الدرس الثالث والستون
جس جملے میں قسم کھائی گئی ہو اُسے قسم کہتے ہیں، جس حرْف یا فعل کے ذریعے قسم کھائی گئی ہو اُسے اَداۃِ قسم کہتے ہیں، جس کی قسم کھائی گئی ہواُسے مُقسَم بِہ کہتے ہیں اور جس بات پر قسم کھائی گئی ہو اُسے جواب ِقسم کہتے ہیں: وَاللّٰہِ لَنْ أَکْذِبَ، أُقْسِمُ بِاللّٰہِ مَا جَائَ زَیْدٌ۔
قواعد وفوائد:
.1قسم کے لیے یہ حروف آتے ہیں: بِ،وَ،تَ،لَِ(۱۸)اورکبھی فعل آتا ہے۔
.2جوابِ قسم ٗجملہ اسمیہ مثبتہ ہوتو شروع میں اِنَّ یا لام ِمفتوح کا ہونا ضروری ہے: وَاللّٰہِ اِنَّ زَیْدًا عَالِمٌ، وَاللّٰہِ لَزَیْدٌ عَالِمٌ۔
اورجملہ اسمیہ منفیہ ہو تو شروع میں مَا مُشابِہ بِلَیْسَ،لائے نفی جنس یا اِنْ نافیہ کا ہونا ضروری ہے: تَاللّٰہِ مَا زَیْدٌ کَاتِبًا، بِاللّٰہِ لَارَیْبَ فِیْہِ، لِلّٰہِ اِنْ ہٰذَا اِفْکًا۔
.3جواب قسم ٗجملہ فعلیہ مثبتہ ہوتوماضی میں لفظ لَقَدْاور مضارع میں لامِ تاکیداورنونِ تاکید آتاہے: وَاللّٰہِ لَقَدْ فَازَ الْمُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَأَذْہَبَنَّ۔
اورجملہ فعلیہ منفیہ ہو تو ماضی میںمَا اور مضارع میں لَایا لَنْ آتا ہے: وَاللّٰہِ مَا وَعَدَ بَکْرٌ، وَاللّٰہِ لَاأُکَلِّمُ فَاسِقًا، وَاللّٰہِ لَنْ یَّکْذِبَ زَیْدٌ۔
.4لَئِنْ، لَقَدْاورمضارع بانون ولام تاکیدسے پہلے قسم محذوف ہوتی ہے: لَئِنْ ضَرَبْتَنِيْ لَا أَضْرِبُکَ، لَقَدْ فُزْتُ، لَأَعْمَلَنَّ الْخَیْرَ۔
تمرین (1)
س:.1قسم، اداۃ قسم، مقسم بہ اور جواب قسم کسے کہتے ہیں؟ س: .2قسم کے لیے کون کونسے حروف آتے ہیں؟ س: .3جواب قسم جملہ فعلیہ یا جملہ اسمیہ ہو تو کس طرح آئے گا ؟تفصیلا بیان کیجیے۔
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس چیزکی قسم کھائی گئی ہواُسے مَقسَم بِہ کہتے ہیں ۔ .2جوابِ قسم جملہ اسمیہ ہو تو اس میں اِنَّ یا لام ِمفتوح کا ہونا ضروری ہے ۔ .3جواب قسم جملہ فعلیہ ہوتو اس میں لَایالَنْ آتا ہے۔
تمرین (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں اداۃِ قسم، مُقسَم بِہ اورجوابِ قسم کی شناخت کیجیے ۔
۱۔لِلّٰہِ لَا یُؤَخَّرُ الْأَجَلُ۔ ۲۔أُقْسِمُ بِاللّٰہِ لَا سُرُوْرَ دَائِمٌ۔ ۳۔لعمرک انہم لفی سکرتہم۔ ۴۔قالوا تاللہ لتسئلن۔ ۵۔والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین۔ ۶۔قالوا تاللہ لقد آثرک اللہ علینا۔ ۷۔أَحْلِفُ بِاللّٰہِ لَنْ تَفْنِيَ الْجَنَّۃُ وَلَا نَعِیْمُہَا۔ ۸۔والعصر ان الانسان لفی خسر۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔بِاللّٰہِ فَازَ مَنْ أَخْلَصَ الْعَمَلَ۔ ۲۔أَحْلِفُ بِاللّٰہِ الصَّحَابَۃُ عَدْلٌ۔ ۳۔وَاللّٰہِ لَمْ یَنْجَحِ الْکَسْلَانُ۔ ۴۔أُقْسِمُ بِاللّٰہِ مَا الْجَاہِلُ حَيٌّ۔
الدرس الرابع والستون
کبھی دو فعلوں کے بعد ایک اسم ظاہر آتاہے اور اِن دونوں میں سے ہر ایک فعل اُس اسم ظاہرکو اپنا معمول بنانا چاہتاہے اِسی کو تنازُعِ فِعلَین کہاجاتاہے۔
تنازُع فعلین کی چار صورتیں ہیں:
۱۔ہر فعل اسم ظاہر کو فاعل بنانا چاہے: نَصَرَنِيْ وَأَکْرَمَنِيْ زَیْدٌ۔
۲۔ہر فعل اسم ظاہر کو مفعول بنانا چاہے: نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدًا۔
۳۔پہلا فعل فاعل اور دوسرا فعل مفعول بنانا چاہے: نَصَرَنِيْ وَأَکْرَمْتُ زَیْدًا۔
۴۔پہلا فعل مفعول اور دوسرافعل فاعل بنانا چاہے : نَصَرْتُ وَأَکْرَمَنِيْ زَیْدٌ۔
ان صورتوں میں اگر دوسرے فعل کو عمل دیں تو وہ واحد ہی رہے گا اور اسم ظاہر اس کے مطابق (مرفوع یا منصوب ) ہوگا اور اس صورت میں پہلا فعل اگرفاعل چاہتا ہو (جیسے ۱ اور ۳میں) تووہ واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث ہونے میں اسم ظاہر کے مطابق آئے گا اور اس کا فاعل ضمیر متصل ہوگی۔ جیسے:
نَــصَـرَنِيْ وَأَکْــرَمَنِيْ زَیْدٌ
نَـصَرَانِيْ وَأَکْـرَمَنِيْ زَیْـدَانِ
نَصَرُوْنِيْ وَأَکْرَمَنِيْ زَیْدُوْنَ
نَــصَـرَنِيْ وَأَکْــرَمْتُ زَیْدًا
نَـصَرَانِيْ وَأَکْـرَمْتُ زَیْـدَیْنِ
نَصَرُوْنِيْ وَأَکْرَمْتُ زَیْدِیْنَ
اورپہلا فعل اگر مفعول چاہتا ہو (جیسے ۲ اور ۴میں) تووہ بھی واحد ہی رہے گا اور اُس کا مفعول محذوف مانیں گے جو اسم ظاہر ہی کی طرح ہو گا اور منصوب آئے گا۔ جیسے :
نَـصَرْتُ وَأَکْـرَمْتُ زَیْدًا
نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدَیْنِ
نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدِیْنَ
نَـصَرْتُ وَأَکْـرَمَنِيْ زَیْدٌ
نَصَرْتُ وَأَکْرَمَنِيْ زَیْدَانِ
نَصَرْتُ وَأَکْرَمَنِيْ زَیْدُوْنَ
اوراگرپہلے فعل کو عمل دیں تو وہ واحد ہی رہے گا اور اسم ظاہر اس کے مطابق (مرفوع یا منصوب ) ہوگا ، اس صورت میں اگردوسرا فعل فاعل چاہتاہو(جیسے ۱ اور ۴ میں) تووہ واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث ہونے میں اسم ظاہر کے مطابق ہوگا اور اس کا فاعل ضمیر متصل ہوگی:
نَــصَـرَنِيْ وَأَکْــرَمَنِيْ زَیْـدٌ
نَـصَرَنِيْ وَأَکْـرَمَانِيْ زَیْدَانِ
نَصَرَنِيْ وَأَکْرَمُوْنِيْ زَیْدُوْنَ
نَــصَـرْتُ وَأَکْــرَمَنِيْ زَیْـدًا
نَـصَرْتُ وَأَکْـرَمَانِيْ زَیْدَیْنِ
نَصَرْتُ وَأَکْرَمُوْنِيْ زَیْدِیْنَ
اور مفعول چاہتاہو(جیسے ۲ اور ۳میں) تو وہ بھی واحد ہی رہے گا اور اس کا مفعول بہ محذوف مانیں گے جو اسم ظاہر ہی کی طرح ہوگا لیکن منصوب:
نَـصَرْتُ وَأَکْـرَمْتُ زَیْـدًا
نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدَیْنِ
نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدِیْنَ
نَـصَرَنِيْ وَأَکْـرَمْتُ زَیْـدٌ
نَصَرَنِيْ وَأَکْرَمْتُ زَیْدَانِ
نَصَرَنِيْ وَأَکْرَمْتُ زَیْدُوْنَ
تنبیہ:
تنازُع جس طرح دوفعلوں کا ہوتاہے اِسی طرح دوشبہ فعل کابھی ہوتا ہے: زَیْدٌ رَاکِبٌ وَذَاہِبٌ أَبُوْہٗ۔
اور جس طرح فاعل یا مفعول میں ہوتاہے اسی طرح ظرف یا جار مجرور میں بھی ہوتاہے: زَیْدٌ قَامَ وَصَلّٰی خَلْفَ الْاِمَامِ، بَکْرٌ جَلَسَ وَصَلّٰی عَلَی الْحَصِیْرِ۔
تمرین (1)
س:.1تنازع فعلین کسے کہتے ہیں؟ س: .2تنازع فعلین کی کتنی اور کون کونسی صورتیں ہیں؟س: .3جب دوسرے فعل کو عمل دیں گے تودوسرافعل، پہلا فعل اور اسمِ ظاہر کس طرح آئیں گے ؟ س:.4اگر پہلے فعل کو عمل دیں گے توپہلا فعل، دوسرا فعل اور اسمِ ظاہر کس طرح آئیں گے؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1تنازُع صرف فعلوں میں ہوتاہے۔ .2دوسرے فعل کو عمل دیں گے تو پہلا فعل واحد ہی رہے گا۔ .3تنازُع کی صرف دو صورتیں ہیں۔
تمرین (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں غور کر کے بتائیے کہ اسم ظاہر میں پہلے فعل کو عمل دیا گیاہے یا دوسرے فعل کو۔
۱۔طَلَبَ فَقِیْرٌ وَکَفَاہٗ دِرْہَمًا۔ ۲۔نَصَرُوْنِيْ وَنَصَرْتُ الْقَوْمَ۔ ۳۔قَامَ وَصَلُّوا الْمُسْلِمُوْنَ۔ ۴۔یَزُوْرُوْنَنِيْ وَأَزُوْرُ الْمُعَلِّمِیْنَ۔ ۵۔ضَرَبَتْ وَأَکْرَمْنَ الْبَنَاتُ۔ ۶۔جَائَ ا وَنَصَحَنِي رَجُلَانِ۔ ۷۔اِشْتَرَیْتُ وَقَرَأْتُ ’’خُلَاصَۃَ النَحْوِ‘‘۔ ۸۔طَالَعْتُ وَسَرَّنِيَ الْکِتَابُ۔ ۹۔نَصَرَتَا وَأَکْرَمَتْ ہِنْدَانِ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔ضَرَبْتُ خَالِدًا وَأَکْرَمْتُ خَالِدًا۔ ۲۔أَکْرَمَ وَأَحْسَنَ الزَّیْدَانِ۔ ۳۔نَصَرْتُ وَأَہَانُوْنِي الْقَوْمُ۔ ۴۔نَصَرَا وَأَکْرَمَا الزَّیْدَانِ۔ ۵۔عَلَّمَنِيْ وَعَظَّمْتُ الْمُعَلِّمِیْنَ۔ ۶۔سَمِعْنَ وَأَطَعْنَ الْمُسْلِمَاتُ۔
الدرس الخامس والستون
جو صیغۂ صفَت نفی یا استفہام کے بعد واقع ہو اور اسم ظاہر کو رفع دے وہ بھی مبتدا ہوتا ہے اِسی کو مبتدا کی قسم ثانی کہتے ہیں: ہَلْ ذَاہِبٌ وَلَدَانِ، مَا مَوْجُوْدٌ رِجَالٌ۔
قواعد وفوائد:
.1صفت کا صیغہ واحد اور اسم ظاہر تثنیہ یا جمع ہو توصفت کا صیغہ مبتدا اور اسم ظاہر اس کا فاعل یا نائب فاعل قائم مقام خبرہو گا: أَ حَزِیْنٌ غُلَامَانِ، أَ مَہْزُوْمٌ جُیُوْشٌ۔
.2 صفَت کا صیغہ اور اسم ظاہر دونوں تثنیہ یا دونوں جمع ہوں تو صفَت کا صیغہ خبر مقدم اور اسم ظاہر مبتدا مؤخر کہلائے گا: أَ مُجْتَہِدَانِ التِلْمِیْذَانِ، مَا مُکَرَّمُوْنَ الفَاسِقُوْنَ۔
.3صفت کا صیغہ اور اسم ظاہر دونوں واحد ہوں تواختیار ہے کہ صفَت کے صیغے کو مبتدا بنائیں اور اسم ظاہر کو قائم مقام خبر یا صفت کے صیغے کو خبر مقدم قرار دیں اور اسم ظاہر کو مبتدا مؤخر: أَ مُسْتَنْصِرٌ ضَعِیْفٌ، مَا مَرْمِيٌّ حَجَرٌ۔
تنبیہ:
ایسا نہیں ہوسکتا کہ اسم ظاہر واحدہو اور صفت کا صیغہ تثنیہ یا جمع ہو یا اِن میں سے کوئی ایک تثنیہ ہو اور دوسراجمع ہو۔
تمرین (1)
س:.1مبتدا کی قسم ثانی کسے کہتے ہیں؟ س: .2صیغہ صفت واحد اور اسم ظاہر تثنیہ یاجمع ہو تو کیا حکم ہے ؟ س: .3صیغہ صفت اور اسم ظاہر دونوں تثنیہ یا دونوں جمع ہوں تو کیا حکم ہے؟ س:.4صیغہ صفت اور اسم ظاہر دونوںواحد ہوں تو کیا حکم ہے؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جوصیغہ صفت اسم ظاہر کو رفع دے وہ بھی مبتدا ہوتا ہے۔ .2صفت کا صیغہ جس اسم ظاہر کو رفع دیتاہے وہ اُس کا فاعل ہوتاہے۔ .3صفت کا صیغہ جہا ں بھی ہوگا مبتدا یا خبر ہی بنے گا۔
تمرین (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں مبتدا اور خبر الگ الگ کیجیے۔
۱۔أَ مُسَافِرٌ أَخَوَاکَ۔ ۲۔مَا صَائِمَانِ الْوَلَدَانِ۔ ۳۔أ راغب انت عن آلہتی یا ابراہیم۔ ۴۔مَا مَحْرُوْمٌ مُخْلِصُونَ۔ ۵۔ہَلْ جَالِسُوْنَ مُسْلِمُوْنَ۔ ۶۔أَ حَسَنٌ غُلَامُ زَیْدٍ۔ ۷۔أَ مَعْصُوْمٌ الْأَنْبِیَائُ عَنِ الْمَعَاصِيْ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔کَرِیْمٌ أَبَوَاکَ۔ ۲۔أَ قَائِمَانِ رَجُلٌ۔ ۳۔مَا نَاصِرِیْنَ أَعْدَائُکَ۔ ۴۔ہَلْ صَائِمٌ أَحَدًا۔ ۵۔مَا ذَاہِبُوْنَ وَلَدٌ۔ ۶۔مُغْلَقٌ أَبْوَابٌ۔
الدرس السادس والستون
مبتدا اور خبر کی تقدیم وتاخیر:
مبتدا عمومًاخبر سے پہلے آتاہے اور خبر مبتدا کے بعد آتی ہے: زَیْدٌ قَائِمٌ۔اور کبھی خبر مبتدا سے پہلے بھی آجاتی ہے: قَائِمٌ زَیْدٌ۔
لیکن چار صورتوں میں مبتدا کومقدم اور خبرکو مؤخر لانا واجب ہے:
۱۔مبتدا ایسے معنی پر مشتمل ہو جس کا شروع کلام میں ہونا ضروری ہے: مَنْ أَنْتَ۔
۲۔ مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں اور کوئی ایسا قرینہ نہ ہو جس سے مبتدا اور خبر کی تعیین ہوسکے: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ۔
۳۔ مبتدا اور خبر دونوں نکرہ مخصوصہ ہوں: غُلَامُ رَجُلٍ وَلَدٌ صَالِحٌ۔
۴۔خبر ٗمبتدا کا فعل ہو یعنی خبرجملہ فعلیہ ہو اور اُس کی ضمیر مرفوع مبتدا کی طرف راجع ہو: زَیْدٌ قَامَ۔
اورچار صورتوں میں خبرکو مقدم اور مبتدا کو مؤخر لاناضروری ہے:
۱۔خبر ایسے معنی پر مشتمل ہو جس کا شروع کلام میں ہونا ضروری ہے(۱۹) : أَیْنَ زَیْدٌ۔
۲۔خبر کے مقدم ہونے کی وجہ سے مبتدا کا مبتدا واقع ہونا صحیح ہوتاہو: فِيْ الدَّارِ رَجُلٌ۔
۳۔مبتدا میں ایسی ضمیر ہو جو خبرکے جز کی طرف لوٹ رہی ہو: فِي الدَّارِ صَاحِبُہَا۔
۴۔جب أَنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر مبتدا واقع ہو: عِنْدِيْ أَنَّکَ عَالِمٌ۔
فاعل اور مفعول کی تقدیم وتاخیر:
عمومًا فاعل ٗمفعول سے پہلے اورمفعول ٗ فاعل کے بعد آتاہے : نَصَرَ زَیْدٌ بَکْرًا۔ اور کبھی مفعول ٗفاعل سے پہلے بھی آجاتاہے : نَصَرَ بَکْرًا زَیْدٌ۔
لیکن چار صورتوں میں فاعل کو مقدم اور مفعول کو مؤخر لانا واجب ہے:
۱۔فاعل اور مفعول میں سے کسی میں بھی اعراب ظاہر نہ ہو اور نہ ایسا قرینہ ہو جس سے فاعل یا مفعول کی پہچان ہوسکے: نَصَرَ مُوْسٰی یَحْیٰی۔
۲۔فاعل ضمیر متصل ہو اور مفعول فعل سے پہلے نہ ہو : أَعَنْتُ فَقِیْرًا۔
۳۔مفعول إِلَّا کے بعد واقع ہو: مَا رَاٰی زَیْدٌ إِلَّا عَمْرًا۔
۴۔مفعول معنی إِلَّاکے بعد واقع ہو: إِنَّمَا نَصَرَ خَالِدٌ ضَعِیْفًا۔
اورچار صورتوں میں مفعول کومقدم اورفاعل کو مؤخر لاناضروری ہے:
۱۔فاعل کے ساتھ مفعول کی ضمیر متصل ہو: أَعَانَ زَیْدًا ابْنُہٗ۔
۲۔فاعل إِلَّا کے بعد واقع ہو : مَا اٰتَی فَقِیْرًا إِلَّا بَکْرٌ۔
۳۔فاعل معنی إِلَّا کے بعد واقع ہو: إِنَّمَا رَاٰی وَلَدًا خَالِدٌ۔
۴۔جب مفعول ضمیر متصل اور فاعل اسم ظاہر ہو: عَلَّمَہٗ الْأُسْتَاذُ۔
تمرین (1)
س:.1کتنی اور کون کونسی صورتوں میں مبتدا کو مقدم اورخبرکو مؤخر لانا واجب ہے؟
س:.2کتنی اور کون کونسی صورتوں میں خبر کو مقدم اور مبتدا کو مؤخر لانا ضروری ہے؟
س:.3کتنی اور کون کونسی صورتوں میں فاعل کو مقدم اور مفعول کو مؤخر لانا واجب ہے؟
س:.4 کتنی اور کون کونسی صورتوں میں مفعول کو مقدم اور فاعل کو مؤخر لانا ضروری ہے؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1مبتدا ہمیشہ خبرسے پہلے آتاہے۔.2فاعل ہمیشہ مفعول سے پہلے آتاہے۔ .3جب مفعول ٗ ضمیر متصل ہو تو اُسے فاعل سے مقدم لاناضروری ہے ۔
تمرین (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں مبتدا، خبر،فاعل اور مفعول الگ الگ کیجیے۔
۱۔بَنُوْنَا بَنُوْ أَبْنَائِنَا۔ ۲۔اِنَّمَا أَعَانَ فَقِیْرًا بَکْرٌ۔ ۳۔أَبُوْ حَنِیْفَۃَ أَبُوْ یُوْسُفَ۔ ۴۔أَکَلَ الْکُمَّثْرٰی یَحْیٰی۔ ۵۔مَنْ جَائَ؟ ۶۔نَصَرَ یَحْیٰی الضَّعِیْفَ مُوْسٰی۔ ۷۔أَکْرَمَ مُوْسٰی عِیْسٰی۔ ۸۔أَدَّبَ خَالِدًا أَبُوْہٗ۔ ۹۔فِي الْغُرْفَۃِ طِفْلٌ۔ ۱۰۔نَصَرَہٗ خَالِدٌ۔ ۱۱۔مَا فَازَ اِلَّا وَلَدٌ۔ ۱۲۔ضَرَبَتْ مُوْسٰی عُظْمٰی۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔زَیْدٌ أَیْنَ؟ ۲۔أَوْلَادٌ عَلَی السَّقْفِ۔ ۳۔أَکْرَمَ غُلَامُہٗ زَیْدًا۔ ۴۔صَاحِبُہَا فِي الدَّارِ۔ ۵۔أَنَّکَ فَقِیْرٌ فِيْ ظَنِّيْ۔ ۶۔بِیَدِکَ مَا؟ ۷۔أَخُوْکَ مَنْ؟ ۸۔أَدَّبَ أَبُوْہَا فَاطِمَۃَ۔ ۹۔اَلرُّجُوْعُ مَتٰی؟
الدرس السابع والستون
جواسم ٗ فعلِ محذوف أَلْزِمْ وغیرہ کا مفعول بہ ہو اُسے اِغراء کہتے ہیں: اَلصِّدْقَ (سچ کو لازم پکڑ)
اورجو اسم ٗ فعلِ محذوف بَعِّدْ، اِتَّقِ وغیرہ کا مفعول بہ ہو اُسے تحذیر کہتے ہیں: إِیَّاکَ مِنَ الْأَسَدِ(خود کو شیر سے دورکر) اَلطَّرِیْقَ اَلطَّرِیْقَ(بیچ راستے سے بچ)
قواعد وفوائد:
.1اِغراء دراصل مُغْرٰی بِہٖ ہوتاہے اور تحذیر کبھی مُحَذَّر اورکبھی مُحَذَّر مِنْہ ہوتا ہے جیسے اوپر اَلصِّدْقَ مغریٰ بہ،اِیَّاکَ محذَّراوراَلطَّرِیْقَ محذَّر منہ ہیں۔
.2اغراء اورتحذیر کے استعمال کی تین صورتیں ہیں:
۱۔معطوف علیہ ہوں: اَلْعَمَلَ وَالْإِحْسَانَ، اَلْبَرْدَ وَالْحَرَّ۔ ۲۔مکرَّرہوں: اَلصَّبْرَ الصَّبْرَ، اَلشَّرَّ اَلشَّرَّ۔ ۳۔ مفرد ہوں: اَلْإِحْسَانَ، اَلظُّلْمَ۔
اِن میں سے پہلی دو صورتوں میں اِن کے فعل ناصب کو حذف کرناواجب ہے اور آخری صورت میں جائز ہے واجب نہیں۔
.3تحذیرکبھی ضمیر منصوب مخاطب ہوتی ہے اِسکے بعد محذر منہ تین طرح آتا ہے:
۱۔واؤ کے ساتھ: اِیَّاکَ وَالْحَسَدَ۔ ۲۔مِنْ کے ساتھ: إِیَّاکُمَا مِنَ الشَّرِّ۔
۳۔مصدر مؤول : إِیَّاکُمْ أَنْ تَکْسَلُوا۔
اِن تینوں صورتوں میں تحذیر کے فعل ناصب کو حذْف کرنا واجب ہے۔
تمرین (1)
س:.1اغراء اور تحذیر کسے کہتے ہیں؟ س:.2تحذیر اصل میں کیا ہوتاہے؟ س:.3اغراء و تحذیر کی کتنی اور کون کونسی صورتیں ہیں؟ س:.4تحذیر ضمیر مخاطب ہو تو محذر منہ کون کونسے طریقوں سے آتاہے؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جسے کسی کام پر ابھارا جائے اُسے اغراء کہتے ہیں۔ .2جسے ما بعد سے ڈرایا جائے اُسے تحذیر کہتے ہیں۔.3اغراء اور تحذیر کا فعل ناصب ہمیشہ محذوف ہوتا ہے۔ .4اغراء یاتحذیر معطوف علیہ ا ور معطوف بھی ہوتاہے۔
تمرین (3)
(الف)اغراء و تحذیرالگ کیجیے اور بتایئے کہ فعل کا حذف واجب ہے یا جائز۔
۱۔اَلْجِدَّ فَاِنَّہٗ طَرِیْقُ الْفَلَاحِ۔ ۲۔اَلْخِیَانَۃَ اَلْخِیَانَۃَ۔ ۳۔اَلْفَرَائِضَ۔ ۴۔اَلْاِخْلَاصَ وَالْأَمَانَۃَ۔ ۵۔اِیَّاکِ أَنْ تَغْتَابِيْ۔ ۶۔اَلْغِیْبَۃَ وَالنَّمِیْمَۃَ۔ ۷۔اَلْمُحَرَّمَاتِ۔ ۸۔اَلْعَمَلَ اَلْعَمَلَ۔ ۹۔اِیَّاکَ مِنَ الْکِذْبِ۔ ۱۰۔اَلتَّوَاضُعَ فَاِنَّہٗ یَرْفَعُ الْاِنْسَانَ۔ ۱۱۔اَلْحَسَدَ فَاِنَّہٗ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔اِتَّقِ الشَّتْمَ الشَّتْمَ۔ ۲۔الْعِلْمُ وَالْوَقَارُ۔ ۳۔بَاعِدْ اِیَّاکَ مِنَ الْیَأْسِ۔ ۴۔أَلْزِمِ الْعَفْوَ وَالْکَرَمِ۔ ۵۔أُحَذِّرُ اِیَّاکَ مِنَ الضَّالِّ۔ ۶۔نَحُّوْا اِیَّاکُمْ أَنْ تُکْرِمُوا الْفَاسِقَ۔ ۷۔اُطْلُبِ الصَّدَاقَۃَ الصَّدَاقَۃَ۔
الدرس الثامن والستون
کسی اسم کے آخر میں یائے نسبت (یاء مشدد ماقبل مکسور) لاحق کرنے کو نسبت کہتے ہیں اور جس اسم کو یائے نسبت لاحق ہو اُسے اسم منسوب کہتے ہیں: یَمَنِيٌّ۔
قواعد وفوائد:
.1اسم منسوب اسم مفعول کے حکم میں ہوتاہے اوراپنے نائب فاعل کو رفع دیتا ہے: جَائَ رَجُلٌ دِمَشْقِيٌّ، رَأَیْتُ رَجُلًا مِصْرِیًّا أَبُوْہٗ۔
.2اسم کے آخرمیں گول تاء ہو تووہ نسبت میں حذف ہو جائے گی: فَاطِمِيٌّ۔
.3ثلاثی اسم کالام کلمہ محذوف ہوتونسبت میں اُسے لوٹائیں گے (۲۰) اورعین کلمے کو فتحہ دیںگے: أَبٌ، سَنَۃٌ، دَمٌ، لُغَۃٌسے أَبَوِيٌّ، سَنَوِيٌّ، دَمَوِيٌّ، لُغَوِيٌّ۔
.4الف مقصورہ تیسری جگہ ہوتووہ واؤ سے بدل جائے گا: رَضَاسے رَضَوِيٌّ۔ اور چوتھی یا پانچویں جگہ ہوتو اُسے واو سے بدلنا یاحذف کردینا دونوں جائز ہیں: حُبْلٰی سے حُبْلِيٌّ یا حُبْلَوِيٌّ، مُصْطَفٰی سے مُصْطَفِيٌّ یا مُصْطَفَوِيٌّ۔
.5اسم منقوص کی یاء چوتھی جگہ ہوتواُسے حذف کردینا یا واؤ ماقبل مفتوح سے بدل دینا دونوں جائز ہیں: اَلْقَاضِيْ سے اَلْقَاضِيُّ یا اَلْقَاضَوِيُّ۔
.6الفِ ممدودہ واؤ سے بدل جائے گا: بَیْضَائُ سے بَیْضَاوِيٌّ۔ اوراگر یہ واؤ یا یاء سے بدل کر آیا ہو تواِسے واؤ سے بدلنا اورباقی رکھنا دونوں جائز ہیں: کِسَائٌ سے کِسَائِيٌّ یا کِسَاوِيٌّ، رِدَائٌ سے رِدَائِيٌّ یا رِدَاوِيٌّ۔
.7فَعِیْلَۃٌکی یاء حذف ہوجائے گی اوراُس کا ماقبل مفتوح ہوجائے گا جبکہ وہ معتل العین یا مضاعف نہ ہوورنہ یاء باقی رہے گی: حَنِیْفَۃٌ، طَوِیْلَۃٌ، جَلِیْلَۃٌسے حَنَفِيٌّ، طَوِیْلِيٌّ، جَلِیْلِيٌّ۔
تنبیہ:
بہت سے اسمائے منسوبہ خلاف قیاس بھی آتے ہیں: رَيْ سے رَازِيٌّ۔
تمرین (1)
س:.1نسبت اور اسم منسوب کسے کہتے ہیں؟ س:.2اسم ممدود، اسم مقصور اور اسم منقوص کی طرف نسبت کے کیا اصول ہیں؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس اسم کویاء لاحق ہو وہ اسم منسوب ہوتاہے۔ .2اگرکوئی اسم فَعِیْلَۃٌ کے وزن پر ہوتو نسبت میں اُس کی یاء اور تاء دونوں گر جائیں گی۔
تمرین (3)
قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل اسماء سے اسمائے منسوبہ بنائیے۔
۱۔ہِجْرَۃٌ۔ ۲۔نَحْوٌ۔ ۳۔مَوْلٰی۔ ۴۔مَدِیْنَۃٌ۔ ۵۔اِیْمَانٌ۔ ۶۔خَضْرَائُ۔ ۷۔عِیْسٰی۔ ۸۔دِہْلِيْ۔ ۹۔یَدٌ۔ ۱۰۔اِسْلَامٌ۔ ۱۱۔سَمَائٌ۔ ۱۲۔شَرِیْعَۃٌ۔ ۱۳۔عَطَّارٌ۔ ۱۴۔اَلْعَصٰی۔ ۱۵۔عَزِیْزَۃٌ۔ ۱۶۔اَلْمُرْتَضٰی۔
الدرس التاسع والستون
اسم کے پہلے حرف کو ضمہ اور دوسرے کو فتحہ دیکر اُس کے بعد یاء ساکن(یائے تصغیر) بڑھانے کو تصغیرکہتے ہیں اور تصغیر والے اسم کو مُصَغَّرکہتے ہیں: قَلَمٌ سے قُلَیْمٌ۔
قواعد وفوائد:
.1تصغیرصرف اسم معرب کی ہوسکتی ہے،کسی فعل یا کسی اسم مبنی کی تصغیر جائز نہیں۔
.2کسی اسم کی تصغیر ٗ تقلیل، تحقیر، تقریب، محبت یا تصغیر پردلالت کے لیے کی جاتی ہے: وُرَیْقَاتٌ(کچھ اوراق)، شُوَیْعِرٌ(گھٹیا شاعر)، قُبَیْلٌ(تھوڑا پہلے)، بُنَيٌّ(پیارا سابیٹا)، طُفَیْلٌ(چھوٹا سا بچہ)
.3ثلاثی اسم کی تصغیرفُعَیْلٌ، رباعی کی فُعَیْعِلٌ اورخماسی کی فُعَیْعِیْلٌ کے وزن پر آتی ہے جبکہ خماسی میں چوتھاحرف علت ہو ورنہ حرفِ خامس کو گراکر اُس کی تصغیر بھی فُعَیْعِلٌ کے وزن پر لائی جاتی ہے: حُسَیْنٌ، جُعَیْفِرٌ، عُصَیْفِیْرٌ، سُفَیْرِجٌ۔
.4یائے تصغیر کاما بعدحرف مکسور ہوتاہے،لیکن مابعداگر ایک ہی حرف ہویا آخر میں علامت تانیث یا الفِ جمع یا الف نون زائد ہوں تو وہ اپنی حالت پر بر قرار رہتا ہے: رَجُلٌ، تَمْرَۃٌ، أَنْہَارٌ اورعِمْرَانُ سے رُجَیْلٌ، تُمَیْرَۃٌ، أُنَیْہَارٌ اورعُمَیْرَانُُ۔
.5دوسرا حرف ہمزہ کے علاوہ کسی اور حرف سے بدل کر آیا ہو تووہ اصل کی طرف لوٹ جائے گا: بَابٌ، نَابٌ اوردِیْنَارٌسے بُوَیْبٌ، نُیَیْبٌ اوردُنَیْنِیْرٌ۔
اور اگر دوسرا حرف ہمزہ سے بدل کرآیاہویا مجہول الاصل ہویا زائد ہو تووہ واؤ سے بدل جائے گا: آصَالٌ(أَئْ صَالٌ) عَاجٌ اورنَاصِرٌسے أُوَیْصَالٌ، عُوَیْجٌ اورنُوَیْصِرٌ۔
.6تصغیر میں محذوف حرف لوٹ آتاہے: أُبَيٌّ۔ اور ثلاثی مؤنث سماعی کے آخرمیں تاء بھی آجاتی ہے: دَارٌاورعَیْنٌ سے دُوَیْرَۃٌ اورعُیَیْنَۃٌ۔
.7بہت سے اسماء کی تصغیر خلاف قیاس بھی آتی ہے: طَيٌّ سے طَائِيٌّ۔
تمرین (1)
س:.1تصغیر، یائے تصغیراور مصغرکسے کہتے ہیں؟س:.2تصغیر کے شرائط ومقاصدبیان کیجیے؟س:.3تصغیر کے کتنے اور کون کونسے اوزان ہیں؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1مؤنث سماعی کی تصغیر میں ۃظاہر ہو جا تی ہے۔ .2دوسرا حرف کسی اور حرف سے بدل کر آیا ہو تو تصغیر میں وہ اصل کی طرف لوٹ جاتاہے۔.3تصغیر ہمیشہ قاعدے کے مطابق ہوتی ہے۔ .4یائے تصغیر کا مابعد حرف ہمیشہ مکسور ہوتاہے۔
تمرین (3)
قواعد کا خیال رکھتے ہوئے درج ذیل اسماء سے اسمائے مصغرہ بنائیے۔
۱۔مَکْتَبٌ۔ ۲۔وَلَدٌ۔ ۳۔ظُلْمَۃٌ۔ ۴۔ہِنْدٌ۔ ۵۔حَمْرَائُ۔ ۶۔أَحْجَارٌ۔ ۷۔عِرْفَانُ۔ ۸۔صُغْرٰی۔ ۹۔مِفْتَاحٌ۔ ۱۰۔شَمْسٌ۔ ۱۱۔فَرَزْدَقٌ۔ ۱۲۔أَخٌ۔ ۱۳۔آمَالٌ۔ ۱۴۔سَامِعٌ۔ ۱۵۔قَدَمٌ۔ ۱۶۔قِنْدِیْلٌ۔ ۱۷۔أُذُنٌ۔