دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulasa Tun Nahw Part 01,02 | خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم

Huroof e Jarah Ka Bayan

book_icon
خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم
الدرس الحادي عشر

حُروفِ جارَّہ کا بیان

جو حُروف کسی اسْم پر داخل ہوکراُسے جرّ دیتے ہیںاُنہیں حُروفِ  جارّہ یا حروفِ جر کہتے ہیں، یہ سترہ حروف ہیں :
  بَا وتَا  وکَاف ولَام  ووَاو مُنْذُ  ومُذْ  خَلَا
رُبَّ حَاشَا مِنْ عَدَا فِيْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی اِلٰی 
اِن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
مِنْ(سے): اَلْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔  حَتّٰی(تک): حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ اِلٰی(تک، طرف): تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ۔  عَلٰی(پر): اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔   فِيْ(میں) : عُثْمَانُ فِي الْجَنَّۃِ۔  عَنْ(سے): اِجْتَنِبْ عَنِ الْمَعَاصِيْ۔  بِ(سے): بِسْمِ اللّٰہِ۔ کَ(طرح) : زَیْدٌ کَالْأَسَدِ۔  لِ(لیے):  الْمَالُ لِزَیْدٍ۔  خَلَا، عَدَا، حَاشَا (علاوہ، سوائے) : نَامَ الْقَوْمُ حَاشَا زَیْدٍ۔  مُذْ، مُنْذُ(سے) : مَارَأَیْتُہٗ مُذْ سَنَۃٍ۔   رُبَّ(کئی، کچھ): رُبَّ عَالِمٍ لَقِیْتُ۔  وَ، تَ (قسم کے لیے):  وَالْعَصْرِ،  تَاللّٰہِ۔
تنبیہ:
.1حرفِ جر اور اُس کے بعد والے اسم کو جار مجرور کہتے ہیں،جارمجرور ہمیشہ فعل یا شبہِ فعل(اسمِ فاعل، اسمِ مفعول ، صفَتِ مشبہہ ، اسم تفضیل، مصدر) کے مُتعلِّق ہوتے ہیںاور جس کے متعلِّق ہوتے ہیں اُسے مُتعلَّق کہتے ہیں۔
.2جار مجرور کا متعلَّق لفظوں میں موجودہو توجار مجرور کو ظرفِ لَغْوکہتے ہیں: ضَرَبَ زَیْدٌ بِالْخَشَبَۃِ۔
اور اگراِن کا متعلَّق لفظوں میں موجود نہ ہو بلکہ محذوف ہو تو اِن کو  ظرفِ مُستقَرّ کہتے ہیں: اَلْوَلَدُ فِي الدَّارِ۔(اَلْوَلَدُ ثَبَتَ فِي الدَّارِ)
فائدہ:
.1کلام میں اگر کوئی ایسا فعل یا شبہ فعل موجود ہو جس کے متعلِّق جار مجرور کو کیا جاسکتا ہو تو اِن اُسی کے متعلِّق کردیںگے: قَرَأَتُ الْقُرْآنَ فِي الْبَیْتِ۔
.2اور اگر ایسا نہ ہو تو اُس لفظ کے مطابق فعل یا شبہ فعل محذوف مانیںگے جس کے ساتھ جار مجرور کاتعلّق ہے ۔
مثلاً جار مجرور اگر خبر کی جگہ واقع ہوں تو فعل یا شبہ فعل مبتدا کے مطابق محذوف مانیں گے : اَلرَّجُلُ(ثَابِتٌ) فِي الدَّارِ، اَلْاِمْرَأَۃُ (ثَابِتَۃٌ)  فِي الدَّارِ۔
اور اگر صفَت کی جگہ واقع ہوں تو فعل یا شبہ فعل موصوف کے مطابق محذوف مانیں گے:  رَأَیْتُ ہِلَالًا(ثَابِتاً) فِي السَّحَائِبِ۔
تمرین
درج ِ ذیل جملوں میں جار مجرورکا متعلَّق پہچانئے۔
۱۔اَلرَّجُلَانِ فِي الدَّارِ۔  ۲۔اَلسَّخِيُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللّٰہِ۔  ۳۔اَلطَّالِبَاتُ فِيْ الْغُرْفَۃِ۔  ۴۔اَلرِّجَالُ فِي الْمَسْجِدِ۔  ۵۔أَنَا أَتَعَلَّمُ فِيْ جَامِعَۃِ الْمَدِیْنَۃِ۔  ۶۔اَلصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ۔   ۷۔اَلثِّمَارُ عَلَی الشَّجَرَۃِ۔  ۸۔نَظَرْتُ اِلٰی قَمَرٍ فِي السَّحَائِبِ۔  ۹۔نُہِيَ عَنِ الْاِخْتِصَارِ فِي الصَّلَاۃِ۔   ۱۰۔رَأَیْتُ زَیْدًا عَلَی الْفَرَسِ۔
الدرس الثاني عشر

مُعْرَب اورمَبْنِی وغیرہ کا بَیان

معرب اورمبنی: 
جس اسم کاآخرعامل کی وجہ سے بدل جائے اُسے مُعْرَب یا اسمِ مُتمکِّن کہتے ہیں: جَائَ زَیْدٌ، رَأَیْتُ زَیْدًا، مَرَرْتُ بِزَیْدٍ، جَائَ أَخُوْہٗ، رَأَیْتُ أَخَاہٗ، مَرَرْتُ بِأَخِیْہِ۔
اور جس اسم کا آخر عامل کی وجہ سے نہ بدلے اُسے   مبنی یااسمِ غیرمُتمکِّن کہتے ہیں: جَائَ ھٰذَا، رَأَیْتُ ھٰذَا، مَرَرْتُ بِہٰذَا ۔
عامل اورمعمول:
جس چیز کی وجہ سے معرب میں فاعل ،مفعول یا مُضاف اِلیہ ہونے کی صفَت پیدا ہو اُسے عامِل کہتے ہیں جیسے اوپر کی مثالوں میں جَائَ، رَأَیْتُاور بائ۔
اورجس معرب میں یہ صفَت پیداہو اُسے معمول کہتے ہیں جیسے مذکورہ مثالوں  میں زَیْدٌ  اور أَخٌ۔
اِعراب:
جس حرَکت یاحرْف سے معرب کاآخر بدلتا ہے اُسے اِعراب کہتے ہیں جیسے مذکورہ بالامثالوں میں -ٌ -ً -ٍ ، واو،الفاوریاء ۔
اِعراب کی تقسیم (۱):
معرب کا اعراب کبھی حرکت کے ذریعہ آتاہے اور کبھی حرف کے ذریعہ اس لحاظ سے اعراب کی دو قسمیں ہیں:  ۱۔اعراب بالحرکۃ   ۲۔اعراب بالحرف۔ 
جواِعراب ضمہ، فتحہ اور کسرہ کی صورت میں ہواُسے اِعراب بِالحرَکۃ کہتے ہیں لہذا پہلی تین مثالوں میں زَیْد  کا اعراب بالحرکۃ ہے۔ 
اور جو اِعراب وائو، الف اور یاء کی صورت میں ہواُسے اِعراب بِالحرْف کہتے ہیں لہذا دوسری تین مثالوں میں أَخ کا اعراب بالحرف ہے۔
اِعراب کی تقسیم (۲):
معرب کا اعراب کبھی پڑھنے میں آتا ہے اور کبھی نہیں آتا، اِس لحاظ سے بھی اعراب کی دو قسمیں ہیں:  ۱۔اعراب لفظی    ۲۔اعرابتقدیری۔
جواِعراب پڑھنے میں آئے اُسے اِعراب  لفظی کہتے ہیں لہذا پہلی تین مثالوں میں زَیْد  کااعراب بالحرکۃ لفظی ہے اوردوسری تین مثالوں میں أَخٌ  کا اعراب بالحرف لفظی ہے۔
اورجو اِعراب پڑھنے میںنہ آئے اُسے  اِعراب تقدیریکہتے ہیں:  جَائَ فَتًی،  رَأَیْتُ فَتًی، مَرَرْتُ بِفَتًی۔ جَائَ أَبُو الْقَوْمِ، رَأَیْتُ أَبَا الْقَوْمِ، مَرَرْتُ بِأَبِي الْقَوْمِ۔ (اِن میں پہلی تین مثالوں میں فَتًیکا اعراب بالحرکۃ تقدیری ہے اور دوسری تین مثالوں میں أَبٌکا اعراب بالحرف تقدیری ہے)
عامل کی اَقسام:
جوعامل پڑھنے میں آئے اُسے عامل لفظی کہتے ہیں جیسے اوپر کی مثالوں میں اور جو عامل پڑھنے میں نہ آئے اُسے عامل  معنوی کہتے ہیں جیسے:  زَیْدٌ قَائِمٌ میں۔
فائدہ:
صرف تین چیزوں کا عامل معنوی ہوتاہے:  ۱۔مبتدا   ۲۔مبتداکی خبر  ۳۔فعل مضارع مرفوع۔اِن کے علاوہ باقی تمام معمولات کا عامل لفظی ہوتاہے۔
تمرین  (1)
س:.1معرب اور مبنی کسے کہتے ہیں؟ س:.2عامل اور معمول کسے کہتے ہیں؟ س:.3اِعراب بالحرکۃ اوراِعراب بالحرف کسے کہتے ہیں؟ س:.4اِعراب لفظی اور اِعراب تقدیری کسے کہتے ہیں؟ س:.5عامل لفظی اور عامل معنوی کسے کہتے ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1ضمہ، فتحہ اورکسرہ ہی کواِعراب کہتے ہیں۔ .2جو اِعراب نظر آئے اُسے اِعراب  لفظی کہتے ہیں۔.3فعل مضارع کا عامل معنوی ہوتاہے۔.4خبر کا عامل معنوی ہوتاہے۔
تمرین  (3)
درجِ ذیل جملوں میں ہر ہر اسم کے بارے میں بتائیے کہ اُس میں اِعراب بالحرکۃ ہے یا اِعراب بالحرف ، نیز اس کا عامل لفظی ہے یا معنوی۔
۱۔اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ۔   ۲۔ذَہَبَ غُلَامٌ۔  ۳۔جَائَ أَبُوْ بَکْرٍ۔   ۴۔طَلَعَ وَلَدٌ جَبَلًا۔  ۵۔نَظَرَ زَیْدٌ اِلٰی فَقِیْرٍ۔  ۶۔شَرِبَ طِفْلٌ مَائً بِکُوْبٍ۔ ۷۔جَلَسَ خَالِدٌ عَلَی الْحَصِیْرِ۔  ۸۔سَرٰی خَالِدٌ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔   ۹۔صَامَ رَجُلَانِ۔    ۱۰۔نَاصِرٌ عَالِمٌ۔    ۱۱۔کَتَبَ وَلَدٌ۔   ۱۲۔سَلَّمَ زَیْدٌ عَلٰی أَبِيْ خَالِدٍ۔
الدرس الثالث عشر

مُعْرَب اور مَبْنِی کی اَقسام

کل چھ قسم کے الفاظ مبنی ہوتے ہیں:
.1فعل ماضی: نَصَرَ، ذَہَبَ۔   .2امر حاضر معروف: اُنْصُرْ، اِذْہَبْ۔
.3تمام حروف: مِنْ، اِنَّ، لَا۔   .4جملہ :  بَکْرٌ قَائِمٌ، جَلَسَ خَالِدٌ۔
.5 اسمِ غیر متمکِّن : ہُوَ، ہٰذَا۔   .6 وہ فعلِ مضارع جس کے آخر میں نونِ ضمیر  یا نونِ تاکید ہو: یَضْرِبْنَ، لَیَضْرِبَنْ، لَیَضْرِبَنَّ۔(پہلے تینوں مبنی کو   مبنی الاصل کہتے ہیں اور اِسمِ غیر متمکِّن کومشابہ مبنی الاصل کہتے ہیں) 
اور صرف دو قسم کے الفاظ معرب ہوتے ہیں:  .1 اسمِ متمکِّن : زَیْدٌ، رَجُلٌ۔  .2وہ فعلِ مضارع جو نونِ ضمیر اورنونِ تاکید سے خالی ہو: یَنْصُرُ، تَنْصُرِیْنَ۔
اسم غیر متمکِّن کی اَقسام:
اسمِ غیر متمکن(مشابہ مبنی الاصل) کی کئی اَقسام ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
.1اسمِ ضمیر: أَنَا، أَنْتَ، ہُوَ۔          .2اسمِ اِشارہ: ہٰذَا، ذَالکَ۔
.3اسمِ موصول: اَلَّذِيْ، اَلَّتِيْ۔     .4اسم استِفہام: أَیْنَ، مَتٰی۔
.5  اسمِ شرط : مَنْ، مَا۔                 .6 اسم ظرف : اِذْ، اِذَا۔
.7اسم کنایہ:  کَمْ، کَذَا۔            .8اسم فعل : ہَیْہَاتَ، حَيَّ(۶)۔
تنبیہ:
اسمِ غیر متمکن کے علاوہ تمام اَسماء متمکن (معرب)ہوتے ہیں۔ 
تمرین (1)
س:.1کل کتنے اورکون کونسے الفاظ مبنی ہوتے ہیں؟  س:.2 کل کتنے اور کون کونسے الفاظ معرب ہوتے ہیں؟ س:.3اسمِ غیرمتمکن کی کتنی اورکون کونسی قسمیں ہیں؟ س:.4اسمِ متمکن کسے کہتے ہیں؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1مبنی کل تین الفاظ ہوتے ہیں۔ .2فعل ماضی اور اسم متمکن معرب ہوتے ہیں۔.3کچھ حروف معرب ہوتے ہیں۔ .4جس مضارع کے آخر میں نون ہووہ مبنی ہوتاہے۔ .5 اسمِ غیر متمکن کی صرف آٹھ قسمیں ہیں۔
تمرین  (3)
(الف)معرب اور مبنی الفاظ الگ الگ کیجیے۔
۱۔نَصَرُوْا۔    ۲۔ہُمْ۔    ۳۔اَلَّذِیْنَ۔    ۴۔مَسَاجِدُ۔   ۵۔کَذَا۔   ۶۔صَامَا۔  ۷۔رِجَالٌ۔  ۸۔اٰمِیْنَ۔   ۹۔صَوْتٌ۔    ۱۰۔ذَہَبْنَ۔   ۱۱۔لَیَسْمَعَنَّ۔   ۱۲۔ظَبْيٌ،   ۱۳۔اِجْلِسْ۔   ۱۴۔تَنْظُرْنَ۔   ۱۵۔تَأْکُلِیْنَ۔   ۱۶۔سَمِعَ۔   ۱۷۔تَنْصُرُ۔   ۱۸۔أُولٰئِکَ۔   ۱۹۔تَفِرُّوْنَ۔   ۲۰۔ہِيَ۔   ۲۱۔قَلَمَانِ۔   ۲۲۔ہٰذَانِ۔
(ب) اسمِ متمکن اور اسمِ غیر متمکن میں تمییز کیجیے۔
۱۔أَحْمَدُ۔   ۲۔ہُمَا۔    ۳۔دَلْوٌ۔    ۴۔کُتُبٌ۔    ۵۔کَمْ۔    ۶۔مَصَابِیْحُ۔    ۷۔نِسَائٌ۔   ۸۔ہٰذَانِ۔   ۹۔رَجُلَانِ۔    ۱۰۔اَلْقَاضِيْ۔   ۱۱۔مُؤْمِنُوْنَ۔   ۱۲۔أَنْتُمَا۔    ۱۳۔مُسْلِمَاتٌ۔    ۱۴۔مُوْسٰی۔   ۱۵۔غُلَامِيْ۔    ۱۶۔رِجَالٌ۔
الدرس الرابع عشر

ضمائر کا بیان

جواسْم متکلم، مخاطَب یاغائب پردلالت کرے اُسے ضمیرکہتے ہیں۔ضمیر کی پانچ قسمیں ہیں:
.1ضمیرمرفوع متصل :
یہ ضمیریں چودہ ہیں: نَصَرَ نَصَرَا نَصَرُوْا، نَصَرَتْ نَصَرَتَا نَصَرْنَ، نَصَرْتَ نَصَرْتُمَا نَصَرْتُمْ، نَصَرْتِ نَصَرْتُمَا نَصَرْتُنَّ، نَصَرْتُ نَصَرْنَا۔
.2 ضمیر مرفوع منفصل :
یہ بھی چودہ ہیں: ہُوَ ہُمَا ہُمْ، ہِيَ ہُمَا ہُنَّ، أَنْتَ أَنْتُمَا أَنْتُمْ، أَنْتِ أَنْتُمَا أَنْتُنَّ، أَنَا نَحْنُ۔
.3 ضمیر منصوب متصل:
یہ بھی چودہ ہیں ،یہ کبھی فعل سے متصل ہوتی ہیں : نَصَرَہُ نَصَرَہُمَا نَصَرَہُمْ، نَصَرَہَا نَصَرَہُمَا نَصَرَہُنَّ، نَصَرَکَ نَصَرَکُمَا نَصَرَکُمْ، نَصَرَکِ نَصَرَکُمَا نَصَرَکُنَّ، نَصَرَنِيْ نَصَرَنَا۔
اور کبھی حرفِ مشبہ بالفعل سے : اِنَّہٗ اِنَّہُمَا اِنَّہُمْ، اِنَّہَا اِنَّہُمَا اِنَّہُنَّ، اِنَّکَ اِنَّکُمَا اِنَّکُمْ، اِنَّکِ اِنَّکُمَا اِنَّکُنَّ، اِنَّنِيْ اِنَّنَایا اِنِّيْ اِنَّا۔
.4 ضمیر منصوب منفصل:
یہ بھی چودہ ہیں: اِیَّاہٗ اِیَّاہُمَا اِیَّاہُمْ، اِیَّاہَا اِیَّاہُمَا اِیَّاہُنَّ، اِیَّاکَ اِیَّاکُمَا اِیَّاکُمْ، اِیَّاکِ اِیَّاکُمَا اِیَّاکُنَّ، اِیَّايَ اِیَّانَا۔
.5ضمیر مجرور متصل:
یہ بھی چودہ ہیں اوریہ کبھی اسْم سے متصل ہوتی ہیں: وَلَدُہٗ وَلَدُہُمَا وَلَدُہُمْ، وَلَدُہَا وَلَدُہُمَا وَلَدُہُنَّ، وَلَدُکَ وَلَدُکُمَا وَلَدُکُمْ، وَلَدُکِ وَلَدُکُمَا وَلَدُکُنَّ، وَلَدِيْ وَلَدُنَا۔
اور کبھی حرْفِ جر سے: لَہٗ لَہُمَا لَہُمْ، لَہَا لَہُمَا لَہُنَّ، لَکَ لَکُمَا لَکُمْ، لَکِ لَکُمَا لَکُنَّ، لِيْ لَنَا۔
تنبیہ:
مضارع،امراور نہی کے تین، تین صیغوں( واحد مذکر حاضر ، واحدمتکلم اور جمع متکلم) میں ضمیر وجوبًاپوشیدہ ہوتی ہے(۷) نیزاِن تینوںفعلوں کے اورفعل ماضی کے دو،دو صیغوں ( واحدمذکرغائب اورواحدمؤنث غائب) میں ضمیر جوازًا پوشیدہ ہوتی ہے اِن سب پوشیدہ ضمیروںکو ضمیر مرفوع مُتَّصِل مُستَتِر کہتے ہیں ۔
مذکورہ تینوں فعلوں کے باقی نو ،نوصیغوں اورفعل ماضی کے باقی بارہ صیغوں میں ضمیر ہمیشہ ظاہرہوتی ہے اِن سب ضمیروں کو    ضمیر مرفوع مُتَّصِل بارِزکہتے ہیں۔
تمرین  (1)
س:.1 ضمیر کی کتنی اور کون کونسی اَقسام ہیں ؟ س:.2ضمیر منصوب متصل اور مجرورمتصل کس کس چیز سے متصل ہوتی ہے ؟ س:.3ضمیر کن کن صیغوں میں وجوباً پوشیدہ ہوتی ہے اور کن کن صیغوں میں جوازاً پوشیدہ ہوتی ہے؟ س:.4کن کن صیغوں میں ضمیرہمیشہ ظاہر ہوتی ہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1 ضمیر منصوب متصل کبھی اسم سے متصل ہوتی ہیں۔ .2ضمیر مجرورمتصل کبھی فعل سے متصل ہوتی ہے۔ .3کل ضمیریں 65 ہیں۔
تمرین  (3)
(الف) درجِ ذیل الفاظ میں ضمائر کی اَقسامِ خمسہ کی شناخت فرمائیے۔
۱۔اِنَّکُمْ۔   ۲۔عَلَیْہِ۔   ۳۔رَجَعْنَا۔   ۴۔اِلَیْکُمَا۔   ۵۔أَنْتُمْ۔   ۶۔اِنَّکَ۔  ۷۔اِیَّاکُمْ۔   ۸۔لَہُنَّ۔   ۹۔دَعَاکُمَا۔   ۱۰۔اِنَّہٗ۔   ۱۱۔أَنْتُنَّ۔   ۱۲۔غَسَلَ۔  ۱۳۔بِيْ۔   ۱۴۔فِیْنَا۔  ۱۵۔اِنَّنِيْ۔   ۱۶۔رَأَیْتُمْ۔   ۱۷۔اِیَّانَا۔  ۱۸۔ہُوَ۔   ۱۹۔دَارُہُمْ۔   ۲۰۔اِنَّا۔   ۲۱۔دَرْسِيْ۔   ۲۲۔ذَہَبْتُنَّ۔   ۲۳۔غُصْنُہَا۔   ۲۴۔اِیَّاہٗ۔  ۲۵۔نَصَرَہُنَّ۔  ۲۶۔اِیَّاکَ۔  ۲۷۔جَائَ۔  ۲۸۔فَتَحَہُ۔  ۲۹۔أَتَیْنَ۔  ۳۰۔ہُنَّ۔
(ب) درجِ ذیل الفاظ میں ضمیربارِز اورمستترکی شناخت فرمائیے نیز ضمیرمستتِر کے بارے میں یہ بھی بتائیے کہ وُجوبًا مستتِر ہے یا جوازًا ۔
۱۔تَقْرَئُ۔  ۲۔کَرُمْنَ۔   ۳۔نَزَلَ۔   ۴۔سَئَلْتُمْ۔   ۵۔اِفْتَحْ۔   ۶۔أَسْمَعُ۔  ۷۔جَائَ تْ۔  ۸۔وَصَلُوْا۔  ۹۔سِرْتُ۔   ۱۰۔لِیَقْبَلُوْا۔   ۱۱۔نَحْفَظُ۔   ۱۲۔ذَہَبَا۔   ۱۳۔یَأْکُلْنَ۔    ۱۴۔لِأَذْہَبْ۔   ۱۵۔سَمِعْتُمَا۔   ۱۶۔تَدْرُسُ۔   ۱۷۔لِنَنْصُرْ۔  ۱۸۔قُلْتُنَّ۔   ۱۹۔یَحْسَبَانِ۔   ۲۰۔لَا تَکْذِبْ۔   ۲۱۔نَصَرَتَا۔    ۲۲۔حَفِظْتَ۔  ۲۳۔أَفْہَمُ۔    ۲۴۔اِقْبَلُوْا۔   ۲۵۔نَسِیْنَا۔   ۲۶۔تَنْظُرُوْنَ۔
الدرس الخامس عشر

اَسمائے اِشارہ کا بَیان

جو اسْم مُبْصَر(نظر آنے والی) چیز کی طرف اِشارے کے لیے وضع کیا گیاہو اُسے اسمِ اِشارہ  کہتے ہیں: ھٰذَا، ذٰلِکَ وغیرہ۔
اور جس چیز کی طرف اسمِ اِشارہ سے اِشارہ کیا جائے اُسیمُشارٌ اِلَیْہ کہتے ہیں: ھٰذَا الْقَلَمُ، ذٰلِکَ الْکِتَابُ۔
اسم اِشارہ کی اقسام:
اسمِ اِشارہ کی دو قسمیں ہیں:
۱۔اسمِ اشارہ للقریب: یعنی وہ اسمِ اشارہ جسے مشار اِلیہ قریب کے لیے وضع کیا گیا ہے۔جیسے: ہٰذَا، ہَذِہٖ  وغیرہ۔
۲۔اسمِ اشارہ للبعید: یعنی وہ اسمِ اِشارہ جسے مشار اِلیہ بعید کے لیے وضع کیا گیا ہے۔جیسے : ذٰلِکَ، تِلْکَ  وغیرہ۔ 
اسمائے اِشارہ للقریب درجِ ذیل ہیں، اِن کے ذریعہ مشار اِلیہ قریب کی طرف اِشارہ کیا جائے گا:
                      واحد       تثنیہ        جمع
مذکر:   ذَا، ہٰذَا    ذَانِ، ذَیْنِ، ہٰذَانِ، ہٰذَیْنِ   أُولَائِ، ہٰؤُلَائِ
مؤنث:   تَا، ہٰذِہٖ    تَانِ، تَیْنِ،  ہَاتَانِ، ہَاتَیْنِ   أُولَائِ، ہٰؤُلَائِ
اسمائے اِشارہ للبعید درجِ ذیل ہیں، اِن کے ذریعہ مشار اِلیہ بعید کی طرف اِشارہ کیا جائے گا:
     واحد        تثنیہ      جمع
مذکر:   ذَاکَ، ذَالِکَ      ذَانِکَ، ذَیْنِکَ    أُولٰئِکَ
مؤنث:   تَاکَ،  تِلْکَ      تَانِکَ، تَیْنِکَ    أُولٰئِکَ
قواعد وفوائد:
.1اسمِ اِشارہ اور مشارٌ اِلیہ کامذکر، مؤنث، واحد، مثنّٰی اور مجموع ہونے میں برابر  ہونا ضروری ہے: ہٰذَا الْقَلَمُ، ہٰذِہٖ الْکُرَّاسَۃُ۔
.2غیر عاقل کی جمع کی طرف اِشارے کے لیے اسمِ اِشارہ واحد مؤنث لایا جاتاہے: ہٰذِہٖ الْعُلُوْمُ، تِلْکَ الْکُرَّاسَاتُ۔
.3ھُنَا، ھٰھُنَا( یہاں) قریب جگہ کی طرف اِشارے کے لیے ہیں: ھُنَا خَزَائِنُ الْعِلْمِ(یہاں علم کے خزانے ہیں)  ہٰہُنَا جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَۃِ(یہاں جامعۃ المدینہ ہے) 
.4 ثَمَّ، ھُنَاکَ، ھُنَالِکَ (وہاں)بعید جگہ کی طرف اِشارے کے لیے ہیں: ہُنَالِکَ الزَلَازِلُ(وہاں زلزلے ہیں)، ثَمَّ شَيْئٌ (وہاں کوئی چیز ہے)
.5 ذَالِکَ وغیرہ میں کاف حرفِ خِطاب ہے لہذا یہ مخاطَب کے مطابق ہوگا مثلاً دور رکھی ہوئی کتاب کی طرف اشارہ کرنا ہو اور مخاطَب مذکرہو تو کہا جائے گا: ذَالِکَ الْکِتَابُ۔ اورمخاطَب مؤنث ہو تو کہا جائے گا: ذَالِکِ الْکِتَابُ۔
اسی طرح مخاطب تثنیہ ہو تو کہا جائے گا: ذَالِکُمَا الْکِتَابُ۔اورجمع مذکر ہو تو کہا جائے گا: ذَالِکُمُ الْکِتَابُ  اور جمع مؤنث ہو تو کہا جائے گا ذٰلِکُنَّ الْکِتَابُ۔
تمرین (1)
س:.1اسمِ اِشارہ اور مشارٌ اِلیہ کسے کہتے ہیں؟ س:.2مشاراِلیہ قریب کی طرف اشارے کے لیے کون کونسے اَسماء ہیں؟ س:.3مشاراِلیہ بعید کے لیے کون کونسے اَسماء ہیں؟ س:.4قریب اور بعید جگہ کی طرف اِشارے کے لیے کون کونسے اَسماء ہیں؟ 
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1جس کی طرف اِشارہ کیا جائے اُسے مشار اَلیہ کہتے ہیں۔ 2۔ ھُنَالِکَاور  ہٰہُنَا قریب جگہ کے لیے آتے ہیں۔.3اسم اِشارہ کے آخر میں آنے والا کاف ضمیر ہوتا ہے اور مخاطب کے مطابق ہوتاہے۔
تمرین (3)
(الف) اسمِ اشارہ للقریب ،اسمِ اشارہ للبعید اور اسمِ اشارہ للمکان الگ کیجیے۔
۱۔ذَالِکَ۔   ۲۔ ہٰذِہٖ۔  ۳۔ھٰھُنَا۔   ۴۔أُولَائِ۔  ۵۔ھُنَالِکَ۔   ۶۔ہٰؤُلَائِ۔  ۷۔تِلْکَ۔  ۸۔ثَمَّ۔   ۹۔تَانِکَ۔   ۱۰۔أُولٰئِکَ۔  ۱۱۔ہَاتَانِ۔   ۱۲۔ہٰذَانِ۔
(ب) درجِ ذیل اَسماء سے پہلے اسمِ اِشارہ للقریب اور للبعید دونوں لگائیے ۔
۱۔رَجُلٌ۔    ۲۔بِنْتٌ۔    ۳۔کُتُبٌ۔   ۴۔قَلَمَانِ۔   ۵۔جَنَّتَانِ۔   ۶۔تُفَّاحٌ۔   ۷۔أَرْضُوْنَ۔   ۸۔دَارٌ۔   ۹۔مُسْلِمَاتٌ۔   ۱۰۔مُسْلِمُوْنَ۔   ۱۱۔وَرَقَاتٌ۔
(ج) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔ہٰذَا نَارٌ۔    ۲۔تَاکَ خَلِیْفَۃٌ۔    ۳۔ذَالِکَ ہِنْدٌ۔    ۴۔ذَانِکَ دَارَانِ۔  ۵۔ہٰذَانِ جِیْرَانٌ۔   ۶۔ہٰذَا أَنْہَارٌ۔   ۷۔تَا کِتَابٌ۔   ۸۔ہٰذِہٖ دِیْکٌ۔
الدرس السادس عشر

اَسمائے موصولہ کا بَیان

جو اسْم بعد والے جملے سے مل کرکلام کا جُزء بنے اُسے اسمِ موصول کہتے ہیں اور اسمِ موصول کے بعد والے جملے کو صِلَہ کہتے ہیں:  جَائَ الَّذِيْ نَصَرَ۔
اَسمائے موصولہ یہ ہیں:
  واحد    تثنیہ       جمع
مذکر:       اَلَّذِيْ اَللَّذَان، اَلَّذَیْنِ     اَلَّذِیْنَ،  اَلْْأُلٰی
مؤنث:       اَلَّتِيْ اَللَّتَانِ ، اَللَّتَیْنِ   اَللاَّ تِيْ، اَللَّوَاتِيْ
تنبیہ:
مَنْاور مَا بھی اسمِ موصول ہیں اور یہ واحد، تثنیہ،جمع، مذکراورمؤنث سب کے لیے ہیں: أکْرَمْتُ مَنْ جَائُ وْنِيْ، اِشْتَرَی زَیْدٌ مَا اشْتَرَاہٗ بَکْرٌ۔
اِسی طرح أَيٌّاورأَیَّۃٌ   بھی اسمِ موصول ہیں لیکن أَيٌّ مذکر کے لیے اورأَیَّۃٌ   مؤنث کے لیے ہے: جَائَ أَیُّہُمْ ہُوَ عَالِمٌ، جَائَتْ أَیَّتُہُنَّ ہِيَ عَالِمَۃٌ۔
قواعد وفوائد:
.1صِلہ ہمیشہ جملہ ہوتاہے اور اُس میںموصول کے مطابق ایک ضمیر کاہونا ضروری ہے جِسے عائد کہتے ہیں، عائداگرصِلہ کے شروع میں ہو تواُسے صدرِ صلہ کہتے ہیں۔
.2أَيٌّاورأَیَّۃٌ  معرب ہیں مگرجب یہ مضاف ہوںاوراِن کا صدرِ صلہ محذوف ہو تو اِن کو     مبنی برضم پڑھنا بھی جائز ہے: رَأَیْتُ أَیُّھُمْ عَالِمٌ، مَرَرْتُ بِأَیُّھُمْ عَالِمٌ۔
.3اسمِ موصول اپنے صلہ سے مل کر صفَت، فاعل،نائب فاعل، مفعول، مبتدا،  خبر اورمضاف اِلیہ وغیرہ بنتاہے: فَازَ الْوَلَدُ الَّذِيْ اِجْتَہَدَ، جَائَتِ الَّتِيْ فَازَتْ، أُکْرِمَ الَّذِیْنَ جَائُ وْا، نَصَرْتُ الَّذِيْ ہُوَ مَظْلُوْمٌ، الَّذِيْ ہُوَ شَاعِرٌ خَالِدٌ۔
تمرین  (1)
س:.1اسْم موصول اورصلہ کسے کہتے ہیں؟  س:.2اَسمائے موصولہ کون کونسے ہیں؟ س:.3صلہ میں کس چیز کا ہونا ضروری ہے؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1 اسْم موصول صلہ سے ملکر کلام بنتاہے۔ .2اسم کے بعد والے جملہ کو صِلَہ کہتے ہیں۔.3صلہ ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوتاہے۔ .4صِلہ کی ضمیر کو صدرِ صلہ کہتے ہیں۔
تمرین  (3)
(الف)خالی جگہوں میں مناسب اسمِ موصول لگائیے۔
۱۔فَازَ الطُلاَّبُ۔۔۔۔۔۔۔سَعَوْا۔   ۲۔نَصَرْتُ۔۔۔۔۔جَائَ ۔   ۳۔۔۔۔۔۔یَدْرُسُ عَالِمٌ۔  ۴۔ الْاِبْنَۃُ۔۔۔۔۔۔۔ذَہَبَتْ صَالِحَۃٌ۔   ۵۔قَامَ۔۔۔۔۔۔۔۔ہُمْ صَائِمُوْنَ۔   ۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔یَأْتِیْنَ مُعَلِّمَاتٌ۔  ۷۔جَائَ۔۔۔۔۔۔۔۔حَفِظَا الْقُرْآنَ۔
(ب)اسمِ موصول یا صلہ میں غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔نَصَرْتُ الَّذِیْنَ فَقِیْرُوْنَ۔   ۲۔اَللَّذَانِ قَامَ حَافِظَانِ۔   ۳۔جَائَ الَّذِيْ أَبُوْہَا عَالِمٌ۔ ۴۔نَجَحَتِ الَّتِيْ اجْتَہَدَ۔  ۵۔صَامَتِ اللَّوَاتِيْ مُتَعَلِّمَاتٌ۔   ۶۔اَلْبِنْتَانِ اللَّذَانِ ذَہَبَتَا أُخْتَايَ۔  ۷۔أَکْرَمْتُ الَّذِيْ جَائَ غُلَامُہَا۔
الدرس السابع عشر

اَسمائے استِفہام کا بیان

جس اسم کے ذریعہ کسی چیز کے بارے میں سوال کیاجائے اُسے اسمِ استفہام کہتے ہیں: کَیْفَ حَالُکَ؟ أَیْنَ تَذْہَبُ؟اسمائے استِفہام درج ذیل ہیں:
۱۔مَنْ(کون) : مَنْ جَائَ؟ ۲۔مَا(کیا) : مَا بِیَدِکَ؟
۳۔أَيٌّ(کونسا):  أَيُّ رَجُلٍ جَائَ؟      ۴۔أَیَّۃٌ(کونسی): أَیَّۃُ مَرْأَۃٍ قَامَتْ؟
۵۔مَاذَا (کیا): مَاذَا فِيْ جَیْبِک؟  ۶۔کَمْ(کتنی، کتنے): کَمْ کِتَابًا لَہٗ؟
۷۔کَیْفَ(کیسا):  کَیْفَ أَنْتَ؟      ۸۔مَتٰی (کب): مَتٰی تَذْہَبُ؟
۹۔أَیْنَ(کہاں): أَیْنَ زَیْدٌ؟  ۱۰۔أَیَّانَ (کب) : أَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ؟
۱۱۔أَنّٰی (کہاں، کیسے): أَنّٰی تَجْلِسُ؟ أَنّٰی تَفُوْزُ وَلَمْ تَجْتَہِدْ!
قواعد وفوائد:
.1اسم استفہام کے بعد ایسافعل ہوجو اُس میں عمل کر رہا ہو تواسم استفہام محلاًّ منصوب کہلائے گا: کَمْ یَوْمًا سِرْتَ؟  کَمْ سَارِقًا أَخَذْتَ؟  مَاذَا رَأَیْتَ؟
.2اسم استفہام سے پہلے حرفِ جر یا مضاف آجائے تو اسم استفہام محلاًّ مجرور کہلائے گا: بِمَنْ مَرَرْتَ؟  غُلَامَ مَنْ نَصَرْتَ؟
.3اگر مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو اسم استفہام محلاًّ مرفوع کہلائے گا: کَیْفَ زَیْدٌ؟  مَتٰی سَفَرُکَ؟  مَا رَأَیْتَہٗ؟  مَنْ نَصَرْتَہٗ؟
.4خیال رہے کہ أَيٌّ اور أَیَّۃٌ   معرب ہیں لہذا اِن کا اعراب لفظاً آئے گا۔
تنبیہ:
ہمزہ مفتوحہ (أَ) اورہَلْ کے ذریعے بھی کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے: أَجَائَ خَالِدٌ؟  أَبَکْرٌ عَالِمٌ؟  ہَلْ حَفِظْتَ الدَّرْسَ؟  ہَلِ الْوَلَدُ قَائِمٌ؟  مگر یہ دونوں حروف ہیں لہذا اِنہیں حروفِ استفہام کہتے ہیں۔
تمرین  (1)
س:.1اسمِ استفہام کسے کہتے ہیں اور اسمائے استفہام کل کتنے اور کون کونسے ہیں؟ س:.2اسم استفہام کااعراب کس صورت میں کیا ہوتاہے۔ س:.3 حروفِ استفہام کتنے اور کون کونسے ہیں؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1جس حرف سے سوال کیاجائے اُسے اسمِ استفہام کہتے ہیں۔.2اسم استفہام کے بعد فعل ہوتو اسم استفہام محلاًّ منصوب کہلائے گا۔ .3حروفِ استفہام تین ہیں۔
تمرین  (3)
درجِ ذیل جملوں میں اسمائے استفہام کا اعراب بیان کیجیے۔
۱۔مَاذَا قُلْتَ؟   ۲۔أَیْنَ قَلَمِيْ؟   ۳۔أَیَّانَ یَوْمُ السَّاعَۃِ؟   ۴۔مَتٰی جَائَ خَالِدٌ؟ ۵۔کَیْفَ الْمَرِیْضُ؟  ۶۔أَيُّ وَلَدٍ فَازَ فِي الْاِمْتِحَانِ؟  ۷۔کَمْ عَالِمًا زُرْتَ؟   ۸۔مَنْ ضَرَبْتَہٗ بِالْعَصٰی؟   ۹۔أَیْنَ تَذْہَبُ مَاشِیًا؟   ۱۰۔ قَدَمُ أَیَّۃِ ابْنَۃٍ زَلَّتْ؟    ۱۱۔أَنّٰی غَابَ التِّلْمِیْذُ؟    ۱۲۔مَنْ ذَہَبَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ؟

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن