دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

khwab Ki Tabeer Kon Bayan Kar Sakta Hai | خواب کی تعبیر کون بیان کرسکتا ہے؟

book_icon
خواب کی تعبیر کون بیان کرسکتا ہے؟

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی مَدَنی زندگی 10 سال ہے ، ([1]) اور 10 سال میں اِتنے ہی جُمُعے آتے ہیں۔

سانپ کو زِندہ چھوڑدینا کیسا؟

سُوال : ہمیں کالز آتی ہیں کہ ہمارے گھر اور بستی میں سانپ آگئے ہیں ، جب ہم وہاں جاتے ہیں تو اُن سانپوں کو بستی سے باہر لا کر پھینک دیتے ہیں ، کیا ہم یہ صحیح کرتے ہیں؟ یا ہمیں سانپوں کو وہیں فوراً مار دینا چاہیے؟         (محمد مبشر امتیاز۔ ریسکیو 1122 ۔ ملتان)

جواب : ’’فتاویٰ رَضَویّہ‘‘ شریف میں ہے : سانپ کو ما ر دینا مستحب اور افضل کام ہے۔ اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے سانپ کو مار دینے کا حکم فرمایا ہے۔ ([2]) یہاں تک کہ حَرَم شریف میں ([3]) اور اِحرام کی حالت میں بھی سانپ کو مار دینے کی اِجازت ہے۔ ([4])  اور جو خوف کی وجہ سے سانپ کو چھوڑ دے اُس کے لئے حدیث شریف میں ’’لَیْسَ مِنِّیْ(یعنی وہ مجھ سے نہیں)‘‘ فرمایا گیا ہے۔ ([5])  لیکن سفید رنگ کا سانپ جو سیدھا چلتا ہے اور  چلنے میں بَل نہیں کھاتا اُسے بغیر خبردار کئے اور بغیر ڈرائے مارنا ممنوع ہے۔ ([6]) اِسی طرح وہ سانپ جو مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے گھروں میں رہتے ہیں اُن کو بھی بے اِنذار و تحذیر یعنی ڈرائے بغیر مارا نہ جائے۔ ([7]) مگر ایک قسم کا سانپ جس کی پیٹھ پر دو سفید لکیریں ہوتی ہیں ، نیز اَبْتَر نامی سانپ جو کَبُود رنگ (یعنی نیلے رنگ)اور چھوٹی دُم والا ہوتا ہے ، اِس طرح کے سانپ اگر مدینۂ مُنَوَّرہ کے گھروں میں بھی رہتے ہوں تو اُن کو بے اِنذار یعنی بغیر ڈرائے مار دینے کی اِجازت ہے۔ اِن دونوں قسم کے سانپوں کا خاصّہ یہ ہے کہ جس کی آنکھ پر یہ نظر ڈال دیں  وہ بندہ اندھا ہوجائے ، نیز اگر حامِلہ عَورت اِنہیں دیکھ لے  تو اُس کا حمل گِرجائے۔ ([8])

نامُساعِد حالات میں کیسے صَبر کیا جائے؟

سُوال :  نامُساعِد (یعنی نامُوافِق)حالات میں صَبر کا دامن کیسے تھاما جائے؟ (محبوب عالَم عطاری)

جواب : کَربَلا میں آلِ رسول پر ظلم و سِتَم کی آندھیاں چلی تھیں ، اِمامِ عالی مقام ، اِمامِ حُسین رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کے سامنے آپ کے بھائی ، بھانجے اور بھتیجے شہید ہوئے تھے ، مَزید یہ کہ تین دِن کی بھوک پیاس بھی تھی۔ ایسے حالات کسی اور کے ساتھ ہونا بعید از قیاس ہے ،  یعنی ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ اِن حالات میں بھی ، اَہلِ بَیتِ اَطہار ، اِمامِ عالی مقام ، اِمامِ حُسین رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ اور آپ کے رُفقا نے صَبر ہی کیا تھا۔ اللہ پاک اُن پر کروڑوں رَحمتیں نازِل فرمائے۔  اِس سے زیادہ نامُساعِد حالات کیا ہوں گے!! جس سے صَبر نہیں ہوپاتا وہ اپنے آپ کو کَربَلا کا ایک پھیرا لگوالے ، ننھے علی اَصغر کا جلوہ تصوُّر میں لائے کہ کس طرح وہ اپنے بابا جان ، اِمامِ حُسین رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کے بازوؤں میں تھے اور پیاس کی شدّت سے گلا سُوکھا ہوا تھا ، اُسی سُوکھے گلے پر ظالموں نے تیر چلادئیے تھے اور وہ اپنے بابا جان کے ہاتھوں میں جُھرجُھری لے کر شہید ہوگئے تھے۔ ([9])اُس وقت اُن کے بابا جان پر کیا گزری ہوگی!! اُن کی امّی  جان نے جب اپنے چھ ماہ کے پھول کو خُون میں لتھڑا دیکھا ہوگا تو اُن پر کیا بیتی ہوگی!! پھر بھی اُن حضرات نے صَبر ہی کیا تھا۔

                             یاد رکھئے! عمل جتنا دُشوار ہوگا ، اُتنا ہی نامۂ اَعمال میں وَزْن دار ہوگا۔ ([10]) ’’ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ اَحْمَزُہَا۔ یعنی اَعمال میں سب سے اَفضل عمل وہ ہے جس میں زَحمت ، تکلیف ، محنت اور مشقّت زیادہ ہو۔ ‘‘([11]) جتنا صَبر دُشوار ہوگا ، اِنْ شَآءَ اللہ اِتنا اَجر اور ثَواب زِیادہ مِلے گا۔ صَبر کرنے والوں کے لئے کتنی بڑی بشارت ہے! اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے : ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ([12]) (ترجمۂ کنزالایمان : بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے)۔ صرف سمجھانے کےلئے ایک دُنیاوی مثال دے رہا ہوں کہ آج کسی کے ساتھ کوئی پولیس والا ، کوئی SHO ، کوئی تھانے دار یا کوئی فوجی اَفسر کھڑا ہوجائے تو وہ پھول جائے گا اور کہتا پھرے گا کہ ’’ذرا سنبھل کر بات کرنا! میری SHO سے بڑی دوستی ہے ، SSPصاحب کے گھر آنا جانا ہے‘‘ وغیرہ۔ تو جس کے ساتھ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْن کی حمایت اور رَبُّ الْعٰلَمِیْن کی مَدَد ہو اُس صبر کر نے والے کا عالَم کیا ہوگا!!

 



[1]   مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۳۴۶۔

[2]   بخاری ، کتاب جزاء الصید ، باب ما یقتل المحرم من الدواب ، ۱ / ۶۰۴ ، حدیث : ۱۸۳۰۔

[3]   ‏ابو داؤد ، کتاب المناسک ، باب ما یقتل المحرم من الدواب ، ۲ / ۲۴۷ ، حدیث : ۱۸۴۷۔

[4]   مسلم ، کتاب الحیوان ، باب قتل الحیات وغیرھما ، ص۹۴۷ ، حدیث : ۵۸۳۷۔

[5]   ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی قتل الحیات ، ۴ / ۴۶۳ ، حدیث : ۵۲۴۹۔

[6]   ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی قتل الحیات ، ۴ / ۴۶۶ ، حدیث : ۵۲۶۱۔

[7]   ‏مسلم ، کتاب الحیوان ، باب قتل الحیات وغیرھما ، ص۹۴۷-۹۴۸ ، حدیث : ۵۸۴۱۔

[8]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۴ / ۶۴۵ ملخصاً و ملتقطاً۔

[9]   الكامل فی التاریخ ، سنة احدی وستین ، ذکر مقتل الحسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، ۳ / ۴۲۹ ماخوذاً۔

[10]   حلية الاولیاء ، ابراھیم بن ادھم ، ۸ / ۱۶ ، رقم : ۱۱۲۱۵۔

[11]   مرقاة المفاتیح ، کتاب العتق ، الفصل الاول ، ۶ / ۵۴۹ ، تحت الحدیث : ۳۳۸۳۔

[12]   پ۲ ، البقرة : ۱۵۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن