دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khulasa Tul Faraiz | خلاصۃ الفرائض

asbaat kise kehte hain asbat kay mutalliq bayan

book_icon
خلاصۃ الفرائض
            

عَصَبَات کا بیان

عَصَبہ کی تعریف:

وہ وارث جو ذَوِی الفُرُوض کے نہ ہونے کی صورت میں کُل مال کااوراِن کی موجودگی میں بچے ہوئے مال کا مستحق ہوتاہے۔جیسے بیٹا، بھائی، چچا وغیرہ۔

عَصَبہ کی اَقسام:

عَصَبہ کی دو قسمیں ہیں: ١۔ عَصَبہ نَسَبِیّہ: وہ عَصَبہ جو نَسَبی رشتہ داری سے عصبہ ہو۔جیسے بیٹا، بھائی وغیرہ۔ ٢۔عَصَبہ سَبَبِیّہ: وہ عَصَبہ جوآزاد کرنے کیوجہ سے عَصَبہ بنے۔جیسےآزادکرنے والاآقا۔

عَصَبہ نَسَبِیّہ کی اَقسام:

عَصَبہ نَسَبِیّہ کی تین قسمیں ہیں: ١۔ عصبہ بنفسہ: وہ مرد جس کی میت کی طرف نسبت میں عورت کا واسطہ نہ ہو۔ جیسے بیٹا، سگا بھائی، علاتی بھائی وغیرہ۔ ٢۔عصبہ بغیرہ یا بالغیر: وہ ذی فرض عورت جوعَصَبہ مرد کی وجہ سے عصبہ بنے۔ جیسے بیٹے، پوتے ، سگے بھائی اور عَلّاتی بھائی کی وجہ سے بالترتیب بیٹی ، پوتی، سگی بہن اور عَلّاتی بہن۔ ٣۔عصبہ مع غیرہ یا مع الغیر: وہ ذی فرض عورت جودوسری ذی فرض عورت کی وجہ سے عصبہ بنے۔ جیسے بیٹی یا پوتی کی وجہ سے سگی بہن اور علاتی بہن۔

عصبہ بنفسہ کی اقسام:

عصبہ بنفسہ کی چار قسمیں ہیں: ١۔میِّت کی فرع۔ جیسے بیٹا، پوتا، پرپوتانیچے تک۔ ٢۔میّت کی اَصْل۔جیسے: باپ، دادا، پردادا اوپر تک۔ ٣۔میّت کے باپ کی فرع۔جیسے: سگا بھائی، علاتی بھائی، سگا بھتیجا، علاتی بھتیجا آخِر تک۔ ٤۔میّت کے دادا کی فرع۔جیسے: سگاچچا،عَلّاتی چچا اوراِن کے بیٹے آخِر تک(1

عَصَبہ نَسَبِیّہ کے اَحکام:

عصبہ نسبیّہ میں کسی کو دوسرے پرعصبہ بنفسہ یا عصبہ بغیرہ یا عصبہ مع غیرہ ہونے کی وجہ سے کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوتی بلکہ اِن میں ترجیح کے صرف تین اَسباب ہیں: ١۔جِہَت میں اَقْرَب ہونا یعنی سب سے مُقدَّم پہلی قسم (میت کی فرع) ہے، پھردوسری، پھرتیسری، پھر چوتھی قسم، یعنی پہلی قسم کی موجودگی میں باقی تمام اَقسام کے تمام اَفراد محجوب ہونگے، اور دوسری قسم کی موجودگی میں تیسری اور چوتھی قسم کے تمام اَفراد محجوب ہوں گے، اور تیسری قسم کی موجودگی میں چوتھی قسم کے تمام اَفراد محجوب ہونگے،اور اگر پہلی تینوں قسموں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو چوتھی قسم کے اَفراد کو مال ملے گا۔ ٢۔دَرَجے میں اَقْرَب ہونا یعنی جس قسم کو ترجیح حاصل ہواُس میں اگر ایک سے زائد افراد ہوں تو اُن میں جس کا دَرَجہ اَقْرَب ہو(میت اور اس کے درمیان واسطے کم ہوں)اُسے بچا ہوا یا کُل مال ملے گا اورباقی اَفراد محجوب ہوں گے لہذا بیٹے کی موجودگی میں پوتا محجوب ہوگا۔ ٣۔قَرَابت میں اَقْویٰ ہونا یعنی جس قسم کے جس درجے کو ترجیح حاصل ہو اُس میں بھی اگر ایک سے زائد اَفراد ہوں تو اُن میں جس کی قَرَابت اَقْویٰ ہوگی اُسے مال ملے گا اورباقی اَفراد محجوب ہوں گے لہذا سگے بھائی کی موجودگی میں عَلّاتی بھائی محجوب ہوگا۔ اگر ایک سے زائد اَفراد جِہَت میں، دَرَجے میں اورقرابت میں برابر ہوں تو اُن میں کوئی محجوب نہیں ہوگا، پھر اگر وہ سب مرد ہوں یا سب عورتیں ہوں تو مال اُن سب میں برابرتقسیم ہوگا اوراگربعض مرد اوربعض عورتیں ہوں تو مال اُن میںلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے اُصُوْل پرتقسیم ہوگا یعنی مردوں کو عورتوں سے دوگنا ملے گا۔

تمرین

درجِ ذیل مسائل میں موجود اَفراد کے اَحوال پہچانیں،محجوب کے نیچے ”محجوب“، عصبہ کے نیچے ”عصبہ“اور جس کا کوئی مخصوص حصّہ بنتاہو اُس کے نیچے وہ حصّہ لکھیں۔ (١) بیوی، باپ، نانی، ۴ بیٹے، ۵بیٹیاں، عَلّاتی بھائی۔ (۲) بیوی، ماں، دادا، بھائی، نانی۔ (۳) شوہر، ۲سگی بہنیں، دادی، اخیافی بھائی، اخیافی بہن، ماں۔(۴) شوہر، ماں، دادا، بہن۔ (۵) دادا، ۲عَلّاتی بہنیں، پردادا، ماں، بیوی،سگابھائی۔ (۶) بیوی، ماں،باپ،اخیافی بہن۔ (۷) ۲بیٹیاں، ۳ پوتیاں، پرپوتا، دادی، شوہر، ۲اخیافی بہنیں۔(۸) شوہر، ماں، باپ، بیٹا، بیٹی۔ (۹) سگی بہن، عَلّاتی بہن، ۲اخیافی بھائی۔(۱۰) ۳ بیویاں، عَلّاتی بھتیجا، سگا چچا، نانی، دادی۔ (۱۱) ۲پوتیاں، عَلّاتی چچا، سگے چچا کا بیٹا،پر پوتی، ماں۔(۱۲) دادا، ۲بیٹیاں، شوہر، بھائی۔ (۱۳) شوہر، ماں، باپ، دادا،بھائی۔(۱۴) عَلّاتی بھائی، سگا بھتیجا، پوتی، پر پوتی، ماں۔ (۱۵) باپ، بیٹی، ۳ بیویاں، سگی بہن۔(۱۶) ۲سگی بہنیں، عَلّاتی بھائی، نانی۔ (۱۷) عَلّاتی بہن، اخیافی بھائی، شوہر، سگابھائی، ماں، سگی بہن۔(۱۸) دادا، پوتا، پوتی، سگاچچا۔ (۱۹) بیٹا، ۲پوتیاں، باپ، دادی، پرنانی۔(۲۰) ۲عَلّاتی بہنیں، اخیافی بہن، عَلّاتی بھتیجا۔ (۲۱) عَلّاتی بہن، سگا بھتیجا، عَلّاتی چچا، ماں۔ (۲۲) ۲عَلّاتی بہنیں، دادی، ماں، عَلّاتی بھائی۔ (۲۳) بیٹی، ۳عَلّاتی بہنیں، بیوی، نانی۔(۲۴) ۲بیویاں، ۳ بیٹیاں، ۲ دادیاں، ۴ چچے۔ (۲۵) دوسگی بہنیں، شوہر، ماں، عَلّاتی بہن۔(۲۶) پوتی، سگی بہن، نانی، پردادی۔
(1) مذکورہ بالا عصبات کے بیان سے معلوم ہوا کہ: (الف) کوئی عورت عصبہ بنفسہ نہیں ہوسکتی۔ (ب)عصبہ بنفسہ صرف مرد ہوتاہے اور وہ بھی وہ جس کی میت کی طرف نسبت میں عورت کا واسطہ نہ آئے،لہذا نواسہ یا نانا یا دادی کاباپ یا اخیافی بھائی یااخیافی چچا عصبہ نہیں کہلائیں گے۔(ج) کوئی مرد یا کوئی غیر ذی فرض عورت کبھی عصبہ بالغیر یا عصبہ مع الغیر نہیں بن سکتے اگرچہ اس غیر ذی فرض عورت کا بھائی عصبہ ہو، لہذا سگے یا عَلّاتی بھتیجے کی وجہ سے سگی یا عَلّاتی بھتیجی، اور سگےیا عَلّاتی چچا کی وجہ سے سگی یا عَلّاتی پھوپھی عصبہ نہیں بنیں گی۔(د)عصبہ بالغیر صرف چار عورتیں بنتی ہیں: بیٹی، پوتی، سگی بہن اور عَلّاتی بہن، اِن کے علاوہ کوئی عورت کبھی عصبہ بالغیرنہیں بن سکتی۔ (ہ)عصبہ مع الغیرصرف دو عورتیں بنتی ہیں: سگی بہن اور عَلّاتی بہن، اِن کے علاوہ کوئی عورت کبھی عصبہ مع الغیر نہیں بن سکتی۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن