الدرس السبعون
جواسم بواسطہ حرف جر مفعول بہ بنے اُسے صلہ کہتے ہیں: غضب اللہ علیہم۔ اسی طرح سات حروفِ جارّہ(مِنْ، اِلٰی، عَنْ، عَلٰی، فِيْ، بَائ اور لَام) کوبھی صلہ کہتے ہیں مثلًا: یؤمنون بالغیب میں بَائ، یُؤْمِنُوْنَ کاصلہ ہے ۔
عربی عبارت کے فہم کے لیے صلات کے معانی معلوم ہونا اور یہ معلوم ہوناکہ کونسا فعل کس صلے کے ساتھ کس معنی میں آتا ہے بہت ضروری ہے،لیکن یہاں صرف صلات کے بعض معانی کے بیان پر اکتفاء کیا جائے گا۔
.1مِنْ: ۱۔ابتدا ئ: سِرْتُ مِنَ الْبَصَرَۃِ اِلَی الْکُوْفَۃِ۔ ۲۔تبعیض: أَخَذْتُ مِنَ الدَّرَاہِمِ۔ ۳۔تعلیل: مما خطیئاتہم اغرقوا۔
.2اِلٰی: ۱۔انتہا ئ: وَصَلْتُ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ۔ ۲۔بمعنی مَعَ: لا تاکلوا اموالہم الی اموالکم۔ ۳۔بمعنی فِيْ : لیجمعنکم الی یوم القیامۃ۔
.3فِيْ: ۱۔ظرفیت : اَلْمَالُ فِي الْکِیْسِ۔ ۲۔بمعنی عَلٰی: لاصلبنکم فی جذوع النخل۔ ۳۔سببیت: أُخِذَتْ اِمْرَأَۃٌ فِيْ ہِرَّۃٍ۔
.4عَنْ: ۱۔ مجاوزت : رَمَیْتُ السَّہْمَ عَنِ الْقَوْسِ۔ ۲۔بمعنی بائ: وما ینطق عن الہوی۔ ۳۔تعلیل: وما نحن بتارکی الہتنا عن قولک۔
.5عَلٰی: ۱۔استعلاء : زَیْدٌ عَلَی السَّطْحِ۔ ۲۔بمعنی بائ: مَرَرْتُ عَلَیْہِ۔ ۳۔بمعنی فِيْ: ان کنتم علی سفر۔
.6بائ: ۱۔الصاق : مَرَرْتُ بِخَالِدٍ۔ ۲۔استعانت: کَتَبْتُ بِالْقَلَمِ۔ ۳۔تعدیہ: ذہب اللہ بنورہم۔ ۴۔ظرفیت: زَیْدٌ بِالْبَلَدِ۔
.7لام: ۱۔اختصاص : اَلْجُلُّ لِلْفَرَسِ۔ ۲۔تعلیل: جِئْتُکَ لِاِکْرَامِکَ۔ ۳۔قسم: لِلّٰہِ لَا یُؤَخَّرُ الْأَجَلُ۔
تمرین (1)
س:.1صلہ کس کس چیز کو کہا جاتاہے؟ س:.2صلات کے معانی بیان کیجیے۔
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جو اسم مفعول بہ واقع ہو اُسے صلہ کہاجاتاہے۔ .2صلہ کا اطلاق حروف جارہ پر بھی ہوتا ہے۔
تمرین (3)
صلات کے بارے میں بتائیے کہ کونسا صلہ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔
۱۔سبحن الذی اسری بعبدہ۔ ۲۔سیروا فی الارض۔ ۳۔عَلَیْہِ دَیْنٌ۔ ۴۔وابیضت عیناہ من الحزن۔ ۵۔ربنا اصرف عنا عذاب جہنم۔ ۶۔خَرَجْتُ لِمَخَافَتِکَ۔ ۷۔ولقد نصرکم اللہ ببدر۔ ۸۔فذلکن الذی لمتننی فیہ۔ ۹۔فمن یاتیکم بماء معین۔ ۱۰۔ذہبت من مکۃ الی المدینۃ۔ ۱۱۔لہ ملک السموت والارض۔ ۱۲۔مررت بزید۔
الدرس الحادي والسبعون
جملہ محلًّاکبھی مرفوع،کبھی منصوب، کبھی مجروراور کبھی مجزوم ہوتا ہے اور کبھی اس کا کوئی اعراب نہیں ہوتا۔
محلا مرفوع:
وہ جملہ جومبتداکی، یا حرف مشبہ بالفعل کی، یالائے نفی جنس کی خبر ہو،یا کسی مرفوع اسم کی صفت واقع ہو: زَیْدٌ یَذْہَبُ، اِنَّ زَیْدًا أَبُوْہٗ عَالِمٌ، جَائَ رَجُلٌ یَسْعٰی۔
محلا منصوب:
وہ جملہ جو فعل ناقص کی، یافعل مقاربہ کی ،یامَا یالَا مشابہ بلیس کی خبر ہو، یا حال ہو، یا مفعول بہ ہو(۲۱) یا کسی منصوب اسم کی صفت واقع ہو: کَانَ زَیْدٌ یُحِبُّ الْفُقَرَائَ۔
محلا مجرور:
وہ جملہ جومضاف الیہ ہو،یا کسی مجرور اسم کی صفت واقع ہو: ہٰذَا یَوْمُ یُسَافِرُ زَیْدٌ، نَظَرْتُ اِلٰی رَجُلٍ أَتَمَّ عَمَلَہٗ۔
محلا مجزوم:
وہ جملہ جوشرط جازم کا جواب ہو : مَنْ یَکْسَلْ یَنْدَمْ۔
تنبیہ:
جو جملہ جملے کاتابع ہو اس کا حکم متبوع کے مطابق ہوتاہے : مُحَمَّدٌ یَقْرَأُ وَیَکْتُبُ، کَانَ الشَّمْسُ تَبْدُوْ وَتَخْفٰی۔
درج بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ سات قسم کے جملوں کا اعراب ہوتا ہے:
۱۔خبر ۲۔حال ۳۔مفعول بہ ۴۔مضاف الیہ ۵۔جواب شرط جازم ۶۔صفت ۷۔اعرابی جملے کاتابع۔
جن جملوں کا کوئی اعراب نہیں ہوتا اُن کی نو(9) قسمیں ہیں:
۱۔اِبتِدائِیّہ (وہ جملہ جو ابتدائے کلام میں ہو) : اَللّٰہُ خَالِقٌ۔
۲۔اِستِئنافِیّہ (وہ جملہ جس کا ماقبل سے کوئی اعرابی تعلق نہ ہو) : یَقُوْلُ زَیْدٌ أَنَا عَالِمٌ، اِنَّہٗ جَاہِلٌ۔
۳۔تَعلیْلِیّہ (وہ جملہ جوما قبل کی علت یا سبب بیان کرے) : أَکْرَمْتُ بَکْرًا فَاِنَّہٗ عَالِمٌ۔
۴۔ مُعْترِضَہ(وہ جملہ جودومتلازم چیزوں (۲۲)کے درمیان آجائے): اَللّٰہُ تَعَالٰی کَرِیْمٌ۔
۵۔تفْسِیرِیّہ (وہ جملہ جو ماقبل کی تفسیر واقع ہو): اِنْقَطَعَ رِزْقُہٗ أَيْ مَاتَ۔
۶۔صِلَہ : قَدْ فَازَ مَنْ أَسْلَمَ۔
۷۔جواب قسم: وَاللّٰہِ اِنَّہٗ حَقٌّ۔
۸۔جواب شرط غیر جازم: لَوْلَا الصَّحَابَۃُ لَضَلَلْنَا۔
۹۔تابع(ایسے جملے کا جس کا کوئی محل اعراب نہ ہو): جَائَ زَیْدٌ وَذَہَبَ أَخُوْہٗ۔
تمرین (1)
س:.1کون کونسے جملے محلًّا مرفوع یا منصوب یامجرور یا مجزوم ہوتے ہیں مع امثلہ بیان کیجیے۔ س:.2کتنے اور کون کونسے جملوں کا کوئی اعراب نہیں ہوتا ہے ؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جوجملہ صفت واقع ہو وہ محلًّامجرور ہوتاہے۔ .2جو جملہ کسی جملے کاتابع ہو اس کاکوئی اعراب نہیں ہوتا۔ .3جو جملہ جواب شرط واقع ہو وہ محلًّا مجزوم ہوتاہے۔ .4جوجملہ خبر واقع ہو وہ محلاًّمرفوع ہوتاہے۔
تمرین (3)
خط کشیدہ جملوں کا اعراب اور اُس کی وجہ بتائیے، اورجس جملے کا کوئی اعراب نہیں اُس کے بارے میں یہ بتائیے کہ وہ نو قسموں میں سے کونسی قسم ہے ۔
۱۔جَائَ الَّذِيْ أَلَّفَ کِتَابًا فِي الْفِقْہِ۔۲۔لَا تَحْتَرِمْ رَجُلًا یَبْتَدِعُ فِي الدِّیْنِ۔ ۳۔فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک۔ ۴۔جَلَسْتُ حَیْثُ الْمَنْظَرُ جَمِیْلٌ۔ ۵۔وانہ لقسم لو تعلمونعظیم۔ ۶۔تَمَسَّکْ بِالْفَضِیْلَۃِ فَإِنَّہَا زِیْنَۃُ الْعُقَلَائِ۔ ۷۔لَا سُرُوْرَیَدُوْمُ ہٰہُنَا۔ ۸۔کَانَ بَکْرٌ یَعْمَلُ الْخَیْرَ وَیَجُوْدُ۔ ۹۔ان الابرار لفی نعیم۔ ۱۰۔یکاد البرق یخطف ابصارہم۔
الدرس الثاني والسبعون
.1پہلااسم بظاہرنکرہ ہواور دوسرا معرفہ ہو تو پہلا مضاف اوردوسرا مضاف اِلیہ بنتاہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی نَعْمَائِہٖ، وَالصَّلَاۃُ عَلٰی سَیِّدِ الْأَنْبِیَائِ۔ اورمضاف کی صفت مضاف اِلیہ کے بعد آتی ہے: وَعَلٰی آلِہٖ الْمُجْتَبٰی۔
.2 دو اسم تعریف، تنکیراوراعراب وغیرہ میں برابر ہوں یا نکرہ اسم کے بعدجملہ آجائے تو پہلااسم موصوف اور دوسرااسم یا جملہ صفت بنتاہے: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اَلنَّوْعُ الْأَوَّلُ حُرُوْفٌ تَجُرُّ الْاِسْمَ وَتُسَمّٰی حُرُوْفًا جَارَّۃً۔
.3معرفہ کے بعد نکرہ یاجملہ فعلیہ یاجملہ اسمیہ ہوتومعرفہ مبتدا اوربعد کا لفظ خبر بنتا ہے: زَیْدٌ مُنْطَلِقٌ، ہِيَ تَدْخُلُ عَلَی الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، کَأَنَّ ہِيَ لِلتَّشْبِیْہِ۔
.4ضمیر منفصل مبتدا ، خبریا مفعولبنتی ہے: ہِيَ لِلتَمَنِّيْ، زَیْدٌ ہُوَ، اِیَّاکَ نَعْبُدُ۔ اور ضمیر متصل فاعل، نائب فاعل ،مفعول ، مجرور بحرف جر ، مضاف الیہ اور فعل ناقص یا حرف مشبہ بالفعل کا اسم بنتی ہے: اِنِّيْ کُنْتُ نَصَرْتُکَ بِمَالِيْ۔
.5اسم اشارہ کے بعد معرف باللام اسم ہوتووہصفت،بدل یا خبر بنتاہے، نکرہ یا مضاف ہو تووہ خبر بنتا ہے: ہٰذَا الْقَلَمُ، ہٰذِہٖ قِطَّۃٌ، ھٰذَا کِتَابُکُمْ۔مرکب اِضافی کے بعداسم اشارہ ہو تواسم اشارہ مضاف کی صفت بنتاہے: کِتَابُکُمْ ھٰذَا۔
.6اسم موصول (اَلَّذِيْ وغیرہ)اور موصول حرفی (أَنَّ، أَنْ، مَا) اپنے صلے کے ساتھ کلام کا جز (فاعل، مبتدا، خبر ،مفعول، مضاف الیہ اور مجرور بحرف جر وغیرہ) بنتے ہیں: بَلَغَنِيْ أَنَّ زَیْدًا عَالِمٌ، قَدْ یَکُوْنُ مَا بَعْدَہَا دَاخِلًا فِیْمَا قَبْلَہَا۔
.7ظرف اور جار مجروراپنے متعلَّق محذوف کے اعتبار سے خبر، صفت اور حال وغیرہ بنتے ہیں: اَلسَّمَائُ فَوْقَنَا، زَیْدٌ عَلٰی السَّقْفِ، رَأَیْتُ نَہْرًا تَحْتَ الشَّجَرَۃِ، رَأَیْتُ کَوْکَبًا فِي السَّمَائِ، رَأَیْتُ الْقَمَرَ بَیْنَ السَّحَابِ، جَائَ زَیْدٌ عَلَی الْفَرَسِ۔
.8فعل مدح یاذم میں یاتو فعل مع فاعل جملہ فعلیہ خبر مقدم اور مخصوص ٗمبتدا مؤخر، اور مبتدا خبر جملہ اسمیہ انشائیہ بنتاہے۔یافعل مع فاعل الگ جملہ فعلیہ بنتاہے اور مخصوص ٗمبتدا محذوف ہُوَ وغیرہ کی خبر،اورمبتدا خبر الگ جملہ اسمیہ بنتا ہے۔
.9مَا أَفْعَلَہٗ میں مَا بمعنی أَيُّ شَیْئٍمبتدا، أَفْعَلَہٗ فعل با فاعل ومفعول جملہ فعلیہ ہو کر خبراور مبتدا خبرجملہ اسمیہ انشائیہ بنتاہے۔اورأَفْعِلْ بِہٖ میں أَفْعِلْ صیغہ امر بمعنی ماضی ،اوربِہٖ میں بائ زائدہ ، ہائ فاعل ،اور فعل بافاعل جملہ فعلیہ انشائیہ بنتاہے۔
.10فعل ناقص(مع اسم وخبر)جملہ فعلیہ خبریہ اور فعل مقاربہ ٗجملہ فعلیہ اِنشائیہ بنتا ہے اور اسم ِفعل مبتدا اپنے فاعل قائم مقام خبر سے ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ بنتاہے۔
.11شبہ فعل(اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہہ اور اسم تفضیل) کو ہمیشہ اُس کے مرفوع (ضمیر مستتر یا اسم ظاہر)کے ساتھ ملاکر ترکیب میں لیتے ہیں۔
.12لقب مُبدَل منہ اورعلم بدل بنتاہے اور علم کے بعدآنے والا لفظ اِبْن جو ایک اور علم کی طرف مضاف ہواور آخر میں آنے والا اسم منسوب دونوں علم کی صفت بنتے ہیں: أَلَّفَہٗ الشَّیْخُ عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُرْجَانِيُّ۔
.13 متعددکے بعد اس کی تفصیل آرہی ہو تو تفصیل میں مذکور اشیاء کو تین طرح پڑھنا جائز ہوتاہے: ۱۔مبدل منہ کے مطابق۔ ۲۔مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع۔ ۳۔أَعْنِيْ فعل محذوف کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب : نَظَرْتُ اِلَی الرَّجُلَیْنِ زَیْدٍ وَبَکْرٍ۔
.14قاعدہ وغیرہ سمجھانے کے لیے مِثْلُ، نَحْوُوغیرہ سے مثال بیان کی جاتی ہے، اس میں نَحْوُ، مِثْلُ کومضاف اورمبتدا محذوف (مِثَالُہٗ)کی خبر، مبتدا خبر کو جملہ اسمیہ خبریہ اور مابعد پورے جملے کو مراد اللفظ کہہ کر مضاف الیہ بناتے ہیں۔
.15لفظ ایک حرف پر مشتمل ہوتو اُسے باسمہ تعبیر کریں گے ورنہ بلفظہ: مَا نَصَرْتُہٗ میں : مَا حرفِ نفی، نَصَرَ فعل ماضی، تاء فاعل، ہاء مفعول (نہ کہ: تُ فاعل، ہٗ مفعول)
.16اسم استفہام یا شرط سے پہلے جاریامضاف ہو تویہ مجرور ہوگا: عم یتساء لون، غُلَامُ مَنْ جَائَ، بِمَنْ تَمُرُّ أَمُرُّ، غُلَامَ مَنْ تَشْتَرِ أَشْتَرِ۔
.17اسم استفہام یا اسم شرط زمان یا مکان پر دلالت کرے تو مفعول فیہ بنے گا: مَتٰی تَرْجِعُ، أَیْنَ تَذْہَبُ، مَتٰی تُسَافِرْ أُسَافِرْ، أَیْنَ تُقِمْ أُقِمْ۔
.18اسم استفہام کے بعد نکرہ واقع ہو تو یہ مبتدا اور معرفہ واقع ہو تویہ خبر بنتاہے: مَنْ صَدِیْقٌ لَکَ، مَنْ بَکْرٌ۔ (اسم شرط میں یہ صورت نہیں پائی جاتی)
.19اسم استفہام یا اسم شرط کے بعد فعل لازم ہو تو یہ مبتدا بنے گا: مَنْ قَامَ، مَنْ یَقُمْ أَقُمْ مَعَہٗ۔اور فعل متعدی ہواور اِسی پر واقع ہو تو یہ مفعول بہ بنے گا: أَيَّ قَلَمٍ تَشْتَرِيْ؟ ایا ما تدعوا۔ اور اِس کی ضمیر یا اِس کے متعلِّق پر واقع ہوتو دونوں امر جائز ہیں : مَنْ رَأَیْتَہٗ، مَنْ رَأَیْتَ أَخَاہٗ، مَنْ تَرَہٗ أَرَہٗ، مَنْ تَرَ أَخَاہٗ أَرَ أَخَاہٗ۔
تمرین (1)
س:.1فعل ناقص، فعل مقاربہ اورفعل مدح وذم اپنے اسم اور خبر یا اپنے فاعل وغیرہ سے مل کر کونسا جملہ بنتے ہیں؟ س:.2 فعل تعجب اور اسم فعل اپنے فاعل اور مفعول وغیرہ سے مل کر کونسا جملہ بنتے ہیں؟ س:.3 جار مجرور ترکیب میں کیا بنتے ہیں؟ س:.4 اسم استفہام اور اسم شرط ترکیب میں کیا بنتے ہیں؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1ضمیر مرفوع متصل ہمیشہ فاعل بنتی ہے۔ .2فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ بنتاہے۔ .3ضُرِبْتُ میں تُ نائب الفاعل ہے۔
تمرین (3)
درج ذیل جملوں کی ترکیبِ نحوی کیجیے۔
۱۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی نَعْمَائِہٖ الشَّامِلَۃِ وَآلَائِہٖ الْکَامِلَۃِ۔ ۲۔أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ ۳۔اَلنَّوْعُ الْخَامِسُ حُرُوْفٌ تَنْصِبُ الْفِعْلَ الْمُضَارِعَ۔ ِ۴۔اَلتَّرَجِّيْ مَخصُوْصٌ بِالْمُمْکِنَاتِ۔ ۵۔مَا ولَا تَرْفَعَانِ الْاِسْمَ وَتَنْصِبَانِ الْخَبَرَ۔ ۶۔یَا ہِيَ لِنَدَائِ الْقَرِیْبِ وَالْبَعِیْدِ۔ ۷۔مَنْ أَخَذَ الْکِتَابَ؟۔ ۸۔اِعْلَمْ أَنَّ الْعَوَامِلَ مِائَۃُ عَامِلٍ۔ ۹۔وَجَدْتُّ اللّٰہَ غَفُوْرًا۔ ۱۰۔حَبَّذَا زَیْدٌ رَاکِبًا۔ ۱۱۔نِعْمَتِ الْمَرْأَۃُ زَیْنَبُ۔ ۱۲۔کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔
بحمد اللّٰہ تعالی وکرمہ قد انتہی الجزء الثاني من کتاب ’’خلاصۃ النحو‘‘ وبہ تمّ الکتاب۔
الحواشي المتعلقۃ بالجزء الثاني من ’’خلاصۃ النحو‘‘
(۱)…مگرخیال رہے کہ معدود کی تذکیر وتانیث مفرد میں دیکھیں گے مثلًا أَرْغِفَۃٌ کا مفرد رَغِیْفٌ ہے جو مذکر ہے لہذا اس کے اسم عدد میں تاء آئے گی: خَمْسَۃُ أَرْغِفَۃٍ۔ أَدْوُرٌ کا مفرددَارٌ ہے جو مؤنث ہے لہذا اس کے اسم عدد میں تاء نہیں آئے گی: سِتُّ أَدْوُرٍ۔
فائدہ:
تین سے دس تک اسم عدد کبھی معدود کی طرف مضاف ہوکرآتاہے اور کبھی معدود کی صفت بن کر: سَبْعَۃُ غِلْمَۃٍ، غِلْمَۃٌ سَبْعَۃٌ۔پہلی صورت میں اسم عددکا اعراب عامل کے مطابق اور معدود مجرورہوگا اور دوسری صورت میں معدود کا اعراب عامل کے مطابق اور اسم عدد اس کاتابع ہوگا۔
(۲)…خیال رہے کہ کَأَیِّنْ ذو الحال اور ما بعد جار مجرور حال بنتاہے پھر اگر اس کے بعد فعل لازم ہو یاایسا فعل متعدی ہوجس کا مفعول بھی موجود ہو: کَأَیِّنْ مِنْ قَرْیَۃٍ مَرَرْتُ بِہَا، کَأَیِّنْ مِنْ کِتَابٍ قَرَأْتُہٗ۔ تو کَأَیِّنْ مبتدا اور مابعد جملہ خبر بنے گا، اور اگر ایسا فعل متعدی ہو جس کا مفعول موجود نہ ہو: کَأَیِّنْ مِنْ بَلَدٍ زُرْتُ۔ تو یہ مفعول بہ مقدم بنے گا اوراگریہ مابعد فعل کے مرات پر دلالت کرے: کَأَیِّنْ مِنْ مَرَّۃٍ سَافَرْتُ۔ تو یہ مفعول مطلق مقدم بنے گا۔
اسی طرح کَذَا مفعول بہ، مبتدا، فاعل اور مفعول مطلق بنتاہے: قَبَضْتُ کَذَا قَلَمًا، کَذَا دِرْہَمًا عِنْدِيْ، جَائَ نَا کَذَا طَالِبًا، ذَہَبْتُ إِلٰی الْحَدِیْقَۃِ کَذَا مَرَّۃً۔
اوریونہی کَمْ مبتدا، خبر، مفعول بہ، مفعول فیہ اور مفعول مطلق بنتاہے : کَمْ قَلَمًا عِنْدَہٗ؟ کَمْ إِخْوَتُکَ؟ کَمْ کِتَابًا قَرَأْتَ؟ کَمْ سَاعَۃً اشْتَغَلْتَ؟ کَمْ مَرَّۃً سَافَرْتَ؟ کَمْ صَدِیْقٍ لِيْ، کَمْ دَنَانِیْرَ مَالِيْ، کَمْ مِنْ بَلَدٍ زُرْتُ، کَمْ شَہْرٍ صُمْتُ، کَمْ مَرَّۃٍ سَافَرْتُ۔
(۳)…اگر ثلاثی مجردفعل کے عین کلمے میں تعلیل ہوئی ہو تو اس کے اسم فاعل میں عین کلمہ ہمزہ سے بدل جائے گا: بَاعَ یَبِیْعُ، قَامَ یَقُوْمُ سے بَائِعٌ، قَاِئمٌ۔ ورنہ اپنی حالت پر رہے گا: أَیِسَ یَأْیَسُ، عَوِرَ یَعْوَرُ سے آیِسٌ، عَاوِرٌ۔
تنبیہ:
۱۔جو اسم فاعل باب افعال سے ما قبل آخر کے فتح کے ساتھ یا فاعل کے وزن پر آتے ہیں وہ شاذ ہیں: مُلْفَجٌ(مفلس) مُحْصَنٌ(شادی شدہ) سَیْلٌ مُفْعَمٌ(بھرا ہواسیلاب) اسی طرح أَیْفَعَ الْغُلَامُ(سن بلوغت کو پہنچنا)، أَوْرَسَ الشَّجَرُ(پتوں کا سبز ہونا)اور أَبْقَلَ الْمَکَانُ(سبزی نکالنا) سییَافِعٌ، وَارِسٌ اوربَاقِلٌ۔
۲۔اسم فاعل جب عامل ہوتو اس کا ترجمہ حال یا مستقبل والا کریںگے: زَیْدٌ مُکْرِمٌ بَکْرًا(زید بکر کی عزت کرتاہے، زید بکر کی عزت کرے گا) اسم مفعول کے ترجمے میں بھی اس چیز کا خیال رکھیئے۔
(۴)…چار اوزان ایسے ہیں جو’’مفعول‘‘ کے معنی میں آتے ہیں:
۱۔فَعِیْلٌ: قَتِیْلٌ، ذَبِیْحٌ، کَحِیْلٌ، حَبِیْبٌ، أَسِیْرٌ اورطَرِیْحٌ وغیرہ۔
۲۔فِعْلٌ: ذِبْحٌ، طِحْنٌ اور طِرْحٌ وغیرہ۔
۳۔فَعَلٌ: عَدَدٌ، سَلَبٌ اور جَلَبٌ وغیرہ۔
۴۔فُعْلَۃٌ: أُکْلَۃٌ، مُضْغَۃٌاور طُعْمَۃٌ وغیرہ۔(ان اوزان میں مذکر اور مؤنث مساوی ہوتے ہیں : رَجُلٌ قَتِیْلٌ، ذِبْحٌ، عَدَدٌ، أُکْلَۃٌ، اِمْرَأَۃٌ قَتِیْلٌ الخ)
(۵)…کسی معنی کے ثبوتی طورپر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ معنی کبھی ذات سے جدا نہ ہوسکے ایسا ثبوت تو دنیا میں خود ذات حادث کو حاصل نہیں تو اس کے معنی کو کہاں سے ملے! بلکہ یہاں ثبوت بمقابلہ حدوث ہے اور حدوث کا معنی یہ ہے کہ ذات کے اتصاف بالمعنی میں کسی زمانے کا اعتبار ہوجیسے: زَیْدٌ ضَارِبٌ جہاں یہ جملہ بولا جائے گا وہاں تین میں سے کسی ایک معنی کے لیے ہوگا:
۱۔ بمعنی ماضی یعنی زید نے مارا۔
۲۔بمعنی حال یعنی زیدمارتاہے یا مار رہاہے۔
۳۔ بمعنی استقبال یعنی زید مارے گا۔
اس کا مطلب یہ ہو ا کہ یہاں زید کے معنی ضرب سے متصف ہونے میں کسی نہ کسی زمانے کا اعتبار ہے لہذا ہم کہیں گے کہ ضَارِبٌ اُس ذات پر دلالت کررہا ہے جو معنی مصدری سے حدوثی طورپر متصف ہے ۔
اور ثبوت جبکہ حدوث کے مقابل ہے تو اس کا معنی یہ ہوگاکہ اتصاف بالمعنی میں کسی زمانے کا اعتبار نہ ہو۔ولایخفی أن عدم الاعتبار لیس باعتبار العدم فلا تغفل۔ نہ یہ کہ وہ معنی اُس سے کبھی جداہی نہ ہوسکے جیسے زَیْدٌ کَرِیْمٌ کا معنی ہے : زید سخی ہے لیکن یہاں اس پر دلالت نہیں کہ زید نے سخاوت کی یاوہ سخاوت کرتاہے یا وہ سخاوت کرے گا بلکہ قطع نظر عن الزمان صرف زید کے اتصاف بالکرم کا بیان ہے۔ ہاں! اتنا ہے کہ صفت مشبہہ جس معنی پر دلالت کرتی ہے وہ عادی اور جبلی ہوتا ہے اور تادیر موصوف کے ساتھ قائم رہتاہے لیکن صفت مشبہہ کے مدلول ثبوت ودوام کی تفسیر اس سے کرنا درست نہیں ۔ہذا ما ظہر لي والعلم بالحقّ عند ربي وہو تعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم۔
(۶)…کبھی دو چیزوں کے درمیان دومختلف صفتوں میں تفضیل جاری ہوتی ہے یعنی اِس چیز میں اِس کی صفت اُس چیز میں موجود اُس کی صفت سے بڑھ کر ہے: اَلْعَسْلُ أَحْلٰی مِنَ الْخَلِّ(شہد کی مٹھاس سرکے کی ترشی سے بڑھ کر ہے ) اَلصَّیْفُ أَحَرُّ مِنَ الشِّتَائِ(موسم گرما کی گرمی جاڑے کی سردی سے سخت تر ہے )
اور کبھی اسم تفضیل معنی تفضیل سے خالی بھی استعمال ہوتاہے : أَکْرَمْتُ الْقَوْمَ أَصْغَرَہُمْ وَأَکْبَرَہُمْ (میں نے قوم کے سبھی چھوٹوں بڑوں کا اکرام کیا) ربکم اعلم بکم، وہو الذی یبدأ الخلق ثم یعیدہ وہو اہون علیہ۔(یہاں أَعْلَمُاور أَہْوَنُ عَالِمٌ اور ہَیِّنٌ کے معنی میں ہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں نہ کوئی شریک ہے اور نہ مقدورات اس کی قدرت کے اعتبار سے مختلف ہیں کہ بعض ہلکے اور بعض زیادہ ہلکے ہوں )
(۷)…اضافت کی ایک چوتھی قسم بھی ہے اضافت بمعنی کاف جسے اضافت تشبیہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں یعنی وہ اضافت جس میں مضاف مشبہ بہ اور مضاف الیہ مشبہ ہو: أَمْطَرَتْ لُؤْلُؤَ الدَّمْعِ عَلٰی وَرْدِ الْخَدِّ، جَرَی ذَہَبُ الْأَصِیْلِ عَلَی لُجَیْنِ الْمَائِ۔ ان مثالوں میں مضاف (لؤلؤ، ورد، ذہب، لجین) مشبہ بہ اور مضاف الیہ (الدمع، الخد، الأصیل، المائ) مشبہ ہیں۔
(۸)…لہذا اس صورت میں اگر مضاف کو معرفہ لانا مقصود ہو تو اس پر الف لام لے آتے ہیں۔
فائدہ:
بعض اوقات مضاف ٗ مضاف الیہ سے تذکیر یا تانیث بھی حاصل کرتا ہے : یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا، شَمْسُ الْعَقْلِ یَنْکَسِفُ بِطَوْعِ الْہَوَی۔
قال الشاعر:
أَمُـرُّ عَـلَی الدِّیَارِ دِیَارِ لَیْـلٰی ٭ أُقَبِّلُ ذَا الْجِدَارَ وَذَا الْجِدَارَ
وَمَا حُبُّ الدِّیَارِ شَغَفْنَ قَلْبِيْ ٭ وَلٰـکِنْ حُبُّ مَنْ سَکَنَ الدِّیَارَ
(میں دیار لیلی پر گذرتاہوں تو کبھی اِس دیوار کوچومتا ہوں اور کبھی اُس دیوار کو، اِن گھروں کی محبت نے میرے دل میں گھر نہیں کیا بلکہ اِن میں رہنے والے کی محبت نے )
لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ رکھنا درست ہو ورنہ خودمضاف ہی کی تذکیر یا تانیث کی رعایت لازم ہوگی: جَائَ غُلَامُ فَاطِمَۃَ، سَافَرَتْ أَمَۃُ زَیْدٍ۔ (یہاں جَائَ تْ غُلَامُ فَاطِمَۃَیا سَافَرَ أَمَۃُ زَیْدٍ نہیں کہہ سکتے کیونکہ مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنانا درست نہیں لفساد المعنی)
(۹)…خیال رہے کہ دَرَی، أَلْفَی(بمعنی عَلِمَ)، تَعَلَّمْ(بمعنی اِعْلَمْ) جَعَلَ، عَدَّ، حَجَا(بمعنی ظَنَّ)، ہَبْ(بمعنی ظُنَّ) افعال قلوب سے مُلحق ہیں: وجعلوا الملائکۃ الذین ہم عباد الرحمن اناثا، تَعَلَّمُوْا أَنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ، أَلْفَیْتُ قَوْلَکَ صَوَابًا۔
قال الشاعر:
فَقُلْتُ أَجِرْنِيْ أَبَا خَالِدٍ ٭ وَإلَّا فَہَبْنِي امْرَئً ا ہَالِکًا
(میں نے کہا اے ابو خالد! مجھے پناہ دے ورنہ سمجھ لے کہ میں ہلاک ہوگیا)
تنبیہ:
افعال قلوب کے دونوں یا کسی ایک مفعول کو اقتصارًا (بلا قرینہ)حذف کردینا جائز نہیں اختصارًا (مع قرینہ)حذف کرناجائز ہے: این شرکائی الذین کنتم تزعمون یعنی تَزْعُمُوْنَہُمْ شُرَکَائِيْ، مَنْ یَسْمَعْ یَخَلْیعنی یَخَلْ مَا یَسْمَعُہٗ حَقًّا،اِسی طرح اگر کوئی پوچھے: ہَلْ تَظُنُّ أَحَدًا مُسَافِرًا؟اور جواب میں کہا جائے: أَظُنُّ خَالِدًا یعنی أَظُنُّ خَالِدًا مُسَافِرًا۔
فائدہ:
سات افعال اور ہیں جنہیں افعال تصییر یا افعال تحویل کہا جاتاہے : صَیَّرَ، رَدَّ، تَرَکَ، تَخِذَ، اِتَّخَذَ، جَعَلَ اور وَہَبَ۔
یہ افعال بھی افعال قلوب کی طرح دو ایسے مفعولوں کو نصب دیتے ہیں جو اصل میں مبتدا اور خبر ہوتے ہیں: ود کثیر من اہل الکتاب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارا، وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض، واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا، وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلناہ ہباء منثورا، تَخِذْتُکَ صَدِیْقًا۔
(۱۰)… قرینہ پائے جانے کی صورت میں اس مخصوص کو حذف کردینا بھی جائز ہے: نعم العبد انہ اواب، والارض فرشناہا فنعم الماہدون۔ یعنی نِعْمَ الْعَبْدُ أَیُّوْبُ، نِعْمَ الْمَاہِدُوْنَ نَحْنُ۔
فائدہ:
مخصوص کا حق یہ ہے کہ وہ فاعل کا ہم جنس ہو یعنی فاعل معنی ہوتو مخصوص بھی معنی ہواورفاعل ذات ہوتو مخصوص بھی ذات ہو: نِعْمَ الْعَمَلُ الْاِقْتِصَادُ، بِئْسَ الرَّجُلُ الْکَافِرُ۔
لہذا اگر کہیں مخصوص بظاہر فاعل کا ہم جنس نہ ہو تو وہاں عبارت بحذف مضاف ہوگی: نِعْمَ صِدْقًا الصِدِّیْقُ یہ اصل میں نِعْمَ صِدْقًا صِدْقُ الصِدِّیْقِ ہوگا۔ اسی طرح فرمان باری تعالیٰ: سَاء مثلا القوم الذین کذبوا بآیاتنا اس کی تقدیریہ ہوگی: سَائَ مَثَلا مَثَلُ الْقَوْمِ۔۔۔ الخ
(۱۱)…یاد رہے کہ ثلاثی مجرد فعل بر وزن فَعُلَ(بضم العین) انشاء مدح وذم میںنِعْمَاور بِئْسَ کے ساتھ ملحق ہے: کَرُمَ الْفَتَی بَکْرٌ، لَؤُمَ الْخَائِنُ زَیْدٌ، فَہُمَ التِّلْمِیْذُ بِلَالٌ، جَہُلَ الرَّجُلُ زَہِیْرٌ۔
لیکن یہ مدح یا ذم کے ساتھ ساتھ تعجب کا معنی بھی دیتاہے لہذا یہ فعل تعجب کے ساتھ بھی ملحق ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر بعض احکام اُس کے اور بعض احکام اِس کے جاری ہوتے ہیں مثلاً :
فَعُلَ کا فاعل نِعْمَاور بِئْسَ کے فاعل کی طرح یا تواسم ظاہر معرف باللام ہو گا: عَقُلَ الْفَتَی عَلِيٌّ۔ یا ضمیر مستتر ہوگا جس کی تمییز نکرہ منصوبہ سے آئے گی: ہَدُوَ رَجُلًا خَالِدٌ۔(البتہ اس کے فاعل کا الف لام سے خالی ہونا بھی جائزہے: خَطُبَ بَکْرٌ حالانکہ نِعْمَ اور بِئْسَ کے فاعل میں یہ جائز نہیں )
اور جس طرح أَفْعِلْ بِہٖ میں فاعل باء زائدہ کی وجہ سے لفظًامجرور ہوتاہے اسی طرح فَعُلَ کا فاعل بھی باء زائدہ کی وجہ سے لفظًا مجرور آسکتاہے: شَجُعَ بِخَالِدٍ۔
(۱۲)…خیال رہے کہ جوعلَم الف لام کے ساتھ موضوع نہ ہو لیکن اصل میں وہ صفت یا مصدریا ایسا اسم ہوجس کے معنی جنسی سے مدح یا ذم کا قصد کیا جاتا ہے تو اس پر الف لام لانا جائزہے: اَلْحَسَنُ، اَلْفَضْلُ، اَلْأَسَدُ، اَلْکَلْبُ وغیرہ (لکنہ غیر مطرد إذ لا یصح دخول اللام علی محمّد وعليّ)اور اس طرح کے علَم سے الف لام کا جدا ہونا بھی جائزہے۔
اورجوعلَم الف لام کے ساتھ موضوع ہو: اَلثُّرَیَّا(ثوریعنی بیل کی شکل میں ستاروں کا مجموعہ) اَلدَّبَرَانُ(قمر کی اٹھائیس منازل میں سے ایک منزل کا نام یا ثریا اور جوزاء کے درمیان کا ستارہ) اَلْعَیُّوْقُ (ثریا کے پیچھے نکلنے والا ستارہ جوجوزاء سے قبل طلوع ہوتاہے) اس سے الف لام جدا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایک ہی کلمے کے بعض حروف کی طرح ہے۔
(۱۳)…یاد رہے کہ معرفہ اور نکرہ میں فرق کرنے کے لیے مبنی پر تنوین تنکیر آسکتی ہے: صَہْ(ابھی خاموش رہ) صَہٍ(کبھی خاموش رہ) مَہْ(ابھی چھوڑ) مَہٍ(کبھی چھوڑ) اس کے علاوہ باقی تنوینات اربعہ مبنی پر نہیں آسکتیں۔واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم۔
(۱۴)…یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کے بعد اسم ہو۔ اوراگر اس کے بعد فعل ہو تو یہ واجب الاہمال ہو گا: وان کنت لمن الساخرین۔
فائدہ:
۱۔إنْ مخففہ کے بعد اگر فعل ہو تو وہ افعال ناسخہ(افعال ناقصہ، افعال مقاربہ، افعال قلوب) ہی میں سے ہوگا اور غالب طور پریہ فعل ماضی ہوگا: وان کانت لکبیرۃ الا علی الذین ہدی اللہ، قال تاللہ ان کدت لتردین، وان وجدنا اکثرہم لفاسقین۔ اور بعض اوقات فعل مضارع بھی ہوتاہے : وان نظنک لمن الکاذبین۔
۲۔أنْ مخففہ سے پہلے اگر فعل ہو تووہ یقین یا ظنِ غالب پر دال ہوگا: علم ان سیکون منکم مرضی، وظنوا ان لا ملجأ من اللہ الا الیہ۔
(۱۵)…خیال رہے کہ ’’شرط وجزاء کامضارع ہونا‘‘یہ خوداِن کے مجزوم ہونے کی علت نہیںہے بلکہ اِس کی علت ’’کلمۂ شرط جازمہ کا ہونا‘‘ہے لہذا یہ دونوں اسی وقت مجزوم ہوںگے جبکہ ا س کی علت بھی پائی جائے ورنہ نہیں ، یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے ’’غیرمنصرف پر الف لام آجائے یا اسے مضاف کردیا جائے تو اس پر کسرہ آجائے گا‘‘ ظاہر ہے کہ غیر منصرف پر ’’الف لام کا آنا‘‘ یا اس کا ’’مضاف ہونا ‘‘یہ خوداس پر کسرہ آنے کی علت نہیں ورنہ ’’مَسَاجِدُکُمْ فَسِیْحَۃٌ‘‘ میں ’’مَسَاجِدُ‘‘ پر کسرہ آجانا چاہیے واذ لیس فلیس۔
(۱۶)…یہاں چار کا ذکر حصر کے لیے نہیں ہے کیونکہ ان چار صورتوں کے علاوہ بھی جزا ء پر وجوبًا فَ آتی ہے مثلًا :
(الف)جب جزاء فعل جامد ہو: ان ترنِ انا اقل منک مالا وولدا فعسی ربی ان یؤتیَنِ خیرا منک۔
(ب)جب جزاء منفی بذریعہ مَا ہو: فان تولیتم فما سألتکم من اجر۔
(ج)جب جزاء کے شروع میں کَأَنَّمَا ہو: انہ من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا۔
(د)جب جزاء کے شروع میں اداۃ شرط آجائے: وان کان کبر علیک اعراضہم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض او سلما فی السماء فتأتیہم بآیۃ۔
(ہ)جب جزاء کے شروع میں رُبَّ ہو: اِنْ تَجِیْٔ فَرُبَمَا أَجِیْٔ۔
تنبیہ:
خیال رہے کہ جب إِنْ یا إِذَا کا جواب جملہ اسمیہ ہوتو اس پرفاء جزائیہ کے بجائے إِذَافجائیہ بھی آجاتا ہے: ان تصبہم سیئۃ بما قدمت ایدیہم اذا ہم یقنطون۔ فاذا اصاب بہ من یشاء من عبادہ اذا ہم یستبشرون۔
(۱۷)…خیال رہے کہ ضمیر غیبت وتکلم کی نداء بالاتفاق نا جائز ہے اور ضمیر مخاطب کی نداء کلام عرب میں شاذ اور نادر الوقوع ہے، ابن عصفور نے اسے صرف شعر میں مقصور کیا اور ابو حیان نے بالکل اِبا اختیار کیا۔
اور علی سبیل ا لشذوذ جب ضمیر مخاطب کو نداء دی جائے تو ضمیر رفع اور ضمیر نصب دونوں لانا جائز ہیں: یَا أَنْتَ، یَا إِیَّاکَ۔ یہ ضمیرمبنی برضمہ تقدیری اورمحل نصب میں کہلائے گی جیسے یَا ہٰذَا۔
فائدہ:
عرب کے ہاں نداء کا ایک اسلوب ہے جس میںنداء مقصود نہیں ہوتی بلکہ صرف اختصاص مقصود ہوتاہے: أَنَا أَفْعَلُ کَذَا أَیُّہَا الرَّجُلُ یہاں أَیُّہَا الرَّجُلُ سے کسی شخص کو نداء دینا مقصود نہیں بلکہ اپنے آپ کو خاص کرنا مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ مردوں میں خاص طور پر میں ایسا کروںگا، اسی طرح عرب کا قول ہے:
نَحْنُ نَفْعَلُ کَذَا أَیُّہَا الْقَوْمُ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَنَا أَیَّتُہَا الْعِصَابَۃُ۔
(۱۸)…ان حروف جارہ میں سے تَ اوروَ صرف قسم کے لیے آتے ہیں اور ان کا فعل ہمیشہ محذوف ہوتاہے، بَ اورلَِ قسم کے علاوہ دیگر معانی کے لیے بھی آتے ہیں اوران سے پہلے فعل قسم ذکر کرنا جائزہے۔
(۱۹)…خیال رہے کہ جو معنی کلام کی ایک نوع کو بدل کر اسے دوسری نوع بنادے جیسے: استفہام، قسم، تمنی، ترجی،شرط، تعجب، ضمیر شان اور لام ابتداء وغیرہ اس کے لیے صدر کلام ہے یعنی اس کا شروع کلام میں ہونا ضروری ہے۔
لہذا جب مبتدااِن معانی میں سے کسی معنی پر مشتمل ہوگا تواس مبتداکی تقدیم واجب ہوجائے گی اور جب خبر ایسے کسی معنی پر مشتمل ہوگی تواس خبر کی تقدیم واجب ہوجائے گی۔
(۲۰)…خیال رہے کہ اگر یہ لام کلمہ تثنیہ یا جمع کے صیغے میں لوٹایا جاتاہو تو نسبت میں اسے لوٹانا واجب ہے ورنہ واجب نہیں جیسے أَبٌ کے تثنیہ أَبَوَانِ اور سَنَۃٌ کی جمع سَنَوَاتٌ میں لام کلمہ لوٹایاگیا ہے لہذا نسبت میں اسے لوٹانا واجب ہے اور دَمٌ کے تثنیہ دَمَانِ اورلُغَۃٌ کی جمع لُغَاتٌ میں لام نہیں لوٹایا گیاہے لہذا نسبت میں اسے لوٹانا واجب نہیں: دَمِيٌّ، لُغِيٌّ۔وللإشارۃ إلی ہذا أوردت في الکتاب مثالین مما یجب فیہ ردّ اللام المحذوفۃ عند النسبۃ ومثالین مما لا یجب فیہ ذلک۔
(۲۱)…خیال رہے کہ تین مقامات پر جملہ بھی مفعول بہ واقع ہوتاہے :
۱۔وہ جملہ جو قَالَ اور اس کے مشتقات کے بعدواقع ہوجبکہ یہ نَطَقَ اور تَلَفَّظَ کے معنی میں ہوں: قَالَ الْمُعَلِّمُ فَازَ سَعِیْدٌ، یَقُوْلُ الْأَمِیْرُ اَلْمُجْتَہِدُ فَائِزٌ۔ (یہاں فَازَ سَعِیْدٌاوراَلْمُجْتَہِدُ فَائِزٌ ٗقَالَ اوریَقُوْلُ کامقول اور مفعول بہ ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں)
۲۔وہ جملہ جو افعال قلوب کے مفعول بہ اول کے بعد واقع ہو: ظَنَّ سَعِیْدٌ خَالِدًا یُسَافِرُ، حَسِبَ سَعِیْدٌ الْأَشْجَارَ أَوْرَاقُہَا تَسَاقَطُ۔(یہاں یُسَافِرُ اور أَوْرَاقُہَا تَسَاقَطُ ٗظَنَّ اور حَسِبَ کا مفعول بہ ثانی ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں)
۳۔وہ جملہ جو باب أَعْلَمَ کے مفعول بہ ثانی کے بعد واقع ہو: أَنْبَأْتُ زَیْدًا بَکْرًا وَالِدُہٗ أَدِیْبٌ۔(یہاں وَالِدُہٗ أَدِیْبٌ ٗ أَنْبَأْتُ کا مفعول بہ ثالث ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے)
فائدہ:
قَالَ سے فعل مضارع اگرظنّ کے معنی میں ہو، ضمیر خطاب کی طرف مسند ہو اور اس سے پہلے استفہام بھی ہو تو یہ افعال قلوب کی طرح دو مفعولوں کوبھی نصب دیتا ہے: أَ تَقُوْلُ خَالِدًا نَاجِحًا؟
(۲۲)…دو متلازم چیزوں سے مراد مبتداوخبر، فعل اور اس کا مرفوع، فعل اور اس کا منصوب، شرط وجزائ، قسم و جواب قسم، حال وذوالحال، موصوف وصفت، موصول وصلہ،مضاف و مضاف الیہ، حرف جر اور اس کا متعلَّق،حرف تسویف وفعل، قَدْ اور فعل اور حرف نفی ومنفی ہیں: زَیْدٌ أَنَا أَعْلَمُشَاعِرٌ، جَائَ أَظُنُّ الْغَائِبُ، کُتِبَتْ أَعْتَقِدُ الْوَظِیْفَۃُ، أَکْرِمْ أَسْعَدَکَ اللّٰہُ ضَیْفَکَ، فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودہا الناس والحجارۃ، وَاللّٰہِ وَمَا الْقَسَمُ بِاللّٰہِہَیِّنٌ لَیُفْلِحَنَّ الْمُؤْمِنُ، حَجَجْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ مَاشِیًا، وانہ لقسم لو تعلمون عظیم، لَقِیْتُ الَّذِيْ أَعْتَقِدُ فَازَ بِالْجَائِزَۃِ، ہٰذَا قَلَمُ أَظُنُّ خَالِدٍ، اِعْتَصِمْ أَصْلَحَکَ اللّٰہُ بِالتَّقْوَی، سَوْفَ أُوْقِنُ یَنْجَحُ الْمُجْتَہِدُ، قَدْ أُوْقِنُ نَجَحَ مَنْ صَمَتَ، مَا ظَنَنْتُ أَفْلَحَ الْکَسْلَانُ۔
’’صاحب البیت أدری بما فیہ‘‘ کے انیس حروف کی نسبت سے کتابِ ہذا کے متعلق انیس مدنی پھول:
(1)…کتاب ’’خلاصۃ النحو‘‘(حصہ اول ودوم) بہتَّر(72) دروس پر مشتمل ہے جن میں چار سو(400) سے زائد اصطلاحات ، قواعدو فوائد اور تنبیہات ہیںاوراِن اسباق کی ترتیب وترکیب میں فنی تحقیقات وتدقیقات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بموجب ’’کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِہِمْ‘‘مبتدی طلبہ کرام کی ذہنی سطح کی رعایت رکھی گئی ہے لہذا جن اسباق کا اِدراک واِفہام سہل ہے اُنہیں بالترتیب مقدم کیا گیا ہے اور ایک حدتک حل عبارت کے لیے ضروری قواعد وفوائد پر اکتفاء کیاگیا ہے اورمفاہیم کوبلا وجہ بگاڑا نہیں گیا بلکہ فہمِ مبتدی کے قریب رکھتے ہوئے ممکنہ حد تک فنی چیزوں کوبھی ملحوظ رکھا گیاہے، کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ ہے جس میں علم الاعراب کے متعلق ضروری اور مفید معلومات دی گئی ہیں تاکہ دوران تحصیل کار آمد ہوں۔
(2)… اِس کتاب میںلغَوی اَبحاث سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف اصطلاحی معانی کے بیان پر اقتصار کیاگیاہے کیونکہ شارع فی الفن کا مقصوداوّلیں اصطلاحات فن اور اُن کے اصطلاحی مفاہیم کی معرفت حاصل کرنا ہوتاہے نہ کہ اُن کے معانی لغویہ کی تحقیق بلکہ بسا اوقات اِن معانی کا بیان اُس کے لیے مشوش خاطر اور اُس کے ذہن پر ایک زائد بوجھ بن جاتاہے جو حفظِ مقصود میں مخل ہوتاہے ۔
(3)… کتاب ہذا میں ہر اصطلاح کی تعریف کے لیے الگ سرخی قائم نہیں کی گئی بلکہ سادہ ، آسان ، مختصر اور ضمنی انداز میں ان کو بیان کیاگیاہے تاکہ اس کے اخذ و حفظ میں سہولت رہے، خواہ مخواہ بات کو طول دینا قرین حکمت نہیں کہ اس سے پڑھنے والا نفسیاتی طورپر اکتاہٹ کاشکار ہوکراسے ثقیل محسوس کرتا ہے اور یہ چیز ثمرات مطلوبہ کے حصول میں حائل ہوتی ہے ۔
(4)… کتاب ہذا میں مبحوث عنہااصطلاحات نحویہ کو سرخ روشنائی سے ملون کیا گیاہے تاکہ مصطلحات بحیثیت ہا ممتاز ہوکر مرکزی نقطہ بحث متعلّم کے ذہن میں اپنامرکزی مقام حاصل کرلے۔
(5)…بعض مفاہیم کے لیے ایک سے زائد اسما ء موضوع ہوتے ہیں جنہیں مترادفات کہا جاتاہے ایسی صورت میں اگرآدمی کو کسی مفہوم کا ایک ہی اسم معلوم ہوتواسے خجالت کا سامنا اس وقت ہوتاہے جبکہ اسی مفہوم کی تعبیر کسی دوسرے اسم سے کردی جائے مثلًا’’علم النحو‘‘ کی تعریف جاننے والے سے ’’علم الاعراب‘‘ کی تعریف پوچھی جائے تو وہ حیران ہوگا کہ یہ کیاہوتاہے حالانکہ اُسے اِس کا مفہوم معلوم ہے! کتاب ہذا میں متعدد مقامات پر مرادف اصطلاحات بھی ذکر کی گئی ہیں تاکہ ایک حد تک وہ اس حوالے سے قلق و اضطراب کا شکار نہ ہو۔
(6)…کتاب ہذا کے مشمولات معتمد کتب نحویہ سے ماخوذ ہیں اور اطمینانِ خاطر کی خاطر مآخذومراجع کی فہرست کتاب کے آخر میں دیدی گئی ہے، لیکن ارباب علم و فن اور اصحاب فہم وبصیرت سے مخفی نہیں کہ امثالِ مقام میں نقل و اصل کا لفظ بلفظ متحد ہونا لازم نہیں بلکہ امر واجب اللحاظ ٗاتحاد فی المضمون والمفہوم اور عدم فساد معنی ہے ۔
(7)…کتاب ہذامیں تعریفات وغیرہ کو حیثیات سے مقید نہیں کیاگیا ہے مثلا علم نحو کی تعریف میں ہے: ’’ایسے قواعد کا علم جن کے ذریعے اسم،فعل اور حرف کے آخر کے احوال اور ان کو آپس میں ملانے کا طریقہ معلوم ہو ‘‘ یہاں احوال سے مراداحوال بحیثیت اِعراب و بناء ہیں۔
عدم تقیید کی وجہ اولًاتویہ ہے کہ امور مختلفہ بالاعتبار میں قیدِ حیثیت از خود معتبر ہوتی ہے اگرچہ اس کی تصریح نہ کی جائے کما صرح بہ العلامۃ عبد الحکیم في حاشیتہ علی عبد الغفور۔اورثانیًا وہی کہ اس طرح کی قیودات مبتدی کے لیے باعثِ تشویش واضطراب بنتی ہیں جبکہ ان کے عدم ذکرمیں کوئی حرج بھی نہیں کما عرفت۔
(8)…کتاب ہذامیں اس بات کا التزام رکھاگیاہے کہ جہاں تلفظ کی غلطی کی جاتی ہے یا اِس کا احتمال ہے وہاں حرکات وسکنات لگاکر درست تلفظ کی نشاندہی کردی جائے ورنہ طلبہ عمومًا بہت سی اصطلاحات کے صحیح تلفظ سے غفلت اور لا ابالی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں لفظ اِسْم کو اِسَم ، حَرْف کو حَرَف، حُروف کو حَروف، اَصْل کو اَصَل، اُصول کو اَصول، خبَر کو خبْر، صفَت کو صفْت، وصْف کو وصَف کہہ رہے ہوتے ہیں،اِس طرح کے الفاظ کو جمع کیاجائے توایک مستقل رسالہ یا کم از کم رُسَیلیہ تو بن ہی جائے، ابتداء ً اِس غلط روِش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فارغ ہوجانے کے بعد بھی وہ اِن کلمات کا غلط تلفظ کررہے ہوتے ہیں اور یوں اُن کا علمی وقاربھی مجروح ہوتاہے۔
(9)… کتاب ہذامیں قواعدوفوائد نمبروار بیان کیے گئے ہیں جس کی حکمت یہ ہے کہ امور معدودہ محصورہ کا ازبر کرنا نفسیاتی طور پر سہل ہوجاتاہے کہ اس طرح کے مقامات میں نظر اس طرف ہوتی ہے کہ ’’ بس اتنی چیزیں ہیں یہ یاد کرلو‘‘ نہ اس طرف کہ کتاب کامل کے جمیع اعداد کو جوڑکر اس کے مستحیل الحفظ ہونے کا تأثرلے۔
(10)… کتاب ہذامیں تعدد مثال وممثل لہ کی صورت میں نظر بنکتہ سہولت لف ونشر مرتب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے تاہم کسی اور نکتہ الطف کے مد نظر اسے غیر مرتب بھی لایا گیا ہے۔ فعلیک بالتدبر في کل مقام۔
(11)… اسباق کی طوالت کو دیکھ کر مبتدی طالبِ علم نفسیاتی طور پرپریشان سا ہو جاتا ہے اور اس کی توجہ منتشر ہوجاتی ہے جس کا منفی اثر یہ مرتب ہوتاہے کہ وہ سبق پڑھنے ، سمجھنے اور اسے یاد کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے اور سست ہو جاتا ہے، اِس کتاب میں بحکم حدیث ’’یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا‘‘ کوشش کی گئی ہے کہ کوئی سبق دو صفحے سے تجاوز نہ کرے تاکہ مذکورہ امور میں دشواری کا احساس نہ ہو، البتہ بعض اسباق ضرورۃً حد محدود سے متجاوز ہیں لکن القلیل کالمعدوم علی أن الضرورات تبیح المحظورات۔
(12)…کتاب ہذا میں چونکہ اختصار ، سہولت اور ضرورت ملحوظ ہے لہذا بعض اسباق میں کچھ امور کا احصاء نہیں کیاگیا ہے مثلًاخواص اسم، اوزان جمع تکسیر اور مؤنثات معنویہ وغیرہ مگر چونکہ یہ چیزیں کثیر الدور اور مفید بھی ہیں اس لیے ان کو ضمنی اسلوب کے تحت مختلف مقامات پر ڈبوں (boxes) میں بیان کردیا گیا ہے تاکہ نفسیاتی طور پر یہ بوجھ بھی محسوس نہ ہوں اور فوائد بھی فوت نہ ہوں۔
(13)…ہر سبق کے بعدتمارین کی صورت میں تین زاویوں سے اس کی دہرائی کروائی گئی ہے جس کا مقصد درس میں مذکور قواعدو فوائداور مفاہیم کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنا اور اُن کے نفوس میں مضمر فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا نیز قوائے معدومہ کو تخلیق کرناہے ، اس مقصدِ جلیل کے لیے ایک اسلوب بدیع اختیار کیا گیا ہے اور وہ بفحوائے’’اَلْأَشْیَائُ تُعْرَفُ بِأَضْدَادِہَا‘‘ کسی چیزکے صحیح اور غلط دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھنا ہے تاکہ معرفت صحت وفساد کا ملکہ ابتداء ہی سے ذہن مبتدی کے نہاں خانوں میں اپنی ضوء فشانیوں سے دستک دیتا رہے۔
(14)… اِس کتاب کی امثلہ وتمارین میںبجائے تذکرہ ضرب و قتلِ زید وبکر زیادہ تر جملِ علم و حکم کو ترجیح دی گئی ہے بلکہ بِحَمْدِہٖ تَعالٰی وَکَرَمِہٖ متعدد سحائب آیات شریفہ واحادیث کریمہ کشت زار فقیرمیں ممطر انوار وتجلیات، منبت محاسن ومنجیات اورقالع رذائل ومہلکات ہیں،ابتدائی کتاب میں اگرچہ اس طرح کی امثلہ وغیرہ کے اہتمام سے عموما زیادتِ الفاظ علی المقصود کی بناء پر اخذ مطلوب میں کچھ دشواری پیدا ہو جاتی ہے لیکن کوشش کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں آسان اور مختصر عبارات کاانتخاب کیاجائے پھر بھی اگر فوائد جلیلہ وجزیلہ کے حصول کی خاطر ’’کچھ‘‘ مشقت اٹھانی پڑے تو اسے گوارا کرلینا چاہیے فان ترک الخیر الکثیر لشر قلیل شرکثیر کما صرح بہ العلامۃ القاضي البیضاوي في التفسیر۔
(15)…کتاب ہذا میں امثلہ وتمارین کے تراجم سے کف قلم کیاگیاہے اولًا اس لیے کہ ضرورۃ ترجمہ کے لیے استاد صاحب موجودہیں اور ثانیًااس لیے کہ متعلّم کو صرف ِ قوت کا موقع میسر ہو اور اُس میں فہم معنی کا تجسس پیدا ہو ورنہ اگروہ کتاب ہی سے ترجمہ پانے کا عادی ہوگا اور یہی چیز اس کی طبیعت میں رسوخ پائے گی تواپنی صلاحیت کو بروئے کارلائے بغیرہر عربی عبارت کے ساتھ ترجمے کا متلاشی ہوگا اور یوں اُس کی بلا واسطہ اخذ مفہوم کی صلاحیت متأثر ہوگی۔
(16)…اصولی طورپر علم تصریف کے بعد علم الاعراب پڑھنا چاہیے تاکہ اولًا مفردات، ان کی بناوٹ اور ابواب وغیرہ بنیادی اشیاء کی معرفت حاصل ہوجائے پھر ثانیًا ان کے اعرابی وبنائی احوال اور طرق ترکیب معلوم کیے جائیں،مگر چونکہ اب مدارس عربیہ میں بالعموم یہ دونوں فن (اور دیگر فنون مزید بر آں) ایک ساتھ ہی پڑ ھا ئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے متعلّم امثلہ، شواہد اور تمارین وغیرہ کوکما حقہ سمجھ نہیں پاتا کیونکہ ان میں مختلف ابواب سے تعلق رکھنے والے ایسے افعال وغیرہ استعمال ہوتے ہیں جو ابھی اس نے پڑھے نہیں ہوتے، کتاب ہذا میں یہ التزام کیاگیا ہے کہ امثلہ وتمارین میں کم سے کم بیس دروس تک غیر ثلاثی مجرد فعل استعمال نہ ہو تاکہ طالبِ علم ایک حد تک ملال سے محفوظ رہے۔وشيء خیر من لا شيئ۔
(17)…منصرف اور غیر منصرف کے بیان میں مبتدی طالب علم کو اسباب منع صرف اور ان کے شرائط میں الجھائے بغیرصرف غیر منصرف اسماء کی انواع بیان کردی گئی ہیں جنہیں ازبر کرلینے کے بعد اسے (سوائے چند جزئیات کے )غیر منصرف کی معرفت حاصل ہوجائے گی ۔
(18)…بعض فنی خرابیاں طلبہ میں ابتدا سے ہی اس طرح رسوخ پالیتی ہیں کہ جامی شریف پڑھ لینے بلکہ فارغ ہوجانے بلکہ مسند تدریس پر برانجمان ہوجانے کے بعد بھی وہ جوں کی توں رہتی ہیں اور متعدی ہوتی ہیں مثلا جمع مؤنث سالم کو حالتِ نصبی میں لفظا مجرور اور تقدیرا منصوب سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بداھۃً باطل ہے۔
اولًا: اس لیے کہ جمع مؤنث سالم اس حیثیت سے کہ وہ جمع مؤنث سالم ہے ان اسماء میں سے ہے ہی نہیں جن کا اعراب کسی حالت میں تقدیری ہوتاہے کیونکہ تقدیر اعراب کی صرف دو وجوہ ہوتی ہیں: ۱۔تعذر ظہور اعراب اور ۲۔استثقال ظہور اعراب ۔ پہلی وجہ اسم مقصوراور اسم مضاف الی الیاء میں متحقق ہوتی ہے اور دوسری وجہ اسم منقوص (بحالتِ رفع وجر)، جمع مذکر سالم مضاف الی یاء المتکلم (بحالتِ رفع) اور ہر اس اسم میں پائی جاتی ہے جس میں محل اعراب ساقط عن التلفظ ہو۔اورپر ظاہر کہ جمع مؤنث سالم ان میں سے کسی میں بھی داخل نہیں پھر اسے ’’تقدیرا منصوب‘‘کہنا چہ معنی دارد۔
ثانیًا : بایں وجہ کہ رفع، نصب اور جر خواہ لفظا ہوں یا تقدیرا آثار ہیں اور رافع، ناصب اور جار بالترتیب مؤثرات ہیں اور اثربغیر مؤثر کے نہیں پایا جاسکتا ورنہ تخلف بین الاثر و المؤثر لازم آئے گا وہو باطل۔اب سوال یہ ہے کہ مثلًا ’’اِشْتَرَیْتُ کُرَّاسَاتٍ‘‘ میں ’’کُرَّاسَاتٍ‘‘ اگر لفظا مجرور ہے تو اس کا مؤثر (جار) کہاں ہے؟
در حقیقت منشأ غلط اولًاعدم تمییز بین الجر والکسرہ ہے کہ جہاں کسرہ دیکھا جر سمجھ لیا حالانکہ ہر کسرہ جر نہیں نہ ہر جر کسرہ بلکہ ان میں نسبت عموم خصوص من وجہ ہے لاجتماعِہما في مثل ’’نَظَرْتُ اِلٰی الْکَعْبَۃِ ‘‘ وافتراقِہما في نحو ’’نَظَرْتُ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ و’’جِئْتُ أَمْسِ‘‘۔
اسی طرح غیر منصرف کو حالت جری میں لفظامنصوب اور تقدیرامجرور سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی باطل محض ہے لعین ماذکرناہ۔
یونہی رفع و ضمہ اور نصب و فتحہ میں عدم تفریق کی وجہ سے بہت سے مقامات پر مضموم غیر مرفوع کو مرفوع اور مفتوح غیر منصوب کو منصوب قراردیدیتے ہیں ۔
ثانیًا عدم تمییز بین الاعراب اللفظی والتقدیری کہ ان کے بارے میں تصور یہ ہوتا ہے کہ جو اعراب لکھنے یا دیکھنے میں آئے وہ لفظی اور جو ایسا نہ ہو وہ تقدیری ہے لہذاجمع مؤنث سالم میں بحالت نصب’’ فتحہ‘‘ نظر نہ آیا تو اسے تقدیرا منصوب کہ دیا اور غیرمنصرف پر بحالت جر ’’کسرہ‘‘ نہ دیکھاتو اسے تقدیرا مجرور قرار دیدیا ۔
یونہی موصوف اور صفت کو پورامرکب توصیفی بناکر اور مضاف اور مضاف الیہ کو پورا مرکب اضافی بناکر فاعل، نائب الفاعل، مفعول بہ وغیرہ بناتے ہیں حالانکہ یہ بھی تسامح پر مبنی ہے اور حقیقۃً فاسد ہے کیونکہ فاعل، نائب الفاعل اور مفعول بہ وغیرہ از قسم اسماء ہیں اور اسماء از قسم کلمہ ہیں اور مرکب کا کلمہ ہونا بداہۃً باطل ہے۔
تراکیب کی کتب معتبرہ مثلا فوائد شافیہ وغیرہ میں اس نوعیت کی تراکیب کہیں نہیں ملتیں اور کتب عربیہ میں محشین، شارحین اور مفسرین وغیرہم جہاں جہاں ضمنا تراکیب فرماتے ہیں وہ بھی ایسی نہیں ہوتیں غرض ارباب فن کی تو وہ راہ اور ہمارے طلبہ پتا نہیں کس راہ فاٰہ واٰہ ثم اٰہ۔
امام النحوعلامہ غلام جیلانی میرٹھی رَحِمَہٗ اللّٰہُ نے البشیر، بشیر الکامل اور بشیر الناجیہ میں جو اِس نوعیت کی تراکیب کی ہیںوہ محض بزعم تسہیل علی المبتدی ہے اور حقیقۃ وہ خود اسے صحیح قرار نہیں دیتے اس طرح کی ترکیب میں’’البشیر‘‘ صفحہ ۲۴۲ پرخود انہی کا عندیہ ملاحظہ فرمالیں:
’’سوال: ترکیب میں یہ کہنا صحیح ہے کہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل۔جواب: ہرگز صحیح نہیں اس لیے کہ مضاف مضاف الیہ کا مجموعہ مرکب ہے اور فاعل مرکب نہیں ہوتا، فاعل اسم ہوتاہے جیساکہ اس کی تعریف میں گذرا، اور اسم کلمہ کی قسم ہے اور کلمہ کی تعریف میں اِفراد ماخوذ ہے نظر بر آں فاعل مفردہوگا نہ مرکب، اسی طرح مفعول بہ، مفعول مطلق ،مفعول فیہ، مفعول معہ، مفعول لہ، تمییز، مستثنیٰ، حال ، نائب فاعل وغیرہ معمولات جو از قبیل اسماء ہیں۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:’’الفوائد الشافیہ میں کافیہ کی ترکیب کا انداز بنظر حقیقت ہے اس اعتبار سے ترکیب یوں کی جائے گی: غُلَامُ مفرد منصرف صحیح مرفوع لفظا فاعل، زیدمفرد منصرف صحیح مجرور لفظا مضاف الیہ ،فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، یہ ترکیب ان حضرات کے نزدیک ہے جو صرف مسند اور مسند الیہ کو کلام قرار دیتے ہیں باقی متعلقات کو کلام سے خارج۔ یہ حضرات ان متعلقات کا اعراب بیان فرمادیتے ہیں لیکن ان کو ملاکر جملہ قرار نہیں دیتے بلکہ مسند اور مسند الیہ کو جملہ قرار دیتے ہیں جیسے الفوائد الشافیہ کے مصنف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ، اور جو حضرات متعلقات کو کلام میں داخل قرار دیتے ہیں وہ متعلقات کو ملاکر جملہ قرار دیتے ہیں چنانچہ ان کے نزدیک مثال مذکور میں یوں کہاجائے گا: فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اسی طرح غُلَامُ زَیْدٍ میں صرف غُلَامُ کو مفعول بہ قرار دیا جائے گا اور ضَرْبًا شَدِیْدًا میں صرف ضَرْبًا کو مفعول مطلق نوعی اور یَوْمَ الْجُمُعَۃِمیں صرف یَوْمَ کو مفعول فیہ وَھَلُمَّ جَرًّا۔‘‘ (البشیر شرح نحومیر، ص: ۲۴۳)
خبر کی تعریف پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’سوال: تعریف جامع نہیں اس لیے کہ ہٰذَا غُلَامُ زَیْدٍ میں غُلَامُ زَیْدٍ اور زَیْدٌ رَجُلٌ عَالِمٌ میں رَجُلٌ عَالِمٌ خبر ہیں حالانکہ اسم نہیں کیونکہ اسم مفرد ہوتاہے کہ قسمِ کلمہ ہے اور کلمہ میں اِفراد معتبر اور یہ دونوں مرکب ہیں، اول مرکب اضافی ، دوم مرکب توصیفی۔
جواب: خبر جزء اول ہے نہ مجموعہ اور شک نہیں کہ جزء اول مفرد ہے۔‘‘ (بشیر الناجیہ، ص: ۹۸)
ہاں بعض مرکبات میں دو کلموں کو ملاکر کلمہ واحدہ بنادیاگیاہوتاہے جیسے مرکب مزجی، مرکب تعدادی ،اسی طرح اسم موصول کہ یہ صلے سے ملے بغیر جزء کلام نہیں بنتا تو ان کوبلا شبہ ملاکر ہی ترکیب میں لیا جائے گا کہ یہ حکما مفرد ہیں،چنانچہ یہی امام النحو مزید فرماتے ہیں:
’’سوال: تعریف پھر بھی جامع نہیں اس لیے کہ ہٰذَا خَمْسَۃَ عَشَرَ میں خَمْسَۃَ عَشَرَ خبر ہے حالانکہ اسم نہیں کیونکہ مرکب ہے اور مرکب اسم نہیں ہوتا، اسی طرح اَلْحَيُّ لَاجَمَادٌ میں لَاجَمَادٌ خبر ہے حالانکہ اسم نہیں کہ مرکب ہے۔
جواب: اسم عام ہے کہ حقیقۃ ہو یا حکما اور اسم حکمی سے مراد وہ لفظ جو واحد شمار کیا جاتا ہو اور اس کی تعبیر اسم حقیقی سے کرسکیں چنانچہ خَمْسَۃَ عَشَرَ شمارمیں بوجہ شدتِ امتزاج لفظ واحد ہے اور اسم حقیقی سے اس کی تعبیر درست جیسے عَدَدٌ بَیْنَ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ وَسِتَّۃَ عَشَرَ۔اسی طرح لَاجَمَادٌ بوجہ شدتِ امتزاج لفظ واحد ہے اور اسمِ حقیقی سے اس کی تعبیر بھی درست جیسے شَيْئٌ غَیْرُ جَمَادٍ۔ دونوں تعبیریں از قبیل مرکب توصیفی ہیں جس میں جزء اول خبر ہے اور وہ اسم حقیقی۔ چونکہ خَمْسَۃَ عَشَرَ اورلَاجَمَادٌ شمار میں لفظ واحد ہے اسی واسطے معرب باعراب واحد کہ اول بتمامہ مرفوع محلا اور ثانی بتمامہ مرفوع لفظا بخلاف مرکب اضافی اور توصیفی کہ ان دونوں کے دونوں جزء کا اعراب علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ ‘‘ (بشیر الناجیہ ، ص: ۹۸)
اصحاب متون وشروح وغیرہم اگربعض اوقات ضمنی اور جزوی تراکیب میں مرکبات توصیفیہ واضافیہ کو فاعل وغیرہ قرار دیدیتے ہیں تووہ کسی کو غلط فہمی یا خوش فہمی میں مبتلا نہ کردے کیونکہ وہ بناء علی ظہور المراد تسامح فی العبارۃ پرمحمول ہے۔
بالجملہ اس قسم کے دیگر اموربھی طالب توجہ اور محتاج اصلاح ہیں، کتاب ہذا میں کوشش کی گئی ہے کہ طلبہ حتی الامکان اس طرح کے مفاسد اور فنی خرابیوں سے بھی محفوظ رہیں۔
(19)… توضیح مسائل ، تکمیل قواعد اور تکثیرفوائد کی خاطر چیدہ چیدہ مقامات پر مفید اور اہم حواشی کا اہتمام بھی کیاگیاہے جو کتاب کے آخرمیں ملحق ہیں۔ وبحمد اللّٰہ تعالی قد أودعت في الکتاب من الإشارات واللطائف ما لا یخفی علی المتأمل۔
اپنے رب کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولائے کریم اپنی رحمت سے ہمیں اپنے مقاصد حسنہ میں کامیابی و کامرانی نصیب فرمائے، ہمارے اعمال واقوال وافعال میں خلوص او ر للہیت عطافرمائے اور ہماری خستہ و شکستہ مساعی حقیرہ کواور جنہوں نے اس سلسلے میںہمیں اپنے بے لوث مفیدمشوروں سے نوازاسب کو اپنی جناب عالی میں شرف قبولیت سے بہرہ مند فرمائے کہ اصل المقاصد تو یہی ہے یہ ہو تو سب کچھ ہے اگرچہ کچھ نہ ہو اور اگر یہی نہ ہو توکچھ نہیں اگرچہ سب کچھ ہو۔اللّٰہم اغفر لي ولوالدي ولأساتذتي ومشائخي وللمؤمنین والمؤمنات ولکل من لہ حق علي۔ وصل علی خیر خلقک محمد النبي الأمي الحبیب العالي القدر العظیم الجاہ وعلی آلہ وصحبہ أجمعین وبارک وسلم۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
(1)…طلبہ کوابتداء ًمقدمہ اور اصطلاحات یاد کروادیجیے۔درس اول میں لفظ اور اس کی اقسام وامثلہ کتاب میں پڑھانے سے قبل کتاب کی روشنی میں زبانی یا بذریعہ بورڈسمجھادیں اس کے بعد کتاب سے پڑھائیں۔ خیال رہے کہ زبانی تقریر جس قدر کتابی الفاظ و معانی کے قریب ہوگی اسی قدر کتاب پڑھا نے اور اسے منطبق کرنے میں سہولت رہے گی، یہ مدنی پھول دیگر کتب کی تدریس میں بھی عطر بیزثابت ہوگا ۔ _۔
(2) … اس درس میں اقسام مرکب کا بیان محض تعارفی اور تمہیداًہے لہذا اسے اسی انداز پر رکھیے ان کا تفصیلی بیان آئندہ دروس میں آئے گا ۔_۔
(3)…طلبہ کو اس بات کا پابند کیاجائے کہ تمام تمارین اپنی کاپی یا رجسٹرپر لازمی لازمی اور لازمی طور پر حل کرکے آئیں مگراولاً چند اسباق تک انہیں حل کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا جائے کہ تمرین نمبر1سے پہلاسوال اپنی کاپی پر اتاریں پھراس کا جواب کتاب کی روشنی میں لکھیں، اسی طرح تمام سوالات حل فرمائیں۔ تمرین نمبر 2 سے ہر جملہ ’’غلط‘‘ کے کالم میں اتاریں اور اسے درست کرکے ’’صحیح‘‘کے کالم میں لکھیں۔ تمرین3 (الف)سے مفردات کو ’’مفرد‘‘ کے اور مرکبات کو ’’مرکب‘‘ کے کالم میں لکھیں۔ اور (ب)سے مرکبات ناقصہ کو ’’مرکب ناقص‘‘ اور مرکبات تامہ کو ’’مرکب تام‘‘ کے کالم میں اتاریں۔
درس ثانی سے آخر تک تمام دروس میں پہلے نمبرپر بتایا گیا اسلوب بر قرار رکھیے۔اور ہر درس کی ہر تمرین کے لیے مذکورہ بالا طریقہ پر حسب مطلوب کالمز بنوا کر تمارین کروائیے اور باقاعدہ اس کی تفتیش کرتے رہیے ۔
(4)…خیال رہے کہ سبق نمبر 12 میں اسم معرب اور اسم مبنی کی تعریف ذکر کی گئی ہے اس لیے اس میں ’’اسم‘‘ ماخوذ ہے، جبکہ سبق نمبر13 میں مطلق معرب اور مبنی کی اقسام بیان کی گئی ہیں جو اسم، فعل اور حرف بلکہ جملے کو بھی شامل ہے اسی لیے ان کی تعریف میں ’’لفظ‘‘ لیا گیا ہے۔
(5)…خلاصۃ النحومیں چونکہ تقریبًا وہ تمام ہی بنیادی امور ذکر کردیے گئے ہیں جو عبارت پڑھنے اور سمجھنے کے لیے ضروری اورایک حدتک کافی ہیںمثلًامعارف ونکرات، مذکرات ومؤنثات،واحدات و مثنات ومجموعات، مرفوعات، منصوبات، مجرورات،معربات ومبنیات، مرکبات ناقصہ، جمل اسمیہ وفعلیہ، جمل خبریہ وانشائیہ، اقسام اعراب اسماء وافعال وغیرہ، لہذا امرواجب الالتزام یہ ہے کہ ہر سبق کے بعد اس کا بھر پور اجراء جاری رکھاجائے اور جوں جوں سبق آگے بڑھے اسے سلک اجراء میں نظم کیاجاتا رہے، اللّٰہ کریم کی رحمت سے امید واثق ہے کہ اس طرح متعلّم بہت جلد اپنا گوہر مقصود پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
(6)…اس کے علاوہ محترم استاد صاحب اپنی صواب دید پرسبق سے متعلق جو مناسب اور بہتر کام طلبہ کو دیں فبہابلکہ لائق صدآفرین ہے۔
(7)…موقع کی مناسبت سے طلبہ کودرج ذیل طریقوں سے ترجمہ کرنا بھی سکھائیں:
مرکب اضافی کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
(الف)… پہلے مضاف الیہ کا پھر مضاف کا ترجمہ کرتے ہیں اور درمیان میں عموما ’’کا، کی، کے، را، ری، رے‘‘وغیرہ لاتے ہیں: صِیَامُکُمْ(تمہارا روزہ رکھنا)، مَائُ الْبَحْرِ (سمندر کاپانی)۔(ب)…مضاف اسم تفضیل ہوتودونوں کے درمیان ’’میںسے‘‘ لاتے ہیں: خِیَارُکُمْ(تم میں سے بہتر) ۔ (ج)…صفت کا صیغہ مفعول کی طرف مضاف ہو تو درمیان میں کبھی لفظ ’’کو‘‘ لاتے ہیں: ضَارِبُ بَکْرٍ(بکر کو مارنیوالا) آکِلُ خُبْزٍ(روٹی کھانے والا) ، فاعل کی طرف مضاف ہوتوپہلے مضاف پھرمضاف الیہ کا ترجمہ کر کے آخر میں ’’والا ‘‘ لاتے ہیں: حَسَنُ الْوَجْہِ(حسین چہرے والا)۔ (د)…مضاف اسم عدد ہو تو پہلے عدد کا پھر معدود کا ترجمہ کرتے ہیں اور درمیان میں کا، کی، کے وغیرہ نہیں آتا: خَمْسَۃُ مِیَاہٍ(پانچ پانی)۔
مرکب توصیفی کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
(الف)…صفت مفردہو تو پہلے صفت کاپھرموصوف کا ترجمہ کرتے ہیں: رَجُلٌ صَالِحٌ (نیک مرد) اس صورت میں اگر صفت کا فاعل، مفعول، ظرف یا جار مجرور وغیرہ بھی کلام میں موجود ہو تواس کا ترجمہ صفت کے ترجمہ کے ساتھ کرتے ہیں: رَجُلٌ صَالِحٌ غُلَامُہٗ(نیک غلام والا مرد) رَجُلٌ ضَارِبٌ زَیْدًا(زیدکو مارنے والا مرد) رَجُلٌ جَالِسٌ فِي الْبَیْتِ (گھر میں بیٹھا مرد)۔ (ب)…صفت جملہ ہوتو موصوف سے پہلے’’وہ،اس، ایسا‘‘ وغیرہ اور صفت سے پہلے’’جو، جس نے، جس کو‘‘ وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں: رَجُلٌ یَعْلَمُ الْفِقْہَ(وہ مرد جو فقہ جانتا ہے) (ج)… جب کوئی اسم مضاف اور موصوف ہو تومضاف الیہ پھر صفت اور پھر مضاف موصوف کا ترجمہ کرتے ہیں: کِتَابُ خَالِدٍ الْمُفِیْدُ(خالد کی مفید کتاب) (د)…اسم اشارہ مشار الیہ بھی موصوف صفت ہوتے ہیں لیکن اس میں پہلے موصوف (اسم اشارہ) کا پھر صفت( مشار الیہ) کا ترجمہ کرتے ہیں : ذٰلِکَ الْکِتَابُ(وہ کتاب) (ہ)…اگر صفتیں ایک سے زائد ہوں توآخری صفت سے پہلے ’’اور‘‘کا اضافہ کرتے ہیں : الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین(تمام تعریفیں عالمین کے رب ، رحمن ، رحیم اوریوم جزا کے مالک اللّٰہ کے لیے ہیں)
جملہ فعلیہ کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
پہلے فاعل پھر مفعول پھر متعلقات اور آخر میں فعل کا ترجمہ کرتے ہیں: ضرب زید بکرا في الدار بالعصا (زید نے بکر کو گھر میں لاٹھی سے مارا)
جملہ اسمیہ کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
پہلے ،مبتداکاپھرخبرکاترجمہ کرتے ہیں اور آخر میں’’ہے،ہیں، ہو‘‘وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں: اَللّٰہُ رَحِیْمٌ(اللّٰہ رحیم ہے) ھُمْ عَالِمُوْنَ(وہ عالم ہیں) أَنْتَ صَادِقٌ(تم سچے ہو) أَنَا مُسْلِمٌ(میں مسلمان ہوں)۔
جار مجرور کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
(الف)…پہلے جار مجرور کا ترجمہ کرتے ہیں اوراس کے ساتھ ہی اس کے متعلَّق کا ترجمہ کرتے ہیں: ضَرَبَ زَیْدٌ بِالْعَصَا (زید نے لاٹھی سے مارا)
(ب)…جار مجرور جن افعال واسماء عامہ(ثابت ، موجود ، کائن ، ثبت وغیرہ) کے متعلِّق ہوتے ہیں ان کا ترجمہ نہیں کیا جاتا: زَیْدٌ فِي الدَّارِ (زیدگھر میں ہے)۔
اسم موصول اور صلہ کا ترجمہ کرنے کا طریقہ :
اسم موصول کا ترجمہ ’’وہ،اسے، ایسا ‘‘وغیرہ کرتے ہیں اور صلہ کے ساتھ ’’جو، جس نے، جس کو‘‘ وغیرہ لاکر اسے جملہ کے شروع یا آخر میں لاتے ہیں: الَّذِيْ ضَرَبَ عَالِمٌ( جس نے مارا وہ عالم ہے) ہٰذَا الَّذِيْ جَائَ (یہ وہ ہے جوآیا ) أَرَأَیْتَ الَّذِيْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ (کیا تم نے اسے دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے )
اَنّ اور اَنْ کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
ان کا ترجمہ’’کہ‘‘ ہے مگر کبھی محاورۃً اس سے پہلے’’یہ ہے،یہ بات، یہ خبر‘‘ وغیرہ کا اضافہ کردیتے ہیں: عَلِمْتُ أَنَّ زَیْدًا عَالِمٌ (میں نے جان لیا کہ زید عالم ہے) الْعَجَبُ اَنَّ الْجَرْحَ شَدِیْدٌ (تعجب یہ ہے کہ زخم شدیدہے) یاان کو ما بعدکے ساتھ ملاکر مصدری ترجمہ کرتے ہیں: أَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ(تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے)۔
مفعول مطلق کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
مفعول مطلق جس غرض کے لیے استعمال ہو گا اس کے مطابق ترجمہ کیا جائے گا مصدری ترجمہ نہیں ہوگا: ضَرَبْتُ ضَرْبًا(میں نے ضرور مارا) جَلَسْتُ جَلْسَۃً (میں ایک مرتبہ بیٹھا) جَلَسْتُ جِلْسَۃَ الْقاَرِيْ(میں قاری کی طرح بیٹھا)۔
حال کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
حال کاترجمہ ’’ہوکر، اس حال میںکہ، کرتے ہوئے،ہوتے ہوئے‘‘وغیرہ کرتے ہیں: اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا(تم سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو جاؤ)
تاکید کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
پہلے مؤکد کا پھر تاکید کا ترجمہ ’’تمام، سب،خوب، خود‘‘ وغیرہ کرتے ہیں: کَلَّمَنِي الْوَزِیْرُ نَفْسُہٗ (وزیر نے خود مجھ سے بات کی)
تمییز کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
(الف)…تمییزنسبت ہوتوکبھی اس کے بعد ’’سے‘‘لاتے ہیں: اِمْتَلَأَ الْاِنَائُ مَائً (برتن پانی سے بھر گیا) اورکبھی تمییز کوموقع کے مناسب فاعل یا مفعول یا مبتدا کا مضاف تصور کر کے ترجمہ کیا جاتا ہے: حَسُنَ زَیْدٌ وَجْہًا(زید کا چہرہ خوبصورت ہے) فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوْنًا(ہم نے زمین میں چشمے پھاڑے) أَنَا أَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا(میرا مال تجھ سے زیادہ ہے)
(ب)…تمییزمفرد ہوتو پہلے ممیزکا پھربلا اضافہ تمییز کا ترجمہ کیا جاتا ہے: مَنَوَانِ سَمْنًا(دو من گھی)۔
بدل کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
(الف)…بدل کل ہوتوکبھی دونوں کاترجمہ بالترتیب کر دیا جاتا ہے اور کبھی ان کے درمیان ’’یعنی‘‘ بھی لایا جاتا ہے: جَائَ أَخُوْکَ زَیْدٌ( تیرا بھائی زید آیا) زُرْتُ عَالِمًا أُسْتَاذَکَ(میں نے ایک عالم یعنی تمہارے استاد سے ملاقات کی)
(ب)…بدل بعض یابدل اشتمال ہو تومبدل منہ کو ضمیر کی جگہ پر تصور کرکے ترجمہ کرتے ہیں : حَفِظْتُ الْقُرْآنَ رُبْعَہٗ(میں نے قرآن کا چوتھائی حصہ حفظ کیا) اَعْجَبَنِي الرََّجُلُ عِلْمُہٗ(مجھے آدمی کے علم نے تعجب میں ڈالا)
(ج)…بدل غلط میں مبدل منہ کا ترجمہ کرکے سکتہ کرتے ہیں اور پھر بدل کا ترجمہ کرتے ہیں: اَکَلْتُ التُفَّاحَ اَلرُمَّانَ(میں نے سیب۔۔۔ انارکھایا)
مستثنیٰ کا ترجمہ کرنے کا طریقہ:
مستثنیٰ سے پہلے ’’صرف، سوائے،علاوہ‘‘ وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں: مَا رَأَیْتُ اِلَّا زَیْدًا(میں نے صرف زید کودیکھا) سَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ اِلَّا اِبْلِیْسَ(سوائے ابلیس کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا) جَائَ الْقَوْمُ لَیْسَ زَیْدًا( زید کے علاوہ ساری قوم آئی)۔
تنبیہ:
مذکورہ بالا تمام طرق تراجم تقریبی ہیں جن سے ایک حد تک استفادہ کیا جاسکتا ہے،تمام درجات میں بالعموم اور درجہ اولی میں بالخصوص صیغہ،اعراب،وجہ اعراب اور ترجمہ وغیرہ سکھانے کے خاص اہتمام کی حاجت ہوتی ہے لہذا کسی حال میں اِن امور سے صرف نظر نہ کیا جائے ۔ وباللّٰہ التوفیق۔
شمار
کتاب کا نام
مصنف/ مؤلف
مطبوعہ
1
مفصل
محمود بن عمر زمخشری، متوفی۵۳۸ھ
دارالکتب العلمیۃ، بیروت۱۴۲۲ھ
2
کافیہ
جمال الدین عثمان بن عمر، متوفی۶۴۶ھ
مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۴ھ
3
ہدایۃ النحو
سراج الدین عثمان، متوفی۷۵۸ھ
مکتبۃالمدینہ کراچی۱۴۳۳ھ
4
شرح مفصل
قاسم بن حسین خوارزمی، متوفی۶۱۷ھ
مکتبۃالعبیکان، ریاض،۱۴۲۱ھ
5
شرح مفصل
یعیش بن علی موصلی، متوفی۶۴۳ھ
دار الکتب العلمیۃ، بیروت۱۴۲۲ھ
6
شرح رضی
محمد بن حسن الاستراباذی، متوفی۶۸۶ھ
باب المدینہ کراچی
7
شرح شذور الذہب
عبد اللّٰہ بن ہشام انصاری، متوفی۷۶۱ھ
باب المدینہ کراچی
8
قطرالندی وبل الصدی
عبد اللّٰہ بن ہشام انصاری، متوفی۷۶۱ھ
دارالمنار
9
شرح قطر الندی
عبد اللّٰہ بن ہشام انصاری، متوفی۷۶۱ھ
دارالمنار
10
شرح ابن عقیل
عبد اللّٰہ بن عبد الرحمن قرشی، متوفی۷۶۹ھ
باب المدینہ کراچی
11
غایۃ التحقیق
صفی الدین بن نصیرالدین، متوفی۸۹۰ھ
کوئٹہ
12
شرح جامی مع الفرح النامی
علامہ عبد الرحمن جامی، متوفی۸۹۸ھ
مکتبۃالمدینہ۱۴۳۵ھ
13
شرح مائۃ عامل مع الفرح الکامل
علامہ عبد الرحمن جامی، متوفی۸۹۸ھ
مکتبۃ المدینہ ۱۴۳۳ھ
14
العقد النامی
محمد رحمی بن عبد اللّٰہ حنفی، متوفی ۱۳۲۷ھ
مکتبۃ الامام ابی حنیفۃ، کوئٹہ
15
درایۃ النحو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب المدینہ کراچی
16
نحومیر (مترجم)
سید شریف جرجانی، متوفی۸۱۶ھ
مکتبۃالمدینہ۱۴۲۹ھ
17
التحفۃ السنیہ
محمد محی الدین عبد الحمید،متوفی۱۳۹۳ھ
مکتبۃ دار الفجر۲۰۰۲ء
18
بشیر الکامل
علامہ غلام جیلانی، متوفی۱۳۹۸ھ
سکندر علی بہادر علی تاجران کتب کراچی
19
البشیر شرح نحومیر
علامہ غلام جیلانی، متوفی۱۳۹۸ھ
ادارہ ضیاء السنہ
20
بشیر الناجیہ شرح کافیہ
علامہ غلام جیلانی، متوفی۱۳۹۸ھ
محمد علی کارخانہ اسلامی کتب، کراچی
21
مذکرات النحووالصرف
الدکتور احمد ہاشم وغیرہ
دار المنار
22
بدایۃ النحو
مفتی محمد افضل حسین مونگیری،متوفی۱۴۰۲ھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23
دراسۃ النحو
مفتی محمد افضل حسین مونگیری،متوفی۱۴۰۲ھ
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
24
تبصیر شرح نحومیر
سرداراحمد حسن سعیدی
مکتبہ احمد رضا
25
رد المحتار
علامہ محمد امین شامی، متوفی۱۲۵۲ھ
دار المعرفۃ، ۱۴۲۰ھ
26
جامع الدروس العربیہ
شیخ مصطفی الغلایینی
المکتبۃ العصریہ، بیروت۱۴۱۴ھ
27
الواضح فی القواعد والاعراب
محمد زرقان الفرخ
قزازین، دمشق
28
حاشیہ خضری علی شرح ابن عقیل
شیخ محمد الخضری الشافعی
دار الکتب العلمیۃ، بیروت۱۴۱۹ھ
29
صلات الافعال
مولانا رضوان احمد نوری
انوا ر الاسلام