْ شَا اللہ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ کو اَلَمْدُلِلّٰہ کہتے ہیں مثلاً اِنْ شَا اللہ میں آتا ہوں یا اَلَمْدُلِلّٰہطبیعت اچھی ہے حالانکہ میں مَدَنی مذاکروں وغیرہ میں یہ کلمات کہنا کئی مَرتبہ سکھا چکا ہوں مگر پھر بھی صحیح نہیں کہتے کیونکہ غَلَط کہنے کی عادت پڑی ہوتی ہے۔ یونہی بہت سے لوگ قرآن کو قران کہتے ہیں۔
مل کر بلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھنا کیسا؟
سُوال : چند لوگوں کا مل کر مسجد میں بلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھنا کیسا ہے ؟([3])
جواب : چند لوگ مل کر مسجد میں بلند آواز سےقرآنِ پاک پڑھ رہے ہوتے ہیں یہ طریقہ غَلَط اور ناجائز ہے۔ ([4])البتہ اگر اىک آدمی اس لیے بلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھ رہا ہے کہ دو چار آدمى دور بىٹھے سُن رہے ہىں اور اس کی آواز سے نمازی ىا دِیگر قرآنِ پاک پڑھنے والوں کو تکلیف نہىں ہو رہی یعنی اُن تک ایسی آواز نہیں جا رہى کہ جسے سمجھا جا سکے تو یہ طریقہ صحىح ہے۔ بعض لوگ مسجد کی پہلی صَف میں لائن میں بیٹھ کر زور زور سے تلاوت کر رہے ہوتے ہیں بِالْخُصُوْص رَمَضان میں ایسا ہوتا ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اِسى طرح ہمارےیہاں تیجے اور چہلم میں یا ویسے ہی لوگ رَمَضان میں ختمِ قرآن کرواتے ہیں جو کہ اچھا کام ہے لیکن اس میں سب مل کر زور زور سے پڑھ رہے ہوتے ہىں یہ دُرُست نہیں ، انہیں چاہیے کہ اتنى آواز سے پڑھیں کہ خود سنىں دوسرے کو آواز نہ جائے البتہ اگر کوئی اىک پڑھتا ہے اور سب توجہ سے سنتے ہىں تو یہ ٹھىک ہے ۔ بعض لوگ دوسروں کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ میں نے اِعتکاف میں تین قرآن ختم کیے ، میں نے پانچ قرآن ختم کیے لیکن صحىح بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کو دُرُست طریقے سے سورۂ فاتحہ ، سورۂ اِخلاص بلکہ اَعُوْذُ بِاللہاوربِسْمِ اللہ پڑھنا بھی نہیں آتی مگر وہ پانچ مَرتبہ قرآن ختم کرنے کے ڈنکے بجا رہے ہوتے ہیں۔ ایسوں کو چاہیے کہ وہ بھلے پورے رَمَضَان مىں اىک مَرتبہ پورا قرآنِ کرىم ختم کرىں یا پھر آدھا یا دس پارے پڑھیں مگر دُرُست مخارج کے ساتھ پڑھیں۔ اگر قرآنِ پاک صحیح مخارج کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا تو سیکھنا ضَروری ہے ۔ آج کل لوگوں کو سب کچھ آتا ہے مگر قرآنِ پاک صحیح پڑھنا نہیں آتا ۔ خُدا کی قسم!یہ بڑی محرومی اور بَدنصیبی کی بات ہے ! اُردو آتى ہے ، انگلش بہت اچھى آتى ہے یہاں تک کہ بعض لوگ فخرىہ کہتے ہوں گے کہ اُردو سے مىرى انگرىزى اچھى ہے مگر ایسوں کو قرآنِ پاک دىکھ کر بھى پڑھنا نہىں آتا اور وہ پڑھے لکھے بھی کہلاتے ہیں حالانکہ ایسے لوگ کس طرح پڑھے لکھے کہلائے جا سکتے ہیں ؟یاد رَکھیے!آپ نے MA ، BA یا MBBS بھی کر لىا تو یہ ڈگریاں آخرت میں کچھ کام نہ آئیں گی البتہ اگر قرآن ِکرىم صحىح پڑھنا جانتے ہوں گے تو ىہ کام آئے گا۔
پیارے پیارے اسلامى بھائىو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہعاشقانِ رَسُول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہ بَرائے بالغان کے نام سے ہزاروں مَدارس قائم ہیں اور عام طور پر یہ عشا کے بعد علاقوں کی مَساجد میں لگائے جاتے ہیں۔ اِن میں دُعائیں ، طہارت اور نماز وغیرہ کے اَحکام سکھائے جاتے ہیں لہٰذا آپ اِن میں داخِلہ لیجئے۔ مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہ بَرائے بالِغان پڑھنے میں کوئی پیسا نہیں لگتا جبکہ انگلش یا کوئى زبان سىکھنى ہو تو کوچنگ سىنٹر جانا پڑتا ہے ، رَٹے لگانے پڑتے ہیں ، پىسے دىنے پڑتے ہىں اور اس کے لیے لوگ بے چارے کىا کىا کرتے ہیں لیکن قرآنِ کریم مُفت پڑھاؤ تب بھى پڑھنے کے لیے نہیں آتے اور کہتےہیں کہ ہمیں ىاد نہىں ہوتا اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو اِس اَنداز سے کہ قاعدہ پڑھا اور پھر اُسے وہیں رکھ دیا اور دوسرے دِن آکر کھولا تو اِس طرح کہاں سے ىاد ہو گا؟دُنیوی عُلُوم میں سے بہت کچھ یاد کر لیتے ہیں مگر قرآنِ کرىم کو مخارج کے ساتھ پڑھنے سے قاصِر ہوتے ہیں۔ جب دُنیوی عُلُوم سیکھنے کےلیے آپ کوشش کرتے ہیں تو قرآنِ پاک مخارج کے ساتھ پڑھنے کے لیے بھی کوشش کرنا پڑےگی۔ بعض لوگ عُذر بناتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہىں مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہے لیکن پڑھنے کا جَذبہ نہىں ، اللہ پاک جَذبہ نصىب فرمائے۔
[1] خیبر میل ریلوے کی ایک ٹرین کا نام ہے جو بابُ المدینہ( کراچی) سے پشاور تیز رفتاری سے چلتی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[2] مسند امام احمد ، مسند عبداللّٰه بن عمرو بن العاص ، ۲ / ۵۸۶ ، حدیث : ۶۶۳۷ دار الفکر بیروت
[3] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[4] بہارِشریعت ، ۱ / ۵۵۲ ، حصہ : ۳ ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع