30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درخواست ہے کہ بچّے کو کسی بھی نئے شخض کے حوالے نہ کریں ، آپ کو Regular (یعنی مستقل آنے والی) Vansکی پہچان ہونی چاہیے۔ بعض اَوقات گھر کے مُلازِمین وغیرہ بھی اِس طرح کی چیزوں میں مُلوّث پائے جاتے ہیں جو اِطلاع دے رہے ہوتے ہیں کہ ’’بچّہ یُوں آتا ہے اور یُو ں جاتا ہے‘‘ وغیرہ۔ (2)والدین سے یہ درخواست کروں گا کہ آپ کے مُلازِمین ، چاہے ڈرائیورہوں ، مالی ہوں ، چوکیدار ہوں یا ماسی وغیرہ ہوں اُن سب کے شناختی کارڈ کی کاپی اور اُن کے نمبرز آپ کے پاس مَحفوظ ہونے چاہئیں ، کیونکہ بعض اَوقات جب مسائل ہوتے ہیں تو اِن کا کوئی اَتا پتا ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ اِسی طرح آپ کو بچّے کی ٹرانسپورٹ چاہے وہ Suzuki والا ہو یا Van والا ہو ، اُن کی بھی پُوری معلومات ہونی چاہیے اور اُن کی گاڑی کا نمبر بھی پتا ہونا چاہیے ، کیونکہ ہر تعلیمی اِدارہ ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں دیتا ، پرائیویٹ اِسکولوں والے کہہ دیتے ہیں کہ ’’آپ اِن سے بات کرلیں ، یہ اِس اِسکول کے بچّوں کو لاتے لے جاتے ہیں۔ ‘‘ اِس لئے معلومات ہونا ضروری ہے۔ (3) اپنے قریبی تھانے کا نمبر لازمی کسی نُمایاں مقام پر لکھئے کہ ’’مجھے ایمرجنسی میں اِس نمبر پر فون کرنا ہے۔ ‘‘ (4)یُوں ہی ایڈوانس میں 2 ، 3 بیلنس کارڈز اپنے پاس رکھیں ، کیونکہ بعض اَوقات جب ایمرجنسی ہوتی ہے اور بیلنس نہیں ہوتا تو اِنسان کو پچھتاوا ہوتا ہے۔
نَماز میں آگے یا پیچھے سے کپڑا اُٹھانا کیسا؟
سُوال : بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نَماز کے دوران رُکوع یا سجدے سے اُٹھتے ہوئے قمیص کو پیچھے سے ہٹاتے اور دُرُست کرتے ہیں۔ اِس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب : بہارِ شرىعت مىں نماز کے دوران کپڑا آگے ىا پىچھے سے اُٹھا نا مکروہِ تحرىمى لکھا ہے۔ ([1]) البتہ اگر کوئی وجہ ہو ، جیسے بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں جو چپک جاتے ہیں تو ضرورتاً کپڑا چُھڑانےمیں حَرج نہیں ہے۔ (2) بعض لوگ اَلتَّحِیّات یا دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے وقت بھی قمیص کا ایک کونا ہاتھ سے ٹھیک کرتے ہیں ، حالانکہ اِس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نَماز میں ایسی غیر ضروری حَرکتیں نہ کی جائیں۔ اگر ایسی حَرکتوں کی عادت ہے تو یہ ایک بار سُننے سے نہیں جائے گی ، بلکہ اِسے Serious (یعنی سنجیدگی سے) لینا پڑے گا اور کسی اِسلامی بھائی کی بھی ڈِیوٹی لگانی پڑے گی کہ ’’یار کبھی نَماز میں میری کوئی ایسی حَرکت دیکھو تو مجھے بتانا۔ ‘‘ ایسا کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ عادت ختم ہوجائے گی۔
اِنتِقال کے بعد چہرے پر مسکراہٹ
سُوال : اس طرح کى جو کىفىات سامنے آتى ہىں ، ان سے ہمیں کىا مدنى پھول حاصل کرنے چاہئیں؟ (مدرسۃ المدینہ جامع مسجد لطیف آباد نمبر 5 کے مُدرِّس قاری محمد آصف عطاری کے جنازے کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں ان کے چہرے پر واضح مسکراہٹ نظر آرہی تھی ، پھر یہ سُوال کیا گیا)
جواب : واقعی واضح نظر آرہا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ یہ اللہ پاک کا اِنعام ہے۔ ایک رُباعی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’جب تو دُنیا میں آیا تھا تو رو رہا تھا ، جبکہ لوگ ہنس رہے تھے۔ اب دُنیا سے اِس طرح جا کہ لوگ رورہے ہوں ، جبکہ تو ہنس رہا ہو۔ ‘‘ مَاشَآءَ اللہ اِن کا چہرہ بتارہا ہے کہ یہ دُنیا سے مسکراتے ہوئے جارہے ہیں۔ کئی بزرگوں کے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ اِنتِقال کے وقت اُن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ، جیسے حضور مفتیٔ اَعظم ہِند مولانا مصطفےٰ رَضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ، جب آپ کا اِنتِقال ہوا تو آپ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔ یہ نیک بندو ں پر اللہ پاک کا کَرَم ہوتا ہے۔ اللہ کریم چہرہ بگڑنے سے بچائے۔ مَرتے وقت چہرہ بگڑ جائے تو بڑى عبرت ہوتى ہے۔ میں نے بعض لوگوں کے بگڑے چہرے دیکھے ہیں۔ اللہ کرىم سے عافىت کا سُوال ہے۔
***
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف / مؤلف / متوفیٰ مطبوعات
تفسیر طبری ابو جعفر محمد بن جریر طبری ، متوفی ۳۱۰ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۰ھ
تفسیر خازن علی بن محمد ابراہیم ، متوفی۷۴۱ھ دار الکتب العربية الکبریٰ
تفسیرصراط الجنان ابو صالح مفتی محمد قاسم عطاری مدنی مکتبۃ المدینہ کراچی
بخاری امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری ، متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری النیسابوری ، متوفی۲۶۱ھ دار الکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ابو داؤد امام ابو داود سلیمان بن الاشعث الازدی سجستانی ، متوفی ۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۲۱ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ، متوفی۲۷۹ھ دار الفکربیروت۱۴۱۴ھ
معجم کبیر ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی ، متوفی۳۶۰ھ دار إحیاء التراث العربی۱۴۲۲ھ
شعب الایمان ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی ، متوفی ۴۵۸ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ
الزھد الکبیر للبیھقی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی ، متوفی۴۵۸ھ مؤسسة الکتب الثقافیة بیروت
حلیۃ الاولیاء ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصفہانی ، متوفی۴۳۰ھ دار الکتب العلمية بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع