30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّواعَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی علٰی محمَّد
مرکزالاولیاء (لاہور)کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکالُبِّ لُباب ہے : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں زیادہ تربدمذہبوں کی صحبت میں رہتا اور مَعَاذَاللّٰہگناہوں کی خوفناک دلدل میں اس قدرپھنساہواتھاکہ شب و روز فلمیں ڈرامے دیکھنا، فحاشی کے اڈوں پرچکرلگانامیرے نزدیک بہت فخر والا کام تھا۔آخرکارمیری زندگی کے بُرے ایام اچھے دنوں میں تبدیل ہونے کے اسباب بن ہی گئے وہ اس طرح کہ ایک دن میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی ۔انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے’’ہنجروال‘‘میں دعوتِ اسلامی کے تحت شبِ برأت کے سلسلے میں ہونے والے اجتماع ذکرونعت میں شرکت کی دعوت دی۔ان کی دعوت پرمجھے اس مبارک اجتماع میں شرکت کی سعادت ملی۔میری خوش قسمتی کہ وہاں مجھے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کاسنّتوں بھرابیان سننے کی سعادت حاصل ہو گئی۔ بیان اس قدرپرسوزاوررِقّت انگیزتھاکہ دورانِ بیان مجھے اپنی گناہوں بھری زندگی پر نَدامت ہونے لگی اورمیں سوچنے لگاکہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ناراض ہواتومیراکیابنے گا؟ اس تصورکے آتے ہی میری آنکھوں کی وادیوں سے آنسوؤں کے دھارے بہہ نکلے ، مجھے اپنے سابقہ گناہوں پرندامت ہونے لگی۔ بیان کے بعدہمارے علاقے کے مدنی قافلہ ذمہ داراسلامی بھائی نے مجھے تین دن کے مدنی قافلے میں سفرکرنے کی ترغیب دلائی، دل توپہلے ہی چوٹ کھاچکاتھاچنانچہ ان کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں میں مدنی قافلے کامسافربن گیا۔دورانِ مَدَنی قافلہ بے شمارسنتیں وآداب سیکھنے کے ساتھ ساتھ مُبلِّغِین کے سنّتوں بھرے اصلاحی بیانات سننے کی سعادت حاصل ہوئی تومیں اپنی گناہوں بھری زندگی پرنہایت شرمندہ ہوا، میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی۔کچھ دنوں بعدجب رَمَضان المبارک کی آمدہوئی تومیں نے اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔اس اعتکاف میں ایک خوش نصیب اسلامی بھائی کو ستائیسویں شب سرکارِدوعالم، نورِمُجسمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی اس بات نے میرے دل میں مَدَنی ماحول کی محبت کومزید اجاگرکر دیا ۔ چنانچہ اس کے بعد میں مکمل طور پردعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّواعَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی علٰی محمَّد
(4)وُضوکادرست طریقہ معلوم نہ تھا
شیخوپورہ (پنجاب، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے : مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں ایک ماڈرن نوجوان تھا۔گناہوں کی ظلمت بھری وادیوں میں اِدھراُدھربھٹکتاپھررہاتھا۔نمازوں کی ادائیگی اورامورِدینیہ کاکچھ ذہن نہ تھا۔دنیاوی طورپرپڑھا لکھاہونے کے باوجوددین سے اس قدر دوری تھی کہ وضوکا درست طریقہ تک معلوم نہ تھا۔میری گناہوں سے تاریک و سیاہ زندگی میں نویدِصبح کی پوکچھ یوں پھوٹی کہ۱۴۲۸ھ بمطابق2007ء کوشبِ برأت کی مقدس گھڑیوں میں ہمارے قریبی قبرستان میں دعوتِ اسلامی کے تحت اجتماعِ ذکرونعت کی ترکیب تھی۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ توفیق سے میں بھی اس اجتماع میں شریک ہوگیا۔مبلغِ دعوتِ اسلامی نے پندونصیحت کے موتیوں سے مزین بیان شروع کیا تو خوف کے مارے مجھ پرکپکپی طاری ہوگئی۔میں یہ سوچ سوچ کر کفِ افسوس ملنے لگا کہ آہ !میں نے تواپنی ساری زندگی سراسرغفلت میں گزار دی، میں نمازوں سے دور، دین سے لاشعوراورگناہوں میں رنجورہوں ، آہ! میراکیا بنے گا؟ یہ سب سوچ کرمیں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھادیے اورروروکر یہ دعا کرنے لگا : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !توہی گنہگاروں ، سیاہ کاروں ، ریاکاروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والاہے، مجھ سیاہ کارکومعاف فرمادے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یوں میں نے صدق دل سے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اورنیت کی کہ اپنی زندگی کے بقیہ ایام دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبارمدنی ماحول کے پربہارسائبان تلے بسر کروں گا۔ اس طرح شبِ برأت کے اجتماع میں شرکت کی برکت سے مجھے سنتوں بھری زندگی نصیب ہوگئی۔آج اللّٰہربُّ العِزّت عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے اس مشکبار مدنی ماحول کی معطرمعطرفضاؤں میں مبلغ دعوتِ اسلامی کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت میں مصروف ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّواعَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی علٰی محمَّد
(5) مَکَّۃُ المُکَرَّمہ شریف کی زیارت
مرکزالاولیاء (لاہور)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے : مجھے دعوتِ اسلامی کے زیرِاہتمام ہونے والے27رَمَضانُ المبارک کے اجتماعِ ذکرونعت میں شرکت کی سعادت ملی اوراس اجتماع کی برکات سے میں بہت محظوظ ہوا۔اجتماع کے آخرمیں جب اختتامی رقّت انگیزدعاشروع ہوئی تومیں بھی خشوع وخضوع کے ساتھ دعامیں شریک ہوگیا، مجھے کیاپتاتھاکہ اپنے گناہوں کا اقرارکرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے بخشش ومغفرت کاسوال کرنے والے ایسی گریہ و زاری کریں گے کہ مجھ جیسے پتھردل کوبھی روناآجائے گا۔ہرطرف سے بے شمار لوگوں کے رونے کی آوازیں بلندہورہی تھیں ، اسی دوران مجھ پربھی رقت طاری ہو گئی خوفِ خداکی بدولت دورانِ دعامجھ پرایسی کیفیت طاری ہوئی کہ جس نے مجھے دنیاو مافیہاسے بے خبرکردیا۔اسی کیفیت کے دوران میری قسمت کا ستارہ چمکا اور مجھے ’’مکۃُالمکرمہ‘‘شریف کی زیارت نصیب ہوگئی۔اس کے بعد میں نے اپنے سابقہ تمام گناہوں سے سچے دل سے توبہ کی اوردعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کواپنالیا۔اس کے علاوہ میں نے سرپرسبزسبزعمامہ شریف کا تاج بھی سجالیا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع