دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulasa Tun Nahw Part 01,02 | خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم

Badal Ka Bayan

book_icon
خلاصۃالنحو - حصہ اول و دوم
الدرس الحادي والأربعون

بَدَل کا بَیان

جوتابع نِسبت میں مقصود ہو اورمتبوع صرف تمہیداًلایا گیا ہو اُسے بَدَل کہتے ہیں اور بدل کے متبوع کو مُبدَل مِنْہ کہتے ہیں: قَامَ الْعَالِمُ بَکْرٌ، قَرَأْتُ الْقُرْآنَ نِصْفَہٗ۔
بَدَل کی اَقسام:
بدل کی چار قسمیں ہیں: ۱۔بدل کل  ۲۔بدل بعض  ۳۔بدل اشتمال  ۴۔بدل غلط
جوبَدَل مُبدَل مِنْہ کا کُل ہواُسے بدَلِ کُل کہتے ہیں: جَائَ اِبْنِيْ زَیْدٌ۔
جوبَدَل مُبدَل مِنْہ کاجُزہواُسے بدَلِ بعض کہتے ہیں: أُکِلَ الرُّمَّانُ ثُلُثُہٗ۔
جو بَدَل مُبدَل مِنْہ کامتعلِّق ہواُسے بدلِ اِشتِمال کہتے ہیں: شَہِرَ عُمَرُ عَدْلُہٗ۔
اور جو بَدَل غلَطی کے اِزالہ کے لیے لایا گیا ہو اُسے بدلِ غلَط کہتے ہیں: جَائَ زَیْدٌ بَکْرٌ۔
قواعد وفوائد: 
.1مبدل منہ معرفہ اور بدل نکرہ ہو تو بدل کی صفَت لانا ضروری ہے: جَائَ زَیْدٌ رَجُلٌ عَدْلٌ۔
.2بدلِ بعض اوربدلِ اِشتِمال میںایک ضمیر کاہونا ضروری ہے جومبدل منہ کے مطابق ہو: ضُرِبَ زَیْدٌ رَأْسُہُ، سُرِقَتْ ہِنْدٌ عِقْدُہَا۔
.3اسمِ ظاہر ٗضمیر ِغائب کا بدل بن سکتاہے ،ضمیر ِمخاطب یا ضمیر ِمتکلم کابدل نہیں بن سکتا:  زُرْتُہٗ زَیْدًا۔
تمرین  (1)
س:.1بدَل ، مُبدَل منہ اوربدل کی قسمیں مع اَمثِلہ بیان کیجیے۔ س:.2کیا معرفہ کا بدل نکرہ ہوسکتاہے؟ س:.3بدلِ بعض اور اشتِمال میں کیاضروری ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے ۔
.1جس تابع کی طرف نِسبت مقصود ہو اُسے بدَل کہتے ہیں۔ .2نکرہ کا بدل معرفہ ہو تواُس کی صفَت لانا ضروری ہے۔ .3بدلِ بعض اور بدلِ کل میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے ۔ .4اسمِ ظاہر ٗضمیر کا بدل بن سکتاہے۔
تمرین (3)
(الف)بدل اور مبدل منہ پہچانیے اور بدل کی قسم متعین فرمائیے۔
۱۔قَالَ سَیِّدُنَا مُحَمَّدٌﷺ۔   ۲۔أَبُوْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقُ أَوَّلُ خَلِیْفَۃٍ۔   ۳۔اِشْتَہَرَ عُمَرُ عَدْلُہٗ۔   ۴۔عَجِبْتُ مِنْ عُثْمَانَ حَیَائِہٖ۔   ۵۔أَمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃُ أَفْقَہُ النِّسَائِ۔  ۶۔قَرَأْتُ الْقُرْآنَ نِصْفَہٗ۔  ۷۔بَہَرَنِيْ عَلِيٌّ شَجَاعَتُہٗ۔
(ب) درجِ ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔رَأَیْتُ بُسْتَانًا أَشْجَارُہَا۔   ۲۔أَکْرَمْتَنِيْ خَالِدًا۔  ۳۔نَظَرْتُ اِلٰی زَیْدٍ رَجُلٍ۔  ۴۔نَظَرْتُ اِلٰی فَتًی زَیْدًا۔  ۵۔سُرِقَ خَالِدٌ مَتَاعَہُ۔  ۶۔قُطِفَ الْأَشْجَارُ ثِمَارٌ۔  ۷۔أعْجَبَنِی غُلامِیْ عِلْمِہٗ۔  ۸۔أَکَلْتُ التُّفَّاحَ نِصْفًا۔   ۹۔لَقِیْتُ الْمُسْلِمِیْنَ أَمِیْرُہُمْ۔   ۱۰۔نَظَرْتُ اِلٰی أَحْمَدَ غُلَامَہٗ۔
الدرس الثاني والأربعون

اَسمائے عدد کا بیان

جس اسْم سے کسی چیزکے اَفراد شُمار کیے جائیں اُسے اسمِ عدد کہتے ہیں اور جسے شمار کیا جائے اُسے معدود یاتمییزکہتے ہیں: ثَلَاثَۃُ رِجَالٍ، أَرْبَعُ نِسَائٍ۔
اسمِ عدد اور معدود کا استِعمال:
.1وَاحِدٌ اوراِثْنَانِ معدودکی صفَت بن کر اورقِیاس کے مطابق(مذکر  کے لیے تاء کے بغیر اور مؤنث کے لیے تاء کے ساتھ) آتے ہیں : رَجُلٌ وَاحِدٌ، اِمْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
.2ثَلاثَۃٌسے عَشَرَۃٌ  تک اسمِ عدد قِیاس کے خلاف آتاہے(مذکر  کے لیے تاء کے ساتھ اور مؤنث کے لیے بغیر تاء کے )(۱): ثَلاثَۃُ رِجَالٍ، أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ۔
.3أَحَدَ عَشَرَ اوراِثْنَا عَشَرَکے دونوں جزئ(اِکائی اور دَہائی) قِیاس کے مطابق ہوتے ہیں: أَحَدَ عَشَرَ مَرْئً، إِحْدٰی عَشَرَۃَ مَرْأَۃًً۔
.4ثَلاثَۃَ عَشَرَسے تِسْعَۃَ عَشَرَ تک کاپہلا جز (اِکائی) خلاف قِیاس اور دوسرا  جز (دَہائی) مطابق قِیاس ہوتا ہے: ثَلاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، ثَلاثَ عَشَرَۃَ اِمْرَأَۃً۔
.5أَحَدٌ وَعِشْرُوْنَسیتِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ تک اسمِ عدد میں ایک اور دو کی اِکائی مطابق قِیاس اور تین سے نوتک کی اِکائی خلافِ قِیاس ہوگی اور دہائیاں ایک ہی حال پر رہیں گی : أَحَدٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا، ثَلاثٌ وَتِسْعُوْنَ اِمْرَأَۃً۔
.6مِأَۃٌ، أَلْفٌاور اِن کا تثنیہ وجمع معدود کی طرف مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں: مِئَۃُ کِتَابٍ، مِئَتَا کِتَابٍ، مِئَاتُ کِتَابٍ، أَلْفُ شَھْرٍ، أُلُوْفُ شَہْرٍ۔
تنبیہ1:  ثَلاثَۃٌ سے عَشَرَۃٌ  تک کا معدود جمع اور مجرورہوتاہے، أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ تک کا معدود مفرد اور منصوب ہوتاہے اور مِأَۃٌ، أَلْفٌاور اِن کے تثنیہ وجمع کا معدود مفرد اور مجرور ہوتاہے جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
تنبیہ2:  أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃَ عَشَرَ  تک اسم عدد کے دونوں جزء  مبنی علی الفتح ہوتے ہیں سوائے اِثْنَا عَشَرَکے پہلے جزء کے ، اِثْنَا عَشَرَکا پہلاجزء اورباقی تمام اَسمائے عدد معرب ہوتے ہیں جن کا اعراب عامل کے مطابق بدلتارہتاہے۔
تمرین (1)
س:.1اسمِ عدد اور معدودکسے کہتے ہیں؟ س:.2اَسمائے عدد اور معدودکے استِعمال کا مکمل طریقہ بیان فرمائیے۔س:.3 معرب اور         مبنی اسمائے عدد بیان کیجیے۔
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی فرمائیے۔
.1معدود ہمیشہ منصوب ہوتاہے۔ .2گیارہ سے ننانوے تک تمام اسمائے عدد         مبنی ہوتے ہیں۔ .3اسم عدد ہمیشہ مرفوع ہوتاہے۔
تمرین  (3)
درج ذیل جملوں میں اَغلاط کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔بِعْتُ ثَلاثُ کِتَابٍ۔   ۲۔فِي الْجَامِعَۃِ عِشْرِیْنَ طَلَبَۃٌ۔   ۳۔اِشْتَریْتُ اِثْنَا عَشَرَ شَاۃٌ۔ ۴۔کَانَ فِي الْبُسْتَانِ عِشْرِیْنَ شَجَرَۃٍ۔  ۵۔اِنَّ فِي الْقِطَارِ أَحَدٌ وَتِسْعُوْنَ نَمْلَۃٌ۔  ۶۔فِي الدَّارِ تِسْعَۃَ غُرْفَۃً۔ ۷۔ہٰذِہٖ أَرْبَعٌ وَسِتُّوْنَ أَحَادِیْثُ۔
الدرس الثالث والأربعون

اسمائے کنایہ کا بیان

جو اسم کسی مبہم عدد یا مبہم بات پر دلالت کرے اسے اسم کنایہ کہتے ہیں : کَمْ أَخًا لَکَ؟ (تمہارے کتنے بھائی ہیں) قُلْتُ کَیْتَ وَکَیْتَ (میں نے ایسا ایسا کہا)
مبہم عدد پر دلالت کرنے والے اسماء تین ہیں : کَمْ، کَذَااور کَأَیِّنْ۔ اور مبہم بات پر دلالت کرنے والے اسماء دو ہیں: کَیْتَ اور ذَیْتَ۔
قواعد وفوائد:
.1کَمْ سے کسی چیز کی تعداد کے متعلق سوال کیا جائے تو اسے کَمْ اِستِفہامِیّہ  اور تعداد کے متعلق خبر دی جائے تو اسے کَمْ  خَبَرِیّہ کہیں گے: کَمْ کُتُبٍ عِنْدِيْ۔ 
.2کَمْ سے جس چیز کی تعداد کے متعلق سوال کیا جائے یا خبردی جائے وہ کَمْ کے بعد آتی ہے اورکَمْ  کی تمییز کہلاتی ہے۔
.3کَمْ اِستِفہامِیّہ کی تمییز مفرد منصوب ہوتی ہے اوراگر کَمْ سے پہلے مضاف یا حرفِ جر ہو تو اسے جر دینا بھی جائز ہے: غُلامَ کَمْ رَجُلٍ لَقِیْتَ، بِکَمْ دِرْہَمٍ اشْتَرَیْتَ الْقَلَمَ۔
.4 کَمْ  خَبَرِیّہ کی تمییز مِنْ کی وجہ سے یاکَمْ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوتی ہے اور یہ مفرد اور جمع دونوں طرح آسکتی ہے: کَمْ مِنْ بَلَدٍ رَأَیْتُ۔اور تمییز سے پہلے فعل متعدی ہو توتمییز پرمِنْ لانا واجب ہے: کم اہلکنا من قریۃ۔ 
.5کَذَا سے کسی چیز کی قلیل یا کثیر تعداد کے متعلق خبر دی جاتی ہے اور اس کی تمییز  مفردمنصوب ہوتی ہے: جَائَ کَذَا عَالِمًا۔  یہ تکرار کے ساتھ بھی آتاہے۔
.6کَأَیِّنْ(۲)سے عدد کثیر کے متعلق خبر دی جاتی ہے، اس کی تمییز مفرد اورمِنْ  کی وجہ سے مجرور ہوتی ہے: کأین من دابۃ لا تحمل رزقہا۔
.7کَیْتَ، ذَیْتَ یہ دونوں تکرار کے ساتھ آتے ہیں ان کی تمییزمفرد منصوب  ہوتی ہے : قُلْتُ کَیْتَ وَکَیْتَ حَدِیْثًا۔
تمرین  (1)
س:.1اسم کنایہ کسے کہتے ہیں اور یہ کتنے اور کونسے ہیں؟ س:.2کَمْ استفہامیہ اور خبریہ کسے کہتے ہیں ؟ س:.3کَذَا، کَأَیِّنْ، کَیْتَ اورذَیْتَ کی تمییز کس طرح آتی ہے؟ س:.4کَمْ استفہامیہ اور کَمْ  خبریہ کی تمییز کس طرح آتی ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1کَمْ اِستِفہامِیّہ کی تمییز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوتی ہے۔   .2کَمْ خَبَرِیّہ کی تمییز ہمیشہ جمع اور مجرور ہوتی ہے ۔
تمرین  (3)
اسمائے کنایہ پہچانیں اور(اِفراد ،جمع اوراِعراب کے لحاظ سے)   تمییزکا حکم بتائیے۔
۱۔وکأین من آیۃ في السموت والارض۔   ۲۔عِنْدِيْ کَذَا وَکَذَا کِتَابًا۔  ۳۔رَأْيَ کَمْ رَجُلٍ أَخَذْتَ؟   ۴۔کَمْ مِیْلًا سِرْتَ؟   ۵۔کم آتیناہم من آیۃ بینۃ۔  ۶۔اَلْمُسَافِرُوْنَ کَذَا رَجُلًا۔  ۷۔کَمْ عَالِمًا زُرْتَ؟   ۸۔قُلْتُ کَیْتَ وَکَیْتَ حَدِیْثًا۔  ۹۔دِیْوَانَ کَمْ شَاعِرٍ قَرَأْتَ؟۔  ۱۰۔خُطْبَۃَ کَمْ خَطِیْبٍ سَمِعْتُ۔
الدرس الرابع والأربعون

اسمائے افعال کا بیان

جواسم ٗ فعل کا معنی دے اسے اسمِ فعل کہتے ہیں: شَتَّانَ(جداہوا)  ہَا(پکڑ)۔
اسم فعل کی اقسام:
اسمِ فعل کی دو قسمیں ہیں:
۱۔اسمِ فعل بمعنی ماضی: ہَیْہَاتَ خَالِدٌ۔
۲۔اسمِ فعل بمعنی امر حاضر: رُوَیْدَ زَیْدًا، عَلَیْکَ الْعَفْوَ، آمِیْنَ۔
قواعد وفوائد:
.1اسم فعل اپنے فاعل(مضمر یا مظہر) کورفع اور مفعول کو نصب دیتاہے۔
.2اسم فعل کا صیغہ واحد ہی رہتاہے ہاں! اگراس کے آخر میں کاف خطاب ہو تو وہ مخاطَب کے مطابق ہوتا ہے: عَلَیْکَِ نَفْسَکَِ، عَلَیْکُمَا أَنْفُسَکُمَا۔
.3اسم فعل ہَائَ(لو)  کوصیغہ واحد پررکھنا اور مخاطَب کے مطابق لانا دونوں جائز ہے: ہائَ، ہائِ، ہَائُ مَا، ہَائُ مْ، ہَاؤُنَّ۔
.4 جواسم فعل ٗظرف ، جارمجرور، مصدریاتنبیہ سے بنا یا گیا ہو اُسے منقول کہتے ہیں: أَمَامَکَ، عَلَیْکَ، بَلْہَ، ہَا۔
جواسمِ فعل ٗفعل کے صیغے سے پھیر کر بنایا گیا ہو اُسے معدول کہتے ہیں : نَزَالِ (اتر)، ضَرَابِ(مار) یہ دونوں اِنْزِلْ اوراِضْرِبْ سے بنائے گئے ہیں۔
اور جو اسمِ فعل اِن کے علا وہ ہو اُسے مرتجل کہتے ہیں: أُفٍّ۔
.5 اسم فعل مرتجل اور منقول ٗسَماعی ہیں جبکہ اسمِ فعل معدول قِیاسی ہے یعنی  ثلاثی مجرد فعل سے فَعَالِ کے وزن پر بناسکتے ہیں: قَتَالِ، سَمَاعِ  وغیرہ۔
تمرین  (1)
س:.1اسم فعل کسے کہتے ہیں اوریہ کیا عمل کرتاہے ؟ س:.2اسم فعل سماعی ہے یا قیاسی؟ س:.3اسم فعل منقول، معدول اور مرتجل کسے کہتے ہیں ؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1اسم فعل کو واحدیا مخاطب کے مطابق دونوں طرح لانا جائز ہے۔ .2تمام اسمائے افعال سماعی ہوتے ہیں۔ 
تمرین  (3)
معنی پر غور کرتے ہوئے اسم فعل کی نشاندہی فرمائیے۔
۱۔ہَیْہَاتَ الْیَأْسُ۔    ۲۔ہاؤم اقرؤوا کتابیہ۔   ۳۔علیک الرفق۔  ۴۔فلا تقل لہما اف۔   ۵۔حَيَّ عَلَی الْفَلاحِ۔   ۶۔شَتَّانَ بَکْرٌ وَخَالِدٌ۔    ۷۔وقالت ہیت لک۔   ۸۔قل ہاتوا برہانکم۔   ۹۔سَرْعَانَ الْبَاصُّ۔   ۱۰۔قل ہلم شہدائکم۔   ۱۱۔صَہْ یَا وَلَدُ۔    ۱۲۔رُوَیْدَ زَیْدًا۔
الدرس الخامس والأربعون

مَصْدَرکا بَیان

جواسم فقط حَدَث(معنی)پردلالت کرتاہو اوراُس سے دوسرے صیغے (فعل، اسمِ فاعل ، اسمِ مفعول وغیرہ) بنتے ہوںاُسے مَصْدَرکہتے ہیں :  نَصْرٌ، جُلُوْسٌ۔
قواعد وفوائد:
.1مصدر تین طرح سے استعمال ہوتا ہے : 
۱۔اِضافت کے ساتھ : حَسُنَ قِیَامُ زَیْدٍ۔ ۲۔تنوین کے ساتھ :  حَسُنَ قِیَامٌ زَیْدٌ۔ ۳۔الف لام کے ساتھ:  حَسُنَ الْقِیَامُ زَیْدٌ۔
.2فعل لازم کامصدر فعلِ لازم کی طرح اور فعل متعدی کا مصدرفعلِ متعدی کی طرح عمل کرتا ہے : حَسُنَ ذَھَابٌ زَیْدٌ، حَسُنَ تَعْلِیْمٌ زَیْدٌ بَکْرًا۔
.3مصدرفاعل یامفعول کی طرف مضاف ہو تو فاعل یا مفعول لفظًا مجرور ہو جائے گا:  حَسُنَ إِکْرَامُ زَیْدٍ بَکْرًا، حَسُنَ إِکْرَامُ بَکْْرٍ زَیْدٌ۔
.4 مصدر کا فاعل یا مفعول بہ کبھی محذوف ہوتاہے: أَکْلُ رُمَّانٍ، أَکْلُ زَیْدٍ۔
.5 مصدر کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ مصدر صریح :  وہ جو صراحۃ مصدر ہو : فَتْحٌ، اِکْرَامٌ، تَعْلِیْمٌ وغیرہ۔   ۲۔مصدر مؤول:  وہ جو صراحۃ تو مصدر نہ ہو لیکن مصدر کی تاویل (معنی) میں ہو: یَسُرُّنِيْ أَنَّ زَیْدًا مُخْلِصٌ(یہاں أَنَّ زَیْدًا مُخْلِصٌٗ  اِخْلَاصُ زَیْدٍ کے معنی میں ہے)
.6 مصدرمؤول حرف مصدر(أَنَّ، أَنْ اورمَا) اور مابعد سے مرکب ہوتاہے۔
تمرین  (1)
س: .1مصدر کسے کہتے ہیں اور یہ کتنے طریقوں سے آتا ہے؟ س: .2 مصدر کیا عمل کرتاہے؟ س: .3حروف مصدراورمصدر کی اقسام بیان فرمائیے ؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جو اسْم معنی پر دلالت کرے اُسے مصدر کہتے ہیں۔ .2 ہر مصدر فاعل کو رفع اور مفعول بہ کو نصب دیتاہے۔ .3 مصدردو طرح سے استعمال ہوتاہے۔  .4 حرف مصدرکا ما بعد مصدر مؤول کہلاتاہے۔
تمرین (3)
مصدرِ صریح اور مصدرِ مؤول کی شناخت کیجیے ۔
۱۔حَاوَلْتُ کِتَابَۃَ رِسَالَۃٍ۔    ۲۔سَرَّنِيْ أَنَّہٗ عَالِمٌ۔    ۳۔اَلْغِیْبَۃُ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ۔  ۴۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا أَنْعَمَ۔ ۵۔أَعْجَبَنِيْ أَنْ عَفَوْتَ۔  ۶۔وَأَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَکُمْ۔  ۷۔مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَکُفَّ لِسَانَکَ۔
الدرس السادس والأربعون

اسمِ فاعل کا بیان

جو اسمِ مشتق ایسی ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ فعل قائم ہواُسے اسمِ فاعل کہتے ہیں: آکِلٌ، مُکْرِمٌ، مُعَلِّمٌ۔
اسم فاعل کا عمل:
اسمِ فاعل فعل معروف کی طرح عمل کرتاہے یعنی اپنے فاعل کورفع اورچھ اَسما ء کو نصب دیتا ہے :
.1مفعول مطلق : مَا قَائِمٌ زَیْدٌ قِیَامًا۔.2مفعول فیہ: ہَلْ صَائِمٌ زَیْدٌ غَدًا۔
.3مفعول معہ: أَ جَائٍ بَرْدٌ وَالْجُبَّۃَ۔  .4مفعول لہ: ہَلْ قَائِمٌ بَکْرٌ اِکْرَامًا۔ 
.5حال: ہَلْ ذَاہِبٌ زَیْدٌ رَاکِبًا۔    .6تمییز: أَ مُنْفَجِرَۃٌ أَرْضٌ عُیُوْنًا۔
اور فعل متعدی کا اسمِ فاعل مفعول بہ کو بھی نصْب دیتاہے: أَ نَاصِرٌ زَیْدٌ عَمْرًا۔
اسم فاعل کے عمل کی شرطیں: 
اسمِ فاعل پر اَلْ نہ ہوتو اس کے عمل کے لیے دو شرطیں ہیں۔(۱) یہ حال یا مستقبل کے معنی میں ہو اور (۲) اس سے پہلے مبتدا، موصوف، ذوالحال، نفی یا استِفہام ہو: زَیْدٌ قَائِمٌ أَبُوْہٗ، جَائَ وَلَدٌ قَائِمٌ أَخُوْہٗ، جَائَ زَیْدٌ رَاکِبًا غُلامُہٗ، مَا ذَاہِبٌ أَحَدٌ، أَ ذَاہِبٌ أَحَدٌ۔اوراگر اُس پراَلْ ہوتواُس کے عمل کے لیے کوئی شرط نہیں : رَأَیْتُ النَاصِرَ عَمْرًا أَمْسِ۔
قواعد وفوائد:
.1ثلاثی مجرد سے اسم فاعل ٗفَاعِلٌ(۳) کے وزن پر آتاہے : فَاتِحٌ۔اور غیر ثلاثی مجرد سے مضارع کے وزن پرآتاہے لیکن اس میں علامت مضارع کی جگہ میم مضموم آتی ہے اور ماقبل آخر مکسورہوتاہے: مُکْرِمٌ، مُتَرْجِمٌ، مُتَدَحْرِجٌ۔
.2اسم فاعل کے بعد ایسا اسم ہو جوفاعل بن سکتاہو تووہی اُس کا فاعل بنے گا: أَضَارِبٌ زَیْدٌ۔ ورنہ اُس میں موجود ضمیر فاعل بنے گی: أَ زَیْدٌ مُکْرِمٌ بَکْرًا۔
.3فاعل ٗاسم ظاہر ہوتواسم فاعل واحد ہی آئے گا:  أَ قَائِمٌ وَلَدَانِ۔اورفاعل ٗ اسم ضمیر ہو تو اسم فاعل ضمیر کے مرجع کے مطابق آئے گا: اَلرِّجَالُ نَاصِرُوْنَ۔
.4اسم فاعل تذکیر وتانیث میں اپنے فاعل کے مطابق آتاہے : ہٰذَا وَلَدٌ عَالِمٌ أَبُوْہٗ، ہٰذَا وَلَدٌ عَالِمَۃٌ أُمُّہٗ۔
.5فاعل اگر مؤنث لفظی ، اسمِ جمع یا جمع مکسّرہو تو اسم فاعل مذکر اور مؤنث دونوں طرح آسکتا ہے: أَ طَالِعٌ شَمْسٌ، مَا نَاصِرٌ قَوْمٌ، أَ ذَاہِبٌ رِجَالٌ۔
اسمِ مبالَغہ:
.1جو اسمِ مشتق مُبالَغہ پردلالت کرے اُسے      اسم مبالغہ کہتے ہیں: أَکَّالٌ، ظَلُوْمٌ۔
.2اسم مبالغہ مختلف اوزان پر آتاہے : فَعَّالٌ، فَعُوْلٌ، فَعَّالَۃٌ، فَعِلٌ، فَعْلٌ وغیرہ لیکن یہ سب سَماعی ہیں۔
.3اسم مبالغہ بھی ذکرکردہ شرائط کے ساتھ اسم فاعل کی طرح عمل کرتاہے: زَیْدٌ فَطِنٌ ابْنُہٗ، جَائَ التِّلْمِیْذُ الْمَدَّاحُ أُسْتَاذُہٗ اِیَّاہٗ۔
تمرین  (1)
س:.1اسمِ فاعل اور اسم مبالغہ کسے کہتے ہیں؟ س:.2اسم فاعل  کیاعمل کرتا ہے؟ س:.3اسمِ فاعل کے عمل کے لیے کیا شرط ہے ؟ س:.4اسمِ فاعل کس وزن پر آتاہے؟ س:.5اسمِ فاعل مذکر آتاہے یا مؤنث یا دونوں طرح آسکتا ہے؟ س:.6اسم فاعل ہمیشہ واحد آئے گا یا تثنیہ اور جمع بھی آسکتاہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس اسم کے ساتھ فعل قائم ہو وہ اسم فاعل ہے۔ .2اسم فاعل کے عمل کی چھ شرطیں ہیں۔ .3ہر اسم فاعل ‘فاعل کو رفع اورچھ اسماء کو نصب دیتا ہے۔ .4اسم مبالغہ فَعَّالٌ یافَعُوْلٌ کے وزن پرآتاہے۔
تمرین  (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں اسم فاعل اور اسم مبالغہ کے عمل کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔أَ مُکْرِمٌ بَکْرٌ ضَیْفَہٗ؟   ۲۔جَائَ الْقَائِمُ أَخُوْہٗ؟   ۳۔قَامَ الرَّجُلُ الْمُعْطِي الْمَسَاکِیْنَ۔  ۴۔خَالِدٌ ذَاہِبٌ صَدِیْقُہٗ۔  ۵۔ہَلْ غَفَّارٌ أَبُوْہٗ الْاِسَائَ ۃَ۔  ۶۔ہٰذَا رَجُلٌ فَطِنٌ أَبْنَاؤُہٗ۔ ۷۔یَخْطُبُ الْقَائِدُ رَافِعًا صَوْتَہٗ۔ ۸۔بَکْرٌ عَلَّامَۃٌ أَبَوَاہٗ۔
(ب)درج ذیل جملوں میںغلطی کی نشاندہی کیجیے۔ 
۱۔خَالِدٌ نَاصِرٌ أَخَاہٗ أَمْسِ۔   ۲۔جَلَسَ الْقَاضِي الْعَالِمُ بِنْتُہٗ۔  ۳۔ذَہَبَ خَلِیْفَۃٌ عَالِمَۃٌ وَلَدُہٗ۔  ۴۔جَائَ وَلَدَانِ لَاعِبَانِ أُخْتُہُمَا۔  ۵۔ہٰذَا طَلْحَۃُ الشَّاعِرُ أُمُّہٗ۔  ۶۔فَازَتْ بِنْتَانِ مُجْتَہِدَتَانِ مُعَلِّمَتُہُمَا۔  ۷۔ضَارِبٌ رَجُلٌ وَلَدًا۔  ۸۔قَامَ رِجَالٌ مُؤْمِنٌ۔  ۹۔نَاصِرٌ زَیْدٌ فَقِیْرًا۔
الدرس السابع والأربعون

اسمِ مفعول کا بیان

جواسم مشتق ایسی ذات پردلالت کرے جس پر فعل واقع ہواُسے اسمِ مفعول کہتے ہیں: مَضْرُوْبٌ، مُکْرَمٌ۔
اسمِ مفعول کا عمل:
اسم مفعول فعلِ مجہول کی طرح عمل کرتاہے یعنی اپنے نائب فاعل کو رفع اورچھ اَسماء کو نصب دیتاہے:
    .1مفعولْ مطلق : أَ مَنْصُوْرٌ زَیْدٌ نَصْرًا۔ .2مفعولْ فیہ : أَ مَقْتُوْلٌ بَکْرٌ لَیْلًا۔
    .3مفعولْ معہ: أَ مُکْرَمٌ خَالِدٌ وَبَکْـرًا۔ .4مفعولْ لہ : أَ مَـزُوْرٌ عَالِمٌ أَدَبًا۔
    .5حال : ہَلْ مُبَشَّـرٌ أَحَـدٌ کَـسْـلَانَ۔ .6تمییز: أَ مَحْبُوْبٌ زَیْدٌ نَفْسًا۔
جس فعل کے دویاتین مفعول ہوں اس کا اسمِ مفعول پہلے مفعول کو رفع اور باقیوں کو نصْب دیتاہے: بَکْرٌ مُعْطًی غُلامُہٗ دِرْھَمًا، خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہٗ عَمْرًا فَاضِلًا۔
اسم مفعول کے عمل کی شرطیں:
اسمِ مفعول پر اَلْ نہ ہوتواُس کے عمل کے لیے دو شرطیں ہیں (۱) اسمِ مفعول حال یا مستقبل کے معنی میں ہواور (۲) اُس سے پہلے مبتدا، موصوف، ذوالحال، نفی یا اِستِفہام ہو: زَیْدٌ مَبِیْعٌ قَلَمُہٗ، جَائَ وَلَدٌ مَنْصُوْرٌ أَبُوْہٗ، جَائَ زَیْدٌ مَرْکُوْبًا فَرَسُہٗ۔
اوراگر اس پر اَلْ ہوتواُس کے عمل کے لیے کوئی شرط نہیں : جَائَ خَالِدٌ الْمَنْصُوْرُ جَیْشُہٗ أَمْسِ۔
قواعد وفوائد:
.1ثلاثی مجرد سے اسم مفعول مَفْعُوْلٌ (۴)کے وزن پر آتاہے :  مَنْصُوْرٌ۔ اور غیر ثلاثی مجردسے مضارع کے وزن پر آتاہے   لیکن اس میں علامت مضارع کی جگہ میم مضموم آتی ہے اور ماقبل آخر مفتوح ہوتاہے: مُکْرَمٌ، مُتَرْجَمٌ۔
.2اسم مفعول کے بعد ایسا اسم ہو جو نائب فاعل بن سکتاہو تووہی نائب فاعل بنے گا: أَ مَنْصُوْرٌ زَیْدٌ۔ ورنہ اُس میں موجود ضمیر نائب فاعل بنے گی: زَیْدٌ مَنْصُوْرٌ۔
.3نائب فاعل ٗاسم ظاہر ہوتواسم مفعول واحد ہی آئے گا: أَ مَشْغُوْلٌ وَلَدَانِ۔ اور نائب فاعل اسم ضمیر ہو تو اسم مفعول اُس ضمیر کے مرجع کے مطابق آئے گا: اَلرَّجُلُ مَنْصُوْرٌ، اَلرَّجُلَانِ مَنْصُوْرَانِ، اَلرِّجَالُ مَنْصُوْرُوْنَ۔
.4اسم مفعول تذکیر وتانیث میں اپنے نائب فاعل کے مطابق آتاہے : ہٰذَا وَلَدٌ مَنْصُوْرٌ أَبُوْہٗ، ہٰذَا وَلَدٌ مَنْصُوْرَۃٌ أُمُّہٗ۔
.5نائب فاعل اگر مؤنث لفظی، اسمِ جمع یا جمع مکسّرہو تواسم مفعول مذکر اور مؤنث دونوں طرح آسکتا ہے: أَ مَرْئِيٌّ شَمْسٌ، مَا مَنْصُوْرٌ قَوْمٌ، ہل مَفْتُوْحٌ بِلَادٌ۔
تمرین  (1)
س:.1اسمِ مفعول کسے کہتے ہیں؟س:.2اسم مفعول کیا عمل کرتاہے؟  س:.3اسمِ مفعول کے عمل کی کیا  شرطیں ہیں؟ س:.4ثلاثی مجرد اورغیر ثلاثی مجرد سے ا سمِ مفعول کس وزن پر آتا ہے؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جس اسم پر فعل واقع ہو اُسے اسم مفعول کہتے ہیں۔  .2اسم مفعول کے عمل کی پانچ شرطیں ہیں۔ .3اسم مفعول ‘فاعل کو رفع اورچھ اسماء کو نصب دیتا ہے۔ .4اسم مفعول صرف مَفْعُوْلٌ کے وزن پر آتاہے۔
تمرین  (3)
(الف)درج ذیل جملوں میں اسم مفعول کے عمل کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔أَ مُکْرَمٌ جَعْفَرٌ عِلْمًا؟   ۲۔جَائَ الْمَشْدُوْدُ یَدُہٗ؟   ۳۔قَامَ الْمُعْطٰی وَلَدُہٗ عِلْمًا۔ ۴۔عَلِيٌّ مُطَہَّرَۃٌ ثِیَابُہٗ۔  ۵۔ہَلْ مَغْفُوْرٌ ذَنْبُہٗ۔  ۶۔ہٰذَا رَجُلٌ مَحْمُوْدٌ أَفْعَالُہٗ۔  ۷۔فَرِیْدٌ مَبِیْعَۃٌ غِلْمَانُہٗ۔  ۸۔خَالِدٌ مَشْہُوْرٌ شَجَاعَتُہٗ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔ 
۱۔خَالِدٌ مَنْصُوْرٌ أَخُوْہٗ أَمْسِ۔   ۲۔ہِنْدٌ مَفْقُوْدَۃٌ عِقْدُہَا۔   ۳۔جَائَ رِجَالٌ مَحْمُوْدٌ۔  ۴۔ہٰذِہٖ دَارٌ مَفْتُوْحَۃٌ بَابُہَا۔  ۵۔جَائَ وَلَدَانِ مَسْرُوْرَانِ أُمُّہُمَا۔   ۶۔رَأَیْتُ شَجَرَۃً مَمْدُوْدًا۔ ۷۔مُعْطًی فَقِیْرٌ دِرْہَمًا۔  ۸۔قَامَ رِجَالٌ مَہْزُوْمٌ۔  ۹۔مَسْمُوْعٌ صُرَاخُ طِفْلٍ۔  ۱۰۔ہَاتَانِ بِنْتَانِ مَعْرُوْفَتَانِ ذَکَاوَتُہُمَا۔

الدرس الثامن والأربعون

صفَتِ مُشبَّہہ کا بیان

جو اسْمِ مشتق ایسی ذات پر دلالت کرے جس میں مصدری معنی ثبوتی طورپر ہو(۵) اُسے صفَتِ مشبّہہ کہتے ہیں: کَرِیْمٌ(سخی) صَعْبٌ(سخت، مشکل)۔
صفت مشبّہہ کا عمل:
صفَتِ مشبّہَہ اپنے فاعل کو رفع دیتاہے ،اور اس کا مفعول بہ نہیں ہوتا: أَ حَسَنٌ زَیْدٌ؟۔
صفت مشبّہہ کے عمل کی شرط:
صیغۂ صفتِ مشبَّہہ کے عمل کے لیے شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے مبتدا، موصوف، ذوالحال، نفی یا اِستِفہام ہو: اَلطِّفْلُ حَسَنٌ وَجْہُہٗ، جَائَ رَجُلٌ کَرِیْمٌ أَبُوْہٗ، جَائَ زَیْدٌ کَرِیْمًا أَبُوْہٗ، مَا کَرِیْمٌ خَالِدٌ، ہَلْ شَرِیْفٌ بَکْرٌ۔
قواعد وفوائد:
.1صفَتِ مشبَّہہ کے کثیراوزان ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
أَفْعَلُ
فَعْلَانُ
فَعْلٌ
فَعِیْلٌ
فَعَلٌ
فَعَّالٌ
أَسْوَدُ
عَطْشَانُ
صَعْبٌ
کَرِیْمٌ
حَسَنٌ
خَبَّازٌ
.2جوفعل رنگ، عیب یا حُلیہ ظاہر کرے اُس سے صفَتِ مشبَّہہ کا صیغہ أَفْعَلُ اور فَعْلَائُ کے وزن پرآتاہے : أَحْمَرُ حَمْرَائُ، أَخْرَسُ خَرْسَائُ، أَعْیَنُ عَیْنَائُ۔
.3صفت مشبہہ کے بعد ایسا اسم ہوجو فاعل بن سکتاہو تووہی اُس کا فاعل بنے گا: أَکَرِیْمٌ زَیْدٌ۔ ورنہ اُس میں موجود ضمیر فاعل بنے گی: زَیْدٌ حَلِیْمٌ۔
.4فاعل ٗاسم ظاہر ہوتوصیغۂ صفت ہمیشہ واحد آئے گا:  أَ حَسَنٌ أَوْلَادٌ؟۔اور اسم ضمیر ہو توصیغہ صفت ضمیر کے مرجع کے مطابق آئے گا: اَلرِّجَالُ حَسَنُوْنَ۔
.5فاعل مؤنث لفظی ، اسمِ جمع یا جمع مکسّر ہو تو صیغہ صفت مذکر اور مؤنث دونوں  طرح آسکتا ہے: أَ أَحْمَرُ شَمْسٌ، مَا لَئِیْمٌ قَوْمٌ، أَ کَرِیْمٌ رِجَالٌ۔
تمرین  (1)
س: .1صفت مشبہہ کسے کہتے ہیں اور یہ کیا عمل کرتا ہے؟ س: .2 صفت مشبہہ کے عمل کی کیا شرط ہے؟ س: .3صفت مشبہہ کس کس وزن پر آتا ہے ؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جو اسْم ایسی ذات پر دلالت کرے جس میں مصدری معنی ہواُسے صفَتِ مشبّہہ کہتے ہیں۔ .2 صفَتِ مشبّہہ کے عمل کی پانچ شرطیں ہیں۔ 
تمرین  (3)
(الف)صفت مشبہہ اور اس کے عمل کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔اَللّٰہُ کَرِیْمٌ۔  ۲۔زَیْدٌ حَسَنٌ غُلَامُہ۔  ۳۔أَنَا عَطْشانُ۔  ۴۔أَ حَسَنٌ زَیْدٌ؟   ۵۔جَائَ رِجَالٌ حَسَنُوْنَ وَجْھًا۔  ۶۔ہٰذِہٖ طِفْلَۃٌ حَسَنَۃٌ۔  ۷۔شَاۃٌ أَبْیَضُ رَأْسُھَا۔
(ب)درج ذیل جملوں میںغلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔کَرِیْمٌ اِبْنَا خَالِدٍ۔  ۲۔اَلرَّجُلَانِ حَسَنَانِ غُلَامُہُمَا۔  ۳۔زَیْدٌ عَطْشَانُ بِنْتُہٗ۔ ۴۔لَئِیْقٌ وَلَدَانِ۔  ۵۔ جَائَ الرِّجَالُ الْحَسَنُوْنَ أَخْلَاقُہُمْ۔  ۶۔ہٰذَا رَجُلٌ ذَکِيٌّ بِنْتُہٗ۔  ۷۔رَأَیْتُ أَوْلَادًا فَطِیْنًا۔  ۸۔ھٰذِہٖ بَقَرَۃٌ بَیْضَائُ رَأْسُھَا۔
الدرس التاسع والأربعون

اسمِ تفضیل کا بیان

جواسمِ مشتق ایسی ذات پردلالت کرے جس میں کسی کے مقابلے میں مصدری معنی کی زیادتی ہو اُسے اسمِ تفضیل کہتے ہیں:  اَلْعِلْمُ أَنْفَعُ مِنَ الْمَالِ(۶)۔
جس ذات میں معنی کی زیادتی ہو اُسے مُفَضَّل اور جس کے مقابلے میں زیادتی ہو اُسے مُفَضَّل عَلَیْہِ  کہتے ہیں لہذا مذکورہ بالا مثال میں ’’علم ‘‘مفضَّل اور ’’مال‘‘ مفضَّل علیہ ہے۔
اسمِ تفضیل کا استِعمال:
اسمِ تفضیل کا استعمال تین طریقوں میں سے کسی بھی ایک طریقے سے ہوتا ہے:
.1أَلْ کے ساتھ: جَائَ زَیْدٌ الأَفْضَلُ۔
.2مِنْ کے ساتھ: زَیْدٌ أَفْضَلُ مِنْ خَالِدٍ۔
.3اضافت کے ساتھ: اَلنَبِيُّ أَفْضَلُ الْخَلْقِ۔
قواعد وفوائد: 
.1جو اسم تفضیل أَلْ کے ساتھ استعمال ہواُس کا مذکر اور مؤنث ہونے میں اور واحد، تثنیہ اور جمع ہونے میں موصوف (ما قبل)کے مطابق ہونا ضروری ہے: جَائَ زَیْدٌ الأَفْضَلُ، جَائَ الزَّیْدَانِ الْأَفْضَلَانِ، جَائَ الزَّیْدُوْنَ الْأَفْضَلُوْنَ، جَائَ تْ فَاطِمَۃُ الْفُضْلٰی، جَائَ تِ الْفَاطِمَتَانِ الْفُضْلَیَانِ۔
.2 جواسمِ تفضیل مِنْ کے ساتھ استعمال ہووہ ہر حال میں واحد مذکر ہی آئے گا : اَلزَّیْدَانِ أَطْوَلُ مِنْ خَالِدٍ، سَلْمٰی أَجْدَرُ مِنْ ہِنْدٍ(سلمی ہند سے زیادہ لائق ہے)۔
.3جواسم تفضیل اضافت کے ساتھ استعمال ہووہ واحد مذکراور موصوف کے مطابق دونوں طرح آسکتا ہے: اَلْأَنْبِیَائُ أَفْضَلُ الْخَلْقِ یاأَفْضَلُو الْخَلْقِ۔
.4ثلاثی مجردفعل سے اسم تفضیل مذکرکے لیے أَفْعَلُ اورمؤنث کے لیے فُعْلٰی کے وزن پر آتا ہے جبکہ اُس میں رنگ، حُلیہ یا ظاہری عیب والا معنی نہ ہو: زَیْدٌ أَبْلَدُ مِنْ خَالِدٍ(زید خالد سے زیادہ کند ذہن ہے)، جَائَ تْ ہِنْدٌ الْبُلْدٰی۔
.5غیر ثلاثی مجردفعل یا وہ ثلاثی مجرد فعل جس میں رنگ، حلیہ اورعیب کامعنی ہو اس سے اسم تفضیل أَفْعَلُ یا فُعْلٰی کے وزن پر نہیں بن سکتا۔
لہذا اس طرح کے فعل سے اسم تفضیل بنانے کے لیے أَشَدُّ، أَکْثَرُوغیرہ لاتے ہیں پھر اُس فعل کا مصدر بطور تمییز منصوب ذکر کرتے ہیں: خَالِدٌ أَکْثَرُ اِکْرَامًا یا حُمْرَۃً یا عَرَجًا۔ 
.6خَیْرٌ، شَرٌّ اورحَبٌّ اسم تفضیل ہیں کیونکہ یہ اصل میں أَخْیَرُ، أَشَرُّاور أَحَبُّ ہیں۔
.7اگر مفضَّل علیہ معلوم ہو تو اسے حذف کر دینا بھی جائز ہے: اَللّٰہُ أَکْبَرُیہ اصل میں ’’اَللّٰہُ أَکْبَرُ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ‘‘ ہے۔ 
تمرین  (1)
س: .1اسم تفضیل، مفضل اور مفضل علیہ کسے کہتے ہیں؟ س: .2اسم تفضیل کون کونسے طریقے سے استعمال ہوتاہے؟ س: .3 اسم تفضیل أَلْ  یا  مِنْ یا اضافت کے ساتھ استعمال ہو تو کس طرح آتاہے؟ س: .4 اسم تفضیل کس وزن پر آتا ہے ؟
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
.1جو اسم ایسی ذات پردلالت کرے جس میں معنی کی زیادتی ہو اُسے اسمِ تفضیل کہتے ہیں۔ .2جس ذات کے مقابلے میں معنی کی زیادتی ہو اُسے مُفَضَّل کہتے ہیں۔ .3اسم تفضیل ہمیشہ موصوف کے مطابق آتاہے۔ 
تمرین  (3)
(الف) اسم تفضیل، مفضل اور مفضل علیہ الگ الگ کیجیے ۔
۱۔اَلْعِلْمُ أَنْفَعُ مِنَ الْمَالِ۔  ۲۔اَلنَّبِيُّ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِيِّ۔  ۳۔اَلْعَمَلُ خَیْرٌ مِنَ الْبَطَالَۃِ۔  ۴۔اَلْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ۔  ۵۔اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔  ۶۔اَلْہِنْدَاتُ فُضْلَیَاتُ الْبَنَاتِ۔  ۷۔والآخرۃ خیر وابقی۔  ۸۔اَلْکُفَّارُ أَحْرَصُ النَّاسِ۔  ۹۔انا اکثر منک مالا۔  ۱۰۔زَیْدٌ أَشَدُّ اِکْرَامًا مِنْ خَالِدٍ۔  ۱۱۔اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔ 
(ب) درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی کیجیے۔
۱۔ذَہَبَ الرَّجُلُ الْأَکْرَمُ مِنْ بَکْرٍ۔   ۲۔سَافَرَتْ عَائِشَۃُ الْأَفْضَلُ۔   ۳۔اَلثَّوْبُ أَخْضَرُ مِنَ الْوَرَقَۃِ۔  ۴۔اَلرِّجَالُ أَفْضَلُوْنَ مِنَ النِّسَائِ۔   ۵۔اَلْہِنْدَانِ کُرْمٰی النِّسَائِ۔  ۶۔اَلشَّجَاعَۃُ عُظْمٰی مِنَ الْجُبْنِ۔  ۷۔زَیْدٌ أَعْوَرُ مِنْ خَالِدٍ۔  ۸۔مَرَّ الرَّجُلَانِ الْأَعْلَمُ۔  ۹۔ہٰذِہٖ الْبَقَرَۃُ أَصْفَرُ مِنْ تِلْکَ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن