دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulasa Tun Nahw Part 01,02 | خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم

Izafat Ka Bayan

book_icon
خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم
الدرس الخمسون

اِضافت کا بیان

اِضافت کی تعریف:
کسی اسم کی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرنا اِضافت کہلاتاہے: بَکْرٌ غُلَامُ زَیْدٍ، اَلْوَلَدُ حَسَنُ الْوَجْہِ۔
اِضافت کی اقسام:
اِضافت کی دو قسمیں ہیں:  ۱۔اِضافتِ لفظیہ    ۲۔ اِضافتِ معنویہ۔
جس اِضافت میں صفَت کا صیغہ(اسم فاعل، اسم مفعول، صفتِ مشبَّہہ، اسم تفضیل) اپنے معمول(فاعل یا مفعول بہ)کی طرف مضاف ہو اُسے اِضافتِ لفظیہ یا اِضافتِ مجازِیہ کہتے ہیں: زَیْدٌ حَسَنُ الْوَجْہِ، خَالِدٌ ضَارِبُ عَمْرٍو۔
اورجس اِضافت میں صفَت کا صیغہ معمول کی طرف مضاف نہ ہواُسے اِضافتِ معنویہ یااِضافتِ حقیقیہ کہتے ہیں: خَالِدٌ غُلَامُ زَیْدٍ، بَکْرٌ کَاتِبُ الْقَاضِيْ۔
اضافت معنویہ کی اقسام:
اضافتِ معنویہ کی تین قسمیں ہیں(۷): 
.1اِضافت بمعنی  فِيْ: وہ اِضافت جس میں مضاف اِلیہ مضاف کے لیے ظرف ہو: صَلٰوۃُ اللَّیْلِ۔(اِس میں مضاف اِلیہ سے پہلے حرفِ جر فِيْ پوشیدہ ہوتا ہے)
.2 اِضافت بمعنی مِنْ:  وہ اِضافت جس میں مضاف اِلیہ مضاف کی جنس ہو: خَاتَمُ فِضَّۃٍ۔  (اِس میں مضاف اِلیہ سے پہلے حرفِ جرمِنْ پوشیدہ ہوتاہے)
.3اِضافت بمعنی لام: وہ اِضافت جس میں مضاف اِلیہ مضاف کے لیے نہ ظرف ہو نہ جنس : غُلَامُ زَیْدٍ۔(اِس میں مضاف اِلیہ سے پہلے حرفِ جرلام پوشیدہ ہوتا ہے)
قواعد وفوائد:
.1اِضافتِ لفظیہ میں مضاف ‘تثنیہ یاجمع مذکر سالم کاصیغہ ہویامضاف اِلیہ معرَّف باللام ہوتومضاف پراَلْ  آسکتا ہے: جَائَ الضَّارِبَا وَلَدٍ، جَائَ الضَّارِبُوْا وَلَدٍ، جَائَ الضَّارِبُ الْوَلَدِ۔
.2اضافت لفظیہ کی وجہ سے مضاف معرفہ یا نکرہ مخصوصہ نہیں بنتا(۸)۔
.3مفرد صحیح یاقائم مقام صحیح یاء متکلم کی طرف مضاف ہو تو ي پر سُکون اور فتحہ دونوں پڑھ سکتے ہیں: کِتَابِيْ، دَلْوِيْ،اور کبھی اس کے آخر میں ہائے وقف بھی   بڑھا دی جاتی ہے: کِتَابِیَہ۔
.4اسم مقصور،اسمِ منقوص ،تثنیہ یاجمع مذکرسالم ‘یاء متکلم کی طرف مضاف ہو تو یاء کو         فتحہ دینا واجب ہے: عَصَايَ،  قَاضِيَّ، مُسْلِمَِيَّ۔
تمرین  (1)
س:.1اضافت کسے کہتے ہیں اور اضافت کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں ؟ س: .2 اضافت معنویہ کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں؟ س: .3کیا مضاف پر الف لام آسکتاہے؟ س:.4کس صورت میں یاء متکلم پر فتحہ اور سکون دونوں پڑھنا جائز ہیں اور کس صورت میں اس کو فتحہ دینا واجب ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس اضافت میں مضاف صفت کا صیغہ ہواسے اضافت لفظیہ کہتے ہیں۔ .2اضافت کی تین قسمیں ہیں۔.3اضافت لفظیہ میں مضاف پر الف لام آسکتا ہے۔ 4اضافت کی وجہ سے مضاف ہمیشہ معرفہ یا نکرہ مخصوصہ ہوجاتاہے۔
تمرین  (3)
درجِ ذیل جملوں میں اضافت لفظیہ اور اضافتِ معنویہ الگ الگ کیجیے اور اِضافت معنویہ ہو تو اُس کی قسم بھی بیان فرما ئیے ۔
۱۔ظُلْمَۃُ الْقَبْرِ شَدِیْدَۃٌ۔  ۲۔أَکْرَمْتُ مُکْرِمَ الْعُلَمَائِ۔  ۳۔اُشْتُرِيَ خَاتَمُ الْفِضَّۃِ۔ ۴۔لَقِیْتُ جَمِیْلَ الشِّیَمِ۔  ۵۔ہٰذَا مُعَلِّمُ خَالِدٍ۔ ۶۔نَبِیُّنَا الْعَالِي الْقَدْرِ وَالْعَظِیْمُ الْجَاہِ۔ ۷۔فَازَ وَلَدُ عِرْفَانَ۔ ۸۔جَائَ کَرِیْمُ الْبَلَدِ۔  ۹۔اَلْحَافِظُ الْقُرْآنِ سَعِیْدٌ۔  ۱۰۔زُرْتُ زَائِرَ الْمَدِیْنَۃِ۔  ۱۱۔وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہ۔
 
الدرس الحادي والخمسون

اَفعالِ قُلوب کا بیان

جواَفعال مبتدا اور خبرپر داخل ہوکر اُن دونوں کو مفعول ہونے کی وجہ سے نصب دیتے ہیں اُنہیں اَفعالِ قلوب کہتے ہیں: عَلِمْتُ زَیْدًا شَاعِرًا۔

افعالِ قلوب کی تعداد:

        افعالِ قلوب سات ہیں:    عَلِمَ، رَاٰی، وَجَدَ، ظَنَّ، حَسِبَ، خَالَ، زَعَمَ(۹)۔

        اِن میں سے پہلے تین اَفعال یقین ظاہر کرتے ہیں: عَلِمْتُ الْعِلْمَ نَافِعًا(میں نے علم کو نفع دینے والا یقین کیا) رَأَیْتُ الْجَبَلَ عَالِیًا، وَجَدْتُّ الرَّجُلَ شَاکِرًا۔

        بعد کے تین اَفعال ظن پر دلالت کرتے ہیں: ظَنَنْتُ زَیْدًا شَاعِرًا(میں نے زید کو شاعر گمان کیا)  حَسِبْتُ خَالِدًا عَالِمًا،  خِلْتُ بَکْرًا مُعَلِّمًا۔

        اورزَعَمَ کبھی یقین اور کبھی ظن ظاہر کرتاہے : زَعَمْتُ بَکْرًا مُحْسِنًا(میں نے بکر کو احسان کرنے والا یقین کیا)  زَعَمْتُ خَالِدًا أُسْتَاذًا(میں نے خالد کو استاد گمان کیا)

قواعد وفوائد:
.1یہ افعال جملہ اسمیہ پرداخل ہوکرمبتدا اورخبردونوں کو مفعولیت کی بنا پر نصْب دیتے ہیں جیسے مذکورہ بالامثالوں سے واضح ہے۔
.2چونکہ افعال قلوب کے دونوں مفعول اصل میں مبتدا اور خبر ہوتے ہیں اس لیے ان دونوں کے وہی اَحکام ہیں جو مبتدا اور خبر کے ہیں ، یعنی اِن دونوں کاواحد، تثنیہ، جمع اور مذکرو مؤنث ہونے میں برابر ہونا ضروری ہے۔
.3افعال قلوب مبتدااور خبرکے درمیان یااِن دونوں کے بعد آئیںتواِن کو عمل دینا اور نہ دینا دونوں جائز ہیں: فَاطِمَۃَُ عَلِمْتُ عَالِمَۃًٌ، فَاطِمَۃَُ عَالِمَۃًٌ عَلِمْتُ۔
.4 افعال قلوب کا خاصہ ہے کہ ان میں ایک شخص کی دو ضمیریں فاعل اور مفعول ہوسکتی ہیں: رَأَیْتُنِيْ مُتَعَلِّمًا۔ جبکہ دیگر افعال میں ایسا نہیں ہوسکتا۔
.5 اگر ظَنَّ وہم کرنے، عَلِمَ پہچاننے، رَاٰی دیکھنے اور وَجَدَ پانے کے معنی میں ہو تو اِن افعال کا ایک ہی مفعول آئے گا اور اس صورت میں اِن کو افعالِ قلوب نہیں کہیں گے: ظَنَنْتُ زَیْدًا(میں نے زید پروہم کیا )  عَلِمْتُ خَالِدًا(میں نے خالد کو پہچان لیا)  رَأَیْتُ فِیْلًا(میں نے ہاتھی کودیکھا)  وَجَدْتُ الضَّالَّۃَ(میں نے گم شدہ چیز پالی)
تمرین  (1)
س:.1افعال قلوب کن افعال کو کہتے ہیں ؟ س: .2 افعال قلوب کتنے اور کون کونسے ہیں ؟ س: .3 افعال قلوب کس پر داخل ہوتے ہیں اور کیا عمل کرتے ہیں؟ س: .4کن صورتوں میں افعال قلوب کو عمل دینا یا نہ دینا دونوں جائز ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جو افعال شک اوریقین ظاہر کریں انہیں افعال قلوب کہتے ہیں۔ .2افعال قلوب جملہ فعلیہ پر داخل ہوتے ہیں۔ .3کبھی افعال قلوب کا مفعول بہ صرف ایک ہی ہوتاہے۔ .4کسی بھی فعل میں ایک شخص کی دوضمیریں فاعل اور مفعول بن سکتی ہیں۔
تمرین  (3)
(الف)افعال قلوب اور اُن کے عمل کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔وَاِنِّيْ لَأَظُنُّہٗ کَاذِبًا۔  ۲۔وَجَدْتُّ زَیْدًا شَاکِرًا۔  ۳۔حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُوْرًا۔   ۴۔فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ۔   ۵۔اِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیْدًا۔   ۶۔خِلْتُ الْاِخْلَاصَ مُخْلِصًا۔  ۷۔رَأَیْتُ الصِّدْقَ نَجَاۃً۔  ۸۔زَعَمْتَکَ عَالِمًا۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔وَجَدْتُ مَائً بَارِدًا۔  ۲۔زَعَمْتُ الْحَیَاۃُ دَائِمَۃٌ۔  ۳۔حَسِبْتَہُمْ عَالِمًا۔  ۴۔عَلِمْتُ الْأَرْضَ سَاکِنًا۔  ۵۔رَأَیْتُ الْاِخْلَاصَ سَبِیْلُ النَّجَاۃِ۔  ۶۔آتَیْتُنِيْ مَائً۔  ۷۔خِلْتُ الْخَلِیْفَۃَ عَادِلَۃً۔  ۸۔ظَنَنْتُ الْوَلَدَیْنِ صَالِحًا۔  ۹۔حَسِبْتُ الْمُؤْمِنَاتَ صَابِرَاتٌ۔  ۱۰۔وَجَدْتُّ الْمُسْلِمُوْنَ فَائِزُوْنَ۔  ۱۱۔عَلِمْتُ الْقَاضِيْ عَالِمًا۔
الدرس الثاني والخمسون

اَفعالِ مَدْح وذَمّ کا بیان

جواَفعال تعریف یامذمت کے لیے وضع کیے گئے ہیں اُنہیں اَفعالِ مدْح وذمّ کہتے ہیں: نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ، بِئْسَ الْمَرْأَۃُ ہِنْدٌ۔
قواعد وفوائد:
.1نِعْمَ اورحَبَّذَا  افعالِ مدح ہیں اور  بِئْسَ اور سَائَ افعالِ ذم ہیں،اور حَبَّذَاسے پہلے لَا  ہو تو یہ بھی ذم کے لیے ہوتاہے۔
.2ایک اسم اِن افعال کافاعل اورایک اسم  مخصوص بالمدْح یا مخصوص بالذمّ ہوتا ہے جو ہمیشہ مرفوع ہوتاہے (۱۰): نِعْمَ الْإدَامُ الْخَلُّ، بِئْسَ الشَّرَابُ الْخَمْرُ۔
.3اَفعالِ مدح وذم کا فاعل معرف باللام یامعرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے: نِعْمَ الطَّالِبُ بَکْرٌ، سَائَ طَالِبُ الْجَامِعَۃِ الْکَسُوْلُ۔
.4 کبھی اِن کا فاعل ضمیر مستتِرہو تاہے ،اِس صورت میں فعل کے بعدمَا(بمعنی شَیْئًا)  یا کوئی نکرہ اسم آتا ہے (جو مخصوص کے مطابق ہوتاہے)اور یہ دونوںاُس ضمیر کی تمییز  بنتے ہیں: نِعْمَ مَا التَّقْوٰی، بِئْسَ خُلُقًا الْکِذْبُ۔
.5مخصوص ‘معرفہ یا نکرہ موصوفہ ہوتاہے اورواحد، تثنیہ، جمع اورمذکرومؤنث ہونے میں فاعل کے مطابق ہوتاہے: نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہٖ، نِعْمَ الْعَالِمُ عَالِمٌ عَامِلٌ۔
.6مخصوص ٗعمومًا فاعل کے بعد آتاہے :  نِعْمَ الْوَصْفُ الصَّبْرُاور کبھی فعل سے پہلے بھی آجاتاہے بشرطیکہ حَبَّذَا  کا مخصوص نہ ہو: اَلصَّبْرُ نِعْمَ الْوَصْفُ۔
.7حَبَّذَامیں حَبَّ فعلِ مدح اورذَا اسم اِشارہ اِس کا فاعل ہے اور یہ بدلتا نہیں اگرچہ اِس کامخصوص بدلتارہے: حَبَّذَا الْعُلَمَائُ، لَاحَبَّذَا النَّمَّامُ۔
تمرین  (1)
س:.1افعال مدح وذم کن افعال کو کہتے ہیں ؟ س: .2اِن افعال کافاعل کس کس طرح آسکتا ہے ؟ س:.3مخصوص کس طرح کا اسم ہوتاہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جن ا فعال سے تعریف یا مذمت کی جائے انہیں افعال مدح وذم کہتے ہیں۔  .2لَاحَبَّذَا فعل مدح ہے۔ .3افعالِ مدح وذم کا فاعل ہمیشہ معرف باللام ہوتا ہے۔ .4مخصوص ‘ ہمیشہ فاعل کے مطابق اورمنصوب ہوتاہے۔ 
تمرین  (3)
(الف)افعال مدح وذم اور اُن کے فاعل اور مخصوص کی شناخت فرما ئیے۔
۱۔لَاحَبَّذَا الْعَدَاوَۃُ۔  ۲۔نِعْمَ الرَّجُلُ رَجُلٌ یُحَاسِبُ نَفْسَہٗ۔  ۳۔اَلتَّقْوٰی نِعْمَ الزَّادُ۔ ۴۔بِئْسَ رِجَالًا الْکَاذِبُوْنَ۔  ۵۔حَبَّذَا الصَّبْرُ۔  ۶۔بِئْسَ طَالِبُ الْمَجْدِ الْکَسُوْلُ۔  ۷۔نِعْمَ سَلَاحًا الدُّعَائُ۔  ۸۔سَائَ مَا الْغِیْبَۃُ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔نِعْمَ الْعَالِمُ۔   ۲۔سَائَ رَجُلٌ الْبَخِیْلُ۔   ۳۔نِعْمَ رَجُلًا الصَّادِقَانِ۔   ۴۔نِعْمَ الْوَصْفُ حِلْمٌ۔  ۵۔بِئْسَ الْخُلُقَانِ الْکِذْبُ۔  ۶۔لَاحَبَّذَا سَارِقٌ۔  ۷۔نِعْمَ الْعَالِمُ ھِنْدٌ۔  ۸۔حَبَّذَانِ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔  ۹۔اَلْمُجْتَہِدُ حَبَّذَا۔
الدرس الثالث والخمسون

اَفعالِ مُقارَبہ کا بیان

اَفعالِ مقاربہ کی تعریف:
جو افعال خبر کا قریب ہونا یا خبرکی امیدیا خبر کا شروع ہونا ظاہرکریں انہیں افعالِ مقاربہ کہتے ہیں: کَادَ زَیْدٌ یَجِيْئُ(قریب ہے کہ زید آجائے)  عَسٰی بَکْرٌ أَنْ یَّفُوْزَ(امید ہے کہ بکر کامیاب ہوجائے)  أَخَذَ الْمَطَرُ یَنْزِلُ(بارش شروع ہوگئی)
اَفعالِ مقاربہ کی اقسام:
افعالِ مقاربہ کی درجِ ذیل تین قسمیں ہیں:  ۱۔افعالِ مقاربہ  ۲۔افعالِ رَجاء  ۳۔افعالِ شروع۔
اَفعالِ مقاربہ:
وہ افعال جویہ ظاہر کریں کہ خبر کا حصول قریب ہے : کَرَبَ الشِّتَائُ یَنْقَضِيْ (قریب ہے کہ سردی ختم ہوجائے)   یہ تین افعال ہیں :  کَادَ، کَرَبَا ور أَوْشَکَ۔
اَفعالِ رَجائ:
وہ افعال جویہ ظاہر کریں کہ خبرکے حصول کی امیدہے: حَرٰی زَیْدٌ أَنْ یَجِيْئَ (امید ہے کہ زید آجائے)  یہ بھی تین افعال ہیں: عَسٰی، حَرٰی اوراِخْلَوْلَقَ۔
اَفعالِ شُروع:
وہ اَفعال جویہ ظاہر کریں کہ خبر کی ابتِداہو چکی ہے: جَعَلَ الْمَطَرُ یَنْزِلُ(بارش برسنے لگی) اَفعالِ شروع یہ ہیں: أَخَذَ، جَعَلَ، اَنْشَأَ، طَفِقَ وغیرہ۔
قواعد وفوائد:
.1یہ تمام اَفعال ‘ اَفعالِ ناقصہ کی طرح عمل کرتے ہیں یعنی اسم کو رفع اور خَبَرکو نصْب دیتے ہیں مگراِن کی خبر ہمیشہ جملہ فعلیہ مضارعیہ ہوتی ہے،لہذا یہ محلاًّ منصوب ہوگی جیساکہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔
.2حَرٰی اور اِخْلَوْلَقَ کی خبرپر أَنْ لانا واجب ہے اور اَفعالِ شروع کی خبر پر اَنْ لانا نا جائز ہے۔
.3کَادَ ، کَرَبَ، أَوْشَکَاورعَسٰی کی خبرپر أَنْ لانا یا نہ لانا دونوں جائز ہیں: کَادَ اللَّیْلُ یَزُوْلُیا أَنْ یَّزُوْلَ(قریب ہے کہ رات ختم ہوجائے)، أَوْشَکَ الصُّبْحُ یَنْجَلِيْ یا أَنْ یَّنْجَلِيَ(قریب ہے کہ صبح روشن ہوجائے)۔
.4فعلِ رجاء کے بعداَنْ اورمضارع آجائے تویہی اُس کا فاعل بنتاہے اور اُس کی خبر نہیں ہوتی: عَسٰی أَنْ یَّصُوْمَ زَیْدٌ(امید ہے کہ زیدروزہ رکھ لے)
  .5 کَادَاور أَوْشَکَ سے مضارع کے صیغے بھی آتے ہیں:  یَکَادُ الْقِطَارُ یَصِلُ، یُوْشِکُ الْمَطَرُ أَنْ یَّنْزِلَ۔
باقی افعال سے صرف ماضی کے صیغے آتے ہیں۔ 
تمرین  (1)
س:.1افعال مقاربہ ورجاء وشروع کن افعال کو کہتے ہیں؟اوریہ کتنے کتنے اور کون کونسے ہیں۔ س: .2یہ تمام افعال کیا عمل کرتے ہیں ؟ س:.3کن افعال کی خبر پرأَنْ  لاناجائزیا واجب یا ناجائز ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1تمام افعال مقاربہ سے ماضی اورمضارع کے صیغے آتے ہیں۔ .2ان افعال کی خبر ہمیشہ فعل مضارع ہوتیہے۔.3افعال شروع پانچ ہیں۔ .4کَادَ، عَسٰی، حَرٰی اورأَخَذَ  کی خبر پرأَنْ  لانا جائزہے۔
تمرین  (3)
(الف)افعال مقاربہ ورجاء وشروع الگ الگ کیجیے ۔
۱۔عَسٰی أَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ۔   ۲۔أَوْشَکَ الْمَطَرُ أَنْ یَنْقَطِعَ۔  ۳۔یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ أَبْصَارَہُمْ۔ ۴۔أَخَذَ الطِّفْلُ یَبْکِيْ۔  ۵۔کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَّکُوْنَ کُفْرًا۔  ۶۔عَسٰی الضَّیْقُ أَنْ یَّنْفَرِجَ۔  ۷۔اِخْلَوْلَقَ أَنْ یَّثْمُرَ الشَّجَرُ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔کَادَ الْمُعَلِّمُ یُشَرِّحَ۔   ۲۔جَعَلَ الشَّجَرُ أَنْ یُّوَرِّقَ۔   ۳۔حَرٰی الْغَائِبُ یَجِئُ۔  ۴۔کَرَبَ زَیْدٌ مُعَلِّمًا۔   ۵۔یَطْفَقُ الْوَلَدُ یَلْعَبُ۔  ۶۔أَنْشَأَ الْبَحْرُ أَنْ یَّمُوْجَ۔  ۷۔اِخْلَوْلَقَ الْوَلَدُ یَنْجَحُ۔  ۸۔أَخَذَ الْکَسْلَانُ أَنْ یَّجْتَہِدَ۔
الدرس الرابع والخمسون

اَفعال تعجب کا بیان

جو افعال اِظہارِ تعجُّب کے لیے وضع کیے گئے ہیں اُنہیں افعالِ تعجب کہتے ہیں: مَا أَحْسَنَ زَیْدًا(زید کتنا حسین ہے!)  أَکْرِمْ بِخَالِدٍ(خالدکیسا سخی ہے!)
قواعد وفوائد:
.1جس چیز پر تعجب کیا جائے اُسے مُتَعَجَّب مِنْہ کہتے ہیں اور یہ ہمیشہ معرفہ یا نکرہ مخصوصہ ہوتا ہے: مَا أَحْسَنَ زَیْدًا! أَحْسِنْ بِرَجُلٍ تَہَجَّدَ!
.2ثلاثی مجرد فعل سے فعلِ تعجب  دو وزن پر آتاہے جبکہ اُس میں رنگ، عیب یا حلیہ کا معنی نہ ہو: مَاأَفْعَلَ اورأَفْعِلْ۔ (پہلے صیغے کے ساتھ متعجب منہ منصوب ہوتاہے اور دوسرے صیغے کے ساتھ حرفِ جرباء کی وجہ سے      لفظًامجرور ہوتا ہے)
.3غیر ثلاثی مجردفعل یا وہ فعل جس میںرنگ، حلیہ یاعیب کامعنی ہو اُس سے فعل تعجب مَاأَفْعَلَ یاأَفْعِلْ کے وزن پر نہیں بنتا، لہذا اس سے فعل تعجب بنانے کے لیے مَا أَشَدَّیا أَشْدِدْ وغیرہ کے بعدفعل کا مصدر لے آتے ہیں: مَا أَشَدَّ اِکْرَامًا یا  حُمْرَۃً یا عَرَجًا، أَشْدِدْ بِاِکْرَامِہٖ یا بِحُمْرَتِہٖ یا بِعَرَجِہٖ۔
.4 متعجب منہ اور فعل تعجب کے درمیان سوائے ظرف یاجار مجرورکے اور کوئی چیز نہیں آسکتی: مَا أَحْسَنَ الْیَوْمَ زَیْدًا!(آج زید کتنا حسین ہے!) مَا أَنْعَمَ فِي الْمَدِیْنَۃِ الْحَیَاۃَ!(مدینے میں زندگی کتنی عمدہ ہے)
.5کبھی     فَعُلَ(۱۱)سے بھی تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے: حَسُنَ أُولٰئِکَ رَفِیْقًا۔ 
تمرین  (1)
س:.1افعال تعجب کسے کہتے ہیں ؟س: .2فعل تعجب کتنے اور کون کونسے وزن پر آتاہے۔ س: .3متعجب منہ کسے کہتے ہیں یہ کس طرح آتاہے اور اس کا اعراب کیا ہوتاہے؟ س:.4کیا فعل تعجب اور متعجب منہ کے درمیان کوئی چیز آسکتی ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جن الفاظ کے ذریعے تعجب کا اظہار کیا جائے انہیں افعال تعجب کہتے ہیں۔ .2فعل تعجب تین اوزان پر آتا ہے۔ .3فعل تعجب اور متعجب منہ کے درمیان کوئی چیز نہیں آسکتی ۔ .4متعجب منہ ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔
تمرین  (3)
(الف)افعال تعجب اور متعجب منہ الگ الگ فرمائیے۔
۱۔مَا أَجْمَلَکَ۔   ۲۔مَا أَشْجَعَ خَالِدًا۔   ۳۔أَلْطِفْ بِزَیْدٍ۔   ۴۔أَشْدِدْ بِعَرَجِہٖ۔  ۵۔مَا أَجْوَدَ عُثْمَانَ۔  ۶۔مَا أَکْذَبَ النَّفْسَ۔  ۷۔أَعْظِمْ بِنُصْرَتِہٖ۔ ۸۔مَا أَشَدَّ تَرْکَ الصَّلٰوۃِ۔  ۹۔أَقْبِحْ بِشُرْبِ الْخَمْرِ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔مَا أَخْضَرَ الْقُبَّۃَ۔   ۲۔أَقْبِحْ الْکُفْرَ۔   ۳۔مَا أَصْغَرَ الطِّفْلُ۔   ۴۔مَا أَحْسَنَ وَلَدًا۔   ۵۔مَا أَعْظَمَ شَأْنُ الْأَنْبِیَائِ۔   ۶۔أَصْفِرْ بِالْبَقَرَۃِ۔   ۷۔مَا أَشَدَّ تَکَلُّمٌ۔  ۸۔مَا أَعْوَرَ الدَّجَّالَ۔   ۹۔أَشْدِدْ بِحُمْرَۃَ الْوَجْہِ۔
الدرس الخامس والخمسون

حُروف کا بیان

ترکیبِ کلمات کے لیے موضوع حُروف کوحروفِ مَبانی ،حروفِ تہجی یا حروفِ ھِجَاء کہتے ہیں:  اَ، بَ، تَ وغیرہ ۔ 
اور معنی کے لیے موضوع حروف کو حروف مَعانی کہتے ہیں: اِنَّ، فِيْ، لَا وغیرہ۔
حروف معانی کی اَقسام:
حروفِ معانی کی بعض قسموں کا ذکر ہوچکا ہے مزید اقسام درجِ ذیل ہیں:
.1حروفِ استقبال:
یہ دوہیں: سین اور سَوْفَ: سَیَقُوْلُ، سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ (سین اور سَوْفَ  کبھی تاکید کے لیے بھی آتے ہیں)
.2حروفِ تاکید:
یہ بھی دو ہیں: نونِ تاکید اور لام ِابتدائیہ، نونِ تاکید صرف فعل پرآتاہے اور لام ابتدائیہ فعل اور اسم دونوں پر آتاہے: لَأَنْصُرَنَّ، لَزَیْدٌ عَالِمٌ۔
.3حروفِ تفسیر:
یہ بھی دو ہیں: أَيْ اورأَنْ: رَأَیْتُ لَیْثًا أَيْ أَسَدًا، اِنْقَطَعَ رِزْقُہٗ أَيْ مَاتَ، وَنَادَیْنٰہ أَنْ یَّا اِبْرَاھِیْمُ، أَمَرْتُہٗ أَنْ أَکْرِمِ الْعُلَمَائَ۔
.4حروفِ تحضیض:
یہ چار ہیں: ھَلاَّ، أَلَّا، لَوْلَااور لَوْمَا: ھَلاَّ أَدَّبْتَہٗ، لَوْلَا تَتْلُو الْقُرْآنَ۔
.5حروفِ مصدر:
یہ تین ہیں: مَا، أَنْ، أَنَّ: أَحْمَدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا أَنْعَمَ، یُمْکِنُ أَنْ تَفُوْزَ۔
.6حرفِ رَدع:
یہ صرف کَلاَّہے جیسے کوئی کہے: فُلَانٌ یَبْغُضُ کَاور اُس کے جواب میں کہا جائے: کَلاَّ(ہر گز نہیں) یہ جملے کی تاکید کے لیے بھی آتا ہے: کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔
.7حرفِ توقّع:
یہ صرف قَدْ ہے: قَدْ رَکِبَ۔یہ مضارع کے ساتھ اکثر تقلیل کا اور کبھی تحقیق کا معنی دیتا ہے: اِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ، قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ۔
.8حروفِ جواب:
یہ چھ ہیں: نَعَمْ، بَلٰی، اِيْ، جَیْرِ، أَجَلْ اور اِنَّ۔
نَعَمْ اوربَلٰی سوال کے جواب میں آتے ہیں ۔
اِيْ قسم سے پہلے آتاہے: قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۔
جَیْرِ، أَجَلْ اور  اِنَّ   خبر کی تصدیق کے لیے آتے ہیں جیسے جَائَ زَیْدٌکے جواب میں جَیْرِ، أَجَلْ یا اِنَّ کہاجائے تو معنی ہوگا: جی ہاں زید آیا ہے۔ 
.9حروفِ تنبیہ:
یہ تین ہیں : أَلَا، أَمَا اورھَا: أَلَا لَا تَغْفَلْ، أَمَا لَا تَکْذِبْ۔
.10حروفِ زیادت:
یہ آٹھ ہیں: اِنْ، أَنْ، مَا، لَا، مِنْ، کَاف، بَائ، لام:  مَا اِنْ زَیْدٌ قَائِمٌ۔
.11حرفِ تعریف:
یہ الف لام ہے: اَلرَّجُلُ، اَلْحَسَنُ۔
تمرین  (1)
س:.1حروف مبانی اورحروفِ معانی کسے کہتے ہیں؟ س:.2حروف معانی کی کون کونسی اقسام ہیں؟ س:.3حرف توقع فعل مضارع کے ساتھ کیا معنی دیتاہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1حروفِ معانی کی گیارہ قسمیں ہیں۔ .2حروفِ جواب کسی سوال ہی کے جواب میں آتے ہیں۔.3حروفِ زیادت جہاں بھی ہوں گے زائد ہوں گے۔
تمرین  (3)
 حروف معانی کی قسم متعین کیجیے۔
۱۔وَاللّٰہِ لَأَتَعَلَّمَنَّ الْقُرْآنَ وَالسُّنَّۃَ۔   ۲۔اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَائِ۔  ۳۔اَللّٰہَ دَعَوْتُ أنِ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ۔   ۴۔الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔  ۵۔لِلّٰہِ الْحَمْدُ عَلٰی مَا عَلَّمَ۔  ۶۔اِشْتَرَیْتُ وَرَقًا أَيْ فِضَّۃً۔  ۷۔ہَلَّا أَدَّبْتَ أَوْلَادَکَ۔   ۸۔قالوا بلی قد جاء نا نذیر فکذبنا۔   ۹۔طَارَ بِہٖ الْعَنْقَائُ أَيْ طَالَتْ غَیْبَتُہٗ۔  ۱۰۔سَالَ بِہٖ الْوَادِيْ أَيْ ہَلَکَ۔   ۱۱۔وسیری اللہ عملکم ورسولہ۔
الدرس السادس والخمسون

الف لام(اَلْ) کا بیان

الف لام کی اقسام :
الف لام کی دوقسمیں ہیں:   ۱۔ الف لام اسمی    ۲۔ الف لام حرفی ۔
جو الف لام اسم فاعل یا اسم مفعول حدوثی پرآئے اُسے الف لام اسمی کہتے ہیں: جَائَ النَّاصِرُ خَالِدًا، جَائَ الْمَنْصُوْرُ جَیْشُہٗ۔(یہ الف لام اسم موصول اَلَّذِيْ، اَلَّتِيْ وغیرہ کے معنی میں ہوتاہے)
اورجو الف لام اِس کے علاوہ ہو اُسے الف لام حرفی کہتے ہیں: اَلْحَسَنُ، اَلْوَلَدُ۔
الف لام حرفی کی اقسام:
الف لام حرفی کی دو قسمیں ہیں:  ۱۔ غیرزائدہ   ۲۔زائدہ۔
جوالف لام حرفی اپنے مدخول میں کوئی معنی پیدا کرے اُسے غیر زائدہ کہتے ہیں: اَلْوَلَدُ۔ اور جو الف لام حرفی اپنے مدخول میں کوئی معنی پیدا نہ کرے اُسے  زائدہ کہتے ہیں: اَلْعَبَّاسُ، اَلْحَارِثُ۔
الف لام زائدہ کی اقسام:
الف لام زائدہ کی بھی دو قسمیں ہیں:  ۱۔ لازمی    ۲۔عارضی۔
جو الف لام زائدہ اپنے مدخول سے جدانہ ہوتا ہو(۱۲) اُسے لازمی کہتے ہیں: اَللّٰہُ۔ اور جو الف لام زائدہ اپنے مدخول سے جدا ہوتا ہواُسے عارضی کہتے ہیں: اَلْحَارِثُ۔
الف لام غیر زائدہ کی اقسام:
الف لام غیر زائدہ کی پانچ قسمیں ہیں: 
.1الف لام عہدِ خارجی:
وہ الف لام جس سے فردِ معلوم کی طرف اِشارہ ہو: فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ۔
.2الف لام جنسی:
وہ الف لام جس سے جنس کی طرف اِشارہ ہو : اَلرَّجُلُ خَیْرٌ مِنَ الْمَرْأَۃِ۔
.3الف لام استغراقی:
وہ الف لام جس سے  تمام اَفراد کی طرف اِشارہ ہو: اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔
.4الف لام عہدِ ذہنی:
وہ الف لام جس سے غیر معین فرد کی طرف اِشارہ ہو: أَخَافُ أَنْ یَّأْکُلَہُ الذِّئْبُ۔
.5الف لام عہدِ حضوری:
وہ الف لام جس سے فردِ موجود و حاضر کی طرف اِشارہ ہو: اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔
تمرین  (1)
س:.1الف لام کی اقسام بیان کیجیے؟س:.2الف لام حرفی کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں؟س:.3الف لام زائدہ کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں؟ س:.4الف لام غیر زائدہ کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1اسم فاعل اور اسم مفعول کا الف لام اسمی ہوتا ہے۔ .2جو الف لام مدخول میں کوئی معنی پیدا کرے وہ زائد ہوتاہے۔ .3اَلزَّیْدَانِ میں الف لام زائدہ ہے۔
تمرین  (3)
الف لام کے بارے میں بتائیں کہ اسمی ہے یا حرفی، حرفی ہے توزائدہ ہے یا غیر زائدہ، زائدہ ہے تو اس کی کونسی قسم ہے اور غیر زائدہ ہے تو اس کی کونسی قسم ہے۔
۱۔اللہ ولی الذین آمنوا۔   ۲۔الحمد للہ رب العلمین۔   ۳۔ولیس الذکر کالانثی۔ ۴۔وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَی اللَّئِیْمِ یَسُبُّنِيْ۔  ۵۔اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔  ۶۔ عالم الغیب والشہادۃ۔  ۷۔زُرْتُ الْمُکْرِمَ أُسْتَاذَہٗ۔  ۸۔نَحْنُ مُقَلِّدُوا النُّعْمَانِ بْنِ الثَّابِتِ۔  ۹۔جَمَعَ الْأَمِیْرُ الصَّاغَۃَ۔   ۱۰۔اُدْخُلِ السُّوْقَ۔   ۱۱۔أَکْرِمِ الْمَعْلُوْمَ فَضْلُہٗ۔
 
الدرس السابع والخمسون
تنوین کا بیان
جونون کلمے کی آخری حرکت کے تابع ہو اور تاکید کے لیے نہ ہو اُسے تنوین کہتے ہیں: قَلَمٌ(قَلَمُنْ)، دَوَاۃً(دَوَاتَنْ)، کِتَابٍ(کِتَابِنْ)۔
تنوین کی اَقسام:
تنوین کی پانچ قسمیں ہیں: 
.1تنوینِ تمکُّن:
وہ تنوین جو مدخول کے منصرف ہونے پر دلالت کرے: رَجُلٌ۔
.2تنوینِ تنکیر:
وہ تنوین جو مدخول کے غیر معین ہونے پردلالت کرے: صَہٍ۔
.3تنوینِ عِوَض:
وہ تنوین جو مضاف الیہ کے بدلے میں آتی ہے: یَوْمَئِذٍ، مَرَرْتُ بِکُلٍّ(بِکُلِّ وَاحِدٍ)
.4تنوینِ مقابَلہ:
وہ تنوین جو جمع مؤنث سالم میں آتی ہے: مُسْلِمَاتٌ۔
.5تنوینِ ترنُّم:
  وہ تنوین جو مصرعوں کے آخر میں سُرپیدا کرنے کے لیے لائی جاتی ہے :
أَقِلِّي اللَّوْمَ عَاذِلُ وَالْعِتَابَنْ ٭ وَقُوْلِيْ اِنْ أَصَبْتُ لَقَدْ أَصَابَنْ
یعنی اے ملامت کرنے والی! ملامت اور عتاب ذراکم کر اور اگر میں کوئی صحیح کام کر جاؤں تو یہ بھی بول کہ اس نے درست کیا۔(اس شعر میں ایک اسم ’’عِتَابٌ‘‘ پر الف لام اور تنوین ترنم دونوں آرہے ہیں اورایک فعل ’’أَصَابَ‘‘ پر تنوین ِترنم آرہی ہے)
قواعد وفوائد:
.1تنوین کی پہلی چار قسمیں اسم کے ساتھ خاص ہیں جبکہ تنوین ترنم ٗ اسم، فعل اور حرف سب پر آسکتی ہے اور یہ الف لام کے ساتھ بھی آجاتی ہے۔ 
.2اگرکوئی مانع تنوین پایاجائے تو اسم پر تنوین نہیں آئے گی ورنہ آئے گی۔
.3موانع تنوین پانچ ہیں: 
۱۔ الف لام کا ہونا : اَلرَّجُلُ۔ ۲۔مضاف ہونا: قَلَمُ زَیْدٍ۔
۳۔غیر منصرف ہونا: أَحْمَدُ۔ ۴۔مبنی ہونا(۱۳): ہُوَ۔
۵۔علم کا ایسے اِبْن یااِبْنَۃٌ سے موصوف ہونا جوایک اور علم کی طرف مضاف ہو: جَائَ زَیْدُ بْنُ بَکْرٍ، ذَہَبَتْ ہِنْدُ ابْنَۃُ خَالِدٍ۔
تمرین  (1)
س:.1تنوین کی تعریف بیان کیجیے نیزبتائیں کہ اس کی کتنی اور کون کونسی قسمیں ہیں؟س:.2کون کونسی تنوینات اسم کے ساتھ خاص ہیں اور کونسی تنوین اسم، فعل اور حرف سب پر آسکتی ہے؟ س:.3موانع ِتنوین کتنے اور کون کونسے ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔ 
.1جونون کلمے کی آخری حرکت کے تابع ہو اسے تنوین کہتے ہیں۔  .2تنوین ہر اسم پر آتی  ہے۔.3موانع تنوین چار ہیں۔.4جو علم اِبْن یا اِبْنَۃ سے موصوف ہو اُس پر تنوین نہیں آئے گی۔
تمرین  (3)
(الف)درجِ ذیل جملوں میں اسم پرتنوین آنے یا نہ آنے کی وجہ بتائیے اوراسم پر تنوین ہے تو اُس کی قسم بھی بیان کیجیے۔
۱۔فضلنا بعضہم علی بعض۔   ۲۔مَرَرْتُ بِزَیْدٍ الْعَالِمِ۔   ۳۔رَأَیْتُ خَالِدَ بْنَ بَکْرٍ۔  ۴۔قُلْتُ لِوَلَدٍ صَہٍ۔  ۵۔فِي الْجَامِعَۃِ طَالِبَاتٌ۔  ۶۔ہٰذَا عُمَرُ۔  ۷۔زُرْتُ کلُاًّ مِّنَ الْقَوْمِ۔  ۸۔ہِنْدٌ اِبْنَۃُ اِبْرَاہِیْمَ۔  ۹۔جَائَ خَالِدٌ ابْنُ الشَّاعِرِ۔  ۱۰۔آدَمُ علیہ السلام أَبُو الْبَشَرِ۔  ۱۱۔یومئذ تحدث اخبارہا۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔غُلَامٌ أَحْمَدٍ رَجُلُ صَالِحُ۔   ۲۔نَظَرْتُ إِلٰی بُسْتَانٍ جَمِیْلِ۔   ۳۔اَلْوَلَدٌ الْمُجْتَہِدٌ یَحْفَظُ دَرْسَہٗ۔  ۴۔خَالِدٌ بْنُ مَاجِدِ عَالِمُ جَیِّدُ۔  ۵۔اَلْیَقِیْنٌ لَا یَزُوْلُ بِالشَکِّ۔  ۶۔زَیْدُ ابْنُ بَکْرٍ۔   ۷۔رَأَیْتُ وَلَدَ ابْنَ زَیْنَبٍ۔   ۸۔فَازَتْ ہِنْدُ ابْنَۃُ الفَلَّاحِ۔  ۹۔سَیِّدَتُنَا عَائِشَۃٌ أُمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
الدرس الثامن والخمسون

اِنَّ، أَنَّ،کَأَنَّ اورلٰکِنَّ کی تخفیف

اِن حروف کی تخفیف (اِن کے نونِ مفتوح کو حذف کردینا)جائز ہے ، اِن میں سے جس حرف میں تخفیف کردی جائے اُسے مُخَفَّفَہ  کہتے ہیں۔
تخفیف کے بعد اِن کی صورت اِس طرح ہوتی ہے: اِنْ، أَنْ، کَأَنْ اور لٰکِنْ۔
قواعد وفوائد:
.1اِنْ مُخَفَّفَہ کوعمل دینا قلیل اورنہ دینا غالب ہے(۱۴)اور عمل نہ دینے کی صورت میں اِسے لامِ مفتوح لازم ہے : اِنْ زَیْدًا عَالِمٌ، اِنْ بَکْرٌ لَصَادِقٌ۔
.2اَنْ مُخَفَّفَہ عمل کرتاہے مگر اس کا اسم (ضمیر شان) ہمیشہ  محذوف ہوتاہے اور اس کی خبر جملہ فعلیہ یا جملہ اسمیہ ہوتی ہے: رَأَیْتُ أَنْ زَیْدٌ عَالِمٌ، أَعْلَمُ أَنْ قَدْ نِلْتَ الْجَائِزَۃَ۔
.3اَنْ مُخَفَّفَہ کی خبرجملہ فعلیہ مثبتہ ہو تواُس کے شروع میں قَدْ، کلمۂ شرط یاحرفِ استقبال (سَ یاسَوْفَ) آتا ہے: عَلِمْتُ أَنْ سَیَجِيْئُ الْغَائِبُ۔
.4کَأَنْ مُخَفَّفَہ بھی عمل کرتاہے، اس کا اسم ٗ ظاہربھی ہوتاہے اور ضمیر ِشان بھی : کَأَنْ ہِنْدًا قَمَرٌ، کَأَنْ زَیْدٌ أَسَدٌ(کَأَنَّہٗ زَیْدٌ أَسَدٌ)۔ 
.5کَأَنْ مُخَفَّفَہ کی خبر جملہ فعلیہ ہو تو اُس میں لَمْ یا قَدْ کا ہونا ضروری ہے: کَأَنْ لَّمْ تَرَ زَیْدًا، کَأَنْ قَدْ زَالَ الظِّلُّ۔
.6لٰکِنْ مُخَفَّفَہ عمل نہیں کرتا: زَیْدٌ عَالِمٌ وَلٰکِنْ أَخُوْہٗ جَاہِلٌ۔
تمرین  (1)
س:.1تخفیف کسے کہتے ہیں، یہ کن حروف میں کی جاتی ہے؟ س:.2جس حرف میں تخفیف کی گئی ہو اُسے کیاکہتے ہیں؟ س:.3تخفیف کے بعدکونسے حروف عمل کرتے ہیں اور کونسے نہیں کرتے ؟ س:.4کس حرف کو تخفیف کے بعد عمل دینا اور نہ دینا دونوں جائز ہیں ؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1اِنْ مُخفَّفہ کو عمل دینے کی صورت میں اُسے لامِ مفتوح لازم ہے۔.2أَنْ مُخفَّفہ کی خبر جملہ ہو تو اُس میں قَدْیا لَوْکا ہونا ضروری ہے۔  .3لٰکِنْ  مُخَفَّفَہ عمل کرتا ہے۔.4کَأَنْ مُخفَّفہ کی خبر جملہ ہو تو اس میں قَدْ  کا ہونا ضروری ہے۔
تمرین  (3)
حروف مشبہہ بالفعل مخفَّفہ پہچانیے۔
۱۔أ یحسب ان لم یرہ احد۔   ۲۔کَأَنْ ہِنْدًا ظَبْيٌ۔   ۳۔وان وجدنا اکثرہم لفاسقین۔   ۴۔کَأَنْ خَالِدٌ شَمْسُ الضُّحٰی۔   ۵۔وان نظنک لمن الکاذبین۔   ۶۔لیعلم ان قد ابلغوا۔  ۷۔اِعْلَمْ أَنْ سَوْفَ یَأْتِيْ کُلُّ مَا قُدِّرَ۔  ۸۔أیحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ۔   ۹۔بَکْرٌ حَضَرَ وَلٰکِنْ أَبُوْہٗ غَابَ۔  ۱۰۔علم ان سیکون منکم مرضی۔  ۱۱۔کَأَنْ خَالِدًا کَرِیْمٌ۔   ۱۲۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
الدرس التاسع والخمسون

أَنْ مقدَّرہ کابیان

درجِ ذیل حروف کے بعد أَنْ مقدر ہوتاہے جوما بعد مضارع کونصْب دیتا ہے :
۱۔لام جحود: مَاکُنْتُ لِأَکْذِبَ۔ ۲۔لا مِ کَيْ : جِئْتُ لِأُکْرِمَکَ۔
۳۔حَتّٰی: أَطِعِ اللّٰہَ حَتّٰی تَفُوْزَ۔۴۔أَوْ: لَأَلْزَمَنَّکَ أَوْ تُعْطِیَنِيْ حَقِّيْ۔
۵۔فائ: زُرْنِي فَأُکْرِمَکَ۔     ۶۔واو: لَا تَأکُلِ السَّمَکَ وَتَشْرَبَ اللَّبَنَ۔
قواعد وفوائد:
.1لام جحود وہ لام جارہ ہے جو کَانَ   منفی کی خبر پر آتاہے: ما کان اللہ لیظلمہم۔ 
.2لام کَيْ وہ ہے جوکَيْ کے معنی میں ہوتاہے: أَسْلَمْتُ لِأَدْخُلَ الْجَنَّۃَ۔
.3حتّٰی کے بعد أَنْ  تب مقدَّر ہوتاہے جبکہ یہ کَيْ یا اِلٰی کے معنی میں ہواور اِس کا ما بعداِس کے ماقبل کے اعتبار سے مستقبل ہو: أَسْلَمْتُ حَتّٰی أَدْخُلَ الْجَنَّۃَ۔
.4أَوْ کے بعد أَنْ  تب مقدَّر ہوتاہے جبکہ یہ اِلٰی یا اِلاَّ کے معنی میں ہو: لَأَلْزَمَنَّکَ أَوْ تُعْطِيَ حَقِّيْ۔یہ اِس معنی میں ہے :  لَأَلْزَمَنَّکَ اِلٰی أَنْ یا اِلَّا أَنْ تُعْطِيَ حَقِّيْ۔
.5فاء کے بعدأَنْ  کا مقدَّر ہوناتب صحیح ہے جبکہ اِس سے پہلے امر، نہی، دعا، استفہام، نفی،تحضیض، تمنی یا عرض ہواور اِس کا ما قبل اِس کے ما بعد کا سبب ہو: رَبِّيْ اغْفِرْ لِيْ فَأَفُوْزَ، ہَلْ عِنْدَکَ مَائٌ فَأَشْرَبَہٗ، مَا تَأْتِیْنَا فَنُکْرِمَکَ۔
.6واوکے بعد أَنْ  کا مقدَّر ہوناتب صحیح ہے جبکہ اِس سے پہلے مذکورہ بالا آٹھ چیزوں میں سے کوئی چیز ہو: لَوْلَا اجْتَہَدْتَّ وَتَفُوْزَ، لَیْتَ لِيْ عِلْمًا وَأُنْفِقَہٗ، أَلَا تَنْزِلُ بِنَا وَتُصِیْبَ خَیْرًا۔
.7حتّٰی اگر حرفِ ابتداء ہو تواِس کے بعد أَنْ  مقدر نہیں ہوگا : مَرِضَ زَیْدٌ حَتّٰی لَا أَرْجُوْہٗ(زید ایسابیمار ہے کہ اب مجھے اُس کی زندگی کی کوئی امید نہیں ہے)
.8حتّٰی کے حرفِ ابتداء ہونے کا معنی یہ ہے کہ یہ جس مضارع پر داخل ہو اُس سے زمانہ حال مقصود ہو، اِس صورت میں ضروری ہے کہ اِس کا ما قبل مابعد کا سبب ہو۔
.9جواَنْ’’عِلْمٌ‘‘ یا ’’رُؤْیَۃٌ‘‘ وغیرہ کے بعد آتاہے وہ  مُخَفَّفَہ ہوتا ہے لہذا وہ مضارع کو نصب نہیں دیگا : عَلِمْتُ أَنْ سَیَرْجِعُ بَکْرٌ، رَأَیْتُ أَنْ لَایَفُوْزُ خَالِدٌ۔
.10جواَنْ’’ظَنٌّ‘‘ یا ’’حِسْبَانٌ‘‘ وغیرہ کے بعد آتاہے اس کا مصدریہ ہونا اور مخفَّفہ ہونا دونوں جائز ہیں: ظَنَنْتُ أَنْ لَا یَجِيْئَ زَیْدٌ یا أَنْ لَا یَجِيْئُ زَیْدٌ۔
تمرین  (1)
س:.1کون کونسے حروف کے بعدأَنْ مقدرہوتاہے؟ س: .2کونساأَنْ فعل مضارع کو نصب نہیں دیتا؟  س: .3حَتّٰی کے حرفِ ابتداء ہونے کا کیا معنی ہے؟  س: .4حَتّٰی،أَوْ،فاء اور واو کے بعدأَنْ  کا مقدر ہونا کب صحیح ہوتاہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1أَنْ ہمیشہ  فعل مضارع کو نصب دیتاہے۔ .2لام جحود وہ لام جارہ ہے جو کَانَ کی خبر پر آتاہے ۔.3فاء اورواؤکے بعد أَنْ  مقدرہوتاہے جبکہ اِن سے پہلے آٹھ چیزوں میں سے کوئی ہو۔ .4حَتّٰی اور أَوْ کے بعدہمیشہ أَنْ  مقدر ہوتاہے۔
تمرین  (3)
(الف)درجِ ذیل جملوں میں بتائیں کہ کہاں کہاں أَنْ  مقدرہے ۔
۱۔أَسِیْرُ أَوْ أَصِلَ الْمَدِیْنَۃَ۔  ۲۔لَمْ یَکُنْ خَالِدٌ لِیَکْذِبَ۔  ۳۔لَا تُضِعِ الْأَوْقَاتِ فَتَنْدَمَ۔ ۴۔صُمْ حَتّٰی تَغِیْبَ الشَّمْسُ۔ ۵۔أُعَاقِبُکَ أَوْ تَتُوْبَ۔  ۶۔ اِسْتَغْفِرِ اللّٰہَ فَیَغْفِرََ لَکَ۔  ۷۔لَیْتَ لِيْ مَالًا فَأُنْفِقَہٗ۔ ۸۔أَلَا تَدْنُوْ فَتُبْصِرَ۔  ۹۔رَبِّ وَفِّقْنِيْ وَأَسْلُکَ سَنَنَ الْخَیْرِ۔  ۱۰۔ہَلَّا حَفِظْتَ الدَّرْسَ فَتَفُوْزَ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے۔
۱۔لَمْ یَکُنْ زَیْدٌ لِیَکْذِبُ۔  ۲۔أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فَیَغْفِرَ لِيْ۔  ۳۔أَعْلَمُ أنْ سَیَأْتِيَ زَیْدٌ۔  ۴۔جِئْتُ لِأَتَعَلَّمْ۔  ۵۔یَجْتَہِدُ خَالِدٌ فَیَفُوْزَ۔  ۶۔أَرٰی أَنْ لَا یَرْجِعَ الْغَائِبُ۔
الدرس الستون

شر ط وجَزاء کابَیان

کلمہ شرط جن دو جملوںپرداخل ہوتاہے اُن میں سے پہلے کوشرط اور دوسرے کو جزاء کہتے ہیں، شرط ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوتی ہے اور جزاء کبھی جملہ فعلیہ اور کبھی جملہ اسمیہ ہوتی ہے: مَنْ یَّضْحَکْ یُضْحَکْ، اِنْ أَسْلَمْتَ فَأَنْتَ فَائِزٌ۔
شرط وجزاء کے اَحکام:
.1شرط وجزاء دونوں مُضارِع ہوں تودونوںپرجزْم واجب ہے(۱۵): اِنْ تُکْرِمْ  تُکْرَمْ۔
.2شرط وجزاء دونوں ماضی ہوں تواُن میں لفظًاکوئی تبدیلی نہیں ہوگی: مَنْ جَدَّ وَجَدَ۔
.3صرف شرط ‘ مضارع ہو توشرط پر جزْم واجب ہے : اِنْ تَصْبِرْ أُجِرْتَ۔
.4صرف جزا ء مضارع ہو توجزا ء پرجزْم اور رفع دونوں جائز ہیں:اِنْ جِئْتَ تُکْرَمْ۔
.5چارصورتوں میں(۱۶)جزا ء پرفاء  لانا واجب ہے:
۱۔جزا ء جملہ اسمیہ ہو: اِنْ أَسْلَمْتَ فَأَنْتَ مُفْلِحٌ۔
۲۔جزاء جملہ انشائیہ ہو: اِذَا لَقِیْتَ عَالِمًا فَأَکْرِمْہٗ۔
۳۔ جزاء فعل ماضی قَدْکے ساتھ ہو: مَنْ أَسْلَمَ فَقَدْ فَازَ۔
۴۔جزاء فعل مضارع      لَنْ،سینیا سَوْفَکے ساتھ ہو: مَنْ یَّکْفُرْ فَلَنْ یَّنْجُوَ۔
.6 دو صورتوں میں جزاء پر فاء  لانا جائز نہیں:
۱۔ جزاء ماضی بغیرقَدْ کے ہو: اِنْ صُمْتَ نَجَحْتَ۔
۲۔ جزاء کے شروع میں    لَمْ      ہو: مَنْ یَّکْذِبْ لَمْ یَنْجَحْ۔
.7دوصورتوں میں جزاء پر فائ لانایانہ لانادونوں جائز ہیں:
۱۔جزاء فعل مضارع مثبت ہو: اِنْ یَّضْرِبْ فَأَضْرِبْ یا    أَضْرِبْ۔
۲۔جزا ء فعل مضارع منفی بلاَ ہو: اِنْ یَّضْرِبْ فَلَا أَضْرِبْ یا لَاأَضْرِبْ۔
تمرین  (1)
س:.1شرط وجزاء جملہ اسمیہ ہوتے ہیں یا جملہ فعلیہ؟ س: .2شرط وجزاء دونوں ماضی یا دونوں مضارع ہوں تو کیاحکم ہے؟ س: .3صرف شرط یاصرف جزاء ٗ مضارع ہو تو کیا حکم ہے؟ س: .4کون کونسی صورتوں میں جزاء پر فاء کا لانا واجب ہے؟ س:.5کون کونسی صورتوں میں جزاء پر فاء کا لاناجائزیا ناجائز ہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1شرط کبھی جملہ اسمیہ ہوتی ہے اورکبھی جملہ فعلیہ۔.2شرط اور جزاء میں سے جو مضارع ہو اُسے جزم دینا واجب ہے۔.3جزاء فعل نہی ہو تواُس پرفاء لانا ناجائز ہے۔ .4جزا ء مضارع منفی ہو تو اس پرفاء لانا جائز ہے۔
تمرین  (3)
(الف)درجِ ذیل جملوں میں شرط وجزاء میں کہاں کہاں جزم واجب ہے نیز جزاء پرفاء    لانے کاکیاحکم ہے؟
۱۔اِذْمَا تَدْرُسْ تَنْجَحْ۔   ۲۔مَنْ یَّرْحَمْ لَمْ یُحْرَمْ۔   ۳۔فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ۔   ۴۔من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔   ۵۔من یقتل مؤمنا متعمدا فجزاء ہ جہنم۔   ۶۔مَنْ اِسْتَشَارَ لَا یَنْدَمْ۔  ۷۔من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔  ۸۔مَا قُدِّرَ فَسَوْفَ یَأْتِيْ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔اِنْ تَحْفَظُ الدَّرْسَ أَنْتَ نَاجِحٌ۔   ۲۔اِذَا تَصْبِرْ سَتُوْجَرُ۔   ۳۔اِنْ تَکْسِلُوْنَ فَلَمْ تَفُوْزُوْا۔ ۴۔اِذَا عَزَمْتَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔  ۵۔مَا تَزْرَعُوْنَ فَحَصَدْتُمْ۔  ۶۔مَنْ تُحْسِنُ اِلَیْہِ یُحْسِنُ اِلَیْکَ۔ ۷۔اِنْ أَحْسَنْتَ لَا تَمْنُنْ۔
الدرس الحادي والستون

حروف نداء اورمُنادیٰ کا بیان

جن حروف سے کسی کو پکاراجاتاہے اُنہیں حروفِ ندائ کہتے ہیں اور جسے حرفِ ندا ء سے پکارا جائے(۱۷)اُسے مُنادیٰ کہتے ہیں: یَا نَبِيُّ۔
قواعد وفوائد:
.1حروف نِداء پانچ ہیں: یَا،أَیَا،ھَیَا،أَيْ،أَ۔أَيْاور أَ مُنادیٰ قریب کے لیے، أَیَا اور ھَیَا  منادیٰ بعید کے لیے اوریَا قریب وبعید دونوں کے لیے آتاہے۔
.2منادیٰ مضاف یا مشابہ مضاف یا نکرہ ہوتو منصوب ہوتاہے: یَا سَیِّدَ الْبَشَرِ،  یَا طَالِعًا جَبَلًا،  یَا رَجُلًا خُذْ یَدِيْ(اے کوئی مرد! میرا ہاتھ پکڑ)
.3 منادیٰ مفرد معرفہ اگرواحد یا جمع مکسرہو تو ضمّہ پر، تثنیہ ہو تو الف پر اور جمع مذکر سالم ہوتو واؤ پر مبنی ہوتاہے: یَا زَیْدُ، یَا رِجَالُ، یَا رَجُلَانِ، یَا مُسْلِمُوْنَ۔
.4 منادیٰ اگرمعرف باللا م ہو تو حرفِ نداء اور منادیٰ کے درمیان اَیُّھَا، ہٰذَا یا  أَیُّہٰذَا کا اِضافہ کرتے ہیں: یَا أَیُّھَا الْاِنْسَانُ، یَا ہٰذَا الرَّجُلُ۔
.5 کبھی حرف نداء کو حذْف بھی کردیا جاتا ہے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ۔یہ اصل میں  یَا اَللّٰہُ اور یَا أَیُّھَا النَّبِيُّ ہیں۔
.6منادیٰ لفظ غُلَامٌ، رَبٌّ وغیرہ ہو اوریاء متکلم کی طرف مضاف ہو تو اُسے چار طریقوں سے پڑھ سکتے ہیں: یَا رَبِّيْ، یَا رَبِّيَ، یَا رَبِّ، یَا رَبَّا۔
.7منادیٰ علَم ہو اور اُس کی صفَت لفظ  اِبْنٌ یا  اِبْنَۃٌ ہوجو ایک اور علَم کی طرف مضاف ہو تومنادیٰ کو مفتوح اور مضموم دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جبکہ اِبْنٌ یا اِبْنَۃٌ صرف منصوب پڑھاجائے گا: یَا زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ، یَا ھِنْدُ ابْنَۃَ زَیْدٍ۔
تمرین  (1)
س:.1حروف نداء اور منادیٰ کسے کہتے ہیں؟ س:.2منادیٰ ٗمضاف، مشابہ مضاف، نکرہ یا مفرد معرفہ ہو تو کس طرح آتاہے؟      
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1یَا   صرف منادیٰ قریب کے لیے ہے۔ .2حرفِ ندا ء اور منادیٰ معرفہ کے درمیان     ہٰذَا    بڑھاتے ہیں۔ .3منادیٰ مفرد معرفہ مبنی علی الضم ہوتاہے۔ 
تمرین  (3)
(الف)منادیٰ ، اس کی قسم اور اعراب اور بناء کے اعتبار سے اس کا حکم بیان کیجیے۔
۱۔یَا اَللّٰہ۔  ۲۔یَا رَسُوْل اللّٰہِ۔  ۳۔یَا أَیَّتُہَا النَّفْسُ۔   ۴۔رَبّنَا اغْفِرْ لَنَا۔  ۵۔ہَیَا ظَالِما نَفْسًا۔  ۶۔أَیَا وَلَدَانِ۔  ۷۔أَ سَعْد أَکْرِمْ أُسْتَاذَکَ۔ ۸۔ہَیَا نَاصِر بْنَ یَاسِرٍ۔  ۹۔رَبّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔   ۱۰۔یَا طَالِعِیْنَ جَبَلًا۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔یَا زَیْدًا۔   ۲۔أَیَا عَبْدُ اللّٰہِ۔  ۳۔أَ طَالِبُ یَخَافُ اللّٰہَ تَفُوْزُ۔   ۴۔ہَیَا عِرْفَانُ بْنُ دَاوُدَ۔  ۵۔یَا رَحْمَۃٌ لِلْعٰلَمِیْنَ۔   ۶۔یَا مُسْلِمِیْنَ سَارِعُوْا اِلَی الْخَیْرِ۔  ۷۔یَا الْوَلَدُ اِحْفَظْ دَرْسَکَ۔  ۸۔یَا ہِنْدًا ابْنَۃَ زَیْدٍ۔
الدرس الثاني والستون

ترخیم اوراِستِغاثہ کا بیان

ترخیم کی تعریف:
مُنادیٰ کے آخرسے ایک یا دوحروف یا ایک جزء کو تخفیفًاحذْف کردینا ترخیم کہلاتا ہے : یَا مَالِکُ سے یَا مَالُ، یَا مَنْصُوْرُسے یَا مَنْصُ، یَا بَعْلَبَکُّ سے یَا بَعْلُ۔
قواعد وفوائد:
.1منادیٰ میں ترخیم تب جائزہے جبکہ وہ علَم ہو، تین حروف سے زائد ہواور مبنی علی الضمّ ہویا منادیٰ کے آخر میں تاء ہو: یَا خَالِدُسے یَا خالِ، یَا شَاۃُ سے یَا شَا۔
.2ترخیم میں ایک حرف گرتاہے، لیکن اگرمنادیٰ کا آخر حرفِ صحیح ہو اور اس سے پہلے مدہ زائدہ ہو تودوحروف گریںگے: یَا اِفْتِخَ(افتخار)۔اور منادیٰ مرکب (مزجی یا عددی) ہو توآخری اسم گرجائے گا: یَا خَمْسُ(خَمْسَ عَشَرَۃَ
.3منادیٰ مرخّم(جس میں ترخیم کی گئی ہو) کوضمّہ کے ساتھ اوراُس کی اپنی آخری حرکت کے ساتھ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے: یَا حَارِثُ سے یَا حَارُ یا یَا حَارِ۔
استِغاثہ کی تعریف:
کسی کو مدد کے لیے پکارنا استغاثہ کہلا تاہے ، جسے مددکے لیے پکارا گیا ہو اُسے  مُستَغاث یا مُستَغاث بِہ کہتے ہیں اور جس کی مدد کے لیے پکارا گیا ہو اُسے  مُستَغاث لَہ یا مُستَغاث لاِ َجْلہ کہتے ہیں: یَا لَلْقَوِيِّ لِلضَّعِیْفِ۔
قواعد وفوائد:
.1مستغاث بہ اور مستغاث لہ دونوںپرلام ہوتاہے جو مستغاث بہ میں مفتوح اور مستغاث لہ میں مکسور ہوتا ہے: یَا لَزَیْدٍ لِلْفَقِیْرِ۔
.2کبھی مستغاث بہ کے آخر میں الف لایا جاتاہے: یَا حُسَیْنَا لِلْأَسِیْرِ۔
.3مستغاث کے شروع میں لام استغاثہ ہو تو یہ مجرور ہوتاہے اور اگر اس کے آخر میں الف استغاثہ ہوتو یہ مبنی علی الفتح ہوتاہے جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
تمرین  (1)
س:.1ترخیم کسے کہتے ہیںاور یہ کب جائز ہوتی ہے؟ س:.2ترخیم میں کتنے حروف حذف ہوتے ہیں؟ س:.3مستغاث اور مستغاث لہ کسے کہتے ہیں؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1منادیٰ سے ایک حرف کو حذف کردینا ترخیم ہے۔ .2منادیٰ مبنی میں ترخیم ہوسکتی ہے۔ .3منادیٰ مرخم کومرفوع اور مجرور دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔
تمرین  (3)
(الف)منادیٰ،منادیٰ مرخم، مستغاث اور مستغاث لہ کی شناخت فرمائیے۔
۱۔یُوْسُفُ لَا تَتَکَلَّمْ۔   ۲۔یَا لَرَسُوْلِ اللّٰہِ لِلْغُرَبَائِ۔  ۳۔یَا خَالُ اُسْکُتْ۔  ۴۔رَبَّنَا اِرْحَمْنَا۔  ۵۔أَیَا فَاطِمَ اِقْرَئِي الْکِتَابَ۔  ۶۔یَا عِبَادَ اللّٰہِ أَعِیْنُوْنِيْ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔یَا غُلَا(غلام) أَطِعْ سَیِّدَکَ۔  ۲۔أَیَا زَيْ(زید) اَدِّ حُقُوْقَکَ۔  ۳۔ہَیَا مُسْلِمِیْنََ۔  ۴۔یَا جَعْ(جَعْفَرٌ)۔  ۵۔یَا عَبْدُ اللّٰہِ۔  ۶۔یَا لِلْأَمِیْرِ لَلْفَقِیْرِ۔
 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن