30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ، یا نُور ِاِیمان ، یعنی اِن گُناہوں کے وقت مُجرم سے نُور ِاِیمان نکل جاتا ہے۔ ‘‘ ([1]) کتنا خطرناک مُعامَلہ ہے!
(2)بُخاری شریف میں ہے : ’’حضرتِ سَیِّدُنا سَمُرہ بن جُندُب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مَرتبہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے نَماز پڑھانے کے بعد ہماری جانب متوجّہ ہو کر فرمایا : آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور مجھے زمین ِمقدّس کی طرف لے گئے ۔ ہم ایک تَنُور کی مثل گڑھے کے پاس پہنچے ، جس کا اُوپر کا حصّہ تنگ اور نیچے سے کُشادہ تھا۔ اُس میں آگ بھڑک رہی تھی اور اُس آگ میں کچھ مَرد اور عَورَتیں بَرہنہ تھیں۔ جب آگ کا شعلہ بلند ہوتا تو وہ لوگ اُوپر آجاتے اور جب شعلے کم ہوجاتے تو شعلوں کے ساتھ وہ بھی اندر چلے جاتے۔ میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟ جواب دیا : زانی مَرد اور عَورَتیں ہیں۔ ‘‘ ([2]) معلوم ہوا کہ جو عَورَت بخوشی بدکاری کروائے وہ بھی گُناہ گار ہے۔ ہاں جس عورت کے ساتھ ظلماً اور جبراً گُناہ کیا گیا اُس کے لئے یہ عذاب نہیں ہے ، کیونکہ وہ مظلومہ ہے ، اُس کے لئے آخرت میں اَجر و ثواب ہوگا اور اس کے ساتھ ہونے والا ظلم گُناہوں کا کفّارہ بنے گا ، نیز اُس کے دَرَجے بلند ہوں گے۔
(3)خَلِیْلُ الْعُلَما حضرتِ مُفتی محمد خلیل بَرکاتی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنی کتاب ’’چادَر اور چار دِیواری‘‘ میں فرماتے ہیں : زِنا (یعنی بدکاری) وہ فعلِ شَنِیع (یعنی گھناؤنا اور گند ا کام ہے) کہ اِس کی شامت سے اور اِس کی پاداش میں : (1)بَلاؤں کا نُزول ہوتا ہے (2)دشمن غلبہ پاتا ہے (3)رِزق میں تنگی آتی ہے (4)عزّت وہیبت کا زِیاں ہوتا ہے (یعنی عزّت و ہیبت جاتی رہتی ہے) (5)عُمر سے بَرَکت جاتی ہے (6)مُلک و دولت میں بر بادی آتی ہے (7)نِت نئی بیماریاں فروغ پاتی ہیں (8)دُعائیں قُبولیت سے مَحروم رہتی ہیں (9)عذابِ خُداوندی کسی نہ کسی شکل میں تباہی پھیلاتا ہے (10)رُوح کی نُورانیت پر نفس کی ظلمت و تاریکی غلبہ پالیتی ہے ( یعنی رُوح کی نورانیت پر نفس کا اندھیرا ، چھاجاتا ہے) (11) اور بِلا توبہ مَرجائے تو عذابِ آخرت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ([3])
(4)حضرت ِسیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’شَہوَت کی گھڑی بھر پَیروی طویل غم کا باعِث ہوتی ہے ۔ ‘‘ ([4]) شہوت کی پیروی دُنیا میں بھی غم کا باعث ہوجاتی ہے ، کیونکہ جب پکڑے جاتے ہیں تو تھانوں اور جیلوں میں بہت بُرا حشر ہوتا ہے۔ اللہپاک محفوظ رکھے۔ ایسے جُرم ہی نہ کریں کہ ہمارے ساتھ ایسا ہو۔ گُناہ کرنے میں ایک نقصان یہ بھی ہے کہ گُناہ کُفر کا قاصد ہوتا ہے ، ([5]) یعنی گناہ کی وجہ سے اِیمان برباد ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ مَزید پھر نزع کی سختی ، قبر کے عذاب ، قیامت کے 50 ہزار سالہ دن([6]) اور جہنّم کے عذاب کا بھی مُعامَلہ ہے۔ یُوں تھوڑ ی سی لذّت کے نتائج بہت بھیانک ہیں۔ اللہ کریم ہم سب کو محفوظ رکھے اور اس طرح کے گُناہوں کے خلاف ہم سب کو ڈٹ کر کام کرنے کی سعادت بخشے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اِسلامی آپ کے سامنے ہیں۔ طرح طرح کے گُناہ گار اور مُجرم آج آپ کو مبلغ کے رُوپ میں ملیں گے۔ اِنہوں نے گُناہوں سے توبہ کی ، مبلغ بن گئے اور اب دوسروں کو گُناہوں سے بچار ہے ہیں۔ سب کو دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجانا چاہیے ، اِس مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے آپ اِنْ شَآءَ اللہ نَمازی اور سُنّتوں کے پابند بنیں گے ، گُناہوں سے نفرت اور نیکیوں کی طرف رَغبت پیدا ہوگی ، نیز آپ متّقی ، پرہیزگار ، عاشقِ رسول ، عاشقِ صحابہ و اَہلِ بَیت اور عاشقِ اَولیا بن کر اُبھریں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ۔ اللہ پاک سب کو گُناہوں سے بچائے اور نیک بنائے۔
رات کے کھانےکے بعد چہل قدمی کی اَہمیت
سُوال : کیا کھانا کھانے کے بعد 40 قدم چلنا حدیثِ پاک میں آیا ہے؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب : یہ طبیبوں کے مشورے ہوتے ہیں۔ ’’قُوْتُ الْقُلُوْب‘‘ میں رات کے کھانے کے بعد 100 قدم چلنے کا لکھا ہے۔ ([7]) فیضانِ سُنّت جلد اوّل میں ہے : ’’شام کو کھانے کے بعد کم ازکم 150 قدم چلئے۔ شام کے کھانے کے بعد مطلقاً ٹہلنا بہتر ہے اور یہ 150 قدم چلنے کا قول اَطِبَّا کا ہے۔ ‘‘ عَرَب کے حکیم اور طبیب حارِث بن کَلَدہ کا کہنا ہے کہ ’’جب تم میں سے کوئی ناشتہ کرے تو اُس کے بعد تھوڑی دیر سو جائے ، اور جو رات کا کھانا کھائے تو وہ سونے سے پہلے 40 قدم چل لے۔ ‘‘ ([8]) کہا گیا ہے کہ ’’دن کا بہترین کھانا صبح کے وقت کا ہے ، اور رات کا بہترین
[1] مراٰۃ المناجیح ، ۱ / ۷۳۔
[2] بخاری ، کتاب الجنائز ، ۱ / ۴۶۷-۴۶۸ ، حدیث : ۱۳۸۹۔
[3] چادر اور چار دیواری ، ص۴۱۔
[4] الزھد الکبیر للبیھقی ، فصل فی ترک الدنیا و مخالفة النفس والھویٰ ، ص ۱۵۷ ، حدیث : ۳۴۴۔
[5] شعب الایمان ، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة ، فصل فی الطبع علٰی القلب ، ۵ / ۴۴۷ ، حدیث : ۷۲۲۳۔
[6] پ۲۹ ، المعارج : ۴۔
[7] قوت القلوب ، الفصل الاربعون ، ذکر اخبار جاءت فی الآثاررویناھا...الخ ، ۲ / ۳۶۴۔
[8] المستطرف ، باب فی الطعام وآدابه والضیافة وآداب المضیف ، ماجاء فی آداب الاکل ، ۱ / ۳۰۹۔ دین ودنیا کی انوکھی باتیں(مترجم) ، ۱ / ۴۲۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع