30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصیبت اگر میرے گناھوں کی سزا ہے تو میں بَہُت ہی سستا چُھوٹ رہا ہوں ، ورنہ دنیا کے بجائے آخِرت میں جہنَّم کی سزا ملی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا ۔
میرے اعمال کا بدلہ تو جہنَّم ہی تھا
میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا (سامانِ بخشِش)
ایک بارایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکے سر پر کسی نے طَشت بھر کر خاک ڈال دی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے کپڑوں سے اُس خاک کو جھاڑدیا اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا ۔ لوگوں نے عرض کی : آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ شُکرکس بات کا ادا کر رہے ہیں ؟ فرمایا : جو آگ میں ڈالے جانے کا مُستحق ہو ( یعنی جس کے سر پر آگ ڈالنی چاہئے ) اگر اُس کے سر پر فَقَط خاک ڈالدینے پر اِکتِفا کی جائے تو کیا یہ شکر کا مقام نہیں ؟ (کیمیائے سعادت ج۲ ص ۸۰۵ انتشارات گنجیہ تہران)
جب بھی مصیبت آئے نَظَر آخِرت پہ ہو
سرکار! مَدَنی ذِہن دو مَدَنی خیال دو
غم غَلَط کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اَنبیائِ کِرام علیہم الصلٰوۃ و السَّلام اورخُصوصاً سیِّدُالانبیا مدینے والے مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر آنیوالے مصائب و آلام یادکئے جائیں ۔ چُنانچِہ مَیدانِ طائف میں زخمی ہونے والے مظلوم آقااور میٹھے میٹھے معصوم مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ڈھارس نشان ہے : ’’جسے کوئی مصیبت پہنچے اُسے چاہئے کہ اپنی مصیبت کے مقابلے میں میری مصیبت یاد کرے کہ بے شک وہ (میری مصیبت)اعظمُ المصائب(یعنی سب مصیبتو ں سے بڑھ کر )ہے ۔ (الجامع الکیبر ، لِلسُّیُوْطِی ج۷ص۱۲۵ حدیث ۲۱۳۴۶دارالفکر بیرو ت)
دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے
جب سامنے آنکھوں کے سرکار نظر آئے
تکلیف زِیادہ تو ثواب بھی زِیادہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مصیبت پھر مصیبت ہے چاہے کتنی ہی چھوٹی ہو وہ بڑی ہی محسوس ہوتی ہے ۔ مَثَلاً نَزلہ بَہُت چھوٹی بیماری ہے مگر جس کو ہو جائے وہ یِہی سمجھتا ہے کہ مجھ پرمُصیبت کا پہاڑ ٹو ٹ پڑا ہے ۔ اور جس کو کینسر ہو جائے وہ تو بے چارہ باِلکل ہی دل چھوڑ دیتا ہے حالانکہ ہر ایک کو ہمّت رکھنی چاہئے ۔ نَزلہ والا ہو یا کینسر والا سب کو ایک دن مرنا، اندھیری قَبْر میں اُترنا اور قیامت کے مَراحِل سے گزرناہے ۔ دنیا میں تکلیف جتنی شدید اُتنا ثواب بھی مزید ہو گا ۔ اللّٰہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’بڑا ثواب بڑی بلاؤں ( یعنی بڑی مصیبتوں ) کے ساتھ ملتاہے ۔ اللہ تعالٰی جب کسی قوم کوپسندفرماتاہے تواسے ( آزمائش میں ) مبتَلا فرما دیتا ہے ، پھر جو(آزمائش پر) راضی رہا اس کے لئے رِضا ہے اور جو ناراض ہو ا اُس کے لئے نا راضی ۔ ‘‘ (سُنَنِ ابنِ ماجہ ج ۴ ص ۳۷۴حدیث ۴۰۳۱ دار المعرفۃ بیروت)
بہرِ مُرشِد غم اُلفت کا خزینہ دیدو
چاک دل چاک جگر سوزشِ سینہ دیدو
اپنے سے بڑے مصیبت زدہ کو دیکھو
صَبْر کا ذِہن بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنے سے بڑھ کر مصیبت زدہ کے بارے میں غور کیا جائے اس طرح اپنی مصیبت ہلکی محسوس ہوگی اورصَبْر کرنا آسان ہوگا ۔ حضرتِ سیِّدُ ناشَعَبی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرمایا کرتے : ’’اگر اپنے اوپر آئی ہوئی آفت کا لوگ اُس سے بڑی آفت کے ساتھ مُوازَنہ کرتے توضَرور بعض آفتوں کو عافیَّت جانتے ۔ ـ (تَنبِیہُ المُغتَرِّین ص ۱۷۷ دار المعرفۃ بیروت)
امامُ الصّابِرین ، سیّدُ الشّاکِرین، سلطانُ الْمُتَوَکِّلِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ م کا فرمانِ عنبرین ہے : ’ ’دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ ہوں گی اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع