قبولیت کا دارومدار خاتمے پر ہے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khud Kushi ka Ilaj | خود کشی کا علاج تخریج شدہ

book_icon
خود کشی کا علاج تخریج شدہ

( معنیٰ معروف)کے لحاظ سے  یہ سمجھ میں آتاہے کہ حقیقت میں مسلمان تھا کیونکہ عرف میں فاجر کا اِطلاق گناہ گار مسلمان پر ہوتاہے لیکن یہ قطعی نہیں  ۔ قرآنِ مجید میں ہے :  وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ(۱۴) (پ۳۰، الانفِطار : ۱۴)  (ترجَمہ : بے شک کافر جہنَّم میں ہیں ) اور فرمایا :  اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ(۷) (پ۳۰، اَلمُطَفِّفِین : ۷) (ترجَمہ : بے شک کافروں کی نامۂ اعمال سجّین میں ہیں )  جَلالَین میں دونوں آیتوں کی تفسیر، کُفّار سے  کی ہے ۔  اس لیے اس حدیث میں بھی فاجر سے  اگر کافر مراد لیا جائے تو کوئی اِسْتِبعاد (یعنی بعید)نہیں  ۔ ( نُزْھَۃُ الْقاری، ج۴ ص۱۷۳، فرید بک اسٹال مرکز الاولیاء لاہور)

قَبولیّت کا دارومدار خاتِمے پر ہے

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ بظاہِر کوئی کتنی ہی عبادت ورِیاضت کرے ، دین کی خوب تبلیغ و خدمت کرے ، لیکن اگر دل میں مُنافَقَت اور میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عداوت ہو تونیکیوں اور عبادت کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ بھی پتا چلا کہ اعمال میں خاتِمے کامکمَّل عمل دَخل ہے  ۔ چُنانچِہ ’’مُسندِ امام احمد بن حنبل ‘‘ میں ہے :  ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِا لْخَوَاتِیْم‘‘ یعنی اعمال کا دارومدار خاتِمے پر ہے ۔     (مسند امام احمد بن  حنبل ج ۸  ص۴۳۴حد یث ۲۲۸۹۸ دارالفکر بیروت)

جنّت حرام ہو گئی

             نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم کا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے :  ’’تم سے  پہلی اُمّتوں میں سے  ایک شخص کے بدن میں پَھوڑا نکلا جب اس میں سخت تکلیف محسوس ہو نے لگی  ۔ تو اس نے اپنے تَرکَش( یعنی تیردان) سے  تِیر نکالا اور پھوڑے کوچِیر دیا ، جس سے  خون بہنے لگا اور رُک نہ سکا یہاں تک کہ ِاس سبب سے  وہ ہَلاک ہوگیا ، تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ نے فر مایا :  ’’میں نے اس پر جنّت حرام کردی ۔  ‘‘(صَحِیح مُسلِم    ص۷۱حدیث ۱۸۰ دار ابن حزم بیروت)

            اِس حدیثِ مبارَک کی شَرح میں شارِحِ صحیح مسلم حضرت ِ علّامہ نَوَ وِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فر ما تے ہیں : ’’حدیث ِپاک سے  یہ نتیجہ اَخذ کیا جائیگا کہ اس نے جلدی مرنے ( یعنی خود کُشی )کیلئے یا بِغیر کسی مَصلحت کے ایسا کیا (اِسی وجہ سے  اس پر جنّت حرام فر مائی گئی )ورنہ فائِدے کے غالِب گمان کی صورت میں عِلاج و دوا کیلئے پھوڑا (وغیرہ ) چیرنا( آپریشن) حرام نہیں  ۔ ‘‘ (شَرحِ  مسلم لِلنَّوَوِی  ج۱ص ۱۲۷ )

خود کُشی کا معنٰی

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خودکُشی کا معنیٰ ہے ، ’’خو د کو ہلاک کرنا  ۔ ‘‘ خود کُشی گناہِ کبیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ پارہ 5 سورۃُالنّساء ، آیت نمبر29اور30میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹)وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)

ترجَمَۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رِضا مندی کا ہو ۔  اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ )تم پر مہربان ہے ۔  اور جو ظلم و زیادَتی سے  ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے  آگ میں داخِل کریں گے اور یہ اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ )کو آسان ہے  ۔

                                                 وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ- (یعنی اور اپنی جانیں قتل نہ کرو)کے تَحت حضرتِ علّامہ مو لیٰنا سیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  الْھَادِی  ’’ خَزائنُ العِرفان‘‘ میں فرما تے ہیں  : مسئلہ : اس آیت سے  خود کُشی کی حُرمَت (یعنی حرام ہونا) بھی  ثابِت ہو ئی  ۔

            پارہ2 سورۃُ البقرۃ آیت نمبر195میں ارشادِ ربّانی ہے :  ۔  

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵) (پ ۲ البقرۃ ۱۹۵)

تر جَمَۂ کنزالایمان : اور اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بھلائی والے ہو جاؤ ۔  بیشک بھلائی والے اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے محبوب ہیں  ۔

               اِس آیتِ مُقدّسہ کی تفسیر ’’خَزائنُ العِر فان‘‘ میں یوں ہے : ’’ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں اِنفاق ( یعنی راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں خرچ) کاترک بھی سببِ ہلاکت   ہے اور اِسرافِ بے جا (یعنی بے جا فُضُول خرچی ) بھی اور اِسی طرح وہ چیز بھی جو خطرہ وہَلاک کا باعِث ہوان سب سے  باز رہنے کا حکم ہے ، حتّٰی کہ بے ہتھیار میدانِ جنگ میں جانا یا زَہر کھانا یا کسی طرح خُودکُشی کرنا  ۔ ‘‘

خود کُشی کے اَعداد و شُمار

             افسوس !آج کل خودکُشی کا رُجحان(رُجْ ۔ حان) بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ ایک اخباری رَپورٹ میں ہے ، ’’ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ‘‘کے فراہَم کردہ اَعداد وشُمار کے مطابق 1985 ء میں 35افراد نے خود کُشی کی تھی اور اس کی تعدادبڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ 2003ء میں 930 افراد نے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن