دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Ab Sharafat Ka Zamana Nahi Raha | کیااب شرافت کازمانہ نھیں رھا؟

book_icon
کیااب شرافت کازمانہ نھیں رھا؟

سُوال : اگر کسی نے رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا روزہ بغىر کسى وجہ کے  چھوڑ دیا تو کیا اس کے لیے افطارى  کرنا ثوا ب کا کام ہے ؟

جواب : جو روزہ رکھے اس کے لیے سحری اور افطاری ہوتی ہے اور  جو روزہ نہىں رکھتا اگر وہ سحرى کے وقت سب کے ساتھ کھا لىتا ہے تو اس کى سحرى کى سنَّت ادا نہیں ہو گی اور نہ اُسے اس کا ثواب ملے گا۔ اِسی طرح اگر کسى نے مَعَاذَ اللّٰہ جان بوجھ کر روزہ نہىں رکھاتو وہ سخت گناہ گارہے ، اب اگر وہ گھر میں  اِفطار کرنے والوں کے ساتھ اپنے حصے کا کھانا کھا لىتا ہے تو یہ نہ گناہ کا کام ہے اور نہ ثواب کا البتہ روزہ نہ رکھنے کا گناہ اس کے سر پر موجود ہے لہٰذا وہ  توبہ بھی کرےاور اس روزے کی قضا بھی کرے۔ ([1])

اسلامى بہنیں نمازِ تَراویح کى جگہ قضا نمازیں نہیں پڑھ سکتیں

سُوال : کیا  اسلامى بہنىں نمازِ تَراوىح کى جگہ اپنى قضا نمازىں پڑھ سکتى ہىں ىا انہیں تَراوىح ہی  پڑھنى ہو گى؟

جواب : اسلامى بہنىں نمازِ تَراوىح کى جگہ قضا نمازیں نہیں پڑھ سکتیں انہیں تَراویح ہی پڑھنی ہو گی کہ “ یہ سنَّتِ مُؤکَّدہ ہے۔ “ ([2])

کیا ختمِ قرآن کے بعد بھی تَراویح پڑھنا ہو گی ؟

سُوال : ہمارے ىہاںرَمَضَانُ الْمُبَارَک کى آمد پر کہیں تىن روزہ ، کہیں10روزہ اور کہیں15 روزہ نمازِ تَراویح میں  ختم ِقرآن کا سلسلہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی بڑى تعداد ان مقامات پر نمازِ تَراوىح ادا کرتى ہے اور پھر ختم ِ قرآن کے بعد  تَراویح پڑھنا چھوڑ دیتی ہے ، کیا ان کا ایسا کرنا دُرُست ہے ؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : جب رَمَضَان شرىف کا چاند نظر آئے تو یہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک کی پہلى رات ہے اس رات سے لے کر آخری رات تک روزانہ تَراویح پڑھنا سنَّتِ مؤکدہ ہے۔ اب اگرکسی کو یہ غَلَط فہمی ہے کہ تىن ىا چھ روزہ تَراویح مىں قرآنِ پاک  ختم کر لىنے سے بقیہ دِنوں کی تَراوىح مُعاف ہو جائے گى تو اىسا نہىں ہے ، رَمَضان شریف کی 29 راتیں ہوں  یا 30 سب میں تَراوىح پڑھنى ہو گی ۔

مَساجد قریب ہوتے ہوئے بنگلوں اور پارکوں وغیرہ میں نمازِ عشا پڑھنا کیسا؟

سُوال : آج کل رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں بنگلوں اور پارکوں وغیرہ میں تَراویح کا اِہتمام کیا جاتا ہے جہاں لوگ تَراویح کے ساتھ ساتھ نمازِعشا بھی با جماعت ادا کر رہے ہوتے ہىں حالانکہ وہاں قرىب مىں اہلسنَّت کى مَساجد  ہوتى ہیں اور اُن پر مسجد کی جماعت واجب ہوتی ہے تو اِس حوالے سے راہ نمائی فرما دیجیے ۔ (مفتی صاحب کاسُوال)

جواب : میرے آقا اعلىٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فتاوىٰ رضوىہ شرىف مىں اس بات  پر دَلائل دىئے ہیں کہ مسجدِ محلہ کى جماعت واجب ہے۔ ([3])لہٰذا اگر کسی نے اپنے بنگلے ، کوٹھی یا پارک میں تَراویح قائم کرنی ہے اور وہاں قریب میں اہلسنَّت کی کوئی مسجد بھی ہے اور کوئی اىسا مسئلہ بھی نہىں ہے کہ جس کے باعِث جماعت سے نماز نہ پڑھى جا سکے تو  اب وہاں جماعت سے عشا کے فرض پڑھ لىے جائىں اور اس کے بعد بنگلے ، کوٹھی اور  پارک مىں جا  کر تَراوىح پڑھی جائے ۔ یاد رَکھیے! مسجدِ محلہ کی جماعت واجب ہے لہٰذا اگر کوئی مسجدِ محلہ کی جماعت واجب ہونے کے باوجود  تَرک کرے گا تو اس کا واجب چُھوٹے  گا اور وہ گنہگار ہو گا۔   

پانچ روزہ ، چھ روزہ اور 10 روزہ تَراویح میں ختمِ قرآن کرنا کیسا؟

سُوال : پانچ روزہ ، چھ روزہ اور 10روزہ تَراویح مىں ختم  قرآنِ کا سلسلہ کرنا کیسا ہے ؟

جواب : تىن دِن یا چھ دِن کی  تَراوىح میں جو ختمِ قرآن کیا جاتا ہےاِس حوالے سے ہم  ہر سال سمجھاتے ہىں  لىکن پھر بھی  لوگوں کا رَسمِ تَراوىح ادا کرنے کا رُجحان بنا ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ  ہر جگہ تَراویح غَلَط ہوتى ہے “ مگر عام طور پر تین روزہ اور چھ روزہ تَراویح میں حفاظ اتنى تیز رفتاری سے قرآنِ پاک پڑھتے ہىں کہ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے عِلاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اب اگر کوئی حافظ تیز رفتاری میں  اىک حَرف بھی  چبا گىا تو ختم ِقرآن کى سنَّت اَدا نہىں ہو گی۔ اگر حَرف چبنے سے معنیٰ فاسِد ہوئے تو وہ دو رَکعت تَراوىح بھی ادا نہ ہو گی۔ “ ([4]) اور اسے  دوبارہ پڑھنا واجب ہو جائے گا لیکن حفاظ اتنی تیزی سے پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ  کئى حُروف غائِب ہو جاتے ہىں ۔ جن حفاظ  نے تیز  تیز پڑھ کر حفظ کیا ہوتا ہے وہ اب تَراویح  میں آہستہ پڑھنا چاہىں تو نہیں پڑھ سکتے اور بھول جاتے ہیں اِس لىے جو بھى تَراوىح پڑھاتے ہىں انہیں  پہلے یہ غور کر لىنا چاہیے  کہ انہوں نے حفظ کس اَنداز سے کىا ہے؟  اگر کسى اىسے مدرسے  مىں حفظ کىا جہاں تیز تیز پڑھاتے ہىں اوران کا خود اپنا ضمىر زندہ ہے اور ىہ تسلیم کرتا ہے کہ واقعی قرآنِ پاک پڑھتے ہوئے حُروف چَب جاتے ہیں تو وہ تَراویح نہ پڑھائیں۔ تَراویح میں  کوئى جلد بازى نہىں ہوتی کہ تیز پڑھا جائے ، نہ ہی آہستہ پڑھنے سے حفاظ کی کوئی  گاڑى چُھوٹ رہی ہوتی ہے اور نہ اُن کےنَذرانے میں کوئى کمى واقع ہو رہی ہوتی ہے اِس کے باوجود حفاظ تىز رفتاری سے قرآنِ پاک پڑھتے ہىں۔ غَلَطی پر جب سامِع ان کو ٹوکتا ہوگا تو یہ اس سے بھی لڑپڑتے ہوں گے کیونکہ ٹوکنے سے رفتار مُتأثر ہوتی ہے۔ آج کل تیز پڑھنے والے حفاظ کی  واہ وا ہوتى ہے کہ  کىا حافظ صاحب ہىں!کىا ہی تیز قرآن پڑھتے ہىں!اب اگر کوئى بے چارہ دُرُست طریقے سے  قرآنِ پاک  پڑھے تو اس کے پىچھے لوگ تَراویح پڑھنے کے لیے تیار نہىں ہوتے کہ حافظ صاحب وقت  بہت زیادہ لىتے ہىں۔

قرآنِ پاک تیز پڑھ کر حُروف چبانے کا حکمِ شرعی

سُوال : قرآنِ پاک کو اتنی تیز رفتاری سے پڑھنا   کہ حُروف چَب جائیں ، کیا حکم رکھتا ہے؟ ([5])

جواب : قرآنِ کرىم بالکل اِس طرح پڑھنا چاہیے جیسا  مُنَزَّ ل مِنَ اللہ یعنیاللہ پاک کى طرف سے نازل کىا گىا “ ہے مگر آج  کل مارا مارى اور  بھاگم بھاگ کے اَنداز پر قرآنِ پاک پڑھا جاتا ہے اور



[1]    البتہ ایسا شخص عوامی افطاری والی جگہوں پر افطاری نہیں کر سکتا کیونکہ وہ روزے داروں کے لیے  ہوتی ہیں۔

[2]    درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر و النوافل ، ۲ / ۵۹۶-۵۹۷

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۷ / ۱۹۴ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[4]    فتاویٰ رضویہ ، ۷ / ۴۸۰ ماخوذاً

[5]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن