30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود کُشی کی ۔ ان وارِداتوں کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کی عمر 16 سے 30سال کے درمیان تھی ۔ ’’ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستا ن‘‘ کی رَپورٹ کے مطابِق6ماہ میں یعنی جنوری سے جون 2004ء کے عرصے میں 1103افراد نے خودکُشی کی کامیاب اور ناکام کوشِشیں کیں ، ان میں بچّو ں کا تَناسب 46.5 فیصد تھا!گویا آدھوں آدھ بچّے تھے ۔ ان بچّوں نے خودکُشی کیلئے جو طریقے اختیار کئے وہ یہ ہیں : 21 نے زَہریلی گولیاں کھائیں ، 11نے زَہر کھایا، 8 پھندے سے جھُول گئے ، 2 نے خود کوآگ لگا دی ، ایک نَہَرمیں کود گیا ، 9 نے خود کو گولی مار لی، 2 نے تیزاب پیااور ایک نے شہ رگ کاٹ لی ۔ یہ وہ اَعدا د وشُمار ہیں جو انتِظامیہ(یااخبار والوں )کی نظر وں میں آگئے ورنہ بَہُت سار ی وار ِد ا تیں چھُپا دی جاتی ہیں ۔
عُمُوماًگھریلوجھگڑوں ، تنگدستیوں ، قرضداریوں ، بیماریوں ، مصیبتو ں ، کاروباری پریشانیوں اور اپنی پسند کی شادی میں رُکاوٹوں یا امتِحان میں ناکامیوں وغیرہ کے سبب پیدا ہونے والے ذِہنی دباؤ(یعنیTENSION) کے باعِث بعض انتِہائی غُصِیلے اور جذباتی بد نصیب اَفراد خودکُشی کرڈالتے ہیں ۔
سُن لو نقصان ہی ہوتا ہے باِلآ خِر ان کو
نفْس کے واسطے غصّہ جو کیا کرتے ہیں
خودکُشی کی پانچ دردناک وارِداتیں
بعض و ارِداتیں بڑا رِقّت انگیز منظر پیش کرتی ہیں ، چُنانچِہ خودکُشی کی اس طرح کی پانچ خبریں آپکے گوش گُزار کرتا ہوں : {۱} روزنامہ جانباز کراچی (جُمعرات5 اگست 2004 ء)ماں نے بیٹے کو دولھا بنایا، بارات رخصت کی ، باراتیوں نے بہت کہا ساتھ چلومگر نہیں گئیں اور بعد میں گھر کے تمام تالوں پر چابیاں لگا کر زیور اور رقم وغیرہ کسی کے حوالے کر کے نَہَر میں چھلانگ لگا دی اور دو دن بعد لاش ملی {۲} ’’روزنامہ جُرأت‘‘( 10اگست 2004 ء)کی خبر یہ ہے کہ 6 ماہ قبل شادی ہو ئی تھی ، نَوبِیاہتا دلہن روٹھ کر میکے چلی گئی تھی، بیوی کا فِراق برداشت نہ کرنے کی بِنا پر دولہا نے خود کو گولی مارلی{۳}’’روزنامہ انتخاب ‘‘ (28 اگست 2004 ء) کی خبر یہ ہے کہ ایک باپ نے اپنی ایک بیٹی ، دو بیٹوں ، اور ان بچوں کی امّی کو قتل کرنے کے بعد خود کُشی کر کے اپنی زندَگی کا خاتِمہ کر دیا ۔ ’’روزنامہ نوائے وقت‘‘ کراچی( 5اگست2004 ء)کی دو خبریں ہیں ، {۴} ڈِگری (سندھ) میں شادی نہ کرانے پر نوجوان پھانسی چڑھ گیا{۵}باپ نے غصّے میں طمانچہ مارا تو 14 سالہ لڑکے نے خو د کو باتھ روم میں بند کر کے آگ لگا دی ۔ چند ماہ قبل اِسی علاقے میں ایک اور لڑکے نے بُلند عمارت سے کُود کر خودکُشی کر لی تھی ۔
خبروں سے نام نکال دینے کی حِکمت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمانوں کو مرنے کے بعد اچّھائی کے ساتھ یاد کرنے کا حدیثِ پاک میں حُکم ہے لھٰذا میں نے خبروں سے نام نکالدیئے ہیں کیوں کہ شَناخت کے ساتھ مسلمان کی خود کُشی کا بِلا ضَرورتِ شَرعی تذکِرہ اُس کی آبرو ریزی ہے جو کہ گناہ ہے ۔ ایک اَن پڑھ آدَمی بھی اِس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ نام و شناخت کے ساتھ خودکُشی کی خبر مُشْتَہَر کرنے سے میِّت کی آبروریزی کے ساتھ ساتھ اُس کے اَہلِ خاندان کی بھی سخت بدنامی اور دل آزاری ہوتی ہے ۔ کاش! ہمارے اخبارات والے مسلمان بھائی اِس گناہِ عظیم سے تائِب ہو کر آئندہ باز رَہنے کی ترکیب بنا لیں ۔ کبھی آپ کے عَلاقے یا خاندان میں بھی معاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کوئی خود کُشی کر بیٹھے توبِلا اجازتِ شَرعی کسی کو مت بتایا کریں ، اگر کبھی یہ گناہ کر بیٹھے ہیں توتوبہ کے شَرعی تقاضے پورے کر لیجئے ۔ ہاں شَناخت بتائے بِغیر خودکُشی کرنے والے کااِس طرح تذکِرہ کرنا جائز ہے کہ مخاطَب پہچان نہ سکے ۔
مجرِم ہوں دل سے خوفِ قِیامت نکالدو
پردہ گناہ گار کے عَیبوں پہ ڈالدو
ہر دو مِنَٹ میں خود کُشی کی تین وارِداتیں !
گناہوں کی کثرت اور اَحوالِ آخِرت کے مُعامَلے میں جَہالت کے سبب افسو س ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں خودکُشی کا رُجحان(رُج ۔ حان) بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ ایک اخباری رَپورٹ کے مطابِق اگست 2004ءمیں پاکستان میں خود کُشی کی 68وارِداتیں ہوئیں جن میں بابُ المدینہ کراچی کا پہلا نمبر رہا جبکہ دوسرا نمبر مدینۃُ الْاولیاء ملتان والوں کا آیا ۔ اُسی اَخبار کے مطابِق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں خودکُشی کی ایک وارِدات ہوتی ہے !
کیا خودکُشی سے جان چھوٹ جاتی ہے ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع