30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شعبہ امیرِاَہلسنّت مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ (دعوتِ اسلامی)
۲۹ربیع النُّور۱۴۳۱ھ، 16مارچ 2010ء
شکرگڑھ(نارووال، پنجاب)کے مقیم اسلامی بھائی نے اجتماعِ میلادکی ایک مَدَنی بہاربیان کی جس کاخلاصہ پیش خدمت ہے : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں دینی معلومات سے کوسوں دُور، بے مروت وبے وفادنیاکی محبت میں مسرور، گناہوں سے بھرپور زندگی کے شب وروزبسرکررہاتھا۔فلموں ، ڈراموں کاحد درجے کا شیدائی تھا گانے سننے کی اس قدرلَت پڑچکی تھی کہ میں نے اپنی پسند کے گانوں کی لسٹ بنا رکھی تھی، جس گانے کاموڈہواوہ ریکارڈکروایااورسننے میں مصروف ہو گیا۔اَلْغَرَض میں اِنتہاء درجے کامَن موجی(آوارہ مزاج)تھا۔حُبِّ دنیا میں اس قدر غرق تھا کہ نمازوں کی پرواہ ہی نہ تھی۔آخرِکارمیری خزاں رسیدہ تاریک زندگی میں خوش نصیبی کی کرنیں پھوٹیں ۔ہواکچھ یوں کہ۱۴۲۷ھ بمطابق 2006ء میں جب کہ ربیع النّورشریف کامقدّس مہینہ اپنی آب وتاب سے زمین کے سینہ کومنور کر رہا تھا اور اس مقدس ماہ کی رحمتوں اوربرکتوں سے بھرپورفضائیں ہر جانب اپنی بَرَکتیں لُٹا رہی تھیں ۔ ایک روزایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے یہ ذہن دیا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہرسال رسولِ عربیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وِلادت کی خوشی میں اجتماعِ میلادکااِنعقادکیاجاتاہے۔حسبِ معمول اس سال بھی اجتماعِ میلادمنعقد ہوگاآپ اس اجتماع میں ضرورشرکت کیجئے گا، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ڈھیروں برکتیں حاصل ہوں گی۔ایک عاشقِ رسول کی مخلصانہ دعوت کارگرثابت ہوئی اورمیں نے اس اجتماع میں شرکت کی نیت کرلی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ربیع النّورشریف کی پاکیزہ مہکی مہکی فضاؤں سے قلب محظوظ ہوتارہا۔آخرِکاروہ دن بھی آپہنچاکہ میں اپنی نیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے تحت ربیع النّورشریف کی بارہویں شب میں ہونے والے اجتماعِ میلادمیں بَرَکتیں لوٹنے کے لیے آپہنچا، جب میری آنکھوں نے ایک ولئی کامل، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے نورانی چہرے کی زیارت سے مشرف ہونے کی سعادت حاصل کی توآپ کی زیارت کی چاشنی آنکھوں کے راستے دل میں اترتی چلی گئی، میری قلبی کیفیت بدلنے لگی اوردل کا زنگ دورہوتاچلاگیا۔اجتماعِ میلادسے حاصل ہونے والی بَرَکتوں کاکچھ شمارنہیں ۔ اس اجتماع میں شرکت کی بَرَکت سے میرے دل سے دنیاکی محبت مٹنے لگی اوردعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے محبت بڑھنے لگی کیونکہ یہ مدنی ماحول ہی ہے جس میں بے چینوں کوچین ملتاہے، پریشان حالوں کوسکون کی دولت میسرآتی ہے، دل کے اندھوں کوچشمِ ہدایت ملتی ہے اَلْغرَض اجتماعِ میلادکے بارونق لمحات نے میری زندگی کی کایاہی پلٹ دی اورمیں اپنے سابقہ گناہوں سے تائب ہوکرشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی محبت کااَسیرہوگیا۔میں نے اپنے سرپرعطاری ہونے کا سہر ابھی سجالیا۔آج بفضلہ تَعَالٰی میں نعتِ رسولِ مقبول سن کر اپنے دل و دماغ کو روشن کرتا ہوں ۔ نمازیں پڑھنے، سنّتوں پرعمل کرنے کا شوق پیدا ہو چکا ہے۔ اللہ تَعَالٰی مجھے مَدَنی ماحول میں استقامت کی دولت عطافرمائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّواعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی علٰی محمَّد
(2)باغی گروپ کے ایک رکن کی توبہ
گوجرانوالہ(پنجاب، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کاتحریری بیان کچھ اس طرح ہے : اچھی صحبت میسرنہ ہونے کے باعث میں گناہوں کی زنجیروں میں جکڑتا چلا جا رہا تھا۔ گندی فلمیں دیکھنا، شراب نوشی اوران کے علاوہ ایسے ایسے گھناؤنے گناہوں میں ملوث ہوچکاتھاکہ جن کاتذکرہ کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ۔میرے اخلاق اس قدربگڑچکے تھے کہ غنڈاگردی، بدمعاشی اور چوری جیسے قبیح افعال کرنے کے لیے ہم نے ایک گروپ تشکیل دیاجس کا نام’’باغی گروپ‘‘ تجویز پایا۔آہ! ہماری بدبختی کہ رات کی تاریکی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں میں سے کچھ خوش نصیب توعبادتوں میں مشغول ہوتے اورکچھ محوِخواب ہوتے لیکن ہماری راتیں چوری کرکے اپنے نامۂ اعمال سیاہ کرنے میں بسر ہوتیں ۔اسی غفلت میں میری زندگی کے شب وروزبسرہوتے رہے اورمجھے اپنی زندگی کے انمول ہیروں کے ضائع ہونے کااحساس تک نہ ہوا۔ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی تشریف لاتے اور مجھ پر محبت بھرے اندازمیں انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلاتے۔لیکن میرے دل پرتوگناہوں کی کالک جمی ہوئی تھی اس پرنیکی کی دعوت کاکیااثرہوتا۔میں ان کی نیکی کی دعوت کی طرف توجہ نہ دیتے ہوئے مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں منع کر دیتا۔ لیکن سلام ہے اس عاشقِ رسول کی استقامت پرکہ وہ مسلسل مجھ پرانفرادی کوشش کرتے رہے حتی کہ میں ان کے محبت بھرے اندازسے متأثرہوکرکبھی کبھی اجتما ع میں شرکت کرنے لگالیکن مجھ پر ’’نہ سدھرے ہیں نہ سدھریں گے قسم کھائی ہے ‘‘کی دُھن سواررہتی تھی۔میں اور میرا دوست مل کراجتماع میں شریک اسلامی بھائیوں کوخوب تنگ کرتے مثلاًہم کسی اسلامی بھائی کو’’مدینہ‘‘کہہ کرمخاطب کرتے اورجیسے ہی وہ ہماری جانب متوجہ ہونے لگتے ہم دوسری طرف مڑجاتے۔میری گناہوں بھری زندگی میں نیکیوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک مرتبہ ہمارے علاقے میں ہونے والے اجتماع میں مبلغِ دعوتِ اسلامی کے خصوصی بیان کی ترکیب بنی۔ہمارے محلے کے اسلامی بھائی انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے بھی اس اجتماع میں ساتھ لے گئے، گھرسے چلتے وقت میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھاکہ اس اجتما ع میں شریک ہونامیری اصلاح کا باعث بن جائے گابلکہ اس باربھی وہی سوچ تھی کہ اسلامی بھائیوں کو تنگ کر کے لطف اندوز ہوں گا۔مبلغِ دعوتِ اسلامی(رکن شوریٰ ونگران پاکستان انتظامی کابینہ مدظلہ العالی) نے جب بیان شروع کیاتوان کے الفاظ تاثیرکاتیربن کریکے بعددیگرے میرے دل میں پیوست ہوتے چلے گئے۔خوفِ خداکے مارے مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، مبلغ اسلامی بھائی نے جب بے نمازیوں کی سزائیں اورزنا کے متعلق وعیدیں سنائیں تو میرا رُواں رُواں کانپ اٹھااورمیرے سابقہ گناہ ایک ایک کرکے میری نگاہوں کے سامنے پھرنے لگے چنانچہ میں نے فوراًماضی میں سرزدہونے والے تمام گناہوں سے ہاتھوں ہاتھ توبہ کرلی اوراپنی دنیاوآخرت کوسنوارنے کے لیے مہکے مہکے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔اس مشکباروپاکیزہ مَدَنی ماحول نے مجھے حُبِّ دنیاکے جھمیلوں سے رہائی دلاکرنہ صرف عطاری تاج سجایابلکہ سنّتوں کی خدمت کا جذبہ بھی عطافرمادیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع