دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulfa e Rashideen | خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنھم

book_icon
خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنھم
            

آپ کی شجاعت

حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شجاعت اور بہادری شہرۂ آفاق ہے ۔ عرب و عجم میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قوت ِبازو کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رعب و دبدبہ سے آج بھی بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے ہیں ۔ جنگِ تبوک کے موقع پر سرکار ِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ طیبہ پر اپنا نائب مقرر فرمادیاتھا اس لیے اس میں حاضر نہ ہوسکے باقی تمام غزوات و جہاد میں شریک ہو کر بڑی جانبازی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ (1)

جنگِ بدر میں شجاعت:

جنگ ِبدر میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسود بن عبدالاسد مخزومی کو کاٹ کر جہنم میں پہنچایا تو اس کے بعد کافروں کے لشکر کاسردار عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کو ساتھ لے کر میدان میں نکلا اور چِلا کر کہا کہ اے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )!اشراف ِقریش میں سے ہمارے جوڑ کے آدمی بھیجئے ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا :اے بنی ہاشم ! اُٹھو اور حق کی حمایت میں لڑو جس کے ساتھ اللہ تعالٰی نے تمہارے نبی کو بھیجا ہے ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کو سُن کر حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم دشمن کی طرف بڑھے ۔ لشکر کا سردار عتبہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مقابل ہوا اور ذلت کے ساتھ مارا گیا ۔ ولید جسے اپنی بہادری پر بہت بڑا ناز تھا وہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے مقابلہ کے لیے مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا آگے بڑھا اور ڈینگیں مارتا ہوا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر حملہ کیامگر شیر ِخدا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے تھوڑی ہی دیر میں اسے مار گرایا اور ذوالفقار حیدری نے اس کے گھمنڈ کو خاک و خون میں ملادیا ۔ اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کردیا ہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جھپٹ کر اس پر حملہ کیا اور اسے بھی جہنم میں پہنچادیا ۔ (2)

جنگ ِاحد میں شجاعت:

اور جنگِ اُحد میں جب کہ مسلمان آگے اور پیچھے سے کفار کے بیچ میں آگئے جس کے سبب بہت سے لوگ شہید ہوئے تو اس وقت سرکار ِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی کافروں کے گھیرے میں آگئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ اے مسلمانو!تمہارے نبی قتل کردیئے گئے ۔ اس اعلان کوسُن کر مسلمان بہت پریشان ہوگئے یہاں تک کہ اِدھر اُدھر تتر بتر ہوگئے بلکہ ان میں سے بہت لوگ بھاگ بھی گئے ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ جب کافروں نے مسلمانوں کو آگے پیچھے سے گھیر لیا اور رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری نگاہ سے اوجھل ہوگئے تو پہلے میں نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زندوں میں تلاش کیا مگر نہیں پایا پھر شہیدوں میں تلاش کیا وہاں بھی نہیں پایا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میدان ِجنگ سے بھاگ جائیں لہذا اللہ تعالٰی نے اپنے رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آسمان پر اُٹھالیا ۔ اس لیے اب بہتر یہی ہے کہ میں بھی تلوار لے کر کافروں میں گھس جاؤں یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہوجاؤں ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے تلوار لے کر ایسا سخت حملہ کیا کہ کفار بیچ میں سے ہٹتے گئے اور میں نے رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھ لیا تو مجھے بے انتہا خوشی ہوئی اور میں نے یقین کیا کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے فرشتوں کے ذریعہ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت فرمائی ہے ۔ میں دوڑ کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جا کر کھڑا ہوا کفار گروہ در گروہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حملہ کرنے کے لیے آنے لگے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :علی !ان کو روکوتو میں نے تنہا ان سب کا مقابلہ کیا اور ان کے منہ پھیر دیئے اور کئی ایک کو قتل بھی کیا ۔ اس کے بعد پھر ایک گروہ اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حملہ کرنے کی نیت سے بڑھا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر میری طرف اشارہ فرمایا تو میں نے پھر اس گروہ کا اکیلے مقابلہ کیا ۔ اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میری بہادری اور مدد کی تعریف کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ” اِنَّہ مِنِّیْ وَاَنَامِنْہُ “یعنی بے شک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں مطلب یہ ہے کہ علی کو مجھ سے کمالِ قرب حاصل ہے ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کو سن کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا ” وَاَنَا مِنْکُمَا “یعنی میں تم دونوں سے ہوں ۔ (3) سرکار ِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پاکر حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شہید ہوجانے کی نیت سے کافروں کے جتھے میں تنہا گھس جانا اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حملہ کرنے والے گروہ در گروہ سے اکیلے مقابلہ کرنا آپ کی بے مثال بہادری اور انتہائی دلیری کی خبر دیتا ہے ۔ ساتھ ہی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آپ کے عشق اور سچی محبت کا بھی پتا دیتا ہے ۔ ” رضی اللہ عنہ وارضاہ عنا

جنگِ خندق میں شجاعت:

حضرت کعب بن مالک انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جنگِ خندق کے روز عمرو بن عبد ود ( جو ایک ہزار سوار کے برابر مانا جاتا تھا) ایک جھنڈا لیے ہوئے نکلا تاکہ وہ میدانِ جنگ کو دیکھے ‘جب وہ اور اس کے ساتھ کے سوار ایک مقام پر کھڑے ہوئے تو اس سے حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ اے عمرو !تو قریش سے اللہ کی قسم دے کر کہا کرتا تھا کہ جب کبھی مجھ کو کوئی شخص دو اچھے کاموں کی طرف بلاتا ہے تو میں اس میں سے ایک کو ضرور اختیار کرتا ہوں ۔ اس نے کہا :ہاں میں نے ایسا کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میں تجھے اللہ و رسول ( جلَّ جَلَالُہ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اور اسلام کی طرف بُلاتا ہوں ۔ عمرو نے کہا :مجھے ان میں سے کسی کی حاجت نہیں ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا تو اب میں تجھ کو مقابلہ کی دعوت دیتا ہوں اور اسلام کی طرف بلاتا ہوں ۔ عمرو نے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے !کس لیے مقابلہ کی دعوت دیتا ہے ۔ خدا کی قسم !میں تجھ کو قتل کرنا پسند نہیں کرتا ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :لیکن خدا کی قسم !میں تجھ کو قتل کرنا پسندکرتا ہوں ۔ یہ سن کر عمرو کا خون گرم ہوگیااور حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی طرف متوجہ ہو ا دونوں میدان میں آگئے اور تھوڑی دیر مقابلہ ہونے کے بعد شیر ِخدا نے اسے موت کے گھاٹ اتار کر جہنم میں پہنچادیا ۔ (4) …اور محمد بن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ عمرو بن عبدود میدان میں اس طرح نکلا کہ لوہے کی زر ہیں پہنے ہوئے تھااور اس نے بلند آواز سے کہا:ہے کوئی جو میرے مقابلہ میں آئے ؟اس آواز کو سن کر حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوئے اور مقابلہ کے لیے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت طلب کی ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :بیٹھ جاؤ، یہ عمرو بن عبدود ہے ۔ دوسری بار عمرو نے پھر آواز دی کہ میرے مقابلہ کے لیے کون آتا ہے ؟ اور مسلمانوں کو ملامت کرنی شروع کی ۔ کہنے لگا :تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کے بارے میں تم دعویٰ کرتے ہو کہ جو بھی تم میں سے مارا جاتا ہے وہ سیدھے اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔ میرے مقابلہ کے لیے کسی کو کیوں نہیں کھڑا کرتے ہو ۔ دوبارہ پھر حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کھڑے ہو کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت طلب کی، مگرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی فرمایا کہ بیٹھ جاؤ ۔ تیسری بار عمرو نے پھر وہی آواز دی اور کچھ اشعار بھی پڑھے ۔ راوی کا بیان ہے کہ تیسری بار حضر ت علی نے کھڑے ہوکر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں اس کے مقابلہ کے لیے نکلوں گا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ یہ عمرو ہے ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا :چاہے عمرو ہی کیوں نہ ہو ۔ تیسری بار حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اجازت دے دی ۔ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چل کر اس کے پاس پہنچے اور چنداشعار پڑھے جن کا مطلب یہ ہے ۔ اے عمرو!جلدی نہ کر، جو عاجز نہیں ہے وہ تیرے پاس تیری آواز کا جواب دینے والا سچی نیت اور بصیرت کے ساتھ آگیا اور ہر کامیاب ہونے والے کو سچائی ہی نجات دیتی ہے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ میں تیرے جنازہ پر ایسی ضربِ وسیع سے نوحہ کرنے والیوں کو قائم کروں گا کہ جس کا ذکر لوگوں میں باقی رہے گا ۔ عمرو نے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میں علی ہوں ۔ اس نے کہا :عبدمناف کے بیٹے ہو ؟ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :میں علی بن ابی طالب ہوں ۔ اس نے کہا :اے میرے بھائی کے بیٹے !تیرے چچاؤں میں سے ایسے بھی تو ہیں جو عمر میں تجھ سے زیادہ ہیں میں تیرا خون بہانے کو بُرا سمجھتا ہوں ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :مگر خدا کی قسم !میں تیرا خون بہانے کو قطعاً بُرا نہیں سمجھتا ۔ یہ سن کر وہ غصہ سے تلملا اُٹھا گھوڑے سے اُتر کر آگ کے شعلہ جیسی تلوار سونت لی ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی طرف لپکااور ایسا زبردست وار کیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار اسے پھاڑ کر گھس گئی یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر لگی اور زخمی کر دیا ۔ اب شیر ِخدا نے سنبھل کر اس کے کندھے کی رگ پر ایسی تلوار ماری کہ وہ گر پڑا اور غبار اڑا ۔ رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نعرۂ تکبیر سنا جس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اسے جہنم پہنچادیا ۔ شیر ِخدا کی اس بہادری اور شجاعت کو دیکھ کر میدانِ جنگ کا ایک ایک ذرہ زبان حال سے پکار اُٹھا ۔ شاہِ مرداں ، شیر ِیزداں ، قوتِ پروردگار لا فَتٰی اِلَّا عَلِیْ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالفقار یعنی حضرت علی بہادروں کے بادشاہ، خدا کے شیر اور قوتِ پروردگار ہیں ۔ ان کے سوا کوئی جوان نہیں اور ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں ۔ (5) اسی طرح جنگِ خیبر کے موقع پر بھی حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے شجاعت اور بہادری کے وہ جوہر دکھائے ہیں ۔ جن کا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا اور لوگوں کے دلوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتا رہے گا ۔

قلعۂ خیبر کی فتح:

خیبر کا وہ قلعہ جو مرحب کا پایۂ تخت تھا ۔ اس کا فتح کرنا آسان نہ تھا ۔ اسقلعہ کو سر کرنے کے لیے سرکار ِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جھنڈا عنایت فرمایا اور دوسرے دن حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا لیکن فاتح ِخیبر ہونا تو کسی اور کے لئے مقدر ہوچکا تھا اس لیے ان حضرات سے وہ فتح نہ ہوا ۔ جب اس مہم میں بہت زیادہ دیر ہوئی تو ایک دن سرکار ِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دوں گاجس کے ہاتھ پر خدائے تعالٰی فتح عطا فرمائے گا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں ۔ ( جلَّ جَلَالُہ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس خوشخبری کو سن کر صحابہ کرام نے وہ رات بڑی بے قراری میں کاٹی اس لیے کہ ہر صحابی کی یہ تمنا تھی کہ اے کاش ! رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کل صبح ہمیں جھنڈا عنایت فرمائیں تو اس بات کی سند ہوجائے کہ ہم اللہ ورسول کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ ورسول ہمیں چاہتے ہیں ۔ اور اس نعمتِ عظمیٰ و سعادتِ کبریٰ سے بھی سرفراز ہوجاتے کہ فاتح ِخیبر بن جاتے ۔ اس لیے کہ وہ صحابی تھے وہابی نہیں تھے ۔ ان کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں تھا کہ کل کیا ہونے والا ہے ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کی کیا خبر ؟ بلکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کے محبوب دانائے خفایا وغیوب جناب ِاحمد مجتبٰی محمد ِمصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ کل ہو کر رہے گا ۔ اس میں ذرّہ برابر فرق نہیں ہوسکتا ۔ جب صبح ہوئی تو تمام صحابہ ٔکرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اُمیدیں لیے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور ادب کے ساتھ دیکھنے لگے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آج کس کو سرفراز فرماتے ہیں سب کی ارمان بھری نگاہیں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لبِ مبارک کی جنبش پر قربان ہورہی تھی کہ سرکار نے فرمایا:” اَیْنَ عَلِیُّ بنُ اَبِی طَالِب “یعنی علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا :یا رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !وہ آشوبِ چشم میں مبتلا ہیں ، ان کی آنکھیں دُکھتی ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :کوئی جا کر ان کو بلا لائے ۔ جب حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لائے گئے تو رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی آنکھوں پر لعاب ِ دہن لگایا تو وہ بالکل ٹھیک ہوگئیں ۔ حدیث شریف کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ ” فَبَصَقَ رَسُوْ لُ ﷲصلی اللہ علیہ وسلم فِیْ عَیْنَیْہِ فَبَرا “اور ان کی آنکھیں اس طرح اچھی ہوگئیں گویا دُکھتی ہی نہ تھیں ۔ پھر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا :یا رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہوجائیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ نرمی سے کام لو پہلے انہیں اسلام کی طرف بلاؤاور پھر بتلاؤکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر کیا حقوق ہیں ۔ خدا کی قسم !اگر تمہاری کوشش سے ایک شخص کو بھی ہدایت مل گئی تو وہ تمہارے لیے سُرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہوگا ۔ (6)

جنگِ خیبر میں شجاعت:

اسلام قبول کرنے یا صلح کرنے کے بجائے حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مقابلہ کرنے کے لیے مرحب یہ رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر نکلا ۔ قَدْ عَلِمَتْ خَیْبرُ اَنِّی مُرَحَّب شَاکِی السَّلاحِ بَطَل مُجَرَّب یعنی بے شک خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیاروں سے لیس، بہادر اور تجربہ کار ہوں ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اس کے جواب میں رجز کا یہ شعر پڑھا ۔ اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِی اُمِّیْ حَیْدَرَہ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ یعنی میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام ’’شیر‘‘رکھا ہے ۔ میری صورت جھاڑیوں میں رہنے والے شیر کی طرح خوفناک ہے ۔ مرحب بڑے گھمنڈ سے آیاتھا لیکنِ شیر خدا علی مرتضٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس زور سے تلوار ماری کہ اس کے سر کو کاٹتی ہوئی دانتو ں تک پہنچ گئی اور وہ زمین پر ڈھیر ہوگیا ۔ اس کے بعد آپ نے فتح کا اعلان فرمادیا ۔ (7)

حیدر کرار کی طاقت:

حضرت جابر بن عبداللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اس روز آپ نے خیبر کا دروازہ اپنی پیٹھ پر اُٹھا لیاتھا اور اس پر مسلمانوں نے چڑھ کر قلعہ کو فتح کرلیا تھا ۔ اس کے بعد آپ نے وہ دروازہ پھینک دیا ۔ جب لوگوں نے اسے گھسیٹ کر دوسری جگہ ڈالنا چاہا تو چالیس آدمیوں سے کم اسے اُٹھا نہ سکے ۔ (8)

آپ کا حُلیہ:

حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جسم کے فربہ تھے ۔ اکثر خود استعمال کرنے کی وجہ سے سر کے بال اُڑے ہوئے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت قوی اور میانہ قد مائل بہ پستی تھے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا پیٹ دیگر اعضاء کے اعتبار سے کسی قدر بھاری تھا ۔ مونڈھوں کے درمیان کا گوشت بھرا ہوا تھا ۔ پیٹ سے نیچے کا جسم بھاری تھا ۔ رنگ گندمی تھا ۔ تمام جسم پر لمبے لمبے بال تھے ۔ آپ کی ریش ِ مبارک گھنی اور دراز تھی ۔ (9)

یہودی کو لاجواب کردیا:

مشہور ہے کہ ایک یہودی کی داڑھی بہت مختصر تھی ٹھوڑی پر صرف چند گنتی کے بال تھے اور حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی داڑھی مبارک بڑی گھنی اور لمبی تھی ۔ ایک دن وہ یہودی حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کہنے لگا :اے علی!تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن میں سارے علوم ہیں اور تم باب مدینۃ العلم ہو تو بتاؤقرآن میں تمہاری گھنی داڑھی اور میری مختصر داڑھی کا بھی ذکر ہے ۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:ہاں !سورۂ اعراف میں ہے (: وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ-وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًاؕ-كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠(۵۸) ) یعنی جو اچھی زمین ہے اس کی ہریالی اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس میں سے نہیں نکلتی مگر تھوڑی بمشکل ۔ (10) تو اے یہودی وہ اچھی زمین ہماری ٹھوڑی ہے اور خراب زمین تیری ٹھوڑی ۔ معلوم ہوا کہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا علم بہت وسیع تھاکہ اپنی گھنی داڑھی اور یہودی کی مختصر داڑھی کا ذکر آپ نے قرآن مجید میں ثابت کردکھایا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن سارے علوم کا خزانہ ہے مگر لوگوں کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ایک شاعر نے بہت خوب کہا ہے ۔ جَمِيعُ الْعِلْمِ فِی الْقُرانِ لکِنْ تَقَاصَرَ عَنْہُ اَفْھَامُ الرِّجَال

مشق

(۱) سوال:حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جنگِ بدر میں شجاعت کا واقعہ تفصیلاً بیان کیجئے …؟ (۲) سوال:جنگ احدمیں کفار نے کیا افواہ اڑائی تھی نیز حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سن کرکیا فیصلہ کیا…؟ (۳) سوال:”علی مجھ سے ہے اورمیں علی سے ہو“یہ بشارت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کب عطافرمائی…؟ (۴) سوال:جنگ خندق میں حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور عمرو بن عبد ود کے مقابلے کا تفصیلی ذکر کیجئے …؟ (۵) سوال: اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِی اُمِّیْ حَیْدَرَہ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ مذکورہ شعر حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کب پڑھا تھا نیز اس کا ترجمہ کیجئے …؟ (۶) سوال:آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حلیہ مبارکہ تفصیل سے بیان کیجئے نیز داڑھی کے متعلق پوچھنے والے یہودی کو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کس طرح لاجواب کردیا…؟
1 (اسدالغابۃ، علی بن ابی طالب، ۴ /۱۰۱) 2 (سیرۃ ابن ہشام، ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبدالمطلب، جزء۱، ص۵۵۲) 3 (الکامل فی التاریخ، ذکر غزوۃ احد، ۲ /۴۸) 4 (تاریخ مدینۃ دمشق، علی بن ابی طالب، ۴۲ /۷۸) 5 (تاریخ مدینۃ دمشق، علی بن ابی طالب، ۴۲ /۷۸)(الکامل فی التاریخ، ذکر غزوۃ احد، ۲ /۴۸) 6 (صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، الحدیث:۳۷۰۱، ۲ /۵۳۴) (البدایۃ والنہایۃ، ۳ /۳۵۹) 7 (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا، الحدیث:۱۸۰۷، ص۱۰۰۵) 8 (الریاض النضرۃ، علی بن ابی طالب، الفصل السادس فی خصائصہ، ۲ /۱۵۱، جزء۳) 9 (معرفۃ الصحابۃ، معرفۃ نسبۃ علی بن ابی طالب، ۱ /۹۶)(الریاض النضرۃ، علی بن ابی طالب، الفصل الثالث فی صفاتہ، ۲ /۱۰۶، جزء۳) 10 (سورۃ الاعراف، الایۃ۵۸، پ۸)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن