30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے مدنی کاموں کے حوالے سے شہر گوجرہ میں مدنی مشورہ لیاجس میں جنید عطاری بھی شریک تھے۔ اس مدنی مشورے میں مدنی کاموں کی ترقی وعروج کے حوالے سے اچھی اچھی نیّتوں کا اظہار کیا ۔ مشورے کے اختتام پروکیلِ عطار کے ذریعے توبہ اور تجدید بیعت کا شرف پایا۔ زندگی کی آخری نماز عشا باجماعت اداکی اور ایک ڈویژن ذمہ دار اسلامی بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
اسی دورانِ مدینہ شریف کا مبارک ذکر چھڑگیا، انہوں نے اپنی والدہ کو حج کروانے کے ارادے کا اظہار کیا۔ دورانِ سفر انہیں پولیس اہلکار کھڑے ہوئے نظر آئے تو ان کے پاس جاکر نیکی کی دعوت پیش کی اور پھر گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔ ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ ناگاہ ان کی گاڑی پھسل گئی اور یہ دونوں اسلامی بھائی گر گئے، جنید عطاری کے سرپر شدید چوٹیں آئیں اور ان کا دماغ مائوف ہوگیا مگر اس کے باوجود بھی ان کی زبان پر ذکرُاللّٰہ کا وِرْد جاری تھا۔ انہیں جب ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹر اوردیگر عملہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عام طور پر ایسی شدید چوٹیں لگنے کے بعدزخمی چیخ وپکار سے اپنی تکلیف کا اظہار کرتاہے مگر یہ کیسا حوصلہ مندنوجوان ہے کہ جس کی زبان پر ذکرُاللّٰہ جاری ہے۔ بہرحال ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی بہت کوشش کی مگر جنید عطاری اپنی سانسیں پوری کرچکے تھے ، دارِفانی سے دارِ بقاکی طرف کوچ کرنے کا وقت آچکا تھا، عزیز ورفقاقریب ہی افسرد ہ کھڑے تھے کہ اچانک جنید عطاری کی زبان پر اللّٰہ اللّٰہ، اللّٰہ اللّٰہ کی صدائیں بلند ہوئیں اور یہ پیغام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے کہ
ایک دن مرنا ہے آخرت موت ہے
کرلے جوکرناہے آخرموت ہے
ایک سچے مسلمان کی شان
ان کے انتقال پر گھروالے غم سے نڈھال ہوگئے، جب ان کے جنازے کو گھرلایا گیا تو علاقے بھر میں غم کے بادل چھاگئے۔ کثیر اسلامی بھائی ان کے جنازے میں شریک ہوئے، اہلِ علاقہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سے پہلے کسی اور کے جنازے میں اتنے لوگ نہیں دیکھے جتنے جنید عطاری کے جنازے میں دیکھے۔ بالآخر ذکرُاللّٰہ اور صلوٰۃ وسلام کی صدائوں میں انہیں علاقے کے قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ان کی جدائی پر بہت سی آنکھیں پرنم تھیں ۔ ہمارا حسن ظن ہے کہ مرحوم سنّتوں پر عمل کرنے اور سنّتوں کی دعوت عام کرنے کی برکت سے قبر میں رحمتِ الٰہی کے سائے میں ہوگا۔ اگلے دن جب ان کے کچھ دوست احباب ان کی قبر پر گئے تو دیکھا کہ ان کی قبر ایک جانب سے کچھ بیٹھ گئی ہے، جب قبر کود رست کرنے لگے تو اچانک انہیں مشک و عنبر سے بھی بڑھ کر ایک عجب بھینی
بھینی بو آنے لگی جب غور سے اس خوشبو کو سونگھا تو یہ دیکھ کر سب اَش اَش کر اٹھے کہ وہ خوشبو ان کی قبر سے ہی آرہی تھی۔
مرحوم خواب میں
جنید عطاری کی والدہ محترمہ کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا خوب سنّتوں کی خدمت کرے، اسی جذبے کے تحت انہوں نے ایک مرتبہ رُکنِ شوریٰ کو تحریر لکھی تھی جس میں انہوں نے اپنے لختِ جگر جنید عطاری کو دعوت ِاسلامی کے مدَنی کاموں کے لیے’’ وقف ِمدینہ‘‘ کرنے کی نیّت کااظہارکیا تھا۔ جنید بھائی کے اچانک انتقال پر ان کی والدہ کے قلبِ شفیق پر کیا گزری ہو گی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے مگرانہوں نے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے صبرکا دامن نہ چھوڑا۔ جنید عطاری کی والدہ محترمہ کا حلفیہ بیان ہے کہ ان کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد نبوی شریف کے سامنے ایک سرسبز وشاداب باغ ہے اورجنید عطاری اس میں انتہائی خوش وخرم حالت میں موجود ہیں ۔
اسی طرح جنید عطاری کی ہمشیرہ کا بیان ہے کہ ایک دن میں نے خواب دیکھا کہ میں جنید بھائی کی قبرکے پاس کھڑی ہوں کہ اچانک ان کی قبر کھُل گئی اور قبر کے اندر کا حصہ دکھائی دینے لگا ۔ میں نے قبر کے اندر جھانک کر دیکھا تو کیا دیکھتی ہوں کہ جنید بھائی قبر میں بیٹھے ہیں اور ان کی زبان پر ذکراللّٰہ جاری ہے۔ میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہاجنید بھائی! انہوں نے مجھے دیکھا، میں نے کہا ہم آپ کو تلاوتِ قراٰنِ پاک، ذکر ودرود اور صدقہ و خیرات کے ذریعے ایصالِ ثواب کرتے ہیں کیا آپ کو وہ ثواب پہنچتا ہے؟ یہ سن کر جواب دیا : ہاں تم جوبھی ایصالِ ثواب کرتے ہو وہ مجھے ملتاہے۔
بعدِ وفات بھی نیکی کی دعوت دی
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکنِ شوریٰ حاجی ابوالبیان محمداظہر عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی کا بیان ہے کہ جنید عطاری کے قریبی دوست نے ایک دن مجھے بتایا کہ بدقسمتی سے میں ایک عادتِ بد میں مبتلا تھا کسی بھی صورت اس سے جان نہیں چھوٹ پارہی تھی۔ ایک دن فیضانِ مدینہ میں سویا ہوا تھا کہ خواب کی دنیا میں پہنچ گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ جنید عطاری میرے پاس آئے اور مجھ سے کہنے لگے کب تک اس برائی میں مبتلارہوگے؟ اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ یہ سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی، جنید عطاری کا چہرہ میری آنکھوں میں گھوم رہاتھا اور ان کے جملے میرے کانو ں میں گونج رہے تھے اور مجھ پر عجب کیفیت طاری تھی۔ میں نے فوراً وضوکیا اور تہجد کی نماز اداکرنے کی سعادت حاصل کی اور اس عادتِ بد سے مکمل جان چھڑانے کا عزم کرلیا اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جنید بھائی کی خواب میں نیکی کی دعوت کی برکت سے جلد ہی اس برائی سے میری جان چھوٹ گئی۔
امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تعزیّت فرمائی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو عاشقانِ رسول دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں وہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے خصوصی فیضان سے مالامال ہوتے اور خوب برکتیں پاتے ہیں چونکہ جنید عطاری ایک جذبے والے مبلغ تھے۔ انہوں نے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطا کردہ عظیم مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘کے تحت اپنی زندگی کے شب وروز بسر کیے تھے اس لیے ان پر امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نظرِ کرم تھی۔ ان کے انتقال کی خبر جب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی