دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kia Ab Sharafat Ka Zamana Nahi Raha | کیااب شرافت کازمانہ نھیں رھا؟

book_icon
کیااب شرافت کازمانہ نھیں رھا؟

غىرت ، بے ضمىر ، گناہوں پر دَلىر ، بے نمازى ، جھوٹ غىبت کى کثرت کرنے والے اور  لوگوں پر ظلم کرنے والوں کى صحبت اپنائی تو ضمىر زندہ ہونے کے بجائے مَرجائے گا اور اگر پہلے سے مُردہ تھا تو اب مزید سڑ جائے گا ىوں سمجھیں کہ مزىد گہرى کھائى مىں جا گرے گا لہٰذا صحبت ہمىشہ اچھى ہونی چاہىے کہ اَلصُّحْبَۃُ مُؤَثِّرَۃٌ یعنی صحبت اثر رکھتى ہے۔    

صُحْبَتِ صَالِح تُرا صَالِح کُنَد                                                                                         صُحْبَتِ طَالِح تُرا طَالِح کُنَد

 “ یعنى اچھے کى صحبت تجھے اچھا بنا دے گى اور بُرے کى صحبت تجھے بُرا  بنا دے گی۔ “ اللہ پاک عاشقانِ رَسُول کى صحبت  نصىب فرمائے۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

دُکان پر یا رات میں ناخن کاٹنا کیسا؟

سُوال : کىا ىہ دُرُست ہے کہ دُکان ىا کاروبارى جگہ پر ناخن کاٹنے سے نحوست ہوتى ہے؟نیز کىا رات میں  ناخن کاٹ سکتے ہىں؟(Facebook کے ذَریعے سُوال)

جواب : ناخن کاٹنا نحوست کا کام نہىں بلکہ اَدائے سُنَّت اور حکمِ شریعت پر عمل کی نیت سے کاٹیں گے تو  ثواب بھی ملے گا۔ اگر ناخن کاٹنے کے سبب دُکان مىں نحوست آتی ہوتی تو پھر گھر مىں بھی نہ کاٹے جائیں کہ وہاں بھی نحوست ہو گی۔ بہرحال ناخن کاٹنا نحوست کا سبب نہیں  بلکہ 40 دن کے اندر ناخن کاٹنا سُنَّت ہے۔ اگر 40 دن سے زىادہ ہوگئے اور اب تک ناخن نہىں کاٹے تو بندہ گناہ گار ہو گا۔ نیز  رات میں بھى  ناخن کاٹنا جائز ہے ۔ عوام میں یہ غَلَط مشہور ہےکہ رات میں ناخن کاٹنا منع ہے۔

زیادہ ہنسنے سے دِل مُردہ ہوتا ہے

سُوال : زىادہ ہنسنے سے کىا ہوتا ہے؟

جواب : زىادہ ہنسنے سے دِل مُردہ ہوتا ہے۔ ([1])بعض لوگ ہنسنے مىں زور زور سے آوازیں نکالتے ہیں تو  ىہ ہنسی نہیں بلکہ قہقہہ اور ٹھٹھہ مار کر ہنسنا کہلاتا ہے۔ صرف ہنسنا (کہ آواز اپنے تک رہےاسے) ضحک بولتے ہىں اور اس کی کثرت سے بھی دِل مُردہ ہو جاتا ہے۔ صِرف مسکرانا تَبَسُّم کہلاتا ہے  اگر کوئی زیادہ مسکراتا ہے تو اس سے دِل مُردہ  نہىں ہوتا ۔

مُلازمت کے تبادلے کا وَظیفہ

سُوال : میری مُلازمت  گھر سے دور ہے ، ایسا کوئی وَظیفہ بتا دیجیے کہ گھر سے قریب تبادَلہ ہو جائے؟ (Youtube کے ذَریعے سُوال)

جواب : ظہر کى نماز کے بعد11ىا 21ىا 41 بار سُوْرَۃُ اللَّھَب ہر بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ساتھ پڑھیے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ حَسبِ خواہش تبادَلہ ہو جائے گا۔ ىہ وَظیفہ مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کے رِسالے “ چڑىا اور اندھا سانپ “ مىں موجود ہے ۔ ([2])

مَرد کے لیےگولڈن رنگ کی عینک ، گھڑی یا گاڑی کا اِستعمال

سُوال : کيا  مَرد گولڈن رنگ کى عىنک ، گھڑى ىا گاڑى اِستعمال کر سکتا ہے؟(Youtube کے ذَریعے سُوال)

جواب : گولڈن رنگ کى عىنک ، گھڑى ىا گاڑى اِستعمال کرنا زینت ہے لیکن یہ وہ زىنت ہے جو جائز ہوتی ہے ۔ عُلَمائے کِرام  بھى گولڈن کلر کی بعض چیزیں پہنتے ہىں البتہ Gold یعنی سونے کى چىن وغیرہ مَرد کو پہننا جائز نہىں ۔ ([3])

بچوں کو مارنے سے ساس بہو میں جھگڑا

سُوال : عورتىں اپنےبچوں کو چھوٹى چھوٹى باتوں پر مارتى ہىں جس کى وجہ سے ساس اور بہو کا جھگڑا ہو جاتا ہے ، اِس کا حل اِرشاد فرما دیجئے۔

جواب : بچوں کو  مارنے سے مَسائل ہوتے ہىں اور بارہا اىسا ہوتا ہے کہ مارنے میں شرىعت کى حَدىں ٹوٹ جاتى ہىں اور مارنے والا ظلم کى حَد مىں داخِل ہوکر ظالِم اور گناہ گار قرار پاتا ہے۔ اگر  ماں بھى اولاد پر ظلم کرے گى تو وہ آخرت مىں پھنسے گى ۔ یوں ہی باپ کو بھی اِجازت نہیں کہ وہ جس طرح چاہے بچوں کو مار مار کر توڑ پھوڑ ڈالے۔ پھر بات بات پر مارنا ىا جھاڑنا دُنىوى اِعتبار سے بھى نقصان دہ ہے کہ اِس کی وجہ سے بچہ ڈھىٹ ہو جائے گا اور اس کے دِل مىں آپ کى نفرت بىٹھ جائے گى پھر ىہ بڑا ہو کر آپ سے اِنتقام  لے سکتا ہے ۔ اللہ  پاک ہمىں حق و اِنصاف نصىب فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم    

بچے کو مارنے پر شدید چوٹ یا قانونی مَسائل ہو سکتے ہیں

سُوال : بعض اوقات مارنے والے کو اِس بات کا اِحساس نہىں ہوتا کہ مىرا ہاتھ کتنا وزن دار ہے جس کے لگنے سے بچے کو کتنى تکلىف پہنچ سکتی ہے ، کئى مَرتبہ اىسا بھى دىکھنے سننے کو ملتا ہے کہ جوش مىں آ کر ایسا ہاتھ مار دىا کہ بچے کا سانس رُک گیا ۔ اس حوالے سےکچھ بیان فرما دیجیے۔ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : میرا مشورہ ىہى ہے کہ بچے کو مارنے کے بجائے  ڈرا کر کام چلانا چاہىے۔ اب توHuman Right (اِنسانی حقوق) کے قوانین کے تحت بچوں کو مارنے پر قانونى کاروائىاں بھی ہو رہى ہىں۔ اىسا مارنا جس کو وحشیانہ مار کہتے ہىں اپنى ڈکشنرى سے نکال دىنے میں ہی عافىت ہے ۔ اُستاد بھى ڈانٹ ڈپٹ سے ہى گزارا کرے ۔ بعض اوقات مارنے سے مَسائل کھڑے ہو جاتے ہىں مثلاً خاندان والے آکر اِنتقام لیتے ہیں ، مارا مارى ہوتی ہے اور پولىس کىس بھی بن جاتے ہیں لہٰذا اُستاد ڈرانے دَھمکانے کى حَد تک سختی کرے اور تَربیت کے لیے مار کے بجائے پىار سے کام لے۔ یاد ر ہے کہ سُدھار کے لیے پىار زىادہ دىنا ہوتا ہے۔ (نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : )سامنے چاہے اَولاد ہو یا  شاگرد ىا کوئى کمزور آدمى جب غصہ آتا ہے تو بندہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور جب غصّہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو وہ بہت بڑا نقصان کر چُکا ہوتا ہے۔ بعض لوگ غصے میں بىوى کو اتنا مارتے ہىں اتنا مارتے ہىں کہ اللہ کى پناہ۔ بعض اوقات عورتوں کے ساتھ ایسا ظلم کرتے ہیں جسے سُن کر بندے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہىں۔ لوگوں



[1]     ابن ماجه ، کتاب الزھد ، باب الحزن والبکاء ، ۴ / ۴۶۵ ، حدیث : ۴۱۹۳ 

[2]     یہ رِسالہ امیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ محمد الیاس قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اپنا تحریر کردہ ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)   

[3]    درمختار ، کتاب الحضر و الاباحة ، باب الوتر و النوافل ، فصل فی اللبس ، ۹ / ۵۹۲  ماخوذاً  دار المعرفة  بیروت 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن