30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا جانے والا عذاب اِس قدر شدید ہوتا ہے کہ اُس کو کچھ عرصہ تو کیاخدا کی قسم ! ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصّے کیلئے بھی کوئی برداشت نہیں کرسکتا ۔
یقیناخودکُشی جُرمِ شدید اور اس پرعذابِ مَدید ہے اگر خدانخواستہ کسی کو خودکُشی کرنے کے وَسوَسے آئیں تو اس کو چاہئے کہ بیان کردہ وعیدات سے عبرت حاصل کرے اور شیطان کے وار کو ناکام بنائے ۔ اگر چِہ کیسی ہی پریشانیاں ہوں صبرو رِضا کا پیکر بن کر مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرے ۔ یا د رکھیئے ! حدیث ِ پاک میں ہے : " اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِر" ’’دنیا مؤمِن کیلئے قید خانہ اور کافِر کیلئے جنّت ہے ۔ ‘ ‘ (صَحِیح مُسلِم ص۱۵۸۲حدیث ۲۹۵۶دار ابن حزم بیروت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ظاہِر ہے قید خانے میں تکلیفیں ہی تکلیفیں ہو تی ہیں ۔ حضر ت مولیٰنا جلالُ الدّین رومی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ـ
ہَسْت دنیا جنّت آں کُفّاررا اَہلِ ظُلم و فِسق آں اَشراررا
بَہرِ مومِن ہَست زِنداں ایں مقام نَیست زِنداں جائے عَیش واِحتِشام
(یعنی کافِروں ، ظالموں ، فاسِقوں اورشریروں کیلئے یہ دنیا جنّت ہے جبکہ ایمان والوں کیلئے یہ دنیا جیل خانہ ہے ، جیل خانہ عیش وراحت کا مقام نہیں )
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آزماتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تَبَرَکَ وَ تَعَالٰیمسلمانوں کو امتحانات میں مُبتَلا فرما کر ان کے سَیِّئآت (یعنی گناھوں ) کو مٹا تا اور دَرَجات کو بڑھاتا ہے ۔ جو مَصائب و آلام پر صَبْر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کے سائے میں آجاتا ہے ۔ چُنانچِہ پارہ دوسرا، سورۃُ الْبَقَرۃ آیت نمبر 155 تا157 میں ارشاد ربّانی ہے : ۔
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
تر جَمَۂ کنزُالایمان : اور ضَرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ، اور خوشخبری سنا اُن صَبْروالوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ، ہم اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا ۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب(عَزَّوَجَلَّ) کی دُرُودیں ہیں اور رَحمت ۔ اوریِہی لوگ راہ پر ہیں ۔
دُور دنیا کے ہوجائیں رنج وَ اَلم، مجھ کو مل جائے میٹھے مدینے کا غم
ہو کرم ہوکرم یا خدا ہو کرم ، واسِطہ اُس کا جوشاہِ اَبرار ہے
بے صبری سے مصیبت دور نہیں ہوتی
آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ اللہ تعالٰی مصیبتیں دے کر آزماتا ہے تو جس نے ان میں بے صبری کا مظاہَرہ کیا ، واوَیلا مچایا، ناشکری کے کَلِمات زَبان سے ادا کئے یا بیزار ہو کر مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ خودکُشی کی راہ لی ، وہ اِس امتِحان میں بُری طر ح ناکام ہوکر پہلے سے کروڑہا کروڑگُنا زائِد مصیبتوں کا سزاوار ہوگیا ۔ بے صبری کرنے سے مصیبت تو جانے سے رہی اُلٹا صَبْر کے ذَرِیْعہ ہاتھ آنے والا عظیمُ الشّان ثواب ضائِع ہو جاتا ہے جو کہ بذاتِ خود ایک بَہُت بڑی مصیبت ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَالِک کا فرمانِ عالی شان ہے ، ’’مُصیبت( ابتِداء ً) ایک ہوتی ہے (مگر) جب مُصیبت زدہ جَزَع (فَزَ ع یعنی بے صَبری اور واوَیلا) کرتا ہے تو ( ایک کے بجائے )دو مصیبتیں ہوجاتی ہیں ۔ {۱}ایک تو وُہی مصیبت باقی رَہتی ہے اوردوسری {۲}مصیبت (صَبْرکرنے پر ملنے والے ) اَجْر کا ضائِع ہوجانا ہے اور یہ (اجر ضائِع ہونے والی دوسری مصیبت ) پہلی (مصیبت ) سے بڑھ کر ہے ۔ ‘‘ (تنبیہ الغافلین ص ۱۴۳، پشاور)
یعنی پہلے پہل مصیبت کا نقصان صِرف دُنیوی ہی تھا مگر صَبْر کی صور ت میں ہاتھ آنے والے عظیمُ الشّان اَجر کا بے صبری کے باعِث ضائِع ہوجا نا اُس سے بھی بڑی مصیبت ہے کہ اِس میں آخِرت کا بَہُت بڑا نقصان ہے ۔
رونا مصیبت کا تُو مت رو، اٰلِ نبی کے دیوانے
کرب و بلا والے شہزادوں ، پر بھی تُو نے دھیان کیا؟
تین سو دَرَجات کی بُلندی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع