30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو انسان کے ساتھ قبر میں جاتا اور قبر کی گھبراہٹ ، تاریکی ، تنگی اور تنہائی سے نجات دلاتا اور راحت وسکون کے اَسباب مہیا کرواتاہے اور وہ مال ہے اچھے اعمال جو کسی بھی وقت انسان کو تنہا نہیں چھوڑتے۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول اس پر فتن دور میں نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں جس کے فیضان سے آج لاکھوں لاکھ مسلمان شریعت کے پابند اور سنّتوں کے پیکربن کر بانیِ دعوتِ اسلامی کے عطاکر دہ مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کے تحت اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، انہی خوش نصیبوں میں محمد رفیق عطاری مرحوم بھی شامل رہے جب مدنی بہار کے حوالے ان سے رابطہ کیا تو ان کے بھائی نے بتایا کہ افسوس آج محمد رفیق عطاری ہم میں موجود نہیں ہیں ۔ 22 جون2012ء کو دنیائے فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ
مزید ان کے بھائی نے محمد رفیق عطاری مرحوم کے حوالے سے بتایا کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے ان کی نشے کی عادت چھوٹی اور انہوں نے بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے دعوت ِاسلامی کا مدنی ماحول اختیار کرنے کی سعادت حاصل کی، عاشقانِ رسول کی صحبت کیا ملی ان کے اندر نیکی کا جذبہ موجزن ہوا اور انہوں نے 12ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت حاصل کی، راہِ خدا میں سفر کرنے کی برکت سے ان کی زندگی میں سنّتوں کی بہار آگئی ، اخلاق وکردار بھی اچھے ہوگئے، مدنی قافلے میں سفر کے دوران والد مرحوم کو ایصالِ ثواب کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے گھر میں ختم شریف کی سالانہ محفل تھی ، محمد رفیق عطاری مرحوم تو اس میں شامل نہ ہوسکے مگر انہوں نے عاشقانِ رسول سے جمع کرکے کثیر ختمِ قراٰن اورذکرواذکار کا ثواب والد صاحب کے سالانہ ختم شریف پر ارسال کیا، جسے سن کرتمام رشتہ دار رشک کرنے لگے کہ بیٹا ہوتو ایسا جو اپنے والد کو قبر میں بھی فائد ہ پہنچارہاہے۔
محمد رفیق عطاری جب مدنی قافلے کے اختتام پر گھر لوٹے تو سب گھر والے بہت خوش ہوئے ۔ چونکہ نیکی کی دعوت کا جذبہ تازہ تھا لہٰذاانہوں نے علاقے میں جوش وخروش کے ساتھ نیکی کی دعوت عام کرنا شروع کردی۔ ان کی انفرادی کوشش کی برکت سے جلد ہی متعدد نوجوان مدنی قافلے کے مسافربن گئے۔
ایک دن یہ گھر کی چھت پرتھے کہ اچانک چھت سے گر گئے، انہیں ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی ، فوراً انہیں ہسپتال لے جایا گیا ۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد دوا تجویز کردی۔ چنانچہ انہیں مجوزہ دوائیں کھلانا شروع کیں مگر ’’جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا‘‘کے مصداق محمد رفیق عطاری کو افاقہ نہ ہوا ۔
چنانچہ اسلام آباد کے ایک مشہور ہسپتال میں بھی علاج کرایا مگر ان کی تکلیف میں کمی نہ آئی جب تکلیف بڑھتی توبے صبری کا اظہار کرنے کے بجائے ان کی زبان پر ’’سیّدنا کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘کاوِرد جاری ہوجاتا۔ گھروالوں نے کبھی ان سے بے صبری کے الفاظ نہیں سنے، بلکہ ان کی زبان پر ذکرودرودہی جاری رہتا۔ یہ سب دعوتِ اسلامی کا فیضان تھا کہ مرحوم بھائی صبروشکر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حقدار بننے کے جذبے سے سرشار تھے ۔ شعبان المعظم کے مبارک مہینے کی بہاریں جوں جوں قریب آرہی تھیں ان کی خوشی بھی بڑھتی جارہی تھی۔ بارہا یہ نعرہ بلند کرتے’’ آقا کا مہینہ ‘‘قریب آگیا ، ’’ آقا کا مہینہ ‘‘قریب آگیا ، مگر انہیں کیا خبر تھی کہ ان کادنیائے فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرنے کا وقت بھی قریب آچکا ہے۔ وفات سے ایک دن قبل ہمشیرہ کو بلایا انہیں مدنی قافلے میں یاد کیا ہوا شجرہ عطاریہ سنایا ۔ اگلے دن کا سورج طلوع ہوا مگر ان کی زندگی کا سورج غروب ہونے کے لمحات بھی قریب آن پہنچے ، ان پر اچانک نزع کی کیفیت طاری ہوگئی ، سب گھروالے ان کی نازک حالت دیکھ کر گھبراگئے اور انہیں ہسپتال لے جانے کی تیاری کرنے لگے۔ ان کی زبان پر’’ سیّدنا کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، سیّدنا کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، سیّدنا کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاوردجاری تھا۔‘‘ انہی مبارک کلمات کا ورد کرتے کرتے محمد رفیق عطاری نے ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں بندکرلیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ جو شخص اچھے ماحول سے وابستہ ہو جاتا ہے اس پر کیسا کرم ہوتا ہے کہ موت کے وقت اس کی زبان پر ذکراللّٰہ اور ذکرِرسول جاری ہوجاتا ہے اس کے برعکس جوشخص بُری صحبت اور عاداتِ بد کا شکار ہوتا ہے نزع کے وقت اس کے اول فول بکنے بلکہ مَعَاذَاللّٰہ ایمان کے سلب ہو جانے کااندیشہ ہوتاہے۔ یادرکھیے کہ شراب نوشی بھی ایمان برباد کرسکتی ہے چنانچہ!حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک شاگرد کی نَزع کے وَقت تشریف لائے اور اُس کے پاس بیٹھ کر سورۃ یٰس شریف پڑھنے لگے۔ تو اُس شاگِرد نے کہا!سورۃ یٰس پڑھنا بند کر دو۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے کلمہ شریف کی تلقین فرمائی۔ و ہ بولا!میں ہرگزیہ کلمہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں ۔ بس انہی الفاظ پر اُس کی موت واقِع ہوگئی۔ حضرتِ سیِّدُنافُضَیلرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنے شاگرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا۔ چالیس روز تک اپنے گھر میں بیٹھے روتے رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خواب میں دیکھا کہ فِرِشتے اُس شاگرد کو جہنَّم میں گھسیٹ رہے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُس سے اِستِفسار فرمایا!کس سبب سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری مَعرِفَت سَلب فرمالی؟ میرے شاگردوں میں تیر ا مقام تو بہت اونچا تھا۔ اُس نے جواب دیا : تین عُیُوب کے سبب سے(1)چغلی کہ میں اپنے ساتھیوں کو کچھ بتاتا تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کچھ اور(2)حَسَد کہ میں اپنے ساتھیوں سے حَسَد کرتا تھا (3)شراب نَوشی کہ ایک بیماری سے شِفاپانے کی غَرَض سے طبیب کے مشورے پر ہر سال شراب کا ایک گلاس پِیتا تھا۔ (منہاج العابدین، ص ۱۶۵) آئیے!آپ بھی شیطان کے وار کو ناکام بناتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدَنی ماحول سے وابستہ سنّتوں کے عامل عاشقانِ رسول کی فہرست میں شامل ہوکر ایسے اعمالِ حسنہ اختیار کیجئے جو ایمان کی سلامتی کا سبب بنیں چنانچہ دعوتِ اسلامی کے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ کتاب، ’’عجائبُ القرآن مَع غرآئبُ القرآن‘‘ کے صفحہ 162 پر ہے کہ حضرتِ خضر عَلَیْہِ السَّلام کی کنیت ابو العباس اور نام ’’بلیا‘‘اور ان کے والد کا نام ’’ملکان ‘‘ہے۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ ( صاوی، پ ۱۵، الکہف، تحت الآیۃ : ۶۵، ۴/ ۱۲۰۷)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے، انسان اپنے دوست کی عادات و اخلاق اور عقائد سے ضرور متأثر ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں نیک آدمی کی مثال مشک والے کی طرح بیان کی گئی ہے کہ اگر اس سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی ہم نشینی خوشبو میں مہکنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بُرا آدمی بھٹی والے کی طرح ہے کہ اگر بھٹی کی سیاہی نہ بھی پہنچے پھر بھی اس کا دھواں تو پہنچتا ہی ہے۔ گناہوں کی آگ میں