30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اس دنیا میں مبعوث فرمائے گئے ۔ یا کچھ کم و بیش دولاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس دنیا کو سرفراز فرمایا، وہ لوگ صاحبِ اولاد بھی ہوئے ، لڑکے والے ہوئے اور لڑکی والے بھی ہوئے تو جن لوگوں کے ساتھ انبیائے کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی صاحبزادیوں کو منسوب فرمایا وہ یقیناً عزت وعظمت والے ہوئے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالٰی کے نبی کا داماد ہونا ایک بہت بڑا مرتبہ ہے جو خوش نصیب انسانوں ہی کو نصیب ہوا ہے ۔ مگر اس سلسلے میں جو خصوصیت اور جو انفرادیت حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حاصل ہے وہ کسی کو نہیں کہ حضرت آدم عَلَیْہِمُ السَّلَام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں ہیں لیکن حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نکاح میں صرف نبی نہیں بلکہ نبی الانبیاء اور سید الانبیاء حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دوصاحبزادیاں یکے بعد دیگرے نکاح میں آئیں ۔
عثمان کے نکاح میں دے دیتا:
اور صرف یہی نہیں بلکہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمارہے تھے کہ اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے عثمان !تم سے کردیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی ۔ (1)(تاریخ الخلفاء، ص۱۰۴)
ذوالنورین لقب کی وجہ:
اوربیہقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی سنن میں لکھا ہے کہ عبداللہ جعفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے ماموں حسین جعفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دریافت کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لقب ذوالنورین کیوں ہے ؟ میں نے کہا :نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں ، اسی لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ذوالنور ین کہتے ہیں ۔ (2)
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علَیْہِ الرحمۃُ والرِضْوان فرماتے ہیں ۔
نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
(حدائق بخشش)
بدری صحابہ میں شمار:
سرکار اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبل اعلان نبوت اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نکاح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیا تھاجوغزوۂ بدر کے موقع پر بیمار تھیں اور انہی کی تیمار داری کے سبب حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس جنگ میں شرکت نہیں فرماسکے اور سید ِعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے مدینہ طیبہ ہی میں رہ گئے تھے مگر چونکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بدر کے مالِ غنیمت سے حصہ عطا فرمایا تھا اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بدریوں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔
غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے فتح پانے کی خوشخبری لے کر جس وقت حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ پہنچے اس وقت حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو دفن کیا جارہا تھا ۔ ان کے انتقال فرما جانے کے بعد حضور سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نکاح حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کردیا تو ان کا بھی ۹ ہجری میں وصال ہوگیا ۔
غرض یہ کہ اس طرح حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ذوالنورین ہوئے ۔ (3)
آپ کی اولاد :
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک صاحبزادے حضرت بی بی رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شکمِ مبارک سے پیدا ہوئے تھے جن کا نام عبداللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا ۔ وہ اپنی ماں کے بعد چھ برس کی عمر پا کر انتقال کر گئے اور حضرت بی بی ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے آپ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ (4)
نام و نسب:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ’’عثمان ‘‘ کنیت ابو عمر اور لقب ”ذوالنورین“ ہے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ، عثمانِ بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف ، یعنی پانچویں پشت میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سلسلۂ نسب رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شجرۂ نسب سے مل جا تا ہے ۔
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نانی ام حکیم جو حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھی وہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والدِ گرامی حضرت عبداللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں، اس رشتہ سے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ حضور سیدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی کی بیٹی تھیں، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی ۔ (5) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
1 (تاریخ الخلفاء، عثمان بن عفان، فصل فی الاحادیث الواردۃ الخ، ص 121)
2 (السنن الکبرٰی، کتاب النکاح، باب تسمیۃ ازواج النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ ۔ الخ، الحدیث:۱۳۴۲۷، ۷ /۱۱۵)
3 (تاریخ الخلفاء، عثمان بن عفان، ص۱۱۸)
4 (المواہب اللدنیاو شرح الزرقانی، باب ذکر اولادہ الکرام، ۴ /۳۲۲، ۳۲۴، ۳۲۷)
5 (اسد الغابۃ، عثما ن بن عفان، ۳ /۶۰۶)(تاریخ الخلفاء، عثمان بن عفان، ص۱۱۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع