دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulasa Tun Nahw Part 01,02 | خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم

Mafool Mutlaq Ka Bayan

book_icon
خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم
الدرس التاسع والعشرون

مفعول مطلق کا بیان

فعل کے اپنے یا اُس کے ہم معنی مصدرکو مفعول مطلق کہتے ہیں: ضَرَبْتُ ضَرْبًا، قَعَدْتُ جُلُوْسًا۔
مفعول مطلق کی اقسام:
مفعول مطلق کی تین قسمیں ہیں:  ۱۔تاکیدی   ۲۔ نوعی   ۳۔ عددی۔ 
جومفعول مطلق فِعْلَۃٌکے وزن پر ہو یامضاف ہویاموصوف ہو وہ مفعول مطلق نوعی ہوتاہے: جَلَسَ جِلْسَۃً، ضَرَبْتُ ضَرْبَ زَیْدٍ، ضَرَبْتُ ضَرْبًا شَدِیْدًا۔
جو مفعول مطلق فَعْلَۃٌ کے وزن پر ہویا اِس کا تثنیہ ہو یا ایسااسم ِعدد ہو جو مصدر کی طرف یا مَرّات کی طرف مضاف ہو وہ مفعول مطلق عددی  ہوتاہے: أَکَلْتُ أَکْلَۃً، أَکَلْتُ أَکْلَتَیْنِ، أَکَلْتُ ثَلاثَ أَکْلَاتٍ، جَائَ زَیْدٌ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ۔
اور جو مفعول مطلق اِن کے علاوہ ہووہ مفعول مطلق تاکیدی  ہو گا: نَصَرْتُ نَصْرًا۔
قواعد وفوائد:
.1مفعول مطلق ہمیشہ منصوب ہوتاہے جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
.2کبھی مفعول مطلق محذوف ہوتاہے اوراُس کی صفَت ذکرکردی جاتی ہے: اُذْکُرُوْا اللّٰہَ کَثِیْرًایعنیذِکْرًا کَثِیْرًا۔
.3بعض مفعول مطلق کے افعال ہمیشہ محذوف ہوتے ہیں: سَقْیًایعنی سَقَاکَ اللّٰہُ سَقْیًا،  حَمْدًایعنی حَمِدْتُ اللّٰہَ حَمْدًا، شُکْرًا یعنی شَکَرْتُ شُکْرًا۔
تمرین  (1)
س:.1مفعول مطلق کسے کہتے ہیںاورمفعول مطلق کا اِعراب کیا ہوتا ہے؟  س:.2مفعول مطلق کی کتنی اورکون کونسی قسمیںہیں؟ س:.3مفعول مطلق نوعی کب ہوتاہے؟ س:.4مفعول مطلق عدد ی کب ہوتاہے؟ س:.5مفعول مطلق تاکیدی کب ہو تاہے؟ س:.6وہ کونسے مفعول مطلق ہیں جن کا فعل ہمیشہ محذوف ہوتا ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1مفعول مطلق ہمیشہ مرفوع ہوتاہے۔.2جومفعول مطلق موصوف ہو وہ مفعول مطلق عددی ہوتاہے۔ .3 جومفعول مطلق ایسا ا سم ِعدد ہو جو مصدرکی طرف مضاف ہو وہ مفعول مطلق نوعی ہوتاہے۔ .4مفعول مطلق کا فعل ہمیشہ محذوف ہوتاہے۔ 
تمرین  (3)
 درجِ ذیل جملوں میں مفعول مطلق اور اُس کی قسم متعین کیجیے۔
۱۔تَدُوْرُ الشَمْسُ دَوْرَۃً فِيْ یَوْمٍ۔   ۲۔کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا۔    ۳۔وَثَبَ خَالِدٌ وُثُوْبَ الْأَسَدِ۔  ۴۔ضَرَبْتُ الْحَیَّۃَ ضَرْبَۃً۔   ۵۔جَلَسَ زَیْدٌ جِلْسَۃَ الْأَمِیْرِ۔  ۶۔أَدَّبَ الْأُسْتَاذُ التِلْمِیْذَ تَأْدِیْبًا۔  ۷۔قَاتَلَ زَیْدٌ قِتَالًا۔   ۸۔رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا۔   ۹۔اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا۔   ۱۰۔أَنْبَتَ اللّٰہُ نَبَاتًا۔   ۱۱۔قَرَأتُ الْقُرْآنَ سَبْعَ قِرَائَ اتٍ۔
الدرس الثلاثون

مفعول بہ کا بیان

جس اسم پر کوئی فعل واقع ہواُسے مفعول بہ کہتے ہیں، مفعول بہ بھی ہمیشہ منصوب ہوتاہے: نَصَرْتُ ضَعِیْفًا، أَعْطَیْتُ الْفَقِیْرَ دِرْہَمًا۔
قواعد وفوائد:
.1ایک فعل کے دویا تین مفعول بہ بھی ہوتے ہیں: أَعْطَیْتُ زَیْدًا قَلَمًا، أَعْلَمْتُ زَیْدًا بَکْرًا فَاضِلًا۔ 
ایسا فعل مجہول ہوتواس کا پہلا مفعول نائب فاعل اور باقی مفعول بہ ہون گے: أُعْطِيَ زَیْدٌ قَلَمًا، أُعْلِمَ زَیْدٌ بَکْرًا فَاضِلًا۔
.2عام طورپر مفعول بہ فعل اور فاعل کے بعد آتاہے: نَصَرَ زَیْدٌ عَمْرًا  اور کبھی  ان سے پہلے بھی آجاتا ہے: نَصَرَ عَمْرًا زَیْدٌ، عَمْرًا نَصَرَ زَیْدٌ۔
.3 مفعول بہ ٗموصوف یا مضاف بھی ہوتا ہے: سَلُوا اللّٰہَ عِلْمًا نَافِعًا، رَأَیْتُ غُلَامَ زَیْدٍ۔
.4 قرینہ ہوتومفعول بہ کے فعل کو حذف کرنا جائز ہے جیسے کوئی پوچھے: مَنْ رَأَیْتَ؟  اور جواب میں کہاجائے : زَیْدًا  تو مطلب ہوگا : رَأَیْتُ زَیْدًا۔
تمرین  (1)
س:.1مفعول بہ کسے کہتے ہیںاوراِس کا اِعراب کیا ہوتاہے؟ س:.2ایک فعل کے کتنے مفعول بہ ہوسکتے ہیں؟س:.3کیا مفعول بہ فاعل یا فعل سے پہلے آتا ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1 مفعول بہ مرفوع ہوتاہے۔ .2ایک فعل کے تین یا چار مفعول بہ بھی ہوسکتے ہیں۔ .3مفعول بہ ہمیشہ فعل اور فاعل کے بعد آتا ہے۔ 
تمرین  (3)
درجِ ذیل جملوں میں مفعول بہ کی پہچان کیجیے۔
۱۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ۔    ۲۔رَزَقَنَا اللّٰہُ عِلْمًا نَافِعًا۔     ۳۔رُمَّانًا أَکَلَ بَکْرٌ۔    ۴۔أَنَا أَحْتَرِمُ الْمُسْلِمِیْنَ۔   ۵۔رَاٰی فِیْلًا وَلَدٌ۔   ۶۔دَعَا أَبِيْ أَخِيْ۔    ۷۔أَکَلَ الْکُمَّثْرٰی مُوْسٰی۔   ۸۔اِتَّقُوا اللّٰہَ۔   ۹۔أَعْطٰی زَیْدٌ فَقِیْرًا رُوْبِیَۃً۔    ۱۰۔لَقِیْنَا الْأُسْتَاذَ۔  ۱۱۔أَکْرَمْتُ أَخَا زَیْدٍ۔   ۱۲۔ رَأَیْتُ نَہْرَیْنِ فِي الْحَدِیْقَۃِ۔  ۱۳۔أُحِبُّ رَبِّيْ۔   ۱۴۔اِشْتَرَیْتُ کُرَّاسَاتٍ۔   ۱۵۔اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ۔   ۱۶۔اِجْتَنِبُوا الْخَمْرَ۔
الدرس الحادي والثلاثون

مفعول فیہ کا بیان

جس جگہ یا وقت میں فعل واقع ہو اُسے مفعول فیہ کہتے ہیں: دَخَلْتُ فِي الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ مفعول فیہ کو   ظرف   بھی کہتے ہیں ۔
تنبیہ:
ظرف سے پہلے حرفِ جر فِيْ لفظًا موجودہو توظرف مجرور ہوگا اور اس کو مفعول فیہ نہیں کہتے اورحرفِ جر محذوف ہو تو ظرف منصوب ہوگا اور مفعول فیہ کہلائے گا۔ 
ظرف کی اقسام:
ظرف کی دوقسمیں ہیں : ۱۔ظرْف ِزمان : وہ وقت جس میں فعل واقع ہو: أَذْہَبُ غَدًا۔ ۲۔ظرْفِ مکان: وہ جگہ جس میں فعل واقع ہو : صَلَّیْتُ خَلْفَ الْاِمَامِ۔
پھرجوظرفِ زمان ایسا زمانہ ظاہر کرے جس کی حدنہ ہواُسے ظرفِ زمان غیر محدود یا ظرفِ زمان مبہم کہتے ہیں: صُمْتُ دَھْرًا۔اورجوظرفِ زمان ایسا زمانہ ظاہر کرے جس کی حد ہو اُسے ظرفِ زمان محدودکہتے ہیں: صُمْتُ شَھْرًا۔
یوںہی جوظرفِ مکان ایسی جگہ ظاہر کرے جس کی حدنہ ہو اُسے ظرفِ مکان غیر محدود یا ظرفِ مکان مبہم کہتے ہیں: جَلَسْتُ أَمَامَ الْأَمِیْرِ۔اورجو ظرفِ مکان ایسی جگہ ظاہر کرے جس کی حد ہو اُسے ظرفِ مکان محدود کہتے ہیں: دَخَلْتُ دَارًا۔
قواعد وفوائد:
.1ظرفِ مبہم (زمان ہویامکان)سے پہلے فِيْ لانا جائز نہیں: قُمْتُ أَمَامَہٗ دَہْرًا۔
.2ظر فِ مکا ن محدود سے پہلے فِيْ لانا واجب ہے(۱۳): قُمْتُ فِي الدَّارِ۔
.3ظرف ِزمان محدودسے پہلے فِيْ لانا جائز ہے : قَامَ فِيْ لَیْلٍ، قَامَ لَیْلًا۔
.4 قرینہ ہو تومفعو ل فیہ کے فعل کو حذف کرناجائزہے۔ جیسے کوئی پوچھے:  مَتٰی تَصُوْمُ؟  اور جواب میں کہا جا ئے : غَدًاتو اِس کا معنی ہوگا: أَصُوْمُ غَدًا۔
تمرین  (1)
س:.1مفعول فیہ کسے کہتے ہیں؟ س:.2ظرفِ زمان مبہم اور ظرفِ زمان محدود کسے کہتے ہیں؟ س:.3 کس ظرف سے پہلے فِيْ لاناجائز، ناجائز یا واجب ہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1مفعول فیہ کو ظرفِ زمان کہتے ہیں ۔ .2جس ظرف کی حدہواُسے ظرفِ مبہم کہتے ہیں۔ .3ظرفِ زمان سے پہلے فِيْ لانا واجب ہے ۔
تمرین  (3)
(الف) مفعول فیہ الگ کیجیے نیزبتائیں کہ اِس سے پہلے فِيْ  آسکتا ہے یا نہیں۔
۱۔وُلِدَ نَبِیُّنَا  ﷺ   یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ۔  ۲۔خَتَمْتُ الْقُرْآنَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔  ۳۔صَلَّیْتُ خَلْفَ الْاِمَامِ۔  ۴۔أَسْتَیْقِظُ وَقْتَ التَہَجُّدِ۔  ۵۔أَتْلُو الْقُرْآنَ کُلَّ یَوْمٍ صَبَاحًا۔  ۶۔أُطِیْعُ الْوَالِدَیْنِ دَائِمًا۔  ۷۔أَصُوْمُ شَہْرَ رَمَضَانَ۔
(ب)درجِ ذیل جملوں میںغلطی اور اُس کی وجہ کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔أُصَلِّيْ مَسْجِدًا۔  ۲۔أَرْجِعُ فِيْ غَدًا۔  ۳۔أَحْفَظُ الدَّرْسَ دَارًا۔  ۴۔اَلْحُکْمُ فَوْقُ الْأَدَبِ۔  ۵۔دَرَسْتُ سِنُونَ۔  ۶۔لَاأَقْرَئُ فِي خَلْفِ الْاِمَامِ۔
الدرس الثاني والثلاثون

مفعول لہ اور مفعول معہ کا بیان

مفعول لہ کی تعریف:
جس مفعول کے سبب فعل واقع ہواُسے مفعول لہ یا مفعول لِاجْلِہ کہتے ہیں: قُمْتُ اِکْرَامًا، سَئَلْتُ جَہْلًا۔
.1 مفعول لہ منصوب ہوتاہے لیکن اگر اُس سے پہلے حرفِ جرآجائے تووہ مجرور ہوجائے گا اور اس صورت میں یہ مفعول لہ نہیں کہلائے گا : قُمْتُ لِلْأُسْتَاذِ، وَقَفْتُ مِنَ الْمَطَرِ، أُخِذَتْ اِمْرأَۃٌ فِيْ ہِرَّۃٍ۔
.2مفعول لہ مصدر نہ ہوتواُس سے پہلے حرفِ جر لانا واجب ہے ، مصدر ہو تو حرف جر لانا یا نہ لانادونوں جائز ہیں(۱۴): جِئْتُ لِلْمَائِ،  قُمْتُ اِکْرَامًایا لِلْاِکْرَامِ۔
مفعول معہ کی تعریف:
جو مفعول واؤبمعنی مَعَ کے بعد آئے اُسے مفعول معہ کہتے ہیں۔ مفعول معہ ہمیشہ منصوب ہوتاہے : جَائَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ۔
.1 عطْف جائزہوتوواؤ کو عاطفہ لینایامَعَ کے معنی لینا دونوں جائز ہیں(۱۵) عاطفہ لیں گے توبعد والا اسم اِعراب میں ماقبل کے مطابق ہوگا اورمَعَ کے معنی میں لیں گے تو بعد والا اسم منصوب ہوگا : جَائَ خَالِدٌ وَزَیْدٌ، جَائَ خَالِدٌ وَزَیْدًا۔
.2اگرعطْف جائزنہ ہوتوواؤ کوبمعنی مَعَ لینا ضروری ہے: جَائَ وَزَیْدًا(۱۶)۔
.3جو اسم مَعَ کے بعد آئے وہ مفعول معہ نہیں کہلائے گا: ذَھَبْتُ مَعَ زَیْدٍ۔
تمرین  (1)
س:.1مفعول لہ اورمفعول معہ کسے کہتے ہیںاوراِن کا اِعراب کیا ہوتاہے؟ س:.2مفعول لہ سے پہلے حرفِ جر لانا کب ضروری ہے؟ س:.3کب واؤ کو عاطفہ لینااورمَعَ کے معنی میں لینادونوں جائزہیں؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1جس کے سبب فعل واقع ہواُسے مفعول لہ کہتے ہیں۔ .2مفعول لہ ہمیشہ منصوب ہوتاہے ۔ .3مفعول لہ مصدرنہ ہو تواُس سے پہلے لام لاناضروری ہے۔ .4جو اسم واؤ کے بعد آئے اُسے مفعول معہ کہتے ہیں۔
 تمرین  (3)
(الف)درجِ ذیل جملوں میں مفعول لہ اور مفعول معہ الگ الگ کیجیے۔
۱۔اِحْمَرَّ وَجْہُہٗ غَضَبًا۔  ۲۔أَکَلْتُ وَزَیْدًا۔  ۳۔سَافَرْتُ طَلَبًا لِلْعِلْمِ۔  ۴۔قُمْتُ اِکْرَامًا لِلْأُسْتَاذِ۔  ۵۔سِرْتُ وَالنِیْلَ۔  ۶۔آصَفُ ذَہَبَ وَزَاہِدًا۔  ۷۔تَرَکْتُ الْحَرَامَ حَیَائً مِنَ اللّٰہِ۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔نَصَرَ الرَجُلُ وَنَاصِرٍ۔   ۲۔جِئْتُ کِتَابًا۔   ۳۔سَمِعْتُ وَخَالِدٍ۔ ۴۔دَخَلْتُ الدَّارَ مَطَرًا۔   ۵۔صَلَّیْتُ وَالْمُسْلِمُوْنَ۔  ۶۔نَجَحَ رَجُلٌ کَلْبًا۔  ۷۔زَلَّتْ رِجْلُ وَلَدٍ وَحْلًا۔
الدرس الثالث والثلاثون

حال کا بیان

جو لفظ فاعل یامفعول کی حالت بیان کرے اُسے حال اوراُس فاعل یا مفعول کو ذوالحال کہتے ہیں:  ضَرَبْتُ زَیْدًا قَائِمًا، لَقِیْتُ زَیْدًا رَاکِبَیْنِ۔
قواعد وفوائد:
.1حال ہمیشہ منصوب اورنکرہ ہوتاہے اورذوالحال عامل کے مطابق اور اکثر معرفہ ہوتا ہے: جَائَ زَیْدٌ رَاکِبًا، رَأَیْتُ زَیْدًا رَاکِبًا۔
.2حال‘ ذوالحال کے بعدآتاہے مگرذو الحال اگرنکرہ ہواورمجرورنہ ہو توحال کواُس سے پہلے لانا ضروری ہے: جَائَ رَاکِبًا رَجُلٌ، رَأَیْتُ رَاکِبًا رَجُلًا۔
.3حال مُفرَدہو تواُس کاواحد،تثنیہ،جمع اورمذکرومؤنث ہونے میںذوالحال کے مطابق ہونا ضروری ہے: جَائَ الرَجُلُ رَاکِبًا، جَائَ تِ الْمَرْأَۃُ رَاکِبَۃً، جَائَ الرَّجُلَانِ رَاکِبَیْنِ، جَائَ تِ الْمَرْأَتَانِ رَاکِبَتَیْنِ، جَائَ الرِّجَالُ رَاکِبِیْنَ۔
.4حال جملہ اسمیہ ہو تواُس میں وائو اور ضمیر یااِن میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے: اُدْعُ اللّٰہَ وَأَنْتَ مُوْقِنٌ، لَا تَأْکُلْ وَالطَّعَامُ حَارٌّ، رَجَعَ الْقَائِدُ ہُوَ فَاتِحٌ۔
.5حال جملہ فعلیہ ہواور فعلِ ماضی سے شروع ہو تواُس سے پہلیقَدْ  کا ہونا ضروری ہے: جَائَ زَیْدٌ قَدْ قُمْتُ۔
اور فعلِ مضارع سے شروع ہو تواُس میں ذوالحال کے مطابق ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے : جَائَ یَرْکَبُ۔
تمرین  (1)
س:.1حال اور ذوالحال کسے کہتے ہیں اور اِن دونوں کا اِعراب کیا ہوتاہے؟  س:.2حال کو ذوالحال سے پہلے لانا کب ضروری ہے؟ س:.3حال مفردہو توکن چیزوں میں اُس کا ذوالحال کے مطابق ہونا ضروری ہے؟ س:.4حال جملہ اسمیہ یا جملہ فعلیہ ہو تو اُس میں کس چیز کا ہونا ضروری ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جواسم ‘ فاعل یامفعول کی حالت بتائے اُسے حال کہتے ہیں۔ .2حال اور ذو الحال منصوب ہوتے ہیں۔ .3ذوالحال ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے ۔ .4ذو الحال نکرہ ہو توحال کواس سے پہلے لانا ضروری ہے۔ 
تمرین  (3)
(الف) درجِ ذیل جملوں میں حال اور ذو الحال کی تعیین کیجیے۔
۱۔ذَہَبَ الْحَاجُّ مَاشِیًا۔   ۲۔لَا تَشْرَبِ الْمَائَ کَدِرًا۔  ۳۔نَزَلَ الْمَطَرُ غَزِیْرًا۔  ۴۔لَا تَحْکُمْ غَضْبَانَ۔  ۵۔لَا تَقْرَئْ وَالنُوْرُ ضَئِیْلٌ۔  ۶۔فَرَّ السَارِقُ یَرْکَبُ۔  ۷۔اِجْتَہِدْ صَغِیْرًا۔  ۸۔کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُوْحِ وَالْجَسَدِ۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔جَائَ الرِجَالُ رَاکِبُوْنَ۔   ۲۔لَا تَشْرَبِيْ قَائِمًا۔   ۳۔مَرَرْتُ قَائِمًا بِرَجُلٍ۔  ۴۔أُخِذَ الرَّجُلَانِ فَارَّانِ۔  ۵۔جَائْ تِ النِّسَائُ رَاکِبَاتً۔  ۶۔ذَہَبَ وَلَدٌ رَاجِلًا۔
الدرس الرابع والثلاثون

تمییز کا بیان

جو اسمِ نکرہ کسی چیزسے اِبہام (پوشیدگی) کو دور کردے اُسے تمییزیا مُمَیِّزکہتے ہیں اور تمییزجس چیز سے اِبہام کودور کرے اُسے  مُمَیَّزکہتے ہیں : عِشْرُوْنَ قَلَمًا۔
تمییز کی اَقسام:
تمییز کی دو قسمیں ہیں:  ۱۔تمییز عن الذات   ۲۔تمییز عن النسبۃ۔
۱۔تمییز عن الذات:وہ تمییز جو کسی مُبہَم ذات سے اِبہام کو دور کرے، یہ مُبہَم ذات عمومًا مقدار (عدد، وزن، کیل یا ناپ وغیرہ)  ہوتی ہے: لِزَیْدٍ عِشْرُوْنَ دِرْہَمًا، عِنْدِيْ رِطْلٌ زَیْتًا، ہٰذَا صَاعٌ بُرًّا، عِنْدَ خَالِدٍ شِبْرٌ أَرْضًا۔اور کبھی یہ مبہم ذات مقدار کے علاوہ بھی ہوتی ہے: خَاتَمٌ ذَہَبًا۔
۲۔تمییز عن النسبۃ: وہ تمییز جو کسی مُبہَم نسبت سے اِبہام کو دور کرے، یہ مُبہَم نسبت یاتوجملہ فعلیہ میں ہوتی ہے: حَسُنَ زَیْدٌ خُلُقًا۔یا شبہ جملہ میں ہوتی ہے: أَنَا أَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا۔یا اِضافت میں ہوتی ہے: أَعْجَبَنِيْ شَرَافَۃُ زَیْدٍ نَفْسًا۔
قواعد وفوائد:
.1تمییز ہمیشہ نکرہ ہوتی ہے جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
.2تمییز منصوب ہوتی ہے لیکن اگر ممیَّز کو اُس کی طرف مضاف کردیاجائے تو وہ مجرور ہوجائے گی: عِنْدِيْ شِبْرُ أَرْضٍ، بِعْتُ صَاعَ بُرٍّ، ہٰذَا عِقْدُ فِضَّۃٍ۔
.3ممیَّز اگر ذات ہوتو اُسے تمییز کی طرف مضاف کرنا جائز ہے۔ 
تمرین  (1)
س:.1تمییزاور ممیَّزکسے کہتے ہیں ؟س:.2تمییزعن الذات اورتمییز عن النسبۃ کسے کہتے ہیں؟ س:.3مبہم ذات کیا ہوتی ہے ؟ س:.4مبہم نسبت کن چیزوں میں ہوتی ہے؟ س:.5تمییز کا اعراب کیا ہوتاہے ؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے ۔
.1جو اسمِ معرفہ کسی چیزسے اِبہام کو دور کردے اُسے تمییزکہتے ہیں۔ .2جس چیز سے اِبہام کو دور کیا جائے اُسے مُمَیِّزکہتے ہیں ۔ .3مبہم ذات عمومًا عدد ہوتی ہے۔ .4مبہم نسبت صرف جملہ اسمیہ میں ہوتی ہے۔
تمرین  (3)
(الف) درجِ ذیل جملوں میں تمییز کی پہچان کیجیے ۔
۱۔بِعْتُ مَنًّا بُرًّا بِمِائَۃِ رُوْبِیَۃٍ۔  ۲۔فِي الْبَیْتِ صَاعٌ تَمْرًا۔  ۳۔رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا۔  ۴۔فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوْنًا۔  ۵۔اَلدَارُ طَیِّبَۃٌ فَسَاحَۃً۔  ۶۔لِيْ خَاتَمٌ فِضَّۃً۔   ۷۔اَلسَّنَۃُ اِثْنَا عَشَرَ شَہْرًا۔   ۸۔أَنَا أَکْثَرُ مِنْکَ تَجْرِبَۃً۔  ۹۔عِنْدِيْ رِطْلٌ سَمَنًا۔  ۱۰۔عِنْدَہٗ ذِرَاعٌ حَرِیْرًا۔  ۱۱۔مَلَئْتُ الْکَأْسَ لَبَنًا۔  ۱۲۔مَا عِنْدِيْ شِبْرٌ أَرْضًا۔   ۱۳۔رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔أَخَذْتُ عِشْرِیْنَ الدِّرْہَمَ۔  ۲۔عِنْدَہَا سِوَارٌ ذَہَبٌ۔  ۳۔عِنْدَہُ رِطْلُ زَیْتًا۔
الدرس الخامس والثلاثون

مستثنیٰ کابیان

جس اسْم کوبذریعہ کلمہ اِستِثناء کسی اسم کے حکم سے نکال دیا جائے اُسے مستثنیٰ اور جس اسم کے حکم سے مستثنیٰ کونکالا گیاہو اُسے مستثنیٰ منہ کہتے ہیں: قَامَ الْقَوْمُ اِلاَّ زَیْدًا۔
کلماتِ اِستِثنائ:
کلماتِ اِستِثناء گیارہ ہیں:  اِلاَّ، غَیْرَ، سِوٰی، سِوَائَ، حَاشَا، خَلَا، مَاخَلَا، عَدَا، مَاعَدَا، لَیْسَاور لَایَکُوْنُ۔
مُستَثنیٰ کی اَقسام:
مستثنیٰ کی دوقسمیں ہیں:  ۱۔ مستثنیٰ متَّصِل   ۲۔ مستثنیٰ منقطع۔
جو مستثنیٰ اِستِثناء سے پہلے مستثنیٰ منہ میںداخل ہواُسے مستثنیٰ مُتَّصِل کہتے ہیں:  جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ زَیْدًا۔
اورجو مستثنیٰ اِستِثناء سے پہلے مستثنیٰ منہ میں داخل نہ ہو اُسے  مستثنیٰ مُنقَطِع کہتے ہیں: جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ حِمَارًا۔
تنبیہ:
جس کلام میں نَفی ،نَہی یا اِستِفہام نہ ہواُسے کلامِ مُوجَب کہتے ہیں: جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ زَیْدًا۔
اور جس کلام میں نفی ،نہی یااستفہام ہواُسے کلام ِغیر مُوجَب کہتے ہیں: مَاجَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ زَیْدًا، لَاتُکْرِمِ الْقَوْمَ اِلاَّ بَکْرًا، أَ قَامَ أَحَدٌ اِلَّا بَکْرًا۔
مُستَثنیٰ کا اِعراب:
.1مستثنیٰ مفرَّغ (وہ مستثنیٰ جس کا مستثنیٰ منہ محذوف ہو) کا اعراب عامل کے مطابق ہوتاہے: لَا یَرُدُّ الْقَضَائَ اِلاَّ الدُّعَائُ، مَا لَقِیْتُ اِلاَّ بَکْرًا۔
.2غَیْرُ،سِوٰی، سِوَائَکے بعد ہمیشہ اور حَاشَا کے بعدعموما مستثنیٰ مجرورہوتاہے: جَائَ الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ، مَا جَائَ الْقَوْمُ سِوٰی خَالِدٍ، ضَرَبَ الْقَوْمُ حَاشَا بَکْرٍ۔
.3مستثنیٰ غیرمفرَّغ‘ کلام غیر موجب میں اِلاَّکے بعدہوتومنصوب اورعامل کے مطابق دونوں طرح آسکتا ہے: مَا جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ خَالِدًایا  اِلاَّ خَالِدٌ۔
.4درجِ ذیل چارصورتوں میں          مستثنیٰ منصو ب ہوتاہے : 
۱۔مَاخَلَا، مَاعَدَا، لَیْسَ، لَایَکُوْنُ کے بعد ہمیشہ اورخَلَا اورعَدَاکے بعدعموماً: جَائَ الْقَوْمُ مَاخَلَا بَکْرًا، نَصَرَ الْقَوْمُ خَلَا زَیْدًا۔
۲۔جب مستثنیٰ منقطع ہو:   جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ فَرَسًا۔
۳۔جب مستثنیٰ مستثنیٰ منہ سے پہلے آجائے:  جَائَ اِلاَّ زَیْدًا قَوْمٌ۔
۴۔جب مستثنیٰ کلام موجب میں اِلاَّکے بعد آئے: جَائَ الْقَوْمُ اِلاَّ زَیْدًا۔
تنبیہ:  غَیْرُکواِستِثناء میںوہی اِعراب دیں گے جو اِلاَّکے بعد مستثنیٰ کا ہوتا ہے:
۱۔مَا جَائَ غَیْرُ بَکْرٍ، مَا لَقِیْتُ غَیْرَ خَالِدٍ۔(مستثنیٰ مفرغ ہے)
۲۔مَا جَائَ الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ یاغَیْرُ زَیْدٍ(مستثنیٰ غیر مفرغ کلام غیر موجب میںہے)
۳۔جَائَ الْقَوْمُ غَیْرَ فَرَسٍ۔(مستثنیٰ منقطع ہے)
۴۔جَائَ غَیْرَ زَیْدٍ الْقَوْمُ۔(مستثنیٰ ٗ مستثنیٰ منہ سے پہلے ہے)
۵۔جَائَ الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ۔(مستثنیٰ کلام موجب میں ہے)
تمرین  (1)
س:.1مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کسے کہتے ہیں؟س:.2 مستثنیٰ کی کتنی اور کون کونسی اقسام ہیں؟ س:.3 مستثنیٰ کا اعراب بیان کیجیے ۔ س:.4 کلامِ موجب اور کلام غیر موجب کسے کہتے ہیں؟س:.5 مستثنیٰ مفرغ اور مستثنیٰ غیر مفرغ کسے کہتے ہیں؟س:.6استثناء میں لفظ غَیْر کا اعراب بیان کیجیے۔
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1جس اسم کو کسی دوسرے اسم سے نکال دیا جائے اُسے مستثنیٰ کہتے ہیں۔ .2مستثنیٰ  مفرَّغ ہمیشہ مرفوع ہوتاہے۔ .3غَیْرُ کے بعد مستثنیٰ منصوب ہوگا۔ 
تمرین  (3)
(الف) مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ پہچانیں نیز مستثنیٰ اور غَیْرکا اِعراب بتائیے۔
۱۔قَامَ التَلامِیْذُ اِلاَّ ھِرَّۃ۔   ۲۔نَامَ الْأُسْرَۃُ غَیْر بَکْر۔    ۳۔مَاکَذَبَ سِوٰی امْرَأَۃ أَحَدٌ۔  ۴۔ذَہَبَ الْقَوْمُ خَلَا زَیْد۔   ۵۔لَا یَمَسُّ الْقُرْآنَ اِلَّا طَاہِر۔  ۶۔حَفِظَ الطُّلَّابُ غَیْر وَاحِد۔  ۷۔نَصَرَ الْقَوْمُ لَا یَکُوْنُ زَیْدًا۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی شناخت فرمائیے۔
۱۔نَبَحَ الْکِلَابُ اِلاَّ قِطٌّ۔  ۲۔فَازَ الْأَوْلَادُ غَیْرُ وَلَدٍ۔  ۳۔مَا قَامَ اِلاَّ ابْنَۃٌ أَحَدٌ۔ ۴۔مَا فَرَّ غَیْرَ بَکْرٍ۔  ۵۔کَرَّ الْجُنْدُ مَا عَدَا عِمْرَانُ۔  ۶۔مَا أَکْرَمَ اِلاَّ زَیْدًا۔  ۷۔مَا ضَرَبْتُ غَیْرُ بَکْرٍ۔  ۸۔لَا یَزِیْدُ فِي الْعُمُرِ اِلاَّ الْبِرِّ۔
الدرس السادس والثلاثون
فعلِ معروف اور فعل مجہول:
جس فعل کی اِسناد فاعل کی طرف ہو اُسے فعلِ معروف کہتے ہیں : جَائََ زَیْدٌ۔ اور جس فعل کی اِسناد مفعول کی طرف ہواُسے فعلِ مجہول کہتے ہیں: سُرِقَ مَتَاعٌ۔
فعلِ لازم اور فعل متعدی:
جس فعل کا مفعول بہ نہ آسکتا ہواُسے فعلِ لازِم کہتے ہیں: جَلَسَ زَیْدٌ۔اور جس فعل کا مفعول بہ آسکتا ہواُسے فعلِ مُتَعَدِّی کہتے ہیں: نَصَرَ زَیْدٌ ضَعِیْفًا۔
فعلِ متعدِّی کی اَقسام:
فعلِ متعدی کی تین قسمیں ہیں:
.1وہ فعلِ متعدّی جس کا ایک مفعول بہ ہو: أَکْرَمْتُ زَیْدًا۔
.2وہ فعلِ متعدّی جس کے دو مفعول بہ ہوں: أَعْطَیْتُ زَیْدًا قَلَمًا۔
.3وہ فعلِ متعدّی جس کے تین مفعول بہ ہوں : أَخْبَرْتُ زَیْدًا بَکْرًا عَالِمًا۔
فعل کا عمل:
فعلِ معروف فاعل کو اور فعلِ مجہول نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے اِس کے علاوہ یہ دونوں فعل درجِ ذیل چھ اَسما ء کو نصب بھی دیتے ہیں :
.1 مفعول مطلق : قَامَ زَیْدٌ قِیَامًا، نُصِرَ زَیْدٌ نَصْرًا۔
.2مفعولْ فیہ : صَامَ بَکْرٌ یَوْمًا، أُخِذَ سَارِقٌ لَیْلًا۔
.3مفعول معہ: جَائَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ، رُأِيَ الأَسَدُ وَالشَّاۃَ۔
.4مفعول لہ : قَامَ زَیْدٌ اِکْرَامًا، ضُرِبَ خَالِدٌ تَادِیْبًا۔
.5حال: جَائَ زَیْدٌ رَاکِبًا، نُصِرَ زَیْدٌ فَقِیْرًا۔
.6تمییز: طَابَ زَیْدٌ نَفْسًا، زِیْدَ زَیْدٌ عِلْمًا۔
اورفعلِ متعدی مفعول بہ کو بھی نصْب دیتاہے: نَصَرََ زَیْدٌ عَمْرًا۔
تمرین  (1)
س:.1فعل معروف اور فعل مجہول کسے کہتے ہیں؟ س:.2 فعل لازم اور متعدی کسے کہتے ہیں اور یہ کیاعمل کرتے ہیں؟ س:.3متعدی کی کتنی قسمیں ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1جس فعل کی اِسناد فاعل کی طرف ہو اُسے فعلِ مجہول کہتے ہیں ۔ .2جس فعل کا مفعول بہ آتا ہو اُسے فعلِ لازِم کہتے ہیں۔ .3ہر فعل فاعل کواورچھ اَسما ء کورفع دیتاہے۔ .4فعل کے چار مفعول بہ بھی ہوتے ہیں۔ 
تمرین  (3)
درجِ ذیل جملوں میں فعل کا عمل بیان کیجیے۔
۱۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  ۔    ۲۔سَافَرَ الْأَخَوَانِ رَاجِلَیْنِ۔   ۳۔یَحُجُّ الْمُسْلِمُوْنَ بَیْتَ اللّٰہِ۔  ۴۔ذَہَبَتْ سُعَادُ صَبَاحًا۔   ۵۔شُرِبَ لَبَنٌ شَرْبَۃً۔  ۶۔أُعْطِيَ الْفَقِیْرُ دِیْنَارًا۔  ۷۔شَرِبْتُ مَائَ زَمْزَمَ قَائِمًا۔  ۸۔قَضَی الْقَاضِيْ قَضِیَّۃً۔   ۹۔جَائَ أَخُوْکَ مَسْرُوْرًا۔   ۱۰۔اِمْتَلأَ الْاِنَائُ مَائً۔
الدرس السابع والثلاثون

مرفوعات، منصوبات، مجرورات

درجِ ذیل آٹھ قسم کے اَسماء مرفوع ہوتے ہیں:
۱۔فاعل   ۲۔نائب الفاعل   ۳۔ مبتدا    ۴۔خبر   ۵۔ افعال ناقصہ کااسم   ۶۔مَا اور لَا  کا اسم    ۷۔ حروف مشبہہ بالفعل کی خبر   ۸۔ لائے نفی جنس کی خبر۔
بارہ قسم کے اَسماء منصوب ہوتے ہیں:
۱۔ مفعول بہ   ۲۔ مفعول مطلق   ۳۔ مفعول لہ   ۴۔ مفعول فیہ   ۵۔ مفعول معہ   ۶۔ حال    ۷۔ تمییز    ۸۔مستثنیٰ    ۹۔ افعال ناقصہ کی خبر   ۱۰۔مَااور لَا کی خبر  ۱۱۔ حروف مشبہہ بالفعل کااسم   ۱۲۔ لا ئے نفی جنس کا اسم۔ 
اور دو قسم کے اسماء مجرور ہوتے ہیں:
۱۔مضاف اِلیہ   ۲۔ حرف جرکا مدخول۔ 
تنبیہ: 
کسی بھی مرفوع کاتابع ٗ مرفوع ، منصوب کاتابع ٗمنصوب اورمجرور کا تابع‘ مجرور ہوگا۔نیزفعل مضارع بھی مرفوع، منصوب اور مجزوم ہوتاہے۔
توابع کا بیان خلاصۃ النحوحصہ دوم میں آئے گا  _ باقی مذکورہ بالا تمام چیزوں کا بیان ماقبل دروس میں گذرچکاہے۔
بحمد اللّٰہ تعالی وکرمہ قد تمّ الجزء الأوّل من’’خلاصۃ النحو‘‘۔
الحواشي المتعلقۃ بالجزء الأوّل من ’’خلاصۃ النحو‘‘
(۱)…مؤنث لفظی کے دو معنی ہیں: 
اول وہ اسم جس میں علامت تانیث لفظا ہو خواہ اس کے مقابل حیوان مذکر ہو یا نہ ہو۔ ( اس معنی میں امرأۃ، ناقۃ، طلحۃ، خلیفۃ، ظلمۃ، قوّۃوغیرہ بھی مؤنث لفظی ہیں)
دوم وہ اسم جس کے مقابل حیوان مذکر نہ ہو ۔(اس معنی میں ناقۃ جیسے اسماء مؤنث لفظی نہیں ہیں) (البشیر، ص: ۸۸)
(۲)…اگر واحد کے آخر میں یاء ماقبل مکسور ہو تو جمع میں یاء حذف ہوجائے گی:   اَلْقَاضِيْ سے اَلْقَاضُوْنَ۔ اور اگر واحد کے آخر میں الف مقصورہ ہو تو جمع میں یہ الف حذف ہوجائے گا اور ماقبل مفتوح رہے گا:اَلْمُصْطَفٰی سے اَلْمُصْطَفَوْنَ۔
خیال رہے کہ ہر واحد سے جمع مذکر سالم نہیں بناسکتے یہ جمع صرف مذکرذی عقل کے علم یا مذکر ذی عقل کی صفت سے بنائی جاسکتی ہے اور مذکر ذی عقل کے علم سے یہ جمع بنانے میں یہ بھی شرط ہے کہ  اُس کے آخر میں تاء (ۃ) نہ ہو۔
   لہٰذ ا ہِنْدٌ، قَلَمٌ، غُلَامٌ، ضَارِبَۃٌ، مُرٌّ اورطَلْحَۃُسے جمع مذکر سالم نہیں بنا سکتے کیونکہ ہِنْدٌ  مذکر نہیں قَلَمٌ ذی عقل نہیں غُلَامٌ   علم نہیں ضَارِبَۃٌ  مذکر کی صفت نہیں اور مُرٌّ  مذکر ذی عقل کی صفت نہیں بلکہ غیر ذی عقل کی صفت ہے اور طَلْحَۃُ کے آخر میں تاء (ۃ) موجود ہے۔
اورمذکرذی عقل کی صفت سے جمع بنانے میں یہ شرط ہے کہ اُس کی مؤنث میں تاء (ۃ)آتی ہو اور وہ مذکر و مؤنث میں مشترک نہ ہولہذا أَحْمَرُ،  سَکْرَانُ، جَرِیْحٌ، صَبُوْرٌاور عَلَّامَۃٌ سے  جمع مذکرسالم نہیں بناسکتے کیونکہ أَحْمَرُ اور سَکْرَانُ کی مؤنث میں ۃ  نہیں آتی اس لیے کہ ان کی مؤنث حَمْرَائُ اور سَکْرٰی ہے اور جَرِیْحٌ، صَبُوْرٌ اور عَلَّامَۃٌ مذکر و مؤنث دونوں میں مشترک ہیں۔
ہاں !اسم تفضیل اِس سے مستثنیٰ ہے کہ اِس کی مؤنث میں اگرچہ تاء نہیں آتی مگر اِس کے باوجود اِس کی جمع مذکرسالم بن سکتی ہے۔ جیسے: أَکْرَمُ سے أَکْرَمُوْنَ۔ 
تنبیہ:
أَرْضٌ، سَنَۃٌ، ثُبَۃٌ اورقُلَۃٌ  وغیرہ کی جمع أَرَضُوْنَ، سِنُوْنَ، ثُبُوْنَ  اورقِلُوْنَ  شاذّ (خلاف قیاس) ہیں۔
اسی طرح واحد سے جمع مؤنث سالم بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اگروہ صفت کا صیغہ ہو اور اس کا مذکربھی ہو تو اس مذکر کی جمع واؤ اور نون سے آتی ہو۔جیسے: ضَارِبَۃٌسے ضَارِبَاتٌ۔
اور اگر اس کا مذکر نہ ہو تو شرط یہ ہے کہ اس کے آخر میں تاء ہو۔ جیسے: حَائِضَۃٌ سے حَائِضَاتٌ  اور اگر وہ صفت کا صیغہ نہ ہو تو شرط یہ ہے کہ وہ یا تو مؤنث حقیقی ہو یا اس کے آخر میں لفظًا تاء موجود ہو۔جیسے:  ہِنْدٌاور کُرَّاسَۃٌسے ہِنْدَاتٌ اور کُرَّاسَاتٌ۔
اور اگروہ مؤنث غیرحقیقی ہو اور تاء تقدیرا ہو تو اس کی جمع مؤنث سالم بنانا سماع پر موقوف ہے لہذا  نَارٌ اور شَمْسٌ  کی جمع نَارَاتٌ اور شَمْسَاتٌ  نہیں بناسکتے۔ 
(۳)…البتہ لفظ نَحْوُ، مِثْلُ، غَیْرُ وغیرہ مضاف ہونے کے باوجود معرفہ یا نکرہ مخصوصہ نہیں بنتے بلکہ نکرہ غیر مخصوصہ ہی رہتے ہیںاِس طرح کے اَسماء کو اسمائے مُتَوَغِّلۃ فِي الْاِبْہَام کہتے ہیں یعنی ابہام اور پوشیدگی میں غلو کیے ہوئے۔
(۴)…کسی لفظ کی دوسرے کلمے کی طرف اِس طرح نسبت کرنا کہ سننے والے کو پورا فائدہ حاصل ہواِسناد  کہلاتا ہے اور جس کلمے کی طرف اِسناد کی جائے اُسے مسند الیہ اور جس کلمے کی اِسناد کی جائے اُسے مسندکہتے ہیں ۔ جیسے:  زَیْدٌ کَاتِبٌ میں  کَاتِبٌ  کی جو نسبت  زَیْدٌ  کی طرف ہے اُسے اِسناد ، کَاتِبٌ کو مسند اور زَیْدٌ  کو مسند اِلیہ کہیں گے ۔
(۵)…جملہ انشائیہ کی مزید اقسام یہ ہیں: 
۱۔ندائ:  وہ جملہ جس میںنداء دی گئی ہو:  یَا اَللّٰہُ، یَانَبِيُّ ۔
۲۔عرض:  وہ جملہ جس میں نرمی کے ساتھ کسی سے کوئی گذارش کی گئی ہو: أَلَا تُقِیْمُ عِنْدَنَا۔
۳۔تعجب: وہ جملہ جس میں کسی بات پر تعجب کا اظہار کیاگیا ہو: مَا أَحْسَنَکَ!
۴۔حمد و مدح:  وہ جملہ جس میں حمدو تعریف کی گئی ہو: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔
۵۔ذم وہجو:  وہ جملہ جس میں کسی کی مذمت و برائی کی گئی ہو: بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ۔
(۶)…اسم غیر متمکن کی مزید اقسام یہ ہیں:
۱۔مرکب بنائی: أَحَدَ عَشَرَ۔
۲۔منادی مفرد معرفہ: یَا زَیْدُ، یَا رَجُلُ۔
۳۔مرکب منع صرف کا جزء اول: بَعْلَبَکُّ۔
۴۔لائے نفی جنس کا اسم جو نہ معرفہ ہو نہ مضاف نہ مشابہ مضاف: لَارَجُلَ ہُنَا۔
۵۔مضاف الی الجملۃ: یَوْمَ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُہُمْ۔
(۷)… ضمیر کے وجوبا پوشیدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان صیغوں کا فاعل یا نائب الفاعل اسم ظاہر نہیں آسکتا بلکہ ان کا فاعل یا نائب الفاعل ہمیشہ ضمیر مستتر ہی ہوگا، اور جوازا پوشیدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان صیغوں کافاعل یا نائب الفاعل اسم ظاہر بھی آسکتاہے اور اس صورت میں ان میں ضمیر مستتر نہیں ہوگی ۔ 
(۸)…أَيٌّ چونکہ لازم الاضافۃ الی المفرد ہے اس لیے یہ معرب ہے اور اس کا اعراب حرکات ثلاث سے آتاہے: أَيُّ وَلَدٍ یَجْتَہِدْ یَفُزْ، أَيَّ کِتَابٍ تَقْرَأْ أَقْرَأْ، بِأَيِّ قَلَمٍ تَکْتُبْ أَکْتُبْ۔
کبھی اس کے مضاف الیہ کو حذف کرکے اس کے عوض تنوین لے آتے ہیں، نیز کبھی اس کے ساتھ مَا  زائدہ بھی لاحق ہوتاہے: ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی۔ ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی۔ 
(۹)…اگراِس پرالف لام نہ ہو تویہ مبنی بر کسر ہوتا ہے اوراِس سے مراد خاص طور پر گذشتہ کل ہوتاہے اور الف لام ہو تو یہ معرب ہوتا ہے اوراِس سے مرادکوئی بھی گذشتہ دن ہوتاہے۔
(۱۰)…جس صیغے کا پہلا حرف مفتوح اورتیسراحرف الف ہو اور اُس کے بعد مشدد حرف ہو یادوحروف ہوں جن میں پہلا مکسور ہو یاتین حروف ہوں جن میں پہلا مکسور اور درمیانی حرف ساکن ہو اُسے منتہی الجموع کا صیغہ کہتے ہیں۔
(۱۱)…اسم منقوص وہ اسم ہے جس کے آخر میں یاء ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو۔ جیسے: اَلنَّاحِيْ، اَلدَّاعِيْ، اَلرَّامِيْ وغیرہ۔اور اسمِ مقصور وہ اسم ہے جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو ۔ جیسے: اَلْمُوْسٰی، اَلْعَصٰی۔
(۱۲)…مشابہ مضاف وہ اسم ہے جو مضاف تو نہ ہولیکن مضاف کی طرح مابعد سے مل کر اپنا معنی مکمل کرتاہو اس کی چار صورتیں ہیں:
۱۔ما بعد اس کا معمول ہو: لَاحَافِظًا دَرْسًا قَائِمٌ۔
۲۔ما بعد معطوف ہو اور معطوف اور معطوف علیہ کا مجموعہ ایک ہی شیٔ سے عبارت ہو: لَا ثَلَاثَۃً وَثَلَاثِیْنَ طَلَبَۃً فِي الدَرَجَۃِ۔
۳۔مابعد ایسی صفت ہو جو جملہ یاظرف ہو: لَا رَجُلًا یَعْقِلُ فِي الدَّارِ، لَاشَجَرَۃً مِنْ أَرَاکٍ فِي الْبُسْتَانِ۔
۴۔مابعد صفت مفرد ہو : لَا رَجُلًا عَالِمًا فِي الدَّارِ۔لیکن اس آخری صورت میں موصوف کو مشابہ مضاف قرار دینا جائز ہے ضروری نہیں۔
(۱۳)…لیکن اگر ظرفِ مکان محدود ٗدخول، نزول، سکنی یا ان کے مشتقات کا مفعول فیہ ہوتو اس سے پہلے حرفِ جر فِيْ  کو حذف کرنا جائز ہے : دَخَلْتُ الدَّارَ، نَزَلْتُ الْبَلَدَ، سَکَنْتُ الْمَدِیْنَۃَ۔ 
(۱۴)…مگراِس جوازکے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کافاعل ایک ہو اور مفعول لہ ‘فعل معلل بہ سے مقارن ہو یعنی دونوں کا زمانہ ایک ہویا دونوں میں سے ایک کے وجود کا زمانہ دوسرے کا بعض ہو ،ورنہ مفعول لہ سے پہلے حرف جر لانا ضروری ہوگا اگرچہ وہ مصدر ہو۔جیسے: اَکْرَمْتُکَ الْیَوْمَ لِوَعْدِيْ بِذٰلِکَ أَمْسِ (میں نے آج آپ کی عزت کی کیونکہ کل میں نے اِس کا وعدہ کیا تھا)  أَکْرَمْتُہٗ لِاکْرَامِہٖ أَخِيْ(میں نے اُس کی عزت کی اِس لیے کہ اُس نے میرے بھائی کی تعظیم کی )
چونکہ پہلی مثال میں دونوں کا زمانہ جداجدا ہے اور دوسری مثال میں دونوں کا فاعل الگ الگ ہے اِس لیے وجوبا دونوں میں لام لایا گیا ہے۔ 
(۱۵)…یہاں جواز امرین کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عبارت میں فعل لفظًا موجود ہو جیساکہ مثال سے واضح ہے لہذا اگر فعل عبارت میں معنی موجود ہو تو جواز عطف کی صورت میں عطف ہی متعین ہوگا : مَا لِزَیْدٍ وَبَکْرٍ۔
(۱۶)…یہاں جَائَ  کی ضمیرپر زید  کا عطف جائز نہیں کیونکہ یہ ضمیر مرفوع متصل ہے اورضمیر مرفوع متصل پرعطف کے جائز ہونے کے لیے ضمیر منفصل سے تاکید لانایا معطوف علیہ اور معطوف کے مابین فصل ہونا ضروری ہے علی ما في الکافیۃ، ولا یخفی أنّ التأکیدَ بالمنفصل أو الفصلَ في الصورۃ المذکورۃ ہو أولی عند البصریین ولیس بواجب فانہم یجوزونہ لکن علی قبح، والکوفیون یجوزون ذلک بلا قبح۔

(حصہ دوم)

الدرس الثامن والثلاثون

صفت کا بیان

جس دوسرے لفظ کو پہلے لفظ کااِعراب دیا گیا ہواُسے تابع اوراُس پہلے لفظ کو متبوع کہتے ہیں: جَائَ رَجُلٌ عَالِمٌ، اِشْتَرَیْتُ دَوَاۃً وَقَلَمًا۔
تا بع کی پانچ قسمیں ہیں:  صفَت، بدَل ، تاکید، معطوف اور عطْفِ بیان۔
صفَت کا بیان:
جو تابع اپنے متبوع یااُس کے متعلِّق کا وصْف(اچھائی،برائی وغیرہ) بَیان کرے اُسے  صفَت اور صفَت کے متبوع کو موصوف کہتے ہیں : وَلَدٌ صَغِیْرٌ، رَجُلٌ عَالِمٌ اِبْنُہٗ۔
صفَت کی اَقسام: 
صفَت کی دو قسمیں ہیں:   ۱۔ صفَتِ حقیقی    ۲۔ صفَتِ سببی۔
جوصفَت موصوف کاوصْف بیان کرے اُسے صفَتِ حقیقی کہتے ہیں اور جو صفَت موصوف کے متعلِّق کا وصْف بیان کرے اُسے صفَتِ سبَبِی کہتے ہیں۔
قواعد وفوائد:
.1صفَتِ حقیقی درج ذیل دس چیزوں میںاورصفَتِ سبَبِی اِن میں سے پہلی پانچ چیزوں میں موصوف کے مُطابِق ہوتی ہے:  ۱۔رفع  ۲۔ نصب  ۳۔جر  ۴۔تعریف  ۵۔تنکیر  ۶۔اِفراد  ۷۔تثنیہ  ۸۔ جمع  ۹۔تذکیر  ۱۰۔ تانیث ۔
.2صفتِ سببی ہمیشہ مفردہوگی اورتذکیروتانیث میں اس کا وہی حکم ہے جو فعل کا اسم ظاہر کے ساتھ ہوتاہے: جَائَ تْ مَرْأَۃٌ عَالِمٌ أَخُوْہَا، جَائَ رَجُلٌ عَالِمَۃٌ أُمُّہٗ۔
تمرین  (1)
س:.1تابع اور متبوع کسے کہتے ہیں؟س:.2تابع کی کتنی اور کون کونسی اقسام ہیں؟س:.3صفَت، موصوف، صفَتِ حقیقی اور صفَتِ سببی کسے کہتے ہیں؟ س:.4صفَتِ حقیقی و سبَبِی کن چیزوں میں موصوف کے مُطابِق ہوتی ہیں؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس دوسرے لفظ کو پہلے لفظ کااِعراب دیا گیا ہواسے متبوع کہتے ہیں۔ .2جوصفَت موصوف کاوصْف بیان کرے اُسے صفَتِ سبَبِی کہتے ہیں۔ .3صفَتِ سببی تذکیر وتانیث میں موصوف کے مُطابِق ہوتی ہے۔
تمرین  (3)
(الف) موصوف اور صفَت نیز صفَتِ حقیقی اور صفَتِ سببی الگ الگ کیجیے۔
۱۔نَصَرَہٗ رِجَالٌ صَالِحُوْنَ۔   ۲۔ہٰذِہٖ قَرْیَۃٌ ظَالِمٌ أَہْلُہَا۔   ۳۔اِنَّہٗ مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔  ۴۔ظَبْیًا جَمِیْلًا رَأَیْتُ۔  ۵۔جَائَ الرَّجُلُ الْقَارِيْ۔  ۶۔اَلنِّسَائُ الْمُسْلِمَاتُ صَائِمَاتٌ۔  ۷۔نَظَرْتُ اِلٰی بُسْتَانٍ جَارِیَۃٍ أَنْہَارُہٗ۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔ہُوَ وَلَدٌ ذَکِیًّا۔   ۲۔أَکْرَمْتُ رِجَالًا عَالِمُوْنَ۔   ۳۔قَامَ وَلَدٌ عَالِمٌ أُخْتُہٗ۔  ۴۔جَلَسَ خَلِیْفَۃٌ عَادِلَۃٌ۔   ۵۔ہٰذِہٖ دَارٌ کَرِیْمَۃٌ صَاحِبُہَا۔  ۶۔جَائَ تْ بِنْتٌ فَطِیْنٌ۔  ۷۔تَعَلَّمَ الْوَلَدَانِ عَالِمَانِ أَبُوْہُمَا۔  ۸۔أَعَانَنِيْ عَبْدٌ قَوِيٍّ۔  ۹۔اِشَتَرَیْتُ کُرَّاسَاتٍ غَالِیَۃٍ۔   ۱۰۔نَظَرْتُ اِلٰی اَحْمَدَ الْکَرِیْمَ۔
الدرس التاسع والثلاثون

تاکید کا بیان

جو تابع متبوع کی طرف حکم کی نسبت کو پختہ کردے یا یہ ظاہر کرے کہ حکم متبوع کے تمام اَفراد کو شامل ہے اُسے تاکید کہتے ہیں: جَائَ زَیْدٌ زَیْدٌ، جَائَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ۔
تاکید کی اَقسام:
جوتاکیدلفظ کے تکرارسے حاصل ہواُسے تاکید ِلفظی اورجوتاکید مخصوص اَلفاظ سے حاصل ہو اُسے تاکید ِمعنوی کہتے ہیں۔
تاکید ِمعنوی کے مخصوص اَلفاظ یہ ہیں:
نَفْسٌ،   عَیْنٌ:
یہ دونوں واحد ،تثنیہ اور جمع(مذکرو مؤنث) سب کی تاکیدکے لیے ہیں، اِن کے ساتھ مؤکَّد کے مطابق ایک ضمیرہوتی ہے، مؤکَّد تثنیہ یا جمع ہو تویہ بھی جمع ہوتے ہیں : جَائَ زَیْدٌ نَفْسُہٗ،  جَائَ تْ ھِنْدٌ عَیْنُھَا، جَائَ الزَّیدانِ أَنْفُسُھُمَا۔
کِلَا، کِلْتَا:
یہ دونوںصرف تثنیہ (مذکرو مؤنث) کی تاکید کے لیے ہیں،اِن کے ساتھ تثنیہ کی ضمیر ہوتی ہے: جَائَ الْوَلَدَانِ کِلَاھُمَا،  جَائَ تِ الْبِنْتَانِ کِلْتَاھُمَا۔
کُلٌّ، أَجْمَعُ، أَکْتَعُ، أَبْتَعُاورأَبْصَعُ :
یہ الفاظ واحد اور جمع( مذکر ومؤنث) کی تاکیدکے لیے ہیں، کُلٌّ کے ساتھ مؤکَّد کے مطابق ضمیرہوتی ہے اور باقی صیغے خود مؤکَّد کے مطابق ہوتے ہیں: تَلَوْتُ الْقُرْآنَ کُلَّہٗ، بِعْتُ الْغُلَامَ أَجْمَعَ، نَصَرَ الْقَوْمُ أَجْمَعُوْنَ۔
قواعد وفوائد:
.1تاکیدکے متبوع کو مؤکَّد کہتے ہیں، تاکید کا اِعراب ہمیشہ مؤکَّدکے مطابق ہوتاہے جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
.2ضمیرمتصل( مرفوع ،منصوب یامجرور)کی تاکید ِ لفظی ضمیر مرفوع منفصل سے آتی ہے: قُمْتُ أَنَا، مَارَاٰکَ أَنْتَ أَحَدٌ، سَلََّمْتُ عَلَیْہِ ھُوَ، أَنْصَحُ أَنَا زَیْدًا۔ .3 ضمیر مرفوع متصل کی تاکید ِمعنوی سے پہلے ضمیر مرفوع منفصل سے اُس کی تاکید لفظی لائی جاتی ہے: قُمْتُ أَنَا نَفْسِيْ، جَائَ ھُوَ عَیْنُہٗ۔
.4ضمیر منصوب یاضمیر مجرورمتصل کی تاکید ِ معنوی ٗاُس کی تاکید لفظی کے بغیر آسکتی ہے: ضَرَبْتُھُمْ أَنْفُسَھُمْ، مَرَرْتُ بِہٖ نَفْسِہٖ۔
.5أَکْتَعُ، أَبْتَعُاور أَبْصَعُ ٗ أَجْمَعُ کے تابع ہیں یعنی یہ صیغے نہ أَجْمَعُ کے بغیر آتے ہیں اور نہ اس سے پہلے آتے ہیں۔ 
تمرین  (1)
س:.1تاکیداورمؤکَّدکسے کہتے ہیں۔ س:.2تاکید کی اَقسام اور ان کی تعریف مع امثلہ بیان کیجیے۔ س:.3تاکید ِ معنوی کے الفاظ تفصیلًا بیان کیجیے۔
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے ۔
.1نَفْسٌاورعَیْنٌ  صرف واحد مذکر کی تاکیدکے لیے ہیں۔ .2ضمیر متصل کی تاکید ِمعنوی ضمیر مرفوع منفصل سے آتی ہے۔
تمرین  (3)
(الف)مؤکَّد اور تاکید کی تعیین کیجیے اور تاکید کی قسم متعین فرمائیے۔
۱۔جَائَ الْأَمِیْرُ نَفْسُہٗ۔    ۲۔رَأَیْتُ أَسَدًا أَسَدًا۔    ۳۔سَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّہُمْ۔ ۴۔سَمِعْتُہٗ أَنَا نَفْسِيْ۔  ۵۔اَلرَّاشِيْ وَالْمُرْتَشِيْ کِلَاہُمَا فِي النَّارِ۔  ۶۔نَصَرَ الْقَوْمُ أَجْمَعُوْنَ۔  ۷۔قَرَأَتُ الْقُرْآنَ کُلَّہُ۔  ۸۔رَأَیْتُ زَیْدًا وَبَکْرًا کِلَیْہِمَا۔   ۹۔فَعَلَ ہٰذَا خَالِدٌ وَنَاصِرٌ أَعْیُنُہُمَا۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔اَلْخَلِیْفَۃُ قَضٰی نَفْسُہٗ۔    ۲۔أُخِذَ السَارِقَانِ عَیْنُہٗ۔   ۳۔مَا ضَرَبْتُہٗ اِیَّاہٗ۔   ۴۔قَرَأْتُ الْقُرْآنَ کُلَّہَا۔   ۵۔جَائَ الْقَوْمُ أَجْمَعُ۔  ۶۔اِشْتَرَیْتُ الْغُلَامَیْنِ أَجْمَعَ۔   ۷۔جَائَ الْمُلُوْکُ نَفْسُہُمْ۔   ۸۔أَکْرَہُ  نَفْسِي النَمِیْمَۃَ۔

الدرس الأربعون

مَعْطوف اورعَطْفِ بَیان

معطوف کا بیان:
جو تابع حرْفِ عَطْف کے بعدواقع ہوتاہے اُسے معطوف کہتے ہیں اور معطوف کے متبوع کو معطوف عَلیہ کہتے ہیں: جَائَ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔
حُروفِ عَطْف دس ہیں:
وَ(اور): جَائَ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔        فَ(پھر فورًا): جَائَ زَیْدٌ فَبَکْرٌ۔
ثُمَّ(پھر): جَائَ زَیْدٌ ثُمَّ بَکْرٌ۔    أَوْ(یا):  جَائَ زَیْدٌ أَوْ بَکْرٌ۔
أَمْ(یا): أَزَیْدٌ جَائَ أَمْ بَکْرٌ۔       إِمَّا(یاتو): جَائَ إِمَّا زَیْدٌ وَإِمَّا بَکْرٌ۔
بَلْ(بلکہ): جَائَ زَیْدٌ بَلْ بَکْرٌ۔  لٰـکِنْ(لیکن): زَیْدٌ حَاضِرٌ لٰـکِنْ نَائِمٌ۔
لَا(نہیں): جَائَ زَیْدٌ لَا بَکْرٌ۔    حَتّٰی(یہاں تک کہ) : جَائَ رَاکِبٌ حَتّٰی رَاجِلٌ۔
عطفِ بیان کا بیان:
جو تابع صفت نہ ہواور متبوع کی وضاحت کرے اُسے عطفِ بیان کہتے ہیں اور عطفِ بیان کے متبوع کو      مُبیَّن کہتے ہیں: جَائَ التَاجِرُ بَکْرٌ۔ 
قواعد وفوائد:
.1ضمیر مرفوع متصل پر عطف کے لیے معطوف علیہ اور معطوف میں فصل ضروری ہے: صَامَ ہُوَ وَبَکْرٌ۔ ضمیر منصوب پر بلافصل عطف جائز ہے:  زُرْتُہٗ وَزَیْدًا۔
.2مفردکا عطْف مفرد پر اورجملے کا جملے پر ہوتاہے : جَائَ زَیْدٌ وَذَہَبَ أَخُوْہُ۔
.3معطوف اور عطفِ بیان کا اِعراب معطوف علیہ اورمُبیَّن کے مطابق ہوتاہے۔
تمرین  (1)
س:.1 معطوف اورمعطوف عَلیہ کسے کہتے ہیں؟ س:.2حُروفِ عَطْف کتنے اور کون کونسے ہیں؟ س:.3عطفِ بیان اورمُبیَّن کسے کہتے ہیں؟ س:.4معطوف اور عطفِ بیان کا اِعراب کیا ہوتا ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1ضمیرپرعطف کے لیے معطوف علیہ اور معطوف میں ضمیرمنفصل کا ہونا ضروری ہے۔ .2مفردکاعطْف جملہ پرہوسکتاہے۔ 
تمرین  (3)
(الف) معطوف علیہ اور معطوف نیز مبیَّن اور عطْفِ بیان کی شناخت کیجیے۔
۱۔أُکِلَ السَّمَکَۃُ حَتّٰی رَأْسُہَا۔   ۲۔غَسَلْتُ الْوَجْہَ فَالْیَدَ۔   ۳۔جَائَ مُحَمَّدٌ أَخِيْ۔  ۴۔خَالِدٌ ضَرَبَ وَأَکْرَمَ۔  ۵۔قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ أَبُو ہُرَیْرَۃَ۔  ۶۔بَکْرٌ غَائِبٌ لٰـکِنْ أَخُوْہٗ مَوْجُوْدٌ۔  ۷۔قَضٰی أَبُوْ حَفْصٍ عُمَرُ۔
(ب)درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔جَلَسَ الْقَاضِيْ فَالْأَمِیْرَ۔  ۲۔لَقِیْتُ عَتِیْقًا أَبُوْ بَکْرٍ۔   ۳۔جَائَ نِيْ الْمُسْلِمُوْنَ حتَّی الْعُلَمَائَ۔  ۴۔أَکْرَمْتُ ذَا النُّوْرَیْنِ عُثْمَانُ۔  ۵۔قَامَ أَسَدُ اللّٰہِ عَلِیًّا۔  ۶۔ذَہَبْتُ اِلٰی صَدِیْقِيْ بَلْ أَخَاہٗ۔ ۷۔مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ وَالصَّالِحَ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن